مکمل مشقی کوئز

کثیرالانتخابی سوالات — مکمل مشق

تمام پندرہ اسباق کے کل 253 کثیرالانتخابی سوالات ایک ہی جگہ۔ نیچے دیے گئے خانوں سے مطلوبہ اسباق منتخب کریں اور مشق شروع کریں۔

اسباق منتخب کریں

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے

سبق 1۔ کلام، اسم اور فعل کا تعارف

1کلمہ کی تعریف کیا ہے؟
الفایک مکمل جملہ
بزبان کا مفرد بامعنی لفظ
جصرف فعل کا نام
دصرف حرفِ جر
عربی نحو میں لفظِ مفرد کو کلمہ کہتے ہیں، جبکہ مکمل مفہوم دینے والے مجموعے کو کلام کہا جاتا ہے۔
2کلام یا جملہ کی تعریف کیا ہے؟
الفکلمہ کا دوسرا نام
بدو یا زیادہ کلمات کا ایسا مجموعہ جو مکمل و مفید معنی دے
جصرف اسمائے اشیاء کی فہرست
دصرف حروفِ جر کا مجموعہ
کلام وہ مرکب کلام ہے جو مکمل مفہوم دے اور سامع اس پر سکوت کرکے مطمئن ہوجائے، جیسے الْوَلَدُ مُجْتَهِدٌ۔
3عربی زبان میں کلمہ کی کتنی بنیادی اقسام مانی جاتی ہیں؟
الفدو
بتین
جچار
دپانچ
کلمہ کی تین اقسام ہیں: اسم، فعل اور حرف؛ نحویوں کے نزدیک چوتھی کوئی قسم ممکن نہیں۔
4اسم کی درست تعریف کون سی ہے؟
الفوہ کلمہ جو کسی زمانے کی قید کے بغیر معنی پر دلالت کرے
بوہ کلمہ جو ہمیشہ کسی زمانے کے ساتھ کام بتائے
جوہ کلمہ جس کا اپنا کوئی مستقل معنی نہ ہو
دوہ کلمہ جو صرف حکم دینے کے لیے آئے
اسم کسی زمانی قید کے بغیر کسی ذات یا شے کا نام بتاتا ہے، جیسے كِتَابٌ یا مُحَمَّدٌ۔
5الْكِتَابُ فِي الْبَيْتِ میں لفظ الْكِتَابُ کو اسم ماننے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
الفاس پر حرفِ تعریف ال داخل ہے
بیہ ایک چھوٹا لفظ ہے
جاس میں تین حروف ہیں
دیہ جملے کے شروع میں آیا ہے
ال کا داخل ہونا اسم کی چار علامتوں میں سے ایک ہے، اس لیے الْكِتَابُ یقیناً اسم ہے۔
6تنوین قبول کرنا کس قسمِ کلمہ کی خاص علامت ہے؟
الففعل
بحرف
جاسم
دتینوں اقسام میں مشترک
تنوین (دو زبر، دو زیر یا دو پیش) صرف اسم پر آتی ہے، جیسے كِتَابٌ، فعل یا حرف پر نہیں۔
7كِتَابُ الطَّالِبِ میں لفظ كِتَابُ کو مضاف کہنے کی وجہ کیا ہے؟
الفیہ دوسرے اسم (الطَّالِبِ) کی طرف نسبت رکھتا ہے
باس پر تنوین آئی ہے
جیہ فعل ہے
داس پر حرفِ جر داخل ہے
مضاف وہ اسم ہے جو کسی دوسرے اسم کی طرف نسبت کرے، جو خود اسم کی چوتھی علامت ہے۔
8فعل کی تعریف میں کون سا عنصر لازمی طور پر شامل ہوتا ہے؟
الفحرفِ تعریف ال کا امکان
بتنوین کا امکان
جکسی زمانے کی نشاندہی
دمضاف بننے کی صلاحیت
فعل کام یا حالت کے ساتھ ساتھ ماضی، مضارع یا امر میں سے کسی ایک زمانے کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔
9كَتَبَتْ میں آخری تاء کس بات کی نشاندہی کرتی ہے؟
الفمؤنث فاعل کی
بمذکر فاعل کی
ججمع فاعل کی
دامر کی
تاءِ تانیثِ ساکنہ فعل ماضی کے ساتھ لگ کر مؤنث فاعل ظاہر کرتی ہے، جیسے كَتَبَتْ (اس نے لکھا — مؤنث)۔
10كَتَبْتُ میں لاحقہ تُ کس بات کی نشاندہی کرتا ہے؟
الففاعل کی ضمیر یعنی میں نے
بمفعول کی نشاندہی
جزمانہ مستقبل کی نشاندہی
دحرفِ جر کی موجودگی
فعل پر فاعل کی ضمائر لاحقے کی صورت میں لگتی ہیں، جیسے كَتَبْتُ میں تُ کا مطلب ہے میں نے۔
11حرف کی درست تعریف کون سی ہے؟
الفوہ کلمہ جس کا اپنا مستقل معنی نہ ہو بلکہ دوسرے کلمات سے مل کر معنی دے
بوہ کلمہ جو ہمیشہ زمانے کی نشاندہی کرے
جوہ کلمہ جو تنوین قبول کرے
دوہ کلمہ جو مضاف بن سکے
حرف اکیلا کوئی مکمل معنی نہیں دیتا، جیسے فِي، جو صرف کسی اسم سے ملنے پر معنی دیتا ہے۔
12درج ذیل میں سے حرف کی حقیقی نشانی کیا ہے؟
الفاس پر ال داخل ہوسکتا ہے
بیہ مضاف بن سکتا ہے
جنہ اس پر ال آسکتا ہے، نہ تنوین، اور نہ یہ مضاف بن سکتا ہے
داس پر تاءِ تانیث آسکتی ہے
حرف میں اسم کی چاروں علامتوں میں سے کوئی بھی نہیں پائی جاتی، یہی اس کی امتیازی خاصیت ہے۔
13جملہ الْوَلَدُ فِي الْبَيْتِ میں کتنے افعال پائے جاتے ہیں؟
الفایک
بدو
جتین
دکوئی نہیں
یہ جملہ اسمیہ ہے، جو دو اسموں اور ایک حرف پر مشتمل ہے؛ اس میں کوئی فعل شامل نہیں۔
14الْوَلَدُ فِي الْبَيْتِ کس قسم کا جملہ ہے؟
الفجملہ فعلیہ
بجملہ اسمیہ
ججملہ استفہامیہ
دجملہ امریہ
چونکہ جملے کی بنیاد دو اسموں — مبتدا اور خبر — پر ہے، فعل پر نہیں، اس لیے یہ جملہ اسمیہ ہے۔
15لفظ مَدْرَسَةٌ کا اردو معنی کیا ہے؟
الفگھر
بسکول
جدروازہ
دچاند
مَدْرَسَةٌ کا معنی سکول یا مدرسہ ہے۔
16درج ذیل مجموعے میں سے کون سا مجموعہ ایک اسم اور ایک فعل دونوں پر مشتمل ہے؟
الفقَلَمٌ، بَابٌ
بكَتَبَ، فِي
جكِتَابٌ، كَتَبَ
دفِي، إِلَى
كِتَابٌ اسم ہے اور كَتَبَ فعل ہے؛ باقی مجموعوں میں یا تو دونوں اسم ہیں یا فعل اور حرف کا امتزاج ہے۔

سبق 2۔ نکرہ اور معرفہ؛ الوان العربیہ

1نکرہ کی تعریف کیا ہے؟
الفایک خاص و معین شے کی نشاندہی کرنے والا اسم
بعمومی جنس پر دلالت کرنے والا اسم
جصرف فعل کی ایک قسم
دصرف حرف کی ایک قسم
نکرہ عمومی طور پر کسی جنس پر دلالت کرتا ہے، کسی خاص شے پر نہیں۔
2نکرہ کی عمومی صرفی علامت کیا ہے؟
الفحرفِ تعریف ال
بتنوین
جتاءِ تانیثِ ساکنہ
داضافت
نکرہ عام طور پر منون ہوتا ہے، یعنی اس پر تنوین آتی ہے اور ال داخل نہیں ہوتا۔
3معرفہ کی درست تعریف کون سی ہے؟
الفوہ اسم جو عمومی جنس پر دلالت کرے
بوہ اسم جو کسی خاص و متعین شے کی نشاندہی کرے
جوہ کلمہ جس کا مستقل معنی نہ ہو
دوہ فعل جو مضارع ہو
معرفہ سننے والے کے ذہن میں ایک واضح اور مخصوص تصور پیدا کرتا ہے۔
4معرفہ کی کتنی مشہور اقسام بیان کی جاتی ہیں؟
الفچار
بپانچ
جچھ
دسات
معرفہ کی چھ اقسام ہیں: علم، ضمیر، اشارہ، موصول، بمع ال، اور مضاف الی معرفہ۔
5مُحَمَّدٌ معرفہ کی کس قسم میں آتا ہے؟
الفضمیر
باسمِ اشارہ
جاسمِ علم
داسمِ موصول
مُحَمَّدٌ ایک خاص شخص کا نام ہے، اس لیے یہ اسمِ علم ہے۔
6أَنَا اور هُوَ معرفہ کی کس قسم کی مثالیں ہیں؟
الفاسمِ اشارہ
بضمیر
جمضاف الی معرفہ
داسم بمع ال
أَنَا اور هُوَ ضمائر ہیں جو کسی معین متکلم یا غائب کی جگہ استعمال ہوتے ہیں، اس لیے یہ ہمیشہ معرفہ ہیں۔
7هَذَا معرفہ کی کس قسم کی مثال ہے؟
الفاسمِ اشارہ
باسمِ موصول
جضمیر
داسمِ علم
هَذَا کسی مخصوص و قریب شے کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس لیے یہ اسمِ اشارہ ہے۔
8الَّذِي معرفہ کی کس قسم کی مثال ہے؟
الفاسمِ موصول
باسمِ اشارہ
جضمیر
دمضاف الی معرفہ
الَّذِي (جو) ایک اسمِ موصول ہے، جو معرفہ کی چوتھی قسم ہے۔
9كِتَابُ مُحَمَّدٍ معرفہ کی کس قسم کی مثال ہے، اور یہ اصلاً نکرہ کیوں تھا؟
الفاسمِ اشارہ؛ کیونکہ اس پر ال ہے
بمضاف الی معرفہ؛ کیونکہ كِتَابُ نے مُحَمَّدٍ کی طرف اضافت سے تعریف حاصل کی
جضمیر؛ کیونکہ یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے
داسمِ موصول؛ کیونکہ یہ ایک تعلق ظاہر کرتا ہے
كِتَابُ بذاتِ خود نکرہ تھا، مگر معرفہ اسم مُحَمَّدٍ کی طرف اضافت کی وجہ سے پورا مرکب معرفہ بن گیا۔
10أَحْمَرُ کا مؤنث کیا ہے؟
الفحَمْرَاءُ
بأَحْمَرَةٌ
جحُمْرٌ
دحَمْرَةٌ
رنگ کی صفت أَفْعَل کے وزن پر مذکر اور فَعْلَاء کے وزن پر مؤنث ہوتی ہے: أَحْمَرُ سے حَمْرَاءُ۔
11أَبْيَضُ کا معنی کیا ہے؟
الفسیاہ
بسفید
جبھورا
دنیلا
أَبْيَضُ کا معنی سفید ہے، اور اس کا مؤنث بَيْضَاءُ ہے۔
12الْحَقِيبَةُ خَضْرَاءُ میں خَضْرَاءُ کیوں استعمال ہوا، أَخْضَرُ کیوں نہیں؟
الفکیونکہ الْحَقِيبَةُ مؤنث ہے اور صفت کو موصوف کی جنس سے مطابقت کرنی ہوتی ہے
بکیونکہ خَضْرَاءُ آسان لفظ ہے
جکوئی خاص وجہ نہیں، دونوں درست ہیں
دکیونکہ الْحَقِيبَةُ جمع ہے
موصوف اور صفت میں تذکیر و تانیث کی مطابقت ضروری ہے، اس لیے مؤنث موصوف کے ساتھ مؤنث صفت آئی۔
13درج ذیل میں سے کون سا مرکب نکرہ کی مثال ہے؟
الفالْكِتَابُ الْأَحْمَرُ
بكِتَابٌ أَحْمَرُ
جكِتَابُ الطَّالِبِ
دهَذَا الْكِتَابُ
دونوں الفاظ منون ہیں، اس لیے یہ نکرہ مرکب ہے؛ باقی مثالیں معرفہ ہیں۔
14بنیادی رنگوں کی مذکر صفت عام طور پر کس وزن پر آتی ہے؟
الففَعِيل
بأَفْعَل
جمَفْعُول
دفَعَّال
بنیادی رنگوں اور جسمانی صفات کی مذکر صورت أَفْعَل کے وزن پر آتی ہے، جیسے أَحْمَرُ، أَخْضَرُ۔
15بُنِّيٌّ کس رنگ کا نام ہے؟
الفسیاہ
ببھورا
جنیلا
دسبز
بُنِّيٌّ کا معنی بھورا ہے، اور یہ أَفْعَل کے وزن کی بجائے نسبتی صفت کے قاعدے پر بنا ہے۔
16وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ میں حَمْرَاءُ کے استعمال کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
الفکیونکہ وَرْدَةٌ مؤنث ہے، اس لیے صفت بھی مؤنث آئی
بکیونکہ وَرْدَةٌ جمع ہے
جکوئی خاص قاعدہ نہیں
دکیونکہ حَمْرَاءُ زیادہ خوبصورت لفظ ہے
موصوف وَرْدَةٌ مؤنث ہے، اس لیے اس کی صفت بھی لازماً مؤنث وزن فَعْلَاء پر آئے گی۔

سبق 3۔ مرکب ناقص (مذکر) کی تعیین؛ ایام الاسبوع

1مرکب کی درست تعریف کیا ہے؟
الفصرف ایک مفرد کلمہ
بدو یا زیادہ کلمات کا ایسا مجموعہ جس میں ایک لفظ دوسرے سے نسبت رکھتا ہو
جصرف حرفِ جر کا استعمال
دصرف اسمِ علم کا نام
مرکب دو یا زیادہ کلمات کا وہ مجموعہ ہے جس میں الفاظ آپس میں نسبت رکھتے ہوں۔
2مرکب تام کسے کہتے ہیں؟
الفجو مکمل معنی دے یعنی جملہ
بجو نامکمل معنی دے
جصرف اسم کی ایک قسم
دصرف حرف کی ایک قسم
مرکب تام مکمل اور مستقل معنی دیتا ہے، یعنی یہ جملہ ہوتا ہے۔
3مرکب ناقص کی درست تعریف کیا ہے؟
الفوہ مرکب جو مکمل خبر دے
بوہ مرکب جو اکیلا مکمل معنی نہ دے بلکہ کلام میں ایک اکائی کی طرح استعمال ہو
جصرف فعل ماضی کی گردان
دصرف اسمِ اشارہ کی مثال
مرکب ناقص اکیلا کوئی خبر نہیں دیتا اور اسے مکمل جملہ بننے کے لیے مزید الفاظ درکار ہوتے ہیں۔
4مرکب تام اور مرکب ناقص میں فرق پہچاننے کا کیا اصول بیان کیا گیا؟
الفمرکب ناقص ہمیشہ لمبا ہوتا ہے
بمرکب تام پر سکوت کیا جاسکتا ہے، مرکب ناقص پر نہیں
جمرکب ناقص میں ہمیشہ فعل ہوتا ہے
ددونوں میں کوئی فرق نہیں
مرکب تام پر سکوت سے بات مکمل معلوم ہوتی ہے، جبکہ مرکب ناقص پر سننے والا منتظر رہتا ہے۔
5مرکب ناقص کی دو مشہور اقسام کون سی ہیں؟
الفمرکب توصیفی اور مرکب اضافی
بجملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ
جفعل ماضی اور فعل مضارع
دنکرہ اور معرفہ
مرکب ناقص یا تو موصوف-صفت پر مبنی توصیفی ہوتا ہے یا مضاف-مضاف الیہ پر مبنی اضافی۔
6كِتَابٌ جَدِيدٌ مرکب کی کس قسم کی مثال ہے؟
الفمرکب تام
بمرکب توصیفی (ناقص)
جمرکب اضافی (ناقص)
دجملہ فعلیہ
كِتَابٌ موصوف اور جَدِيدٌ اس کی صفت ہے، اس لیے یہ مرکب توصیفی ہے۔
7بَيْتُ الطَّالِبِ کس قسم کے مرکب کی مثال ہے؟
الفمرکب توصیفی
بمرکب اضافی
جمرکب تام
دجملہ اسمیہ
بَيْتُ مضاف اور الطَّالِبِ مضاف الیہ ہے، اس لیے یہ مرکب اضافی ہے۔
8هَذَا كِتَابٌ جَدِيدٌ اور كِتَابٌ جَدِيدٌ کا موازنہ کریں: پہلا مرکب تام کیوں ہے؟
الفکیونکہ اس میں مبتدا هَذَا اور خبر شامل ہوکر جملہ مکمل ہوگیا
بکیونکہ اس میں الفاظ زیادہ ہیں
جکیونکہ اس میں رنگ کا ذکر ہے
دکوئی فرق نہیں، دونوں ایک جیسے ہیں
هَذَا کے اضافے سے جملہ اسمیہ مکمل ہوجاتا ہے، جبکہ اکیلے كِتَابٌ جَدِيدٌ مرکب ناقص ہی رہتا ہے۔
9مذکر مرکب ناقص کی تعیین میں سب سے پہلا اور بنیادی قدم کیا ہے؟
الفموصوف یا مضاف کی جنس پہچاننا
بلفظ کی طوالت دیکھنا
جتنوین کی تعداد گننا
دحروف کا رنگ متعین کرنا
موصوف یا مضاف کی جنس معلوم ہونے سے ہی صفت یا آگے کے تعلق کی صحیح صورت متعین ہوتی ہے۔
10ہفتے کے دنوں کے ناموں پر عموماً کون سی صرفی علامت آتی ہے؟
الفتنوین
بحرفِ تعریف ال
جتاءِ تانیث
دکوئی علامت نہیں
دنوں کے نام معرفہ ہیں، اس لیے ان پر ال داخل ہوتا ہے، جیسے الْجُمُعَةُ۔
11السَّبْتُ کس دن کا نام ہے؟
الفپیر
بمنگل
جہفتہ (سنیچر)
دجمعرات
السَّبْتُ کا معنی ہفتہ یعنی سنیچر (Saturday) ہے۔
12الْخَمِيسُ کس دن کا نام ہے؟
الفبدھ
بجمعرات
ججمعہ
داتوار
الْخَمِيسُ کا معنی جمعرات (Thursday) ہے۔
13دن کا نام لینے کے لیے عام طور پر کون سا اضافی لفظ استعمال ہوتا ہے؟
الفشَهْرَ
بيَوْمَ
جسَنَةَ
دسَاعَةَ
دن کے نام سے پہلے عام طور پر يَوْمَ (دن) کا لفظ استعمال ہوتا ہے، جیسے يَوْمَ الْأَحَدِ۔
14يَوْمَ الْجُمُعَةِ میں يَوْمَ اور الْجُمُعَةِ کا آپس میں کیا نحوی تعلق ہے؟
الففاعل اور مفعول کا
بمضاف اور مضاف الیہ کا
جمبتدا اور خبر کا
دحرف اور فعل کا
يَوْمَ مضاف ہے اور الْجُمُعَةِ مضاف الیہ، دونوں مل کر ایک مرکب اضافی بناتے ہیں۔
15عربی ہفتہ روایتی طور پر کس دن سے شروع تصور کیا جاتا ہے؟
الفالسَّبْتُ
بالْأَحَدُ
جالْجُمُعَةُ
دالْإِثْنَيْنِ
عربی ہفتہ الْأَحَدُ یعنی اتوار سے شروع ہوکر السَّبْتُ یعنی ہفتہ پر ختم ہوتا ہے۔
16مرکب تام کی ایک درست مثال منتخب کریں۔
الفكِتَابٌ جَدِيدٌ
ببَيْتُ الطَّالِبِ
جالْوَلَدُ مُجْتَهِدٌ
دقَلَمٌ أَزْرَقُ
الْوَلَدُ مُجْتَهِدٌ ایک مکمل جملہ (مبتدا و خبر) ہے، اس لیے یہ مرکب تام ہے؛ باقی مثالیں مرکب ناقص ہیں۔

سبق 4۔ مرکب توصیفی اور اضافی؛ شہور ہجریہ و میلادیہ

1مرکب توصیفی کن دو اجزاء سے بنتا ہے؟
الفمضاف اور مضاف الیہ
بموصوف اور صفت
جفاعل اور مفعول
دمبتدا اور خبر
مرکب توصیفی موصوف اور اس کی صفت کے ملاپ سے بنتا ہے۔
2مرکب اضافی میں مضاف الیہ کا اعراب کیا ہوتا ہے؟
الفمرفوع
بمنصوب
جمجرور
دمجزوم
مضاف الیہ ہمیشہ مجرور (کسرہ والا) ہوتا ہے، خواہ پورے مرکب کا اعراب کچھ بھی ہو۔
3﴿كِتَابُ الطَّالِبِ﴾ کی تعریف و تنکیر کس بنیاد پر طے ہوگی؟
الفمضاف (كِتَابُ) کی بنیاد پر
بمضاف الیہ (الطَّالِبِ) کی بنیاد پر
جدونوں الفاظ کی لمبائی پر
دکوئی بنیاد نہیں ہوتی
مرکب اضافی کی تعریف و تنکیر ہمیشہ مضاف الیہ کے مطابق طے ہوتی ہے۔
4﴿الطَّالِبُ الْمُجْتَهِدُ﴾ کس قسم کے مرکب کی مثال ہے؟
الفمرکب اضافی
بمرکب توصیفی
جمرکب عددی
دمرکب مزجی
یہاں الْمُجْتَهِدُ، الطَّالِبُ کی صفت ہے، اس لیے یہ مرکب توصیفی ہے۔
5مضاف پر کون کون سی دو چیزیں لازمی طور پر ساقط ہوجاتی ہیں؟
الفتنوین اور ال
بحرکت اور سکون
جالف اور یاء
دہمزہ اور تاء
مضاف سے تنوین اور حرفِ تعریف ال دونوں ساقط ہوجاتے ہیں۔
6﴿ذُو الْحِجَّةِ﴾ کا لفظی مطلب اور اس کی نحوی نوعیت کیا ہے؟
الفحج والا مہینہ؛ یہ خود مرکب اضافی ہے
بحج کا آغاز؛ یہ مرکب توصیفی ہے
جچاند کا مہینہ؛ یہ اسمِ اشارہ ہے
دکوئی خاص معنی نہیں
ذُو الْحِجَّةِ کا لفظی معنی ہے حج والا مہینہ، اور یہ خود مرکب اضافی کی مثال ہے۔
7﴿أُكْتُوبَرُ﴾ عیسوی سال کے کس مہینے کا نام ہے؟
الفاگست
بستمبر
جاکتوبر
دنومبر
أُكْتُوبَرُ اکتوبر کا عربی نام ہے۔
8درج ذیل میں سے مرکب اضافی کی مثال کون سی ہے؟
الفكِتَابٌ جَدِيدٌ
بالطَّالِبُ الْمُجْتَهِدُ
جكِتَابُ الطَّالِبِ
دقَلَمٌ أَزْرَقُ
كِتَابُ الطَّالِبِ میں كِتَابُ مضاف اور الطَّالِبِ مضاف الیہ ہے، یہ ملکیت ظاہر کرتا ہے۔
9﴿مُحَرَّمٌ﴾ اسلامی سال کا کون سا مہینہ ہے؟
الفپہلا
بدوسرا
جآخری
دچھٹا
مُحَرَّمٌ اسلامی ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے۔
10درج ذیل میں سے کون سا اسلامی مہینے کا نام خود مرکب اضافی نہیں ہے؟
الفذُو الْقَعْدَةِ
بجُمَادَى الْأُولَى
جرَجَبٌ
درَبِيعٌ الْأَوَّلُ
رَجَبٌ ایک مفرد لفظ ہے جبکہ باقی تینوں مرکب اضافی کی ساخت رکھتے ہیں۔
11جملہ ﴿بَابُ الْبَيْتِ﴾ کی تعریف و تنکیر کیا ہے اور کیوں؟
الفنکرہ، کیونکہ بَابُ پر ال نہیں
بمعرفہ، کیونکہ مضاف الیہ الْبَيْتِ معرفہ ہے
جنہ معرفہ نہ نکرہ
دیہ مرکب توصیفی ہے
مرکب اضافی کی تعریف و تنکیر مضاف الیہ کے مطابق طے ہوتی ہے، اور الْبَيْتِ معرفہ ہے۔
12مرکب توصیفی اور اضافی میں امتیاز کے لیے کون سا عملی جملہ ٹیسٹ استعمال ہوتا ہے؟
الف'کا/کی/کے' لگا کر معنی جانچنا
بالفاظ کی تعداد گننا
ججملے کی لمبائی دیکھنا
دکوئی ٹیسٹ نہیں
اگر 'کا/کی/کے' لگانے سے معنی درست بنے تو مرکب اضافی، ورنہ توصیفی ہوتا ہے۔
13﴿قَرَأْتُ كِتَابَ الْمُعَلِّمِ﴾ میں كِتَابَ کا اعراب کیا ہوگا اور کیوں؟
الفمرفوع، کیونکہ یہ فاعل ہے
بمنصوب، کیونکہ یہ مفعولٌ بہ ہے
جمجرور، کیونکہ یہ مضاف الیہ ہے
دمجزوم، کیونکہ یہ فعل ہے
كِتَابَ اس جملے میں مفعولٌ بہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، جبکہ الْمُعَلِّمِ بدستور مضاف الیہ ہونے کے سبب مجرور ہی رہے گا۔
14شہور میلادیہ کے ناموں کی نحوی خصوصیت کیا ہے؟
الفیہ سب مرکب اضافی ہیں
بیہ سب مرکب توصیفی ہیں
جیہ سب مفرد الفاظ ہیں، معرب اصل کے
دیہ سب جمع مکسر ہیں
عیسوی مہینوں کے نام غیر عربی الاصل مفرد الفاظ ہیں جو عربی زبان میں معرب ہوکر داخل ہوئے۔
15﴿رَمَضَانُ شَهْرُ الصِّيَامِ﴾ میں ﴿شَهْرُ الصِّيَامِ﴾ کس قسم کا مرکب ہے؟
الفمرکب توصیفی
بمرکب اضافی
جمرکب مزجی
دمرکب عددی
شَهْرُ مضاف اور الصِّيَامِ مضاف الیہ ہے، یہ نسبت کا رشتہ ظاہر کرتا ہے، اس لیے یہ مرکب اضافی ہے۔

سبق 5۔ تذکیر و تأنیث؛ فصول السنہ

1مؤنث کی کتنی بنیادی لفظی علامات بیان کی جاتی ہیں؟
الفدو
بتین
جچار
دپانچ
مؤنث کی تین لفظی علامات ہیں: تاءِ مربوطہ، الفِ ممدودہ اور الفِ مقصورہ۔
2﴿مَدْرَسَةٌ﴾ میں مؤنث کی کون سی علامت پائی جاتی ہے؟
الفالفِ ممدودہ
بتاءِ مربوطہ
جالفِ مقصورہ
دکوئی نہیں
مَدْرَسَةٌ کے آخر میں تاءِ مربوطہ (ة) موجود ہے۔
3﴿شَمْسٌ﴾ کس قسم کا مؤنث ہے، اور اس کی وجہ کیا ہے؟
الفلفظی مؤنث، کیونکہ اس پر تاء ہے
بسماعی مؤنث، کیونکہ کوئی ظاہری علامت نہیں مگر رواجاً مؤنث ہے
جیہ مذکر ہے
دیہ حرف ہے
شَمْسٌ پر مؤنث کی کوئی لفظی علامت نہیں، مگر سماعاً یہ مؤنث شمار ہوتا ہے۔
4درج ذیل میں سے مذکر لفظ کون سا ہے؟
الفمَدْرَسَةٌ
بصَحْرَاءُ
جالشِّتَاءُ
دكُبْرَى
الشِّتَاءُ (سردی) مذکر ہے، حالانکہ باقی تینوں الفاظ مؤنث کی علامات رکھتے ہیں۔
5﴿الصَّيْفُ﴾ کس موسم کا نام ہے؟
الفبہار
بگرمی
جخزاں
دسردی
الصَّيْفُ کا معنی گرمی یعنی موسمِ گرما ہے۔
6﴿الْوَلَدُ ذَهَبَ﴾ اور ﴿الْبِنْتُ ذَهَبَتْ﴾ کے فعل میں فرق کس وجہ سے آیا؟
الفزمانے کے فرق کی وجہ سے
بفاعل کی جنس کی وجہ سے
جمفعول کی وجہ سے
دکوئی وجہ نہیں
فعل اپنی فاعل کی جنس کے مطابق ہوتا ہے؛ مؤنث فاعل کے ساتھ فعل پر تاءِ تانیث آتی ہے۔
7﴿كُبْرَى﴾ میں مؤنث کی کون سی علامت پائی جاتی ہے؟
الفتاءِ مربوطہ
بالفِ ممدودہ
جالفِ مقصورہ
دکوئی نہیں
كُبْرَى کے آخر میں الفِ مقصورہ (ى) موجود ہے۔
8مذکر اسم کو 'غیرِ علامت زدہ' کیوں کہا جاتا ہے؟
الفکیونکہ اس پر ہمیشہ کوئی خاص علامت ہوتی ہے
بکیونکہ اس کی پہچان مؤنث کی علامتوں کی عدم موجودگی سے ہوتی ہے
جکیونکہ یہ ہمیشہ جمع ہوتا ہے
دکوئی وجہ نہیں
مذکر بطورِ اصول وہی سمجھا جاتا ہے جس میں مؤنث کی کوئی علامت موجود نہ ہو۔
9﴿هِيَ طَالِبَةٌ﴾ میں ضمیر ﴿هِيَ﴾ کا استعمال کس اصول کی مثال ہے؟
الففعل کی مطابقت
بضمیر کی مطابقتِ تانیث
جمرکب اضافی
دمرکب توصیفی
ضمیر بھی اپنے مرجع کی جنس کے مطابق ہوتا ہے، مؤنث مرجع کے لیے هِيَ استعمال ہوتا ہے۔
10﴿حَمْرَاءُ﴾ (سرخ، مؤنث) میں مؤنث کی کون سی علامت پائی جاتی ہے؟
الفتاءِ مربوطہ
بالفِ ممدودہ
جالفِ مقصورہ
دسماعی
حَمْرَاءُ کے آخر میں ہمزہ کے ساتھ الفِ ممدودہ آئی ہے۔
11درج ذیل میں سے کون سا لفظ مؤنث سماعی کی مثال ہے؟
الفمَدْرَسَةٌ
بأَرْضٌ
جطَالِبَةٌ
دكُبْرَى
أَرْضٌ (زمین) پر کوئی لفظی علامت نہیں، مگر رواجاً یہ مؤنث ہے، اس لیے مؤنث سماعی ہے۔
12﴿الرَّبِيعُ جَمِيلٌ﴾ میں صفت ﴿جَمِيلٌ﴾ مذکر کیوں آئی؟
الفکیونکہ الرَّبِيعُ مذکر ہے
بکیونکہ جَمِيلٌ ہمیشہ مذکر رہتا ہے
جکیونکہ یہ مرکب اضافی ہے
دکوئی وجہ نہیں
الرَّبِيعُ (بہار) مذکر اسم ہے، اس لیے اس کی صفت بھی مذکر آئی۔
13فعل مضارع میں مؤنث فاعل کی علامت کیا ہے؟
الففعل کے آخر میں تاء
بفعل کے شروع میں ت
جفعل کے شروع میں ی
دکوئی علامت نہیں
مضارع میں مؤنث فاعل کے ساتھ فعل کے شروع میں ت آتی ہے، جیسے تَذْهَبُ۔
14درج ذیل میں سے کون سا لفظ الفِ مقصورہ کی مثال نہیں ہے؟
الفكُبْرَى
بسَلْمَى
جصَحْرَاءُ
دبِنْتٌ ذَكِيَّةٌ کا کوئی جزو نہیں
صَحْرَاءُ الفِ ممدودہ کی مثال ہے، الفِ مقصورہ کی نہیں۔
15﴿بِنْتٌ ذَكِيَّةٌ﴾ میں صفت ﴿ذَكِيَّةٌ﴾ پر تاءِ مربوطہ کیوں آئی؟
الفکیونکہ موصوف بِنْتٌ مؤنث ہے
بکیونکہ صفت ہمیشہ مؤنث ہوتی ہے
جکیونکہ یہ مرکب اضافی ہے
دکوئی وجہ نہیں
صفت اپنے موصوف کی جنس کے مطابق ہوتی ہے؛ بِنْتٌ مؤنث ہے، اس لیے صفت بھی مؤنث آئی۔

سبق 6۔ توصیف و تنکیر میں تفریق اور مطابقت کے مزید قواعد؛ اوقات و زمان

1جمعِ غیر عاقل کی صفت عموماً کس صورت میں آتی ہے؟
الفجمع مذکر
بمفرد مؤنث
جتثنیہ
دجمع مؤنث سالم
جمعِ غیر عاقل کی صفت عموماً مفرد مؤنث کی صورت میں آتی ہے۔
2﴿طُلَّابٌ مُجْتَهِدُونَ﴾ میں صفت جمع مذکر کی صورت میں کیوں آئی، جبکہ ﴿كُتُبٌ جَدِيدَةٌ﴾ میں مفرد مؤنث کی صورت میں آئی؟
الفطُلَّابٌ جمعِ عاقل ہے جبکہ كُتُبٌ جمعِ غیر عاقل ہے
بدونوں ایک جیسے اصول کی مثال ہیں
جطُلَّابٌ مؤنث ہے
دكُتُبٌ عاقل ہے
جمعِ عاقل کی صفت اپنی حقیقی جمع میں آتی ہے، جبکہ جمعِ غیر عاقل کی صفت مفرد مؤنث میں آتی ہے۔
3﴿الصَّبَاحُ﴾ کا اردو معنی کیا ہے؟
الفرات
بصبح
جشام
ددوپہر
الصَّبَاحُ کا معنی صبح ہے۔
4﴿الْمَسَاءُ﴾ کس وقت کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
الففجر
بدوپہر
جشام
درات
الْمَسَاءُ کا معنی شام کا وقت ہے۔
5﴿اللَّيْلُ﴾ کس وقت کو کہتے ہیں؟
الفدوپہر
بسہ پہر
جصبح
درات
اللَّيْلُ رات کے وقت کو کہتے ہیں۔
6معرفہ موصوف کے ساتھ صفت کیسی آئے گی؟
الفنکرہ
بمعرفہ
جکوئی بھی
دفعل
تعریف و تنکیر میں مطابقت کے اصول کے مطابق معرفہ موصوف کی صفت بھی معرفہ ہوگی۔
7جمعِ غیر عاقل کے قاعدے کی رو سے ﴿أَقْلَامٌ﴾ (قلمیں) کی مناسب صفت کون سی ہوگی؟
الفجَدِيدٌ
بجَدِيدَةٌ
ججَدِيدُونَ
دجَدِيدَاتٌ
أَقْلَامٌ جمعِ غیر عاقل ہے، اس لیے اس کی صفت مفرد مؤنث جَدِيدَةٌ کی صورت میں آئے گی۔
8دن کے اوقات میں سے کون سا نام نماز کے اوقات سے مشابہت نہیں رکھتا؟
الفالظُّهْرُ
بالْعَصْرُ
جالصَّبَاحُ
ددونوں الظُّهْرُ اور الْعَصْرُ مشابہ ہیں
الصَّبَاحُ عام لفظ ہے، جبکہ الظُّهْرُ اور الْعَصْرُ نمازوں کے اوقات کے ناموں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
9﴿الطَّالِبُ الْمُجْتَهِدُ﴾ اور ﴿طَالِبٌ مُجْتَهِدٌ﴾ میں بنیادی فرق کیا ہے؟
الفتذکیر و تانیث کا فرق
بتعریف و تنکیر کا فرق
جاعراب کا فرق
دعدد کا فرق
پہلا معرفہ ہے (دونوں پر ال) اور دوسرا نکرہ ہے (دونوں منون)۔
10﴿أَذْهَبُ إِلَى الْجَامِعَةِ فِي الصَّبَاحِ﴾ میں فِي کس چیز کو ظاہر کر رہا ہے؟
الفسمت
بملکیت
جوقت
دسبب
فِي یہاں وقت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے، جبکہ إِلَى سمت ظاہر کرتا ہے۔
11﴿بُيُوتٌ صَغِيرَةٌ﴾ میں صفت مفرد مؤنث کیوں آئی؟
الفکیونکہ بُيُوتٌ جمعِ عاقل ہے
بکیونکہ بُيُوتٌ جمعِ غیر عاقل ہے
جکیونکہ بُيُوتٌ مؤنث ہے
دکوئی وجہ نہیں
بُيُوتٌ (گھر) جمعِ غیر عاقل ہے، اس لیے اس کی صفت مفرد مؤنث آئی۔
12﴿الْبَيْتُ الْكَبِيرُ الْجَمِيلُ﴾ میں کتنی صفات استعمال ہوئی ہیں؟
الفایک
بدو
جتین
دکوئی نہیں
الْكَبِيرُ اور الْجَمِيلُ دو صفات ہیں، دونوں موصوف الْبَيْتُ کے مطابق مذکر، مفرد، معرفہ اور مرفوع ہیں۔
13﴿الطَّالِبَاتُ الْمُجْتَهِدَاتُ﴾ میں مطابقت کے کون سے امور واضح ہیں؟
الفصرف تذکیر و تانیث
بصرف عدد
جتذکیر و تانیث، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب سب
دکوئی امر واضح نہیں
اس مرکب میں موصوف اور صفت دونوں جمع مؤنث سالم، معرفہ اور مرفوع ہیں، یعنی چاروں امور میں مطابقت موجود ہے۔
14درج ذیل میں سے کون سا جملہ گرامری طور پر درست ہے؟
الفكُتُبٌ جَدِيدٌ
بكُتُبٌ جَدِيدَةٌ
جكُتُبٌ جَدِيدُونَ
دكُتُبٌ جَدِيدَاتٌ
كُتُبٌ جمعِ غیر عاقل ہے، اس لیے صفت مفرد مؤنث جَدِيدَةٌ ہی درست ہے۔
15﴿الْقَلَمَانِ الْجَدِيدَانِ﴾ میں صفت کس عدد کی صورت میں آئی ہے؟
الفمفرد
بتثنیہ
ججمع
دمفرد مؤنث
موصوف الْقَلَمَانِ تثنیہ ہے، اس لیے صفت الْجَدِيدَانِ بھی تثنیہ کی صورت میں آئی۔

سبق 7۔ معلم الانشاء سبق 6-7: مرکبات کی مزید مشق و ترجمہ

1﴿قَلَمٌ جَدِيدٌ﴾ میں مرکب کی قسم کیا ہے؟
الفمرکب اضافی
بمرکب توصیفی
جمرکب ناقص
دمرکب جاری
قَلَمٌ موصوف اور جَدِيدٌ اس کی صفت ہے، دونوں جنس اور اعراب میں مطابق ہیں، اس لیے یہ مرکب توصیفی ہے۔
2﴿بَابُ الْمَدْرَسَةِ﴾ میں مضاف کون سا لفظ ہے؟
الفالْمَدْرَسَةِ
ببَابُ
جدونوں
دکوئی نہیں
بَابُ مضاف ہے (تنوین ساقط)، اور الْمَدْرَسَةِ مضاف الیہ ہے جو مجرور آیا۔
3مرکب اضافی میں مضاف الیہ کا اعراب ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟
الفمرفوع
بمنصوب
جمجرور
دحالت کے مطابق بدلتا ہے
مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں کسی بھی محل میں ہو۔
4مرکب اضافی بنانے کے لیے مضاف سے کیا ساقط کیا جاتا ہے؟
الفصرف الف لام
بصرف تنوین
جتنوین اور الف لام دونوں
دکچھ بھی نہیں
مضاف سے تنوین بھی ساقط ہوتی ہے اور اس پر الف لام بھی داخل نہیں ہوتا۔
5﴿هَذَا كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُ﴾ میں الْجَدِيدُ کس چیز کی صفت ہے؟
الفالطَّالِبِ کی
بپورے مرکب اضافی كِتَابُ الطَّالِبِ کی (بلحاظ مضاف)
جهَذَا کی
دکسی کی نہیں
الْجَدِيدُ دراصل مضاف كِتَابُ کی خصوصیت بیان کر رہا ہے، اس لیے وہ اسی کی جنس اور اعراب کے مطابق آیا۔
6غیر عاقل اسم کی جمع کے ساتھ صفت عموماً کس صورت میں آتی ہے؟
الفجمع مذکر سالم
بجمع مؤنث سالم
جمؤنث واحد
دمثنیٰ
غیر عاقل کی جمع کا حکم مؤنث واحد جیسا ہوتا ہے، جیسے ﴿كُتُبٌ جَدِيدَةٌ﴾۔
7﴿سَيَّارَةُ أَبِي الْجَدِيدَةُ﴾ میں الْجَدِيدَةُ مؤنث وزن میں کیوں آیا؟
الفأَبِي مؤنث ہے اس لیے
بسَيَّارَةُ (مضاف) مؤنث ہے اس لیے
جاتفاقی طور پر
دکوئی وجہ نہیں
صفت ہمیشہ مضاف کی جنس کے مطابق آتی ہے، اور سَيَّارَةُ تاء مربوطہ کی وجہ سے مؤنث ہے۔
8"طالب علم کی نئی کتاب" کا درست عربی ترجمہ کیا ہے؟
الفكِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُ
بالْكِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُ
جكِتَابٌ الطَّالِبِ جَدِيدٌ
دطَالِبٌ كِتَابُ الْجَدِيدُ
درست ترتیب: مضاف (بلا تنوین/ال) + مضاف الیہ (مجرور) + صفتِ مضاف (معرفہ، مطابق جنس و اعراب)۔
9﴿فِي حَدِيقَةِ الْمَدْرَسَةِ أَشْجَارٌ طَوِيلَةٌ﴾ میں حَدِيقَةِ الْمَدْرَسَةِ کس قسم کا مرکب ہے؟
الفمرکب توصیفی
بمرکب اضافی
جمرکب ناقص
دجملہ فعلیہ
حَدِيقَةِ مضاف اور الْمَدْرَسَةِ مضاف الیہ ہے، یہ نسبت/ملکیت کا تعلق ہے یعنی مرکب اضافی۔
10مرکب توصیفی میں موصوف اور صفت کن چار چیزوں میں مطابقت رکھتے ہیں؟
الفجنس، عدد، تعریف و تنکیر، اعراب
بصرف جنس اور عدد
جصرف اعراب اور تعریف
دکوئی مطابقت ضروری نہیں
موصوف اور صفت جنس، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب چاروں میں ایک دوسرے کے مطابق ہوتے ہیں۔
11لفظ صَعْبٌ کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
الفآسان
بمشکل
جخوبصورت
دلمبا
صَعْبٌ کا معنی "مشکل" ہے، اس کا متضاد سَهْلٌ (آسان) ہے۔
12"اسکول کا باغ بڑا ہے" کا مناسب عربی ترجمہ کیا ہوگا؟
الفحَدِيقَةُ الْمَدْرَسَةِ كَبِيرَةٌ
بالْحَدِيقَةُ الْمَدْرَسَةِ كَبِيرٌ
جحَدِيقَةٌ الْمَدْرَسَةِ كَبِيرَةٌ
دمَدْرَسَةُ الْحَدِيقَةِ كَبِيرٌ
حَدِيقَةُ الْمَدْرَسَةِ درست اضافت ہے، اور خبر كَبِيرَةٌ مضاف حَدِيقَةُ کی تانیث کے مطابق مؤنث آئی۔
13مرکب اضافی میں اگر مضاف مثنیٰ (جیسے مُعَلِّمَانِ) ہو تو کیا تبدیلی آتی ہے؟
الفکوئی تبدیلی نہیں
بآخری نون گر جاتا ہے
جالف لام لگ جاتا ہے
دتنوین لگ جاتی ہے
اضافت کی وجہ سے مثنیٰ اور جمع مذکر سالم کے آخری نون کا سقوط ہوتا ہے، جیسے مُعَلِّمَا الْمَدْرَسَةِ۔
14﴿كِتَابُ التَّارِيخِ الْقَدِيمُ عَلَى الْمَكْتَبِ الْكَبِيرِ﴾ کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
الفتاریخ کی پرانی کتاب بڑی میز پر ہے
ببڑی کتاب تاریخ کی میز پر ہے
جپرانی میز تاریخ کی کتاب پر ہے
دکتاب بڑی میز کی تاریخ ہے
كِتَابُ التَّارِيخِ (اضافت) + الْقَدِيمُ (صفت) + عَلَى الْمَكْتَبِ الْكَبِيرِ (توصیفی، مجرور بہ حرفِ جر)۔
15درج ذیل میں سے کون سا جوڑا "لمبا/لمبی" کے درست مذکر مؤنث اوزان کو ظاہر کرتا ہے؟
الفطَوِيلٌ / طَوِيلَةٌ
بطَوِيلٌ / طَائِلَةٌ
جطَالٌ / طَوِيلَةٌ
دطَوِيلٌ / طُولَى
عام صفات میں مؤنث بنانے کے لیے تاء مربوطہ کا اضافہ کافی ہوتا ہے: طَوِيلٌ سے طَوِيلَةٌ۔
16مرکب کی نشاندہی کرتے وقت سب سے پہلا اور بنیادی سوال کیا ہونا چاہیے؟
الفکیا لفظ لمبا ہے؟
بدوسرے اسم کا پہلے اسم سے کیا تعلق ہے (صفت یا ملکیت)؟
جکیا جملہ فعلیہ ہے؟
دکیا لفظ نکرہ ہے؟
بنیادی معیار یہ ہے کہ دوسرا اسم پہلے کی صفت ہے (توصیفی) یا اس سے منسوب/مملوک ہے (اضافی)۔
17"طالبات کا کمرہ صاف ہے" میں خبر نَظِيفَةٌ مؤنث وزن میں کیوں آئی؟
الفالطَّالِبَاتِ جمع مؤنث ہے اس لیے
بغُرْفَةُ (مضاف) خود مؤنث ہے اس لیے
جکوئی خاص وجہ نہیں
دکیونکہ کمرہ چھوٹا ہے
خبر ہمیشہ مبتدا (یہاں مضاف غُرْفَةُ) کی جنس کے مطابق آتی ہے، مضاف الیہ کی جنس معتبر نہیں۔

سبق 8۔ سبق 1 تا 7 کا جامع اعادہ اور وسط مدتی امتحان کی تیاری

1كِتَابٌ کی کلامی قسم کیا ہے؟
الففعل
بحرف
جاسم
دضمیر
كِتَابٌ کسی چیز کا نام ہے اور کسی زمانے کی خبر نہیں دیتا، اس لیے یہ اسم ہے۔
2فعل کی پہچان کی سب سے اہم خصوصیت کیا ہے؟
الفیہ کسی زمانے میں کام کے وقوع کی خبر دیتا ہے
بیہ ہمیشہ نکرہ ہوتا ہے
جیہ ہمیشہ مؤنث ہوتا ہے
داس پر الف لام آتا ہے
فعل وہ کلمہ ہے جو کسی خاص زمانے (ماضی، حال، مستقبل) میں کسی کام کے واقع ہونے کی خبر دیتا ہے۔
3حرف کی پہچان کس طرح کی جاتی ہے؟
الفتنوین سے
بالف لام سے
جمنفی طور پر، جب اسم و فعل کی علامتیں نہ پائی جائیں
دزمانے کی خبر سے
حرف کی کوئی مثبت علامت نہیں، اسے اسم و فعل کی علامتوں کی عدم موجودگی سے پہچانا جاتا ہے۔
4وَلَدٌ کس قسم کا اسم ہے؟
الفمعرفہ
بنکرہ
جحرف
دفعل
تنوین کی موجودگی اس کے نکرہ (غیر معین) ہونے کی علامت ہے۔
5معرفہ بنانے کی سب سے عام علامت کیا ہے؟
الفتنوین
بالف لام
جتاء مربوطہ
دنون ساکن
الف لام کا اضافہ کسی نکرہ اسم کو معرفہ (متعین) بنا دیتا ہے، جیسے وَلَدٌ سے الْوَلَدُ۔
6أَحْمَرُ کا مؤنث وزن کیا ہے؟
الفأَحْمَرَةٌ
بحَمْرَاءُ
جحُمْرٌ
دأَحْمَرَاءُ
رنگوں کا مؤنث وزن فَعْلَاءُ پر آتا ہے، تاء مربوطہ کا اضافہ نہیں ہوتا۔
7مرکب ناقص کی نمایاں خصوصیت کیا ہے؟
الفیہ مکمل معنی دیتا ہے
بیہ نامکمل معنی دیتا ہے اور سننے والے کو مزید انتظار میں رکھتا ہے
جیہ صرف فعل سے بنتا ہے
دیہ صرف حرف سے بنتا ہے
مرکب ناقص جیسے كِتَابُ الطَّالِبِ تنہا ایک ادھورا خیال ہے جب تک کوئی خبر شامل نہ ہو۔
8ہفتے کے دن يَوْمُ الْجُمُعَةِ کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
الفہفتہ
باتوار
ججمعہ
دجمعرات
يَوْمُ الْجُمُعَةِ کا معنی جمعہ کا دن ہے۔
9مرکب توصیفی میں موصوف اور صفت کن چار چیزوں میں مطابق ہوتے ہیں؟
الفجنس، عدد، تعریف و تنکیر، اعراب
بصرف جنس
جصرف اعراب
دصرف عدد اور جنس
موصوف اور صفت جنس، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب چاروں میں یکساں ہوتے ہیں۔
10مرکب اضافی میں مضاف سے کیا ساقط ہوتا ہے؟
الفکچھ نہیں
بصرف الف لام
جتنوین اور الف لام دونوں
دصرف تنوین
مضاف سے تنوین بھی گرتی ہے اور اس پر الف لام بھی داخل نہیں ہو سکتا۔
11رَمَضَانُ کس قسم کا مہینہ ہے؟
الفعیسوی
بہجری (اسلامی)
جشمسی
دکوئی نہیں
رَمَضَانُ اسلامی (قمری/ہجری) کیلنڈر کا نواں مہینہ ہے۔
12مؤنث بنانے کی سب سے قیاسی علامت کیا ہے؟
الفالف لام
بتنوین
جتاء مربوطہ
دنون تثنیہ
زیادہ تر اسماء کی تانیث تاء مربوطہ (ة) کے اضافے سے بنتی ہے، جیسے طَالِبٌ سے طَالِبَةٌ۔
13شَمْسٌ (سورج) کس قسم کا مؤنث ہے؟
الفمؤنث لفظی (تاء مربوطہ والا)
بمؤنث سماعی (بلا علامت)
جمذکر
دمثنیٰ
شَمْسٌ پر کوئی ظاہری علامتِ تانیث نہیں مگر یہ سماعاً مؤنث شمار ہوتا ہے۔
14الشِّتَاءُ کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
الفبہار
بگرمی
جخزاں
دسردی
الشِّتَاءُ کا معنی سردی کا موسم ہے۔
15غیر عاقل جمع (جیسے كُتُبٌ) کے ساتھ صفت عموماً کس صورت میں آتی ہے؟
الفجمع مذکر سالم
بجمع مؤنث سالم
جمؤنث واحد
دمثنیٰ
غیر عاقل جمع کا حکم مؤنث واحد جیسا ہوتا ہے، جیسے كُتُبٌ جَدِيدَةٌ۔
16عَصْرٌ کا اردو معنی کیا ہے؟
الفصبح
بدوپہر
جسہ پہر
درات
عَصْرٌ سہ پہر کے وقت کو کہتے ہیں، جو نماز عصر کے وقت سے موسوم ہے۔
17هَذَا كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُ میں الْجَدِيدُ کس چیز کی صفت ہے؟
الفالطَّالِبِ کی
بپورے مرکب کے مضاف كِتَابُ کی
جهَذَا کی
دکسی کی نہیں
صفت دراصل مضاف كِتَابُ کی خصوصیت بیان کرتی ہے، اسی کی جنس و اعراب کے مطابق آئی۔
18مضاف الیہ کا اعراب ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟
الفمرفوع
بمنصوب
جمجرور
دبدلتا رہتا ہے
مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے چاہے پورا مرکب کسی بھی محل میں ہو۔
19الطَّالِبَةُ ذَكِيَّةٌ میں ذَكِيَّةٌ مؤنث وزن میں کیوں آیا؟
الفاتفاقی طور پر
بالطَّالِبَةُ (مبتدا) مؤنث ہے اس لیے
جکوئی وجہ نہیں
دکیونکہ جملہ لمبا ہے
خبر ہمیشہ مبتدا کی جنس کے مطابق آتی ہے۔
20فِي کس قسم کا کلمہ ہے؟
الفاسم
بفعل
جحرف
دضمیر
فِي کا اپنا مستقل معنی نہیں، یہ ظرفیت کا ربط پیدا کرتا ہے، اس لیے حرف ہے۔
21بَيْتُ الْمُعَلِّمِ الْكَبِيرُ میں کتنے مرکبات موجود ہیں اور ان کی اقسام کیا ہیں؟
الفایک مرکب توصیفی
بایک مرکب اضافی اور ایک مرکب توصیفی
جدو مرکب اضافی
دکوئی مرکب نہیں
بَيْتُ الْمُعَلِّمِ اضافت ہے اور الْكَبِيرُ اس مضاف كِتَابُ کی صفت، یعنی توصیفی جزو۔
22معلم الانشاء کے سبق 3 میں کون سا بنیادی قاعدہ سکھایا گیا؟
الففعل مضارع
بمرکب ناقص
جفعل امر
دفعل مجہول
سبق 3 مرکب ناقص کی تعریف اور تعیین کے قواعد پر مبنی تھا۔
23الرَّبِيعُ کس موسم کا نام ہے؟
الفگرمی
ببہار
جخزاں
دسردی
الرَّبِيعُ بہار کے موسم کو کہا جاتا ہے۔
24درج ذیل میں سے کون سا لفظ حرف کی مثال ہے؟
الفكِتَابٌ
بكَتَبَ
جمِنْ
دطَالِبٌ
مِنْ ایک حرف جر ہے جس کا اپنا مستقل معنی نہیں، یہ ربط پیدا کرتا ہے۔
25امتحان کی تیاری کی تجویز کردہ حکمت عملی میں کیا شامل نہیں؟
الفہر قاعدے پر نئی مثالیں بنانا
بصرف کتاب کی مثالیں رٹنا
جمخلوط عبارتوں کا تجزیہ کرنا
دموضوعاتی الفاظ دہرانا
محض رٹا لگانے کے بجائے سمجھ بوجھ اور نئی مثالوں کی مشق زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے۔
26جُمَادَى الْأُولَى کس قسم کا مہینہ ہے؟
الفعیسوی
بہجری
جشمسی
دموسمی
جُمَادَى الْأُولَى اسلامی (ہجری) کیلنڈر کا پانچواں مہینہ ہے۔

سبق 9۔ معلم الانشاء سبق 8: فعل ماضی کا تعارف اور گردان

1فعل ماضی کس بات کی خبر دیتا ہے؟
الفحال میں جاری کام کی
بمستقبل میں ہونے والے کام کی
جگفتگو سے پہلے مکمل ہو چکے کام کی
دحکم دینے کی
فعل ماضی ایسے کام کی خبر دیتا ہے جو گفتگو کے وقت سے پہلے مکمل ہو چکا ہو۔
2فعل ماضی کی پہچان کی سب سے آسان علامت کیا ہے؟
الفحروفِ مضارعت کا سابقہ
بتاءِ فاعل کا اتصال ممکن ہونا
جلام امر کا سابقہ
دنون تاکید کا لاحقہ
فعل ماضی کے ساتھ تاءِ فاعل (كَتَبْتُ وغیرہ) کا جڑنا ممکن ہوتا ہے، جو فعل مضارع یا امر کے ساتھ نہیں ہوتا۔
3واحد مذکر غائب کا صیغہ كَتَبَ سے کیا ہے؟
الفهُوَ كَتَبَ
بهِيَ كَتَبَتْ
جأَنْتَ كَتَبْتَ
دأَنَا كَتَبْتُ
هُوَ كَتَبَ واحد مذکر غائب کا صیغہ ہے اور یہی فعل کی بنیادی لغوی صورت ہے۔
4تثنیہ مذکر غائب کا صیغہ کیا ہے؟
الفهُمْ كَتَبُوا
بهُمَا كَتَبَا
جهُمَا كَتَبَتَا
دهُنَّ كَتَبْنَ
هُمَا كَتَبَا میں الف تثنیہ کی علامت ہے۔
5جمع مذکر غائب كَتَبُوا میں واو کے بعد آنے والا خاموش الف کیا کہلاتا ہے؟
الفالف تثنیہ
بالف الفارقہ
جالف مقصورہ
دالف ممدودہ
یہ الف صرف تحریر میں فرق ظاہر کرنے کے لیے لکھا جاتا ہے، پڑھا نہیں جاتا، اسے الف الفارقہ کہتے ہیں۔
6واحد مؤنث غائب کا صیغہ كَتَبَ سے کیا بنتا ہے؟
الفهِيَ كَتَبَتْ
بهِيَ كَتَبَا
جهِيَ كَتَبْنَ
دهِيَ كَتَبَتَا
واحد مؤنث غائب میں تاءِ تانیث ساکنہ کا اضافہ ہو کر هِيَ كَتَبَتْ بنتا ہے۔
7جمع مؤنث غائب هُنَّ كَتَبْنَ میں نون کس چیز کی علامت ہے؟
الفنون تثنیہ
بنونِ نسوہ
جنون تاکید
دنون وقایہ
نونِ نسوہ جمع مؤنث غائب اور حاضر کی خاص علامت ہے۔
8واحد مذکر حاضر کا صیغہ كَتَبَ سے کیا ہے؟
الفأَنْتَ كَتَبْتَ
بأَنْتِ كَتَبْتِ
جأَنَا كَتَبْتُ
دهُوَ كَتَبَ
أَنْتَ كَتَبْتَ واحد مذکر حاضر (تم نے لکھا، مرد) کا صیغہ ہے۔
9تثنیہ حاضر کا صیغہ أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا کن دونوں جنسوں کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
الفصرف مذکر کے لیے
بصرف مؤنث کے لیے
جمذکر اور مؤنث دونوں کے لیے مشترک
دکسی کے لیے نہیں
عربی میں تثنیہ حاضر کی صورت میں مذکر و مؤنث کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی۔
10جمع مؤنث حاضر کا صیغہ كَتَبَ سے کیا بنتا ہے؟
الفأَنْتُنَّ كَتَبْتُنَّ
بأَنْتُمْ كَتَبْتُمْ
جأَنْتُمَا كَتَبْتُمَا
دأَنْتِ كَتَبْتِ
أَنْتُنَّ كَتَبْتُنَّ جمع مؤنث حاضر کا صیغہ ہے۔
11واحد متکلم کا صیغہ كَتَبَ سے کیا ہے؟
الفأَنَا كَتَبْتُ
بنَحْنُ كَتَبْنَا
جأَنْتَ كَتَبْتَ
دهُوَ كَتَبَ
أَنَا كَتَبْتُ واحد متکلم (میں نے لکھا) کا صیغہ ہے۔
12متکلم مع الغیر کا صیغہ كَتَبَ سے کیا ہے، اور یہ کن دونوں (تثنیہ و جمع) کے لیے مشترک ہے؟
الفنَحْنُ كَتَبْنَا
بأَنْتُمْ كَتَبْتُمْ
جهُمْ كَتَبُوا
دأَنَا كَتَبْتُ
نَحْنُ كَتَبْنَا متکلم مع الغیر کا واحد صیغہ ہے جو تثنیہ اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
13فعل ماضی کے کل کتنے صیغے (گردان کی صورتیں) ہوتے ہیں؟
الفدس
ببارہ
جچودہ
دسولہ
چھ غائب، چھ حاضر اور دو متکلم، مجموعی طور پر چودہ صیغے۔
14فعل ماضی کی آخری حرکت کن صیغوں میں ساکن ہو جاتی ہے؟
الفجب واو یا الف جڑے
بجب کوئی متحرک ضمیر (تاء، نا، نون النسوہ) جڑے
جکبھی نہیں بدلتی
دصرف تثنیہ میں
متحرک ضمیر کے اتصال سے فعل کی آخری حرکت سکون میں بدل جاتی ہے، جیسے كَتَبْتُ میں۔
15ذَهَبَ کا اردو معنی کیا ہے؟
الفاس نے لکھا
بوہ گیا
جاس نے پڑھا
داس نے کھایا
ذَهَبَ کا معنی 'وہ گیا' ہے۔
16قَرَأَ کی جمع مذکر غائب کیا ہے؟
الفقَرَءُوا
بقَرَأَا
جقَرَأْنَ
دقَرَأَتْ
قَرَءُوا جمع مذکر غائب (ان سب نے پڑھا) ہے، جس میں واوِ جماعت شامل ہے۔
17كَتَبَ الطُّلَّابُ الدَّرْسَ میں فعل واحد کیوں رہا حالانکہ فاعل جمع ہے؟
الفیہ غلطی ہے
بفاعل ظاہری اسم ہے اور فعل سے بعد میں آیا، اس لیے فعل واحد رہا
جالطُّلَّابُ اصل میں واحد ہے
دکوئی خاص وجہ نہیں
جب ظاہری فاعل فعل کے بعد آئے تو فعل ہمیشہ واحد کی صورت میں رہتا ہے۔
18اگر فاعل کی جگہ ضمیر جمع پہلے سے فعل میں شامل ہو (جیسے كَتَبُوا) تو فعل کی صورت کیا ہوگی؟
الفواحد
بجمع کی مکمل صورت
جتثنیہ
دکوئی صورت نہیں
جب فاعل کی ضمیر خود فعل میں شامل ہو تو فعل جمع یا تثنیہ کی مکمل صورت اختیار کرتا ہے۔
19الطَّالِبَةُ كَتَبَتْ میں فعل مؤنث وزن میں کیوں آیا؟
الفاتفاقی طور پر
بفاعل الطَّالِبَةُ مؤنث ہے، اس لیے فعل نے اس سے مطابقت کی
جکوئی وجہ نہیں
دکیونکہ جملہ چھوٹا ہے
فعل ماضی ہمیشہ اپنے فاعل کی جنس سے مطابقت رکھتا ہے۔

سبق 10۔ معلم الانشاء سبق 9: فعل مضارع اور فعل منفی

1فعل مضارع کی تشکیل کن چار حروف کے اضافے سے ہوتی ہے؟
الفو، ف، ب، ل
بأ، ن، ي، ت
جلَا، لَنْ، لَمْ، مَا
دال، تاء، یاء، واو
فعل مضارع کے چار حروفِ مضارعت أ، ن، ي، ت ہیں، جنہیں مجموعی طور پر أَنَيْتُ کہا جاتا ہے۔
2حرفِ مضارعت أ کس صیغے (شخص) کی نشاندہی کرتا ہے؟
الفمتکلم واحد
بمتکلم جمع
جغائب مذکر
دحاضر مؤنث
أ متکلم واحد کے لیے آتا ہے، جیسے أَكْتُبُ (میں لکھتا ہوں)۔
3نَكْتُبُ کا صحیح اردو معنی کیا ہے؟
الفوہ لکھتا ہے
بہم لکھتے ہیں
جتم لکھتے ہو
دمیں لکھتا ہوں
حرفِ مضارعت ن متکلم جمع کی نشاندہی کرتا ہے، اس لیے نَكْتُبُ کا مطلب ہم لکھتے ہیں ہے۔
4هُمْ يَكْتُبُونَ میں فعل کے آخر میں واو نون کس چیز کی علامت ہے؟
الفواحد مذکر غائب
بتثنیہ مذکر
ججمع مذکر سالم
دجمع مؤنث
واو اور نون کا اضافہ جمع مذکر غائب (وہ سب مرد) کی علامت ہے: يَكْتُبُونَ۔
5أَنْتِ تَكْتُبِينَ میں یاء کا اضافہ کس صیغے کی خاص علامت ہے؟
الفحاضر مؤنث واحد
بغائب مؤنث واحد
ججمع مؤنث
دتثنیہ مؤنث
یاء نون کا اضافہ حاضر مؤنث واحد (تو، عورت) کی خاص علامت ہے: تَكْتُبِينَ۔
6هُنَّ يَكْتُبْنَ اور أَنْتُنَّ تَكْتُبْنَ میں بنیادی فرق کس چیز سے پہچانا جاتا ہے؟
الففعل کے آخری حرف سے
بصرف حرفِ مضارعت (ي بمقابلہ ت) سے
جدونوں بالکل ایک جیسے ہیں، کوئی فرق نہیں
دالف کے اضافے سے
دونوں جمع مؤنث کے صیغے ہیں، فرق صرف غائب (ي) اور حاضر (ت) کے حرفِ مضارعت سے ظاہر ہوتا ہے۔
7أَنَا أَكْتُبُ اور نَحْنُ نَكْتُبُ کن دو صیغوں کی نمائندگی کرتے ہیں؟
الفغائب واحد اور جمع
بحاضر واحد اور جمع
جمتکلم واحد اور متکلم جمع
دامر اور نہی
أَنَا أَكْتُبُ متکلم واحد (میں لکھتا ہوں) اور نَحْنُ نَكْتُبُ متکلم جمع (ہم لکھتے ہیں) ہیں۔
8فعل مضارع كَتَبَ سے بناتے وقت پہلے اصلی حرف (ک) کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟
الفوہ متحرک رہتا ہے
بوہ ساکن ہوجاتا ہے اور اس سے پہلے حرفِ مضارعت آتا ہے
جوہ حذف ہوجاتا ہے
داس پر شدہ لگ جاتی ہے
فعل مضارع بناتے وقت پہلا اصلی حرف ساکن ہوجاتا ہے اور اس سے پہلے حرفِ مضارعت لگ کر متحرک ہوتا ہے، جیسے يَكْتُبُ۔
9حال کے کام کی نفی کے لیے کون سا حرف فعل مضارع سے پہلے لگایا جاتا ہے؟
الفمَا
بلَا
جلَنْ
دإِنْ
لَا فعل مضارع سے پہلے لگ کر حال کے کام کی نفی کرتا ہے، جیسے لَا يَكْتُبُ (وہ نہیں لکھتا)۔
10لَا يَكْتُبُ میں فعل يَكْتُبُ کا اعراب کیا ہوتا ہے؟
الفمنصوب ہوجاتا ہے
بمجزوم ہوجاتا ہے
جمرفوع ہی رہتا ہے، تبدیل نہیں ہوتا
دمجرور ہوجاتا ہے
لَا فعل کے اعراب پر کوئی اثر نہیں ڈالتا، فعل اپنی اصل مرفوع حالت میں رہتا ہے۔
11ماضی کے کام کی نفی کے لیے کون سا حرف فعل ماضی سے پہلے لگایا جاتا ہے؟
الفلَا
بلَمْ
جمَا
دلَنْ
مَا فعل ماضی سے پہلے لگ کر ماضی کے کام کی نفی کرتا ہے، جیسے مَا كَتَبَ (اس نے نہیں لکھا)۔
12مَا كَتَبَ کا صحیح اردو ترجمہ کیا ہے؟
الفوہ نہیں لکھتا
باس نے نہیں لکھا
جوہ ہرگز نہیں لکھے گا
دمت لکھو
مَا ماضی کی نفی کرتا ہے، اس لیے مَا كَتَبَ کا مطلب ہے 'اس نے نہیں لکھا'۔
13مَا کے فعل ماضی کے ساتھ آنے سے فعل کی بنیادی بنا (ساخت) میں کیا تبدیلی آتی ہے؟
الففعل منصوب ہوجاتا ہے
بفعل مجزوم ہوجاتا ہے
جکوئی تبدیلی نہیں آتی، فعل ویسا ہی رہتا ہے
دفعل کا مادّہ بدل جاتا ہے
فعل ماضی مبنی ہوتا ہے، مَا کے آنے سے اس کی بنا میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔
14جملہ الطَّالِبُ لَا يَكْتُبُ الدَّرْسَ میں الدَّرْسَ کی نحوی حیثیت اور اعراب کیا ہے؟
الففاعل، مرفوع
بمفعول بہ، منصوب
جنائب فاعل، مرفوع
دمبتدأ، مرفوع
الدَّرْسَ فعل يَكْتُبُ کا مفعول بہ ہے، اس لیے منصوب (زبر کے ساتھ) ہے۔
15درج ذیل میں سے کون سا جوڑا صحیح طور پر 'وہ دونوں مرد لکھتے ہیں' کا ترجمہ ہے؟
الفهُمَا يَكْتُبَانِ
بهُمْ يَكْتُبُونَ
جهُمَا تَكْتُبَانِ
دهُنَّ يَكْتُبْنَ
هُمَا يَكْتُبَانِ تثنیہ غائب مذکر کا صیغہ ہے، جس کا مطلب ہے 'وہ دونوں مرد لکھتے ہیں'۔
16لَا اور مَا میں بنیادی فرق کیا ہے؟
الفدونوں بالکل ایک جیسے ہیں
بلَا مضارع کی نفی کرتا ہے، مَا ماضی کی
جلَا ماضی کی نفی کرتا ہے، مَا مضارع کی
ددونوں صرف امر کی نفی کرتے ہیں
لَا فعل مضارع (حال) کے ساتھ اور مَا فعل ماضی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔

سبق 11۔ معلم الانشاء سبق 10: فعل مجہول (ماضی مجہول)

1فعل معروف کی تعریف کیا ہے؟
الفجس میں فاعل حذف ہو
بجس میں فاعل مذکور اور معلوم ہو
ججس میں مفعول نہ ہو
دجس کا کوئی زمانہ نہ ہو
فعل معروف وہ فعل ہے جس میں فاعل جملے میں مذکور اور معلوم ہوتا ہے۔
2فعل مجہول میں فاعل کی کیا حالت ہوتی ہے؟
الفذکر اور معلوم ہوتا ہے
بحذف یا نامعلوم ہوتا ہے
جہمیشہ منصوب ہوتا ہے
دکوئی فرق نہیں پڑتا
فعل مجہول میں اصل فاعل حذف یا نامعلوم ہوتا ہے، اس کی جگہ نائب الفاعل آتا ہے۔
3ماضی مجہول بنانے کا صحیح قاعدہ کیا ہے؟
الفپہلا حرف مکسور، ماقبلِ آخر مضموم
بپہلا حرف مضموم، ماقبلِ آخر مکسور
جصرف آخری حرف مضموم
دکوئی حرکت نہیں بدلتی
قاعدہ یہ ہے کہ پہلا حرف مضموم (پیش) اور ماقبلِ آخر حرف مکسور (زیر) کردیا جاتا ہے: كَتَبَكُتِبَ۔
4معروف فعل کا صرفی وزن اور مجہول فعل کا صرفی وزن بالترتیب کیا ہے؟
الففَعَلَ اور فُعِلَ
بفَعِلَ اور فَعَلَ
جفُعِلَ اور فَعَلَ
دفَعَلَ اور فَاعِلٌ
معروف فعل کا وزن فَعَلَ ہے، جبکہ مجہول فعل کا وزن فُعِلَ ہے۔
5فَتَحَ کی مجہول صورت کیا ہے؟
الففُتِحَ
بفَاتِحٌ
جيَفْتَحُ
دافْتَحْ
فَتَحَ کا پہلا حرف پیش اور ماقبلِ آخر زیر دینے سے فُتِحَ بنتا ہے۔
6قَرَأَ کی مجہول صورت میں ہمزہ کی نشست کیوں بدل جاتی ہے؟
الفکیونکہ قَرَأَ سالم فعل ہے
بکیونکہ آخری حرف سے پہلے کسرہ آنے پر ہمزہ کی کرسی اسی کے مطابق بدلتی ہے
جکیونکہ یہ فعل امر ہے
دہمزہ کبھی نہیں بدلتا
قَرَأَ کے مجہول قُرِئَ میں کسرہ کی وجہ سے ہمزہ یاء کی کرسی پر آجاتا ہے۔
7نُصِرَ کس فعل کی مجہول صورت ہے؟
الفكَتَبَ
بفَتَحَ
جنَصَرَ
دذَهَبَ
نُصِرَ، نَصَرَ (اس نے مدد کی) کی مجہول صورت ہے، جس کا معنی 'مدد کی گئی' ہے۔
8نائب الفاعل کا اعراب کیا ہوتا ہے؟
الفمنصوب
بمجرور
جمرفوع
دمجزوم
نائب الفاعل ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے فاعل مرفوع ہوتا ہے۔
9كَتَبَ الطَّالِبُ الدَّرْسَ کو مجہول میں بدلنے پر الدَّرْسَ کا اعراب کیا بنے گا؟
الفمنصوب ہی رہے گا
بمرفوع ہوجائے گا (نائب الفاعل بن کر)
جمجرور ہوجائے گا
دمجزوم ہوجائے گا
مفعول بہ مجہول بننے پر نائب الفاعل بن جاتا ہے اور اس کا اعراب منصوب سے مرفوع میں بدل جاتا ہے۔
10فَتَحَ الْوَلَدُ الْبَابَ اس جملے کی مجہول صورت کیا ہوگی؟
الففُتِحَ الْبَابُ
بفَتَحَ الْبَابُ
جيُفْتَحُ الْوَلَدُ
دفُتِحَ الْوَلَدَ
فاعل الْوَلَدُ حذف ہوگیا اور مفعول الْبَابَ نائب الفاعل بن کر مرفوع (الْبَابُ) ہوگیا۔
11فعل مجہول کا استعمال عام طور پر کن مواقع پر کیا جاتا ہے؟
الفجب فاعل معلوم اور اہم ہو
بجب فاعل نامعلوم ہو یا نتیجہ زیادہ اہم ہو
جصرف شاعری میں
دصرف سوالیہ جملوں میں
فعل مجہول اس وقت استعمال ہوتا ہے جب فاعل نامعلوم ہو، یا بات کا مرکز نتیجہ ہو نہ کہ کرنے والا۔
12ضَرَبَ کی مجہول صورت کیا بنے گی؟
الفضَرِبَ
بضُرِبَ
جضَارِبٌ
ديَضْرِبُ
پہلا حرف پیش اور ماقبلِ آخر زیر دینے سے ضَرَبَ سے ضُرِبَ بنتا ہے۔
13معروف جملے کو مجہول میں بدلنے کے تین مراحل میں شامل نہیں ہے:
الففعل کا وزن فَعَلَ سے فُعِلَ کرنا
باصل فاعل کو حذف کرنا
جمفعول بہ کو نائب الفاعل بنا کر مرفوع کرنا
دفعل کو مضارع میں بدلنا
فعل مضارع میں بدلنا مجہول بنانے کا حصہ نہیں؛ فعل ماضی ہی مجہول ماضی رہتا ہے، صرف اس کا وزن بدلتا ہے۔
14بُنِيَ الْمَسْجِدُ جیسے جملوں میں فعل مجہول کیوں استعمال ہوتا ہے؟
الفکیونکہ فعل ماضی نہیں بن سکتا تھا
بکیونکہ تعمیر کرنے والوں کا نام غیر متعلق اور فاعل کا ذکر ضروری نہیں
جکیونکہ عربی میں معروف جملہ ممنوع ہے
دکوئی خاص وجہ نہیں
جب فاعل کا ذکر غیر ضروری یا نامعلوم ہو تو مجہول کا اسلوب زیادہ موزوں ہوتا ہے۔
15كُتِبَ الدَّرْسُ میں لفظ الدَّرْسُ کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
الففاعل
بمفعول بہ
جنائب الفاعل
دمبتدأ
چونکہ اصل فاعل حذف ہوچکا ہے، اس لیے الدَّرْسُ نائب الفاعل بن کر مرفوع ہوا ہے۔

سبق 12۔ معلم الانشاء سبق 11: فعل مضارع منفی اور استمراری صیغے

1لَمْ کس زمانے کی نفی کے لیے استعمال ہوتا ہے، حالانکہ فعل بظاہر مضارع کی شکل میں ہوتا ہے؟
الفحال
بمستقبل
جماضی
دامر
لَمْ مضارع کی صورت کے ساتھ آکر بھی ماضی کے معنی میں نفی کرتا ہے۔
2لَمْ اپنے بعد آنے والے فعل مضارع کو کیا بناتا ہے؟
الفمرفوع
بمنصوب
جمجزوم
دمجرور
لَمْ ایک حرفِ جازم ہے، اپنے بعد فعل مضارع کو مجزوم کردیتا ہے۔
3يَكْتُبُ کی مجزوم صورت کیا ہے؟
الفيَكْتُبَ
بيَكْتُبْ
جيَكْتُبُونَ
ديَكْتُبَانِ
جزم کی علامت آخری حرف پر سکون ہے، اس لیے يَكْتُبُ کی مجزوم صورت يَكْتُبْ ہے۔
4لَمْ يَكْتُبْ کا صحیح اردو ترجمہ کیا ہے؟
الفوہ نہیں لکھتا
باس نے نہیں لکھا
جوہ ہرگز نہیں لکھے گا
دمت لکھو
لَمْ ماضی کے معنی میں نفی کرتا ہے، اس لیے لَمْ يَكْتُبْ کا مطلب 'اس نے نہیں لکھا' ہے۔
5علتی آخری حرف والے فعل مضارع (جیسے يَذْهَبُ) جب لَمْ کے بعد مجزوم ہوں تو عام طور پر کیا تبدیلی آتی ہے؟
الفآخری حرف پر شدہ آجاتی ہے
بکوئی تبدیلی نہیں آتی
جآخری حرفِ علت حذف ہوجاتا ہے
دپورا فعل بدل جاتا ہے
علتی آخر والے افعال میں جزم کی علامت حذفِ حرفِ علت ہوتی ہے، جیسے يَذْهَبُ کا مجزوم يَذْهَبْ۔
6عربی میں فعل مضارع بذاتِ خود کن دو مفاہیم پر دلالت کرسکتا ہے؟
الفصرف مکمل ہوچکے کام پر
بعادی اور جاری، دونوں کام پر
جصرف حکم پر
دصرف نہی پر
فعل مضارع سیاق کے مطابق عادی کام (وہ لکھتا ہے) اور جاری کام (وہ لکھ رہا ہے) دونوں پر دلالت کرسکتا ہے۔
7عربی اور اردو کے طرزِ اظہار میں جاری کام بیان کرنے کا بنیادی فرق کیا ہے؟
الفعربی میں عادی اور جاری کام کے لیے الگ الگ صیغے ہیں
بعربی میں ایک ہی صیغہ مضارع دونوں مفاہیم دے سکتا ہے
جاردو میں کوئی فرق نہیں کیا جاتا
ددونوں زبانیں بالکل ایک جیسی ہیں
عربی میں فعل مضارع بذاتِ خود عادی اور جاری دونوں کام کا مفہوم دے سکتا ہے، سیاق سے فرق متعین ہوتا ہے۔
8ماضی استمراری بنانے کے لیے كَانَ کا کیا کردار ہے؟
الفیہ پورے مرکب کو ماضی کے جاری کام میں بدل دیتا ہے
بیہ صرف فاعل بدلتا ہے
جیہ فعل کو منفی بناتا ہے
داس کا کوئی خاص کردار نہیں
كَانَ فعلِ ناقص ہے جو اپنے ساتھ آنے والے مضارع جملے کو ماضی کے جاری کام میں بدل دیتا ہے۔
9كَانَ الطَّالِبُ يَكْتُبُ میں الطَّالِبُ کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
الفاسمِ كَانَ (مرفوع)
بخبرِ كَانَ (منصوب)
جفاعل
دمفعول
الطَّالِبُ اسمِ كَانَ ہے اور مرفوع ہے۔
10كَانَ يَكْتُبُ میں يَكْتُبُ کی نحوی حیثیت کیا ہے؟
الففاعلِ كَانَ
بخبرِ كَانَ، محلاً منصوب
جمفعول بہ
دحال، مرفوع
جملہ فعلیہ يَكْتُبُ خبرِ كَانَ کے طور پر آیا ہے اور محلاً منصوب شمار ہوتا ہے۔
11ماضی استمراری کی نفی کیسے بنائی جاتی ہے؟
الفلَا + مضارع
بلَمْ يَكُنْ + مضارع
جلَنْ + مضارع
دمَا + ماضی
ماضی استمراری کی نفی لَمْ يَكُنْ کے ساتھ اصل فعل کا مضارع لگا کر بنائی جاتی ہے۔
12لَمْ يَكُنْ يَكْتُبُ کا صحیح مفہوم کیا ہے؟
الفوہ لکھ رہا تھا
بوہ لکھ نہیں رہا تھا
جاس نے لکھا
دوہ لکھے گا
یہ ماضی استمراری کی منفی صورت ہے: وہ لکھ نہیں رہا تھا۔
13لَمْ يَكُنْ يَكْتُبُ میں لَمْ کس لفظ کو مجزوم کر رہا ہے؟
الفيَكْتُبُ کو
بيَكُونُ کو (جو يَكُنْ بن گیا)
جدونوں افعال کو
دکسی کو بھی نہیں
لَمْ معاون فعل كَانَ کے مضارع يَكُونُ کو مجزوم کرتا ہے، اصل فعل يَكْتُبُ بطور خبر بغیر تبدیلی کے رہتا ہے۔
14لَا اور لَمْ کے استعمال میں بنیادی فرق کیا ہے؟
الفدونوں بالکل ایک جیسے ہیں
بلَا حال کی نفی کرتا ہے اور اعراب نہیں بدلتا، لَمْ ماضی کے معنی میں نفی کرتا ہے اور فعل کو مجزوم کرتا ہے
جلَا صرف ماضی کے لیے ہے
دلَمْ فعل کو منصوب کرتا ہے
لَا سادہ حال کی نفی کے لیے ہے اور فعل کا اعراب نہیں بدلتا، جبکہ لَمْ ماضی کے معنی میں نفی کرتا ہے اور فعل کو مجزوم کردیتا ہے۔
15كَانَ کس قسم کا فعل شمار ہوتا ہے؟
الففعلِ تام
بفعلِ ناقص
جفعلِ امر
دفعلِ مضارع
كَانَ فعلِ ناقص ہے، جو اپنے اسم اور خبر کا محتاج ہوتا ہے۔

سبق 13۔ فعل امر و نہی؛ انشائی مضمون: القرآن الکریم اور اخلاقِ نبوی ﷺ

1فعلِ امر کس چیز پر دلالت کرتا ہے؟
الفکام کا حکم یا درخواست دینا
بکام سے روکنا
جکام کے بارے میں سوال کرنا
دکام کی خبر دینا
فعلِ امر مخاطب کو کسی کام کے کرنے کا حکم یا درخواست دیتا ہے۔
2فعلِ امر بنانے کا پہلا مرحلہ کیا ہے؟
الفہمزۃ الوصل بڑھانا
بحرفِ مضارعت ہٹانا
جلَا کا اضافہ کرنا
دآخری حرف کو مضموم کرنا
سب سے پہلے فعلِ مضارع سے شروع کا حرفِ مضارعت (ت) ہٹایا جاتا ہے، پھر آخری حرف ساکن کیا جاتا ہے۔
3تَذْهَبُ سے فعلِ امر بنایا جائے تو کیا بنے گا؟
الفذَهَبَ
باِذْهَبْ
جيَذْهَبُ
دلَا تَذْهَبْ
حرفِ مضارعت ہٹا کر اور مکسور ہمزۃ الوصل بڑھا کر اِذْهَبْ (جاؤ) بنتا ہے، کیونکہ عین الفعل (ہ) مفتوح ہے۔
4تَنْصُرُ سے فعلِ امر بنانے پر ہمزۃ الوصل کی حرکت کیا ہوگی؟
الفمفتوح
بمکسور
جمضموم
دساکن
چونکہ تَنْصُرُ کا عین الفعل (ص) مضموم ہے، اس لیے ہمزۃ الوصل بھی مضموم آئے گی: اُنْصُرْ۔
5فعلِ نہی اور فعلِ امر کی تشکیل میں بنیادی فرق کیا ہے؟
الفنہی میں حرفِ مضارعت باقی رہتا ہے، امر میں ہٹ جاتا ہے
بدونوں بالکل ایک جیسے بنتے ہیں
جامر میں لَا لگتا ہے، نہی میں نہیں لگتا
دنہی صرف فعلِ ماضی سے بنتا ہے
فعلِ نہی میں حرفِ مضارعت باقی رہتا ہے اور صرف لَا اور جزم کا اضافہ ہوتا ہے، جبکہ امر میں حرفِ مضارعت ہٹا کر ہمزۃ الوصل بڑھائی جاتی ہے۔
6فعلِ نہی میں ہمزۃ الوصل کی ضرورت کیوں نہیں پڑتی؟
الفکیونکہ نہی میں کوئی فعل نہیں ہوتا
بکیونکہ حرفِ مضارعت خود متحرک ہوتا ہے
جکیونکہ لَا خود ساکن ہے
دکیونکہ نہی صرف اسمیہ جملے میں آتا ہے
فعلِ نہی میں حرفِ مضارعت (جو متحرک ہوتا ہے) باقی رہتا ہے، اس لیے کلمہ ساکن سے شروع نہیں ہوتا اور ہمزۃ الوصل کی ضرورت نہیں پڑتی۔
7لَا تَتَكَاسَلْ کا معنی کیا ہے؟
الفسستی کرو
بسستی نہ کرو
جتم نے سستی کی
دوہ سست ہے
یہ فعلِ نہی ہے، معنی: سستی نہ کرو۔
8اُكْتُبِ الدَّرْسَ وَلَا تَتَكَاسَلْ فِيهِ میں کتنے افعال ہیں اور ان کی نوعیت کیا ہے؟
الفایک فعلِ امر
بدو افعال: امر اور نہی
جتین افعالِ ماضی
دکوئی فعل نہیں
اس جملے میں دو افعال ہیں: اُكْتُبِ (فعلِ امر) اور لَا تَتَكَاسَلْ (فعلِ نہی)۔
9نمونہ مضمون کے مطابق قرآن کریم کس کے ذریعے نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا؟
الفامام ابوحنیفہ
بجبریل علیہ السلام
جکسی صحابی
دخود بخود
مضمون میں بیان ہوا ہے کہ قرآن جبریل علیہ السلام کے ذریعے نازل ہوا (بِوَاسِطَةِ الْأَمِينِ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ)۔
10قرآن کریم کے مضمون میں 'إِعْجَازٌ بَيَانِيٌّ' سے کیا مراد ہے؟
الفقرآن کا صرف تاریخی ہونا
بکوئی فصیح انسان اس جیسا کلام نہیں بناسکا
جقرآن کا صرف لمبا ہونا
دقرآن کا صرف عربی میں ہونا
بیانی اعجاز کا مطلب ہے کہ فصیح و بلیغ لوگ بھی قرآن کی سب سے چھوٹی سورت جیسا کلام لانے سے عاجز رہے۔
11اخلاقِ نبوی ﷺ کے مضمون میں كَانَ کیوں استعمال ہوا ہے؟
الفمستقل صفت ظاہر کرنے کے لیے
بسوال بنانے کے لیے
جنفی کرنے کے لیے
دامر بنانے کے لیے
كَانَ ماضی میں کسی مستقل، دیرپا صفت کے ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
12قوم نے بعثت سے پہلے نبی کریم ﷺ کو کیا لقب دیا؟
الفالْأَمِيرُ
بالصَّادِقُ الْأَمِينُ
جالْحَكِيمُ
دالْخَطِيبُ
مضمون کے مطابق آپ ﷺ کو بعثت سے پہلے ہی 'الصادق الامین' کا لقب دیا گیا تھا۔
13مضمون کے مطابق نبی کریم ﷺ کمزوروں اور یتیموں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے تھے؟
الفسختی کا سلوک
برحمت اور نرمی کا سلوک
جبے توجہی کا سلوک
دکوئی خاص سلوک نہیں
مضمون میں بیان ہے کہ آپ ﷺ کمزوروں، یتیموں اور مساکین پر رحیم اور نرم دل تھے۔
14انشائی مضمون لکھنے کے راہنما اصول کے مطابق مضمون کا اختتام کیسا ہونا چاہیے؟
الفایک نیا سوال اٹھاتے ہوئے
بذاتی جذبے یا عزم کے مختصر جملے سے
جبغیر کسی اختتام کے
دصرف ایک لفظ پر
سبق میں بتایا گیا ہے کہ مضمون کا اختتام طالب علم کے ذاتی جذبے یا نتیجے پر مبنی مختصر جملے سے ہونا چاہیے۔
15عربی میں کسی کلمے کی ابتدا ساکن حرف سے کیوں نہیں ہوسکتی؟
الفیہ ممکن ہے، کوئی مسئلہ نہیں
بعربی تلفظ کے اصول کے مطابق ناممکن ہے
جصرف فعلِ ماضی میں ممکن نہیں
دصرف اسم میں ممکن نہیں
عربی تلفظ کے قاعدے کے مطابق کلمہ ساکن حرف سے شروع نہیں ہوسکتا، اسی لیے فعلِ امر میں ہمزۃ الوصل بڑھائی جاتی ہے۔

سبق 14۔ خبر و انشاء کا فرق؛ عربی خط نگاری کی مشق

1خبر کی بنیادی پہچان کیا ہے؟
الفاس میں سچ/جھوٹ کا احتمال ہوتا ہے
بیہ ہمیشہ سوالیہ ہوتی ہے
جیہ ہمیشہ حکم دیتی ہے
داس پر سچ/جھوٹ کا حکم نہیں لگتا
خبر وہ جملہ ہے جس کی تصدیق یا تکذیب کی جاسکتی ہو۔
2انشاء کی بنیادی پہچان کیا ہے؟
الفاس پر سچ/جھوٹ کا حکم لگ سکتا ہے
باس پر سچ/جھوٹ کا حکم نہیں لگتا
جیہ ہمیشہ ماضی میں ہوتا ہے
دیہ ہمیشہ اسمیہ جملہ ہوتا ہے
انشاء (طلبی جملہ) پر سچ یا جھوٹ کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ خبر نہیں بلکہ حکم، سوال، پکار یا خواہش ظاہر کرتا ہے۔
3هَلْ كَتَبْتَ؟ انشاء کی کس قسم کی مثال ہے؟
الفامر
بنہی
جاستفہام
دنداء
یہ سوالیہ جملہ ہے، اس لیے استفہام کی مثال ہے۔
4يَا مُحَمَّدُ! انشاء کی کس قسم کی مثال ہے؟
الفنداء
بتمنی
جاستفہام
دنہی
يَا مُحَمَّدُ پکارنے کے لیے استعمال ہوا ہے، اس لیے یہ نداء کی مثال ہے۔
5لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا انشاء کی کس قسم کی مثال ہے، اور اس کا مفہوم کیا ہے؟
الفنداء — کسی کو پکارنا
بتمنی — کاش جوانی لوٹ آئے
جاستفہام — جوانی کے بارے میں سوال
دامر — جوانی لوٹانے کا حکم
لَيْتَ کسی مشکل یا ناممکن خواہش کے اظہار کے لیے آتا ہے؛ اس جملے کا مفہوم ہے: کاش جوانی ایک دن لوٹ آئے۔
6خبر اور انشاء کے فرق کو بنیادی طور پر کیا چیز طے کرتی ہے؟
الفجملے کی لمبائی
بیہ کہ اس پر سچ/جھوٹ کا حکم لگ سکتا ہے یا نہیں
جیہ کہ جملہ اسمیہ ہے یا فعلیہ
دجملے میں فعل کی موجودگی
بنیادی امتیاز یہ ہے کہ خبر پر تصدیق/تکذیب کا حکم لگتا ہے، انشاء پر نہیں، چاہے دونوں اسمیہ ہوں یا فعلیہ۔
7استفہام کی پہچان عام طور پر کن حروف سے ہوتی ہے؟
الفيَا اور أَيُّهَا
بهَلْ اور أَ
جلَا اور لَمْ
دلَيْتَ اور لَعَلَّ
استفہام کی پہچان حروفِ استفہام جیسے هَلْ اور أَ سے ہوتی ہے۔
8نداء کی پہچان عام طور پر کن حروف سے ہوتی ہے؟
الفيَا اور أَيُّهَا
بهَلْ اور أَ
جلَا اور لَمْ
دلَيْتَ
نداء (پکارنے) کی پہچان حروفِ نداء جیسے يَا اور أَيُّهَا سے ہوتی ہے۔
9روایتی عربی خط عام طور پر کس جملے سے شروع ہوتا ہے؟
الفبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
بهَلْ أَنْتَ بِخَيْرٍ؟
جلَا تَكْتُبْ
دكَانَ يَكْتُبُ
روایتی عربی خط بسم اللہ سے شروع کیا جاتا ہے، جس کے بعد دعائیہ سلام آتا ہے۔
10خط میں دعائیہ سلام کے بعد عام طور پر کون سا ربطیہ کلمہ آتا ہے؟
الفوَبَعْدُ
بلَيْتَ
جهَلْ
ديَا
دعائیہ سلام کے بعد وَبَعْدُ (اما بعد) ربطیہ کلمے کے طور پر آتا ہے، جو اصل مضمون کی طرف منتقلی کی علامت ہے۔
11نمونہ خط میں 'الدِّرَاسَةُ تَسِيرُ عَلَى مَا يُرَامُ' کس قسم کا جملہ ہے؟
الفخبر
بانشاء (امر)
جانشاء (استفہام)
دانشاء (نداء)
یہ ایک بیانیہ (informative) جملہ ہے جس کی تصدیق یا تکذیب ممکن ہے، اس لیے یہ خبر ہے۔
12نمونہ خط میں 'فَأَرْجُو أَنْ تُرْسِلُوا إِلَيَّ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْمَالِ' کس قسم کا جملہ ہے؟
الفخبر
بانشاء (درخواست)
جانشاء (نداء)
دانشاء (تمنی)
یہ فعلِ رجاء کے ذریعے کی گئی مؤدبانہ درخواست ہے، اس لیے یہ انشاء کی صورت ہے، خبر نہیں۔
13نمونہ خط کے اختتام پر بیٹا اپنا تعارف کس طرح کرواتا ہے؟
الفاِسْمِي مُحَمَّدٌ
بابْنُكُمُ الْمُخْلِصُ، مُحَمَّدٌ
جأَنَا طَالِبٌ
دمَعَ السَّلَامَةِ
نمونہ خط کے آخر میں دستخط کی جگہ ابْنُكُمُ الْمُخْلِصُ، مُحَمَّدٌ لکھا گیا ہے، جو رشتہ اور نام دونوں واضح کرتا ہے۔
14خط میں بڑوں سے مؤدبانہ درخواست کرنے کے لیے عام طور پر کون سا صیغہ استعمال ہوتا ہے؟
الفبراہِ راست فعلِ امر
بأَرْجُو أَنْ (میں امید رکھتا ہوں کہ)
جلَا الناہیہ
دحرفِ استفہام
بڑوں یا محترم افراد سے درخواست کرتے وقت براہِ راست حکمیہ صیغے کے بجائے أَرْجُو أَنْ جیسا نرم اور مؤدبانہ صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔
15اگر کوئی جملہ کسی حقیقت کی اطلاع دینے کے بجائے کسی کو پکارنے کے لیے استعمال ہو تو وہ کس قسم کا جملہ کہلائے گا؟
الفخبر
بانشاء (نداء)
جانشاء (امر)
دانشاء (استفہام)
پکارنے کے لیے استعمال ہونے والا جملہ انشاء کی قسم نداء کہلاتا ہے، جیسے يَا مُحَمَّدُ۔

سبق 15۔ درخواستِ رخصت اور تعارفی مکالمہ کی مشق؛ جامع نظرثانی

1عربی درخواست میں وجہ بیان کرنے کے بعد عام طور پر کیا لکھا جاتا ہے؟
الفمطلوبہ چیز کی درخواست
بمکالمہ
جمضمون کا عنوان
دکچھ نہیں
وجہ کے بعد مطلوبہ چیز (مثلاً رخصت) کی باقاعدہ اور مؤدبانہ درخواست کی جاتی ہے۔
2كَيْفَ حَالُكَ؟ کا مناسب جواب کون سا ہے؟
الفاِسْمِي مُحَمَّدٌ
بأَنَا بِخَيْرٍ، الْحَمْدُ لِلَّهِ
جأَنَا مِنْ لَاهُورَ
دلَا أَعْرِفُ
كَيْفَ حَالُكَ؟ (تم کیسے ہو؟) کا مناسب جواب أَنَا بِخَيْرٍ، الْحَمْدُ لِلَّهِ ہے۔
3نمونہ درخواستِ رخصت میں رخصت کی بنیادی وجہ کیا بتائی گئی ہے؟
الفامتحان کی تیاری
ببیماری (حمی/بخار)
جسفر کی خواہش
دچھٹیوں کا آغاز
اس سبق کی مثال میں شدید بخار کی وجہ سے رخصت کی درخواست کی مشق کرائی گئی ہے۔
4نمونہ درخواست میں 'رخصت' کے علاوہ کون سی اضافی گزارش کی گئی؟
الففیس کی معافی
بغیر حاضری معاف کرنے کی گزارش
جامتحان ملتوی کرنے کی گزارش
دکوئی اضافی گزارش نہیں
طالب علم نے رخصت کے ساتھ ساتھ اس مدت کی غیر حاضری معاف کرنے کی بھی گزارش کی۔
5سمسٹر میں سیکھی گئی افعال کی اقسام میں کون سی شامل نہیں ہے؟
الففعلِ ماضی
بفعلِ مضارع
جفعلِ امر و نہی
دفعلِ استثناء
فعلِ استثناء اس سمسٹر کے نصاب کا حصہ نہیں تھا؛ باقی تینوں پڑھائی گئیں۔
6درخواست اور خط دونوں میں کیا مشترک ہوتا ہے؟
الفدعائیہ سلام سے آغاز اور اختتام
بدونوں ہمیشہ سوالیہ ہوتے ہیں
جدونوں میں صرف امر استعمال ہوتا ہے
دکوئی مشترک بات نہیں
دونوں میں بسم اللہ اور دعائیہ سلام سے آغاز اور دعائیہ کلمات کے ساتھ اختتام مشترک ہے۔
7درخواست اور خط میں بنیادی فرق کیا ہے؟
الفدرخواست زیادہ رسمی ہوتی ہے اور مخاطب کا عہدہ ذکر کیا جاتا ہے
بخط ہمیشہ چھوٹا ہوتا ہے
جدرخواست میں سلام نہیں لکھا جاتا
دخط میں شکریہ نہیں آتا
درخواست میں مخاطب کا باقاعدہ عہدہ اور رسمی، مختصر لہجہ استعمال ہوتا ہے، جبکہ خط عام طور پر زیادہ ذاتی اور تفصیلی ہوتا ہے۔
8مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ کس بارے میں سوال ہے؟
الفنام
بطبیعت
ججائے پیدائش/رہائش
دعمر
یہ سوال ہے کہ تم کہاں سے ہو، یعنی وطن یا رہائش کے بارے میں۔
9پورے سمسٹر کے نصاب کو دیکھتے ہوئے، اس کورس کا حتمی مقصد کیا تھا؟
الفصرف الفاظ یاد کرنا
بنظریاتی گرامر سے آگے بڑھ کر عملی عربی تحریر پر قدرت حاصل کرنا
جصرف ترجمہ کرنا سیکھنا
دصرف قرآن کی تلاوت سیکھنا
کورس کا حتمی مقصد یہ تھا کہ طلبہ گرامر کے قواعد کو عملی مضمون نویسی، خط نگاری، درخواست اور مکالمہ نگاری میں استعمال کرنا سیکھیں۔
10خبر کی پہچان کیا ہے؟
الفتصدیق یا تکذیب ممکن ہو
بہمیشہ سوالیہ ہو
جہمیشہ حکم دے
دکبھی فعل نہ ہو
خبر وہ جملہ ہے جس میں سچائی یا جھوٹ کا احتمال ہو۔
11انشاء طلبی کی پانچ اقسام میں شامل نہیں ہے؟
الفامر
بنہی
جاستفہام
دماضی
ماضی فعل کی ایک قسم ہے، انشاء طلبی کی قسم نہیں؛ انشاء کی پانچ اقسام امر، نہی، استفہام، نداء اور تمنی ہیں۔
12نکرہ اور معرفہ میں بنیادی فرق کیا ہے؟
الفنکرہ غیر متعین ہے، معرفہ متعین ہے
بدونوں ایک جیسے ہیں
جنکرہ صرف مؤنث ہوتا ہے
دمعرفہ صرف جمع ہوتا ہے
نکرہ کوئی بھی غیر متعین اسم ہے جیسے كِتَابٌ، جبکہ معرفہ کسی خاص چیز کو ظاہر کرتا ہے جیسے الْكِتَابُ۔
13مرکب اضافی کی مثال کون سی ہے؟
الفكِتَابٌ جَدِيدٌ
بكِتَابُ الطَّالِبِ
جكَتَبَ الطَّالِبُ
دهَلْ كَتَبْتَ؟
كِتَابُ الطَّالِبِ (طالب علم کی کتاب) مضاف و مضاف الیہ پر مبنی مرکب اضافی کی مثال ہے۔
14مرکب توصیفی کی مثال کون سی ہے؟
الفكِتَابُ الطَّالِبِ
بكِتَابٌ جَدِيدٌ
جاُكْتُبْ
دلَا تَذْهَبْ
كِتَابٌ جَدِيدٌ (نئی کتاب) موصوف و صفت پر مبنی مرکب توصیفی کی مثال ہے۔
15فعلِ مجہول کس چیز کو ظاہر کرتا ہے؟
الففاعل نامعلوم یا غیر مذکور ہونا
بکام کا حکم
جکام سے روکنا
دکام کا سوال
فعلِ مجہول میں فاعل نامعلوم یا غیر مذکور ہوتا ہے اور مفعول نائب الفاعل بن جاتا ہے، جیسے كُتِبَ الدَّرْسُ۔
16فعلِ مضارع استمراری کیسے بنایا جاتا ہے؟
الفكَانَ + فعلِ مضارع
بلَا + فعلِ مضارع
جهَلْ + فعلِ مضارع
ديَا + اسم
فعلِ مضارع استمراری كَانَ اور فعلِ مضارع کے امتزاج سے بنتا ہے، جیسے كَانَ يَكْتُبُ (وہ لکھ رہا تھا)۔
17فعلِ امر بنانے میں کیا ہوتا ہے؟
الفحرفِ مضارعت ہٹا کر ہمزۃ الوصل بڑھائی جاتی ہے
بلَا کا اضافہ کیا جاتا ہے
جفعل کو مجہول بنایا جاتا ہے
دفعل ماضی میں بدلا جاتا ہے
فعلِ امر میں فعلِ مضارع سے حرفِ مضارعت ہٹا کر، ضرورت پڑنے پر ہمزۃ الوصل بڑھائی جاتی ہے۔
18فعلِ نہی بنانے کے لیے کیا استعمال ہوتا ہے؟
الفلَا الناہیہ + مضارع مجزوم
بهَلْ + فعلِ ماضی
جيَا + اسم
دكَانَ + مضارع
فعلِ نہی لَا الناہیہ کو فعلِ مضارع مجزوم کے ساتھ ملا کر بنایا جاتا ہے۔
19تذکیر و تانیث کی مطابقت میں کس چیز کا خیال رکھا جاتا ہے؟
الفصرف فعل کا
بفعل، صفت اور ضمیر تینوں کا اسم کے ساتھ موافقت
جصرف رنگ کے الفاظ کا
دصرف اعداد کا
تذکیر و تانیث کی مطابقت میں فعل، صفت اور ضمیر — تینوں کا اسم کے مذکر یا مؤنث ہونے کے ساتھ موافقت ضروری ہے۔
20تعارفی مکالمے کے اختتام پر عام طور پر کون سا جملہ استعمال ہوتا ہے؟
الفمَعَ السَّلَامَةِ
بلَا تَذْهَبْ
جهَلْ أَنْتَ طَالِبٌ؟
دكُتِبَ الدَّرْسُ
مکالمے کے اختتام پر مَعَ السَّلَامَةِ (خدا حافظ) جیسا رخصتی جملہ استعمال ہوتا ہے۔
21نمونہ مکالمے میں بلال نے اپنا تعلیمی مضمون کیسے بیان کیا؟
الفأَدْرُسُ الدِّرَاسَاتِ الْإِسْلَامِيَّةَ
باِسْمِي بِلَالٌ
جأَنَا مِنْ لَاهُورَ
دمَعَ السَّلَامَةِ
نمونہ مکالمے میں یہ جملہ حامد نے کہا کہ وہ اسلامیات پڑھتا ہے (أَدْرُسُ الدِّرَاسَاتِ الْإِسْلَامِيَّةَ)، اور بلال نے اپنی جگہ لاہور سے ہونا بتایا۔
22درخواستِ رخصت میں 'فَأَرْجُو مِنْ سِيَادَتِكُمُ التَّكَرُّمَ بِمَنْحِي إِجَازَةً' کس قسم کا جملہ ہے؟
الفخبر
بانشاء (مؤدبانہ درخواست)
جانشاء (نداء)
دانشاء (تمنی)
یہ فعلِ رجاء کے ذریعے کی گئی مؤدبانہ درخواست ہے، اس لیے یہ انشاء کی صورت ہے۔