حروفِ جارہ اور ان کے معانی
حروفِ جارہ سترہ ہیں جو اسم پر داخل ہو کر اسے جر دیتے ہیں اور کلام میں ربط و صلہ کا کام کرتے ہیں۔ اس سبق میں ہر حرف کے کثیر الوقوع معانی، اور افعال کے صلوں (قَالَ لِ، سَأَلَ، سَمِعَ، ظَلَمَ) کے بارے میں ضروری فائدہ بیان ہوا ہے۔
1حروفِ جارہ
حروفِ جارہ سترہ ہیں: بِ، تَ، كَ، لِ، وَ، مِنْ، عَنْ، عَلٰى، فِي، إِلٰى، حَتّٰى، رُبَّ، مُذْ، مُنْذُ، حَاشَا، عَدَا، خَلَا۔ یہ اسم پر داخل ہوتے ہیں اور اسے جر دیتے ہیں:
حروفِ جارہ کلام میں رابطہ اور صلہ کا کام دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر متعدد اور مختلف معانی میں استعمال ہوتے ہیں؛ کثیر الوقوع معانی یہ ہیں:
| حرف | معانی |
|---|---|
| بِ | سے، میں، پر، سبب، ساتھ، قسم؛ کبھی زائد اور کبھی تعدیہ کے لیے |
| تَ | قسم کے لیے، صرف لفظ اللہ کے ساتھ: تَاللّٰهِ |
| كَ | تشبیہ: مانند، مثل، طرح |
| لِ | واسطے، طرف، کو، کا، کے، کی (ملکیت و اختصاص) |
| وَ | قسم کے لیے؛ کبھی رُبَّ کے معنی میں |
| مِنْ | سے، کا، کی، میں سے (بعض)، سبب |
| عَنْ | سے، طرف سے، بارے میں |
| عَلٰى | پر، باوجود |
| فِي | میں، بارے میں، متعلق، بسبب |
| إِلٰى | تک، طرف |
| حَتّٰى | تک، یہاں تک کہ |
| رُبَّ | بعض، بہتیرے، اکثر — تقلیل و تکثیر دونوں کے لیے |
| مُنْذُ، مُذْ | عرصے سے، دن سے — مدت بتانے کے لیے |
| حَاشَا، خَلَا، عَدَا | سوا، علاوہ — استثناء کے لیے |
2فائدہ: صلہ کی پہچان
عربی میں صلہ (یعنی کس فعل کے ساتھ کون سا حرف آتا ہے) کا پہچاننا سب سے مشکل کام ہے؛ مبتدی تو کیا، اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی لکھنے میں فحش غلطی کر جاتے ہیں۔ اس کا انحصار زیادہ تر مشق و مداومت پر ہے، اور بعض عام غلطیوں کی نشاندہی جلد دوم میں ہوگی۔ البتہ اتنی بات یاد رکھو:
- قَالَ کا صلہ لام آتا ہے: قُلْتُ لِزَيْدٍ۔
- سَأَلَ اور سَمِعَ بغیر صلہ کے متعدی ہوتے ہیں: سَمِعْتُ زَيْدًا، سَأَلْتُ زَيْدًا عَنِ اسْمِ أَبِيهِ۔
- اسی طرح ظَلَمَ بھی بغیر صلہ کے: فُلَانٌ ظَلَمَ زَيْدًا۔
مصادر و تمارین
- اشرف الانشاء شرح اردو معلم الانشاء (جلد اول)، الدرس الخامس والعشرون، ص 219–223
- التمرین (133): اردو ترجمہ
- التمرین (134): عربی ترجمہ
درس 25 کے مطابق حروفِ جارہ سترہ ہیں: بِ، تَ، كَ، لِ، وَ، مِنْ، عَنْ، عَلٰى، فِي، إِلٰى، حَتّٰى، رُبَّ، مُذْ، مُنْذُ، حَاشَا، عَدَا اور خَلَا۔ یہ حروف اسم پر داخل ہوتے ہیں اور اسے جر دیتے ہیں، جیسے الْمَطَرُ يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ یعنی بارش آسمان سے اترتی ہے؛ یہاں السَّمَاءِ مِنْ کی وجہ سے مجرور ہے۔ کتاب کے مطابق حروفِ جارہ کلام میں رابطہ اور صلہ کا کام دیتے ہیں، یعنی فعل کو اسم سے جوڑتے ہیں۔ ان میں سے اکثر متعدد اور مختلف معانی میں استعمال ہوتے ہیں، اس لیے سیاق سے معنی متعین کیا جاتا ہے۔
کتاب کے مطابق بِ بہت سے معانی میں آتا ہے: "سے" یعنی آلہ کے لیے، جیسے يَقْطَعُ النَّجَّارُ الْخَشَبَ بِالْمِنْشَارِ یعنی بڑھئی آری سے لکڑی کاٹتا ہے؛ "میں"، "پر"، "سبب" اور "ساتھ" کے معنی میں؛ اور قسم کے لیے بھی، جیسے بِاللّٰهِ۔ کبھی بِ زائد بھی ہوتا ہے، جیسے لَيْسَ اور مَا کی خبر پر مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ (درس 21، 22)۔ اور کبھی تعدیہ کے لیے آتا ہے، یعنی لازم فعل کو متعدی بناتا ہے، جیسے ذَهَبَ بِهِ یعنی وہ اسے لے گیا (درس 10)۔ التمرین (133) کی آیت أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُونَ میں بِ صلہ کے طور پر آیا ہے۔
تَ صرف قسم کے لیے آتا ہے اور لفظ "اللہ" کے ساتھ مخصوص ہے، جیسے تَاللّٰهِ لَأُسَافِرَنَّ یعنی اللہ کی قسم میں ضرور سفر کروں گا۔ كَ تشبیہ کے لیے آتا ہے، یعنی "مانند، مثل، طرح"، جیسے لَا تَكُونُوا كَالطُّلَّابِ الَّذِينَ ضَيَّعُوا أَوْقَاتَهُمْ۔ لِ "واسطے، طرف، سے، کو، کا، کے، کی" کے معانی میں آتا ہے، یعنی ملکیت، اختصاص اور غرض کے لیے، جیسے لِلْبُسْتَانِ بَابَانِ یعنی باغ کے دو دروازے ہیں، اور ذَهَبَ أَخِي إِلَى الْمَحَطَّةِ لِيُقَابِلَ صَدِيقًا لَهُ۔ وَ جارہ قسم کے لیے آتا ہے، جیسے وَاللّٰهِ، اور کبھی رُبَّ کے معنی میں بھی آتا ہے۔
مِنْ کے معانی "سے، کا، کی، کے، میں سے (بعض)، سبب" ہیں، جیسے يَصْنَعُ مِنْهُ الْكُرْسِيَّ یعنی اس سے کرسی بناتا ہے۔ عَنْ کے معانی "سے، طرف سے، بارے میں" ہیں، جیسے سَأَلْتُ زَيْدًا عَنِ اسْمِ أَبِيهِ۔ عَلٰى کے معانی "پر" اور "باوجود" ہیں، جیسے وَعَلٰى كُلِّ بَابٍ حَارِسٌ یعنی ہر دروازے پر ایک چوکیدار ہے۔ فِي کے معانی "میں، بارے میں، متعلق، بسبب" ہیں، جیسے فِي سَاعَتَيْنِ یعنی دو گھنٹوں میں۔ إِلٰى کے معانی "تک" اور "طرف" ہیں، جیسے مِنْ لَكْنَؤَ إِلٰى كَانْفُورَ یعنی لکھنؤ سے کانپور تک؛ یہاں مِنْ ابتدا اور إِلٰى انتہا کے لیے ہے۔
حَتّٰى جارہ "تک، یہاں تک کہ" کے معنی میں آتا ہے، جیسے تَرْخُمُ الدَّجَاجَةُ عَلَى الْبَيْضِ حَتّٰى عِشْرِينَ يَوْمًا یعنی مرغی بیس دن تک انڈے سیتی ہے۔ رُبَّ کے معانی "بعض، بہتیرے، اکثر" ہیں؛ یہ تقلیل اور تکثیر دونوں کے لیے آتا ہے، اور اس کا مجرور نکرہ ہوتا ہے۔ مُنْذُ اور مُذْ عرصہ اور مدت بتانے کے لیے آتے ہیں، یعنی "عرصے سے، دن سے"، جیسے مُنْذُ كَمْ عَامٍ تَسْكُنُ فِي لَكْنَؤَ؟۔ حَاشَا، خَلَا اور عَدَا "سوا، علاوہ" کے معنی میں استثناء کے لیے آتے ہیں، جیسے نَجَحَ جَمِيعُ الْأَوْلَادِ عَدَا اللَّاعِبِ یعنی کھلنڈرے کے سوا سب لڑکے کامیاب ہو گئے۔
کتاب کے فائدہ کے مطابق عربی میں صلہ یعنی یہ پہچاننا کہ کس فعل کے ساتھ کون سا حرفِ جار آتا ہے، سب سے مشکل کام ہے؛ مبتدی تو کیا، اکثر پڑھے لکھے لوگ بھی لکھنے میں فحش غلطیاں کر جاتے ہیں۔ اس کا انحصار زیادہ تر مسلسل مشق اور مطالعے پر ہے، اور کتاب کی جلد دوم میں بعض عام غلطیوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ البتہ کچھ باتیں یاد رکھنی چاہییں: قَالَ کا صلہ لام آتا ہے: قُلْتُ لِزَيْدٍ؛ سَأَلَ اور سَمِعَ بغیر صلہ کے آتے ہیں: سَمِعْتُ زَيْدًا، سَأَلْتُ زَيْدًا؛ اور اسی طرح ظَلَمَ بھی: فُلَانٌ ظَلَمَ زَيْدًا۔ اردو کے "سے" کی وجہ سے ان کے ساتھ مِنْ لگانا غلط ہے۔
پہلے جملے کا پورا متن ہے: تَاللّٰهِ لَأُسَافِرَنَّ إِلَى الْبِلَادِ الْإِسْلَامِيَّةِ وَلَأُطَوِّفَنَّ فِيهَا حَتّٰى عَامٍ یعنی اللہ کی قسم! میں ضرور اسلامی ممالک کا سفر کروں گا اور ایک سال تک ان میں گھوموں گا۔ یہاں تَ قسم کے لیے ہے، لَأُسَافِرَنَّ قسم کا جواب ہے جس پر لام اور نون تاکید آئے ہیں (درس 16)، إِلٰى "طرف"، فِي "میں" اور حَتّٰى "تک" کے معنی میں ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: کل رات آگ لگی تو کتابوں کے سوا میرا سارا سامان جل گیا۔ یہاں عَدَا استثناء کے لیے آیا ہے اور الْكُتُبِ اس کی وجہ سے مجرور ہے۔
پہلا جملہ ایک حکیمانہ قول ہے، جس کا ترجمہ ہے: بسا اوقات ایک بار کا کھانا بہت سے کھانوں سے محرومی کا سبب بن جاتا ہے؛ یعنی بے احتیاطی سے کھایا گیا ایک کھانا بیماری لا کر آئندہ کے بہت سے کھانوں سے روک دیتا ہے۔ یہاں رُبَّ تکثیر یا تقلیل کے لیے ہے اور أَكْلَةٍ نکرہ مجرور ہے؛ عَنْ یہاں "سے" کے معنی میں ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: جس نے تیری ایسی تعریف کی جو تجھ میں نہیں، اس نے درحقیقت تیری مذمت کی۔ یہاں بِمَا میں بِ صلہ ہے، فِيكَ میں فِي ظرفیت کے لیے ہے، اور جزا پر قَدْ کی وجہ سے فاء آئی ہے (درس 18)۔
اس آیت کا ترجمہ ہے: اور اللہ کے لیے لوگوں پر بیت اللہ کا حج فرض ہے، جو اس تک پہنچنے کی طاقت رکھے۔ اس میں تین حروفِ جارہ آئے ہیں۔ لِلّٰهِ میں لِ اختصاص اور حق کے لیے ہے، یعنی یہ اللہ کا حق ہے۔ عَلَى النَّاسِ میں عَلٰى لزوم اور ذمہ داری کے لیے ہے، یعنی لوگوں کے ذمے لازم ہے۔ إِلَيْهِ میں إِلٰى انتہا اور "تک" کے معنی میں ہے۔ ترکیب میں لِلّٰهِ اور عَلَى النَّاسِ خبر مقدم ہیں اور حِجُّ الْبَيْتِ مبتدا مؤخر؛ مَنِ اسْتَطَاعَ النَّاسِ سے بدل ہے۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: سَأَلْتُ مَحْمُودًا: فِي أَيِّ سَنَةٍ وُلِدْتَ؟ فَلَمْ يُحِرْ جَوَابًا۔ یہاں کتاب کے فائدے کے مطابق سَأَلَ بغیر صلہ کے آیا ہے، یعنی مَحْمُودًا براہ راست مفعول ہے؛ اردو کے "سے" کی وجہ سے مِنْ مَحْمُودٍ کہنا غلط ہوتا۔ فِي أَيِّ سَنَةٍ میں فِي ظرفیت کے لیے ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: قُلْ لِلْخَادِمِ أَنْ يَكْتَرِيَ لِي عَرَبَةَ الْخَيْلِ۔ یہاں قَالَ کا صلہ لام آیا ہے، جیسا کہ کتاب نے بتایا؛ اور لِي میں لام "کے لیے" کے معنی میں ہے۔ أَنْ کی وجہ سے يَكْتَرِيَ منصوب ہے۔
التمرین (133)
حروف جارہ — اردو ترجمہ
ہر حرف کا معنی سیاق سے۔
1يَقْطَعُ النَّجَّارُ الْخَشَبَ بِالْمِنْشَارِ وَيَصْنَعُ مِنْهُ الْكُرْسِيَّحل دیکھیں ▾
2تَاللّٰهِ لَأُسَافِرَنَّ إِلَى الْبِلَادِ الْإِسْلَامِيَّةِ وَلَأُطَوِّفَنَّ فِيهَا حَتّٰى عَامٍحل دیکھیں ▾
3وَقَعَ الْحَرِيقُ الْبَارِحَةَ فَاحْتَرَقَ كُلُّ مَتَاعِي عَدَا الْكُتُبِحل دیکھیں ▾
4لِلْبُسْتَانِ بَابَانِ وَعَلٰى كُلِّ بَابٍ حَارِسٌحل دیکھیں ▾
5يَقْطَعُ الْقِطَارُ الْمَسَافَةَ مِنْ لَكْنَؤَ إِلٰى كَانْفُورَ فِي سَاعَتَيْنِحل دیکھیں ▾
6رُبَّ أَكْلَةٍ تَمْنَعُ عَنْ أَكَلَاتٍ كَثِيرَةٍحل دیکھیں ▾
7أَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُونَ وَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُونَحل دیکھیں ▾
8مَنْ كَانَ فِي هٰذِهِ أَعْمٰى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمٰىحل دیکھیں ▾
9مُنْذُ كَمْ عَامٍ تَسْكُنُ فِي لَكْنَؤَ؟حل دیکھیں ▾
10تَرْخُمُ الدَّجَاجَةُ عَلَى الْبَيْضِ حَتّٰى عِشْرِينَ يَوْمًاحل دیکھیں ▾
11مَنْ مَدَحَكَ بِمَا لَيْسَ فِيكَ فَقَدْ ذَمَّكَحل دیکھیں ▾
12لَا يُزَهِّدَنَّكَ فِي الْمَعْرُوفِ مَنْ لَا يَشْكُرُكَحل دیکھیں ▾
13لَا تُؤَخِّرْ عَمَلَ الْيَوْمِ إِلٰى غَدٍحل دیکھیں ▾
14ذَهَبَ أَخِي إِلَى الْمَحَطَّةِ لِيُقَابِلَ صَدِيقًا لَهُحل دیکھیں ▾
15وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًاحل دیکھیں ▾
التمرین (134)
حروف جارہ — عربی ترجمہ
صلہ کا خیال: قال لِـ؛ سأل، سمع، ظلم بغیر صلہ۔
1اس زمانے میں بجلی سے بڑے بڑے کام لیے جاتے ہیںحل دیکھیں ▾
2جو کام گھنٹوں میں ہوتے تھے آج منٹوں میں انجام پاتے ہیںحل دیکھیں ▾
3کہتے ہیں کہ چاند میں بھی آبادی ہےحل دیکھیں ▾
4کتنے دن میں چاند کا سفر ممکن ہے؟حل دیکھیں ▾
5تمہارے والد کتنے دن سے بیمار ہیں اور کس سے علاج کرا رہے ہیں؟حل دیکھیں ▾
6خیر کے سوا ہر بات سے اپنی زبان روکوحل دیکھیں ▾
7کھلنڈرے کے سوا سب لڑکے کامیاب ہو گئےحل دیکھیں ▾
8استاد انہی طلبہ کی تعریف کرتے ہیں جو محنت کرتے ہیںحل دیکھیں ▾
9کیا ممکن ہے کہ دنیا سے گمراہی مٹ جائے؟حل دیکھیں ▾
10میں نے محمود سے پوچھا تم کس سال پیدا ہوئے؟ مگر وہ جواب نہ دے سکاحل دیکھیں ▾
11ملازم سے کہو کہ میرے لیے تانگہ کرایہ کر دےحل دیکھیں ▾
12ان طلبہ کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کھیل میں اپنا وقت ضائع کیاحل دیکھیں ▾
13اللہ کی قسم! میں ان کی ضرور مدد کروں گا جنہوں نے حق کے لیے اپنے گھر چھوڑےحل دیکھیں ▾
حرف کا معنی
اس حرف جار کا معنی کیا ہے؟
1كَالْأَسَدِحل دیکھیں ▾
2تَاللّٰهِحل دیکھیں ▾
3عَدَا الْكُتُبِحل دیکھیں ▾
4مُنْذُ عَامٍحل دیکھیں ▾
5إِلٰى غَدٍحل دیکھیں ▾
6عَنِ اسْمِ أَبِيهِحل دیکھیں ▾
7عَلٰى كُلِّ بَابٍحل دیکھیں ▾
8فِي الْآخِرَةِحل دیکھیں ▾
9وَاللّٰهِحل دیکھیں ▾
10خَلَا زَيْدٍحل دیکھیں ▾
11مُذْ يَوْمَيْنِحل دیکھیں ▾
12حَتّٰى عِشْرِينَ يَوْمًاحل دیکھیں ▾
درست صلہ
خالی جگہ کے لیے درست حرف جار منتخب کریں
قال لِـ؛ سأل/سمع/ظلم بغیر صلہ؛ سأل عن الشيء۔