ہوماسباق ‹ سبق 2
سبق 2 از 15 · معلم الانشاء، حصہ اول — سبق 2

نکرہ اور معرفہ؛ الوان العربیہ

کوئی اسم نکرہ اور معرفہ میں کیسے ممتاز ہوتا ہے، اور رنگوں کے الفاظ کو اپنے موصوف کے مطابق درست طور پر کیسے استعمال کیا جائے؟

1نکرہ و معرفہ: تمہید

نکرہ اور معرفہ کی تفریق عربی نحو کے سب سے بنیادی ابواب میں سے ایک ہے، کیونکہ ہر اسم لازماً انہی دو حالتوں میں سے کسی ایک میں ہوتا ہے — یا تو وہ کسی غیر متعین جنس کی نمائندگی کرے گا (نکرہ) یا کسی خاص و معلوم شے کی نشاندہی کرے گا (معرفہ)۔ یہ تفریق محض نظری نہیں بلکہ عملی طور پر مرکب توصیفی، مرکب اضافی اور جملہ اسمیہ کی درست تشکیل کے لیے ناگزیر ہے، کیونکہ موصوف و صفت اور مبتدا و خبر کے درمیان تعریف و تنکیر کی مطابقت ہمیشہ ملحوظ رکھنی پڑتی ہے۔

2نکرہ کی تعریف اور پہچان

نکرہ وہ اسم ہے جو کسی خاص اور معین شے کی نشاندہی نہ کرے، بلکہ عمومی طور پر کسی جنس یا نوع کے کسی بھی فرد پر دلالت کرے، جیسے رَجُلٌ (کوئی آدمی) یا كِتَابٌ (کوئی کتاب)۔ جب سامع نکرہ سنتا ہے تو اس کے ذہن میں کوئی متعین شخصیت یا شے نہیں آتی، بلکہ محض اس جنس کا کوئی بھی فرد تصور میں آتا ہے۔ نکرہ کی عمومی و آسان ترین علامت یہ ہے کہ یہ منون ہوتا ہے، یعنی اس کے آخر میں تنوین آتی ہے، اور اس پر حرفِ تعریف ال داخل نہیں ہوتا۔

3معرفہ کی تعریف

معرفہ اس کے برعکس وہ اسم ہے جو کسی خاص و متعین شے کی نشاندہی کرے، یعنی سننے والے کے ذہن میں ایک واضح اور مخصوص تصور پیدا ہوجائے، جیسے مُحَمَّدٌ (ایک معین شخص کا نام) یا الرَّجُلُ (وہ مخصوص آدمی جسے سامع پہچانتا ہے)۔ چونکہ معرفہ کی صورتیں متعدد ہیں، اس لیے نحویوں نے اسے چھ اقسام میں تقسیم کیا ہے تاکہ ہر معرفہ اسم کو باآسانی درجہ بند کیا جاسکے۔ ہر معرفہ اسم لازماً انہی چھ اقسام میں سے کسی ایک میں شمار ہوتا ہے۔

4معرفہ کی اقسام: علم اور ضمیر

معرفہ کی پہلی دو اقسام یہ ہیں: اسمِ علم، یعنی کسی خاص ذات، شخص یا جگہ کا نام، جیسے مُحَمَّدٌ یا مَكَّةُ؛ اور ضمیر، یعنی وہ لفظ جو کسی اسم کی جگہ استعمال ہو اور خود بخود معرفہ ہو، جیسے أَنَا (میں)، أَنْتَ (تم) اور هُوَ (وہ)۔ ضمیر ہمیشہ معرفہ ہوتا ہے کیونکہ یہ کسی متکلم، مخاطب یا غائب کی طرف براہِ راست اشارہ کرتا ہے، اور اس پر کبھی تنوین یا ال داخل نہیں ہوسکتا۔

5معرفہ کی اقسام: اشارہ، موصول، ال اور اضافت

باقی چار اقسام یہ ہیں: اسمِ اشارہ، جیسے هَذَا (یہ — مذکر قریب) اور تِلْكَ (وہ — مؤنث بعید)؛ اسمِ موصول، جیسے الَّذِي (جو — مذکر) اور الَّتِي (جو — مؤنث)؛ اسم بمع ال، یعنی جس اسم پر حرفِ تعریف ال داخل ہو، جیسے الْكِتَابُ؛ اور مضاف الی معرفہ، یعنی وہ اسم جو بذاتِ خود نکرہ ہو مگر کسی دوسرے معرفہ اسم کی طرف مضاف ہوکر معرفہ بن جائے، جیسے كِتَابُ مُحَمَّدٍ (محمد کی کتاب)۔ یہ آخری قسم خاص توجہ چاہتی ہے کیونکہ اس میں لفظ اپنی اصل حالت میں نکرہ ہوتا ہے مگر اضافت کے باعث معرفہ کا درجہ پالیتا ہے۔

6الألوان: بنیادی رنگوں کے نام

عربی میں رنگوں کے بنیادی نام یہ ہیں: أَحْمَرُ (سرخ)، أَزْرَقُ (نیلا)، أَخْضَرُ (سبز)، أَصْفَرُ (پیلا)، أَبْيَضُ (سفید)، أَسْوَدُ (سیاہ) اور بُنِّيٌّ (بھورا)۔ ان میں سے پہلے چھ رنگ ایک خاص صرفی وزن پر بنتے ہیں جسے أَفْعَل کہا جاتا ہے، جبکہ بُنِّيٌّ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہے اور عام نسبتی صفت کی طرح بنایا گیا ہے۔

7رنگ کی صفت کا وزن: أَفْعَل اور فَعْلَاء

بنیادی رنگوں اور مستقل جسمانی صفات، جیسے أَعْمَى یعنی اندھا، کی صفت مذکر میں أَفْعَل کے وزن پر اور مؤنث میں فَعْلَاء کے وزن پر آتی ہے۔ چنانچہ أَحْمَرُ کا مؤنث حَمْرَاءُ، أَخْضَرُ کا مؤنث خَضْرَاءُ، أَصْفَرُ کا مؤنث صَفْرَاءُ، أَزْرَقُ کا مؤنث زَرْقَاءُ، أَبْيَضُ کا مؤنث بَيْضَاءُ اور أَسْوَدُ کا مؤنث سَوْدَاءُ ہے۔ اس وزن کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر تنوین بھی نہیں آتی، جو آئندہ اسباق میں مزید تفصیل سے پڑھایا جائے گا۔

8موصوف اور صفت کی مطابقت

جب کوئی رنگ کسی اسم کی صفت کے طور پر آئے تو اسے موصوف کی جنس یعنی تذکیر و تانیث سے مطابقت کرنی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر قَلَمٌ أَحْمَرُ (ایک سرخ قلم) میں قَلَمٌ مذکر ہے، اس لیے صفت أَحْمَرُ کے وزن پر آئی؛ جبکہ وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ (ایک سرخ پھول) میں وَرْدَةٌ مؤنث ہے، اس لیے صفت حَمْرَاءُ کے وزن پر آئی۔ یہ اصول — کہ صفت ہمیشہ اپنے موصوف کی جنس کے مطابق ہوگی — عربی انشاء میں سب سے زیادہ دہرایا جانے والا قاعدہ ہے اور مرکب توصیفی کے پورے باب کی بنیاد ہے۔

9نکرہ اور معرفہ مرکب کا موازنہ

چونکہ رنگ کی صفت بھی اسم ہے، اس لیے یہ نکرہ اور معرفہ دونوں صورتوں میں آسکتی ہے۔ كِتَابٌ أَحْمَرُ (ایک سرخ کتاب) نکرہ مرکب ہے کیونکہ دونوں الفاظ منون ہیں، جبکہ الْكِتَابُ الْأَحْمَرُ (وہ سرخ کتاب) معرفہ مرکب ہے کیونکہ دونوں پر ال داخل ہے۔ یہاں ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: موصوف اور صفت کو تعریف و تنکیر میں بھی ہمیشہ ایک دوسرے سے مطابقت کرنی ہوتی ہے — اگر موصوف معرفہ ہے تو صفت بھی معرفہ ہوگی، اور اگر موصوف نکرہ ہے تو صفت بھی نکرہ ہوگی، ورنہ جملہ نحوی طور پر ناقص تصور ہوگا۔

10خلاصہ اور اگلے سبق سے ربط

خلاصہ یہ کہ نکرہ عمومی جنس کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ معرفہ کسی خاص و متعین شے کی، اور معرفہ کی چھ اقسام — علم، ضمیر، اشارہ، موصول، بمع ال، اور مضاف الی معرفہ — ہر معرفہ اسم کو درجہ بند کرنے کے لیے کافی ہیں۔ رنگوں کے الفاظ سیکھتے وقت طالب علم کو ہمیشہ دو باتوں کا خیال رکھنا چاہیے: صفت کی تذکیر و تانیث موصوف کے مطابق ہو، اور تعریف و تنکیر میں بھی دونوں ایک دوسرے سے مطابقت رکھیں۔ یہی اصول اگلے سبق میں مرکب توصیفی اور مرکب اضافی کے مکمل قواعد میں مزید پھیلایا جائے گا۔

مصادر و مراجع

  1. معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 2
  2. النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
أَحْمَرُسرخ (مذکر)
حَمْرَاءُسرخ (مؤنث)
أَزْرَقُنیلا (مذکر)
زَرْقَاءُنیلا (مؤنث)
أَخْضَرُسبز (مذکر)
خَضْرَاءُسبز (مؤنث)
أَصْفَرُپیلا (مذکر)
صَفْرَاءُپیلا (مؤنث)
أَبْيَضُسفید (مذکر)
بَيْضَاءُسفید (مؤنث)
أَسْوَدُسیاہ (مذکر)
سَوْدَاءُسیاہ (مؤنث)
بُنِّيٌّبھورا
وَرْدَةٌپھول / گلاب

نکرہ وہ اسم ہے جو کسی خاص و معین شے کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ عمومی جنس پر دلالت کرتا ہے، جیسے رَجُلٌ (کوئی آدمی) — سننے والا نہیں جانتا کہ کون سا آدمی مراد ہے، بس اتنا معلوم ہے کہ کوئی آدمی ہے۔ جبکہ معرفہ وہ اسم ہے جو کسی خاص و متعین شے کی نشاندہی کرے، جیسے مُحَمَّدٌ (ایک معین شخص کا نام) یا الرَّجُلُ (وہ مخصوص آدمی جسے سننے والا پہلے سے پہچانتا ہے)۔ فرق کا لب لباب یہ ہے کہ نکرہ سننے والے کے ذہن میں کوئی خاص تصویر نہیں بناتا، جبکہ معرفہ ایک متعین اور معلوم تصور دیتا ہے۔ عملی طور پر نکرہ کی علامت یہ ہے کہ اس پر تنوین آتی ہے اور ال داخل نہیں ہوتا، جبکہ معرفہ اسماء اکثر ال، اسمِ علم، ضمیر، اسمِ اشارہ، اسمِ موصول یا اضافت کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عربی عبارت پڑھتے وقت سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر اسم نکرہ ہے یا معرفہ، کیونکہ اسی سے آگے کے جملے کا نحوی ڈھانچہ متعین ہوتا ہے۔

معرفہ کی چھ اقسام یہ ہیں۔ پہلی، اسمِ علم — یعنی کسی خاص ذات کا نام، جیسے مُحَمَّدٌ۔ دوسری، ضمیر — یعنی وہ لفظ جو کسی اسم کی جگہ استعمال ہو، جیسے أَنَا (میں) یا هُوَ (وہ)۔ تیسری، اسمِ اشارہ — یعنی اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ، جیسے هَذَا (یہ) یا تِلْكَ (وہ، مؤنث کے لیے دور کا اشارہ)۔ چوتھی، اسمِ موصول — جیسے الَّذِي (جو، مذکر کے لیے)۔ پانچویں، اسم بمع ال — یعنی جس پر حرفِ تعریف داخل ہو، جیسے الْكِتَابُ۔ چھٹی، مضاف الی معرفہ — یعنی وہ اسم جو کسی معرفہ اسم کی طرف مضاف ہو، جیسے كِتَابُ مُحَمَّدٍ (محمد کی کتاب)، جہاں كِتَابُ خود بذاتِ خود نکرہ تھا مگر معرفہ اسم کی طرف اضافت کی وجہ سے معرفہ بن گیا۔ یہ چھ اقسام اس لیے وضع کی گئی ہیں تاکہ زبان میں پائے جانے والے تمام معرفہ اسماء کو ایک منظم فہرست میں سمویا جاسکے، اور طالب علم کسی بھی معرفہ لفظ کو دیکھتے ہی فوراً بتا سکے کہ وہ ان چھ میں سے کس قسم سے تعلق رکھتا ہے۔

بیشتر بنیادی رنگوں کی مذکر صفت أَفْعَل کے وزن پر اور مؤنث صفت فَعْلَاء کے وزن پر آتی ہے۔ مثلاً أَحْمَرُ (سرخ، مذکر) کا مؤنث حَمْرَاءُ ہے، أَخْضَرُ (سبز، مذکر) کا مؤنث خَضْرَاءُ ہے، أَصْفَرُ (پیلا، مذکر) کا مؤنث صَفْرَاءُ ہے، اور أَسْوَدُ (سیاہ، مذکر) کا مؤنث سَوْدَاءُ ہے۔ یہ وزن اس لیے یاد رکھنا آسان ہے کہ یہی وزن جسمانی عیوب یا مستقل صفات، جیسے أَعْمَى (اندھا)، کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور خاص بات یہ ہے کہ اس وزن پر آنے والے الفاظ ممنوع من الصرف ہوتے ہیں، یعنی ان پر تنوین نہیں آتی۔ عملی طور پر، جب موصوف مذکر ہو، جیسے الْكِتَابُ، تو صفت أَفْعَل کے وزن پر آئے گی، یعنی الْكِتَابُ الْأَحْمَرُ، اور جب موصوف مؤنث ہو، جیسے الْحَقِيبَةُ، تو صفت فَعْلَاء کے وزن پر آئے گی، یعنی الْحَقِيبَةُ حَمْرَاءُ، تاکہ موصوف اور صفت میں تذکیر و تانیث کی مطابقت برقرار رہے۔ یہ اصول رنگوں کے علاوہ کئی دیگر صفاتی الفاظ پر بھی لاگو ہوتا ہے، مثلاً أَعْمَى (اندھا) کا مؤنث عَمْيَاءُ اور أَصَمُّ (بہرا) کا مؤنث صَمَّاءُ اسی وزن پر بنتا ہے، اس لیے ایک بار یہ قاعدہ یاد ہوجانے کے بعد طالب علم اسے متعدد الفاظ پر بآسانی منطبق کرسکتا ہے۔

دونوں مرکب توصیفی ہیں، یعنی موصوف اور اس کی صفت پر مشتمل ہیں، مگر ان میں تعریف و تنکیر کا بنیادی فرق ہے۔ الْكِتَابُ الْأَحْمَرُ معرفہ ہے، کیونکہ دونوں اجزاء — موصوف الْكِتَابُ اور صفت الْأَحْمَرُ — پر حرفِ تعریف ال داخل ہے، اور اس کا مطلب ہے وہ سرخ کتاب جسے سننے والا پہلے سے پہچانتا ہے۔ جبکہ كِتَابٌ أَحْمَرُ نکرہ ہے، کیونکہ دونوں الفاظ منون یعنی تنوین والے ہیں، اور اس کا مطلب ہے کوئی سرخ کتاب، غیر متعین اور نامعلوم۔ یہ مثال اس بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے کہ مرکب توصیفی میں صفت ہمیشہ اپنے موصوف کی تعریف و تنکیر کی پیروی کرتی ہے — یعنی اگر موصوف معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ ہوگی، اور اگر موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی نکرہ ہوگی۔ اگر کوئی طالب علم غلطی سے الْكِتَابُ أَحْمَرُ یا كِتَابٌ الْأَحْمَرُ لکھ دے تو یہ نحوی اعتبار سے غلط شمار ہوگا، کیونکہ اس میں موصوف اور صفت کے درمیان تعریف و تنکیر کی مطابقت ٹوٹ جاتی ہے۔ اسی لیے عربی انشاء لکھتے وقت ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر موصوف پر ال ہے تو صفت پر بھی ال آئے، اور اگر موصوف منون ہے تو صفت بھی منون رہے، ورنہ جملہ سننے یا پڑھنے والے کو فوراً کھٹکے گا۔

مضاف الی معرفہ معرفہ کی چھٹی اور آخری قسم ہے، جس میں کوئی ایسا لفظ جو بذاتِ خود نکرہ ہو، کسی دوسرے معرفہ اسم کی طرف مضاف ہوکر معرفہ کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔ كِتَابُ مُحَمَّدٍ (محمد کی کتاب) اس کی عمدہ مثال ہے، کیونکہ لفظ كِتَابُ اکیلا اپنی اصل حالت میں نکرہ ہوتا، یعنی کوئی بھی کتاب، لیکن جب یہ مُحَمَّدٍ کی طرف مضاف ہوا — جو خود اسمِ علم ہونے کی وجہ سے معرفہ ہے — تو پورا مرکب اضافی معرفہ بن گیا، یعنی اب یہ ایک معین اور معلوم کتاب کی نشاندہی کررہا ہے: وہ کتاب جو خاص طور پر محمد کی ملکیت ہے۔ یہ اصول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اضافت (یعنی مضاف کا مضاف الیہ کی طرف نسبت) اسم کی تعریف و تنکیر کو براہِ راست متاثر کرتی ہے: اگر مضاف الیہ معرفہ ہو تو پورا مرکب معرفہ بن جاتا ہے، اور اگر مضاف الیہ نکرہ ہو، جیسے كِتَابُ طَالِبٍ (کسی طالب علم کی کتاب)، تو پورا مرکب نکرہ ہی رہتا ہے۔ اسی اصول سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرکب اضافی کی تعریف و تنکیر کا فیصلہ ہمیشہ آخری لفظ یعنی مضاف الیہ کی حالت سے ہوتا ہے، مضاف کی ذاتی حیثیت سے نہیں۔

موصوف اور صفت کے درمیان دو بنیادی پہلوؤں میں مطابقت لازمی ہے: پہلا، تذکیر و تانیث میں مطابقت، اور دوسرا، تعریف و تنکیر میں مطابقت۔ تذکیر و تانیث کی مطابقت کا مطلب یہ ہے کہ اگر موصوف مذکر ہو تو صفت بھی مذکر وزن پر آئے گی، جیسے قَلَمٌ أَحْمَرُ (سرخ قلم)، اور اگر موصوف مؤنث ہو تو صفت بھی مؤنث وزن پر آئے گی، جیسے وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ (سرخ پھول)۔ تعریف و تنکیر کی مطابقت کا مطلب یہ ہے کہ اگر موصوف معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ ہوگی، جیسے الْوَرْدَةُ الْحَمْرَاءُ (وہ سرخ پھول)، اور اگر موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی نکرہ ہوگی، جیسے وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ۔ یہ دونوں پہلو بیک وقت لاگو ہوتے ہیں، یعنی ایک درست مرکب توصیفی میں چار حالتیں ممکن ہیں: مذکر-نکرہ، مذکر-معرفہ، مؤنث-نکرہ اور مؤنث-معرفہ، اور صفت ہر حالت میں موصوف کے عین مطابق آنی چاہیے، ورنہ جملہ نحوی طور پر غلط تصور ہوگا۔ ان دو اصولوں کو ایک ساتھ ذہن میں رکھنا خاص طور پر ابتدائی طلبہ کے لیے مشکل ہوتا ہے، اس لیے مشق کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ہر مرکب توصیفی لکھتے وقت پہلے موصوف کی جنس اور تعریف طے کی جائے، پھر اسی کے مطابق صفت کا انتخاب کیا جائے۔

ضمیر اور اسمِ اشارہ کو معرفہ کی مستقل اقسام میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں بذاتِ خود ہمیشہ کسی خاص و متعین چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس لیے انہیں کبھی نکرہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ ضمیر، جیسے أَنَا (میں) یا هُوَ (وہ)، ہمیشہ کسی معین متکلم، مخاطب یا غائب کی جگہ استعمال ہوتا ہے — جب کوئی هُوَ کہتا ہے تو اس کے ذہن میں کوئی خاص شخص یا چیز ہوتی ہے، عمومی جنس نہیں۔ اسی طرح اسمِ اشارہ، جیسے هَذَا (یہ) یا تِلْكَ (وہ)، کسی مخصوص اور حاضر یا معلوم شے کی طرف براہِ راست اشارہ کرتا ہے، جیسے هَذَا كِتَابٌ (یہ ایک کتاب ہے) ، جہاں هَذَا اس مخصوص کتاب کی طرف اشارہ کررہا ہے جو سامنے موجود ہے۔ چونکہ ان دونوں اقسام کی نوعیت ہی تعین اور تخصیص پر مبنی ہے، اس لیے نہ ضمیر پر تنوین آسکتی ہے اور نہ اسمِ اشارہ پر، اور نہ یہ دونوں کبھی عمومی جنس کی نمائندگی کرتے ہیں — یہی وجہ ہے کہ یہ ہمیشہ معرفہ شمار ہوتے ہیں۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 16 سوالات)
1نکرہ کی تعریف کیا ہے؟
الفایک خاص و معین شے کی نشاندہی کرنے والا اسم
بعمومی جنس پر دلالت کرنے والا اسم
جصرف فعل کی ایک قسم
دصرف حرف کی ایک قسم
نکرہ عمومی طور پر کسی جنس پر دلالت کرتا ہے، کسی خاص شے پر نہیں۔
2نکرہ کی عمومی صرفی علامت کیا ہے؟
الفحرفِ تعریف ال
بتنوین
جتاءِ تانیثِ ساکنہ
داضافت
نکرہ عام طور پر منون ہوتا ہے، یعنی اس پر تنوین آتی ہے اور ال داخل نہیں ہوتا۔
3معرفہ کی درست تعریف کون سی ہے؟
الفوہ اسم جو عمومی جنس پر دلالت کرے
بوہ اسم جو کسی خاص و متعین شے کی نشاندہی کرے
جوہ کلمہ جس کا مستقل معنی نہ ہو
دوہ فعل جو مضارع ہو
معرفہ سننے والے کے ذہن میں ایک واضح اور مخصوص تصور پیدا کرتا ہے۔
4معرفہ کی کتنی مشہور اقسام بیان کی جاتی ہیں؟
الفچار
بپانچ
جچھ
دسات
معرفہ کی چھ اقسام ہیں: علم، ضمیر، اشارہ، موصول، بمع ال، اور مضاف الی معرفہ۔
5مُحَمَّدٌ معرفہ کی کس قسم میں آتا ہے؟
الفضمیر
باسمِ اشارہ
جاسمِ علم
داسمِ موصول
مُحَمَّدٌ ایک خاص شخص کا نام ہے، اس لیے یہ اسمِ علم ہے۔
6أَنَا اور هُوَ معرفہ کی کس قسم کی مثالیں ہیں؟
الفاسمِ اشارہ
بضمیر
جمضاف الی معرفہ
داسم بمع ال
أَنَا اور هُوَ ضمائر ہیں جو کسی معین متکلم یا غائب کی جگہ استعمال ہوتے ہیں، اس لیے یہ ہمیشہ معرفہ ہیں۔
7هَذَا معرفہ کی کس قسم کی مثال ہے؟
الفاسمِ اشارہ
باسمِ موصول
جضمیر
داسمِ علم
هَذَا کسی مخصوص و قریب شے کی طرف اشارہ کرتا ہے، اس لیے یہ اسمِ اشارہ ہے۔
8الَّذِي معرفہ کی کس قسم کی مثال ہے؟
الفاسمِ موصول
باسمِ اشارہ
جضمیر
دمضاف الی معرفہ
الَّذِي (جو) ایک اسمِ موصول ہے، جو معرفہ کی چوتھی قسم ہے۔
9كِتَابُ مُحَمَّدٍ معرفہ کی کس قسم کی مثال ہے، اور یہ اصلاً نکرہ کیوں تھا؟
الفاسمِ اشارہ؛ کیونکہ اس پر ال ہے
بمضاف الی معرفہ؛ کیونکہ كِتَابُ نے مُحَمَّدٍ کی طرف اضافت سے تعریف حاصل کی
جضمیر؛ کیونکہ یہ دو الفاظ کا مجموعہ ہے
داسمِ موصول؛ کیونکہ یہ ایک تعلق ظاہر کرتا ہے
كِتَابُ بذاتِ خود نکرہ تھا، مگر معرفہ اسم مُحَمَّدٍ کی طرف اضافت کی وجہ سے پورا مرکب معرفہ بن گیا۔
10أَحْمَرُ کا مؤنث کیا ہے؟
الفحَمْرَاءُ
بأَحْمَرَةٌ
جحُمْرٌ
دحَمْرَةٌ
رنگ کی صفت أَفْعَل کے وزن پر مذکر اور فَعْلَاء کے وزن پر مؤنث ہوتی ہے: أَحْمَرُ سے حَمْرَاءُ۔
11أَبْيَضُ کا معنی کیا ہے؟
الفسیاہ
بسفید
جبھورا
دنیلا
أَبْيَضُ کا معنی سفید ہے، اور اس کا مؤنث بَيْضَاءُ ہے۔
12الْحَقِيبَةُ خَضْرَاءُ میں خَضْرَاءُ کیوں استعمال ہوا، أَخْضَرُ کیوں نہیں؟
الفکیونکہ الْحَقِيبَةُ مؤنث ہے اور صفت کو موصوف کی جنس سے مطابقت کرنی ہوتی ہے
بکیونکہ خَضْرَاءُ آسان لفظ ہے
جکوئی خاص وجہ نہیں، دونوں درست ہیں
دکیونکہ الْحَقِيبَةُ جمع ہے
موصوف اور صفت میں تذکیر و تانیث کی مطابقت ضروری ہے، اس لیے مؤنث موصوف کے ساتھ مؤنث صفت آئی۔
13درج ذیل میں سے کون سا مرکب نکرہ کی مثال ہے؟
الفالْكِتَابُ الْأَحْمَرُ
بكِتَابٌ أَحْمَرُ
جكِتَابُ الطَّالِبِ
دهَذَا الْكِتَابُ
دونوں الفاظ منون ہیں، اس لیے یہ نکرہ مرکب ہے؛ باقی مثالیں معرفہ ہیں۔
14بنیادی رنگوں کی مذکر صفت عام طور پر کس وزن پر آتی ہے؟
الففَعِيل
بأَفْعَل
جمَفْعُول
دفَعَّال
بنیادی رنگوں اور جسمانی صفات کی مذکر صورت أَفْعَل کے وزن پر آتی ہے، جیسے أَحْمَرُ، أَخْضَرُ۔
15بُنِّيٌّ کس رنگ کا نام ہے؟
الفسیاہ
ببھورا
جنیلا
دسبز
بُنِّيٌّ کا معنی بھورا ہے، اور یہ أَفْعَل کے وزن کی بجائے نسبتی صفت کے قاعدے پر بنا ہے۔
16وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ میں حَمْرَاءُ کے استعمال کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
الفکیونکہ وَرْدَةٌ مؤنث ہے، اس لیے صفت بھی مؤنث آئی
بکیونکہ وَرْدَةٌ جمع ہے
جکوئی خاص قاعدہ نہیں
دکیونکہ حَمْرَاءُ زیادہ خوبصورت لفظ ہے
موصوف وَرْدَةٌ مؤنث ہے، اس لیے اس کی صفت بھی لازماً مؤنث وزن فَعْلَاء پر آئے گی۔