ہوماسباق ‹ سبق 7
سبق 7 از 15 · معلم الانشاء، حصہ اول — سبق 6-7

معلم الانشاء سبق 6-7: مرکبات کی مزید مشق و ترجمہ

کیا آپ کسی بھی عربی عبارت میں مرکب توصیفی اور مرکب اضافی کو فوراً پہچان کر ان کا درست اردو ترجمہ کر سکتے ہیں، اور اردو جملوں کو انہی مرکبات کی مدد سے عربی میں ڈھال سکتے ہیں؟

1تمہید: مرکبات کی جامع مشق کیوں ضروری ہے

پچھلے تین اسباق میں طلبہ مرکب توصیفی اور مرکب اضافی کی بنیادی ساخت اور تشکیل کے قواعد سیکھ چکے ہیں: مرکب توصیفی موصوف اور صفت کے ملاپ سے بنتا ہے اور دونوں اجزاء جنس، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب میں مکمل مطابقت رکھتے ہیں، جبکہ مرکب اضافی مضاف اور مضاف الیہ کے ملاپ سے بنتا ہے، جس میں مضاف سے تنوین اور الف لام دونوں ساقط ہو جاتے ہیں اور مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے۔ یہ سبق ان دونوں مرکبات کی محض نئی تعریف پیش نہیں کرتا بلکہ ان پر گہری اور جامع مشق کراتا ہے، کیونکہ وسط مدتی امتحان سے قبل طلبہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف مرکب کو پہچان سکیں بلکہ اسے فی البدیہہ بنا بھی سکیں اور اس کا دو طرفہ ترجمہ بھی کر سکیں۔

2مرکب توصیفی اور مرکب اضافی کی نشاندہی کا معیار

مرکب کی نشاندہی کا سب سے مضبوط طریقہ یہ ہے کہ عبارت میں لگاتار آنے والے دو اسموں کے باہمی تعلق کو جانچا جائے۔ اگر دوسرا اسم پہلے اسم کی محض ایک صفت، حالت یا کیفیت بیان کرے، اور دونوں اعراب، جنس، عدد اور تعریف و تنکیر میں یکساں ہوں، تو یہ مرکب توصیفی ہے، جیسے كِتَابٌ مُفِيدٌ (ایک مفید کتاب)۔ اس کے برعکس اگر دوسرا اسم پہلے اسم کا مالک ہو، اس سے متعلق ہو، یا اس کا کوئی جزو ہو، اور پہلے اسم سے تنوین و الف لام دونوں ساقط ہوں جبکہ دوسرا اسم ہمیشہ مجرور رہے، تو یہ مرکب اضافی ہے، جیسے كِتَابُ الطَّالِبِ (طالب علم کی کتاب) ۔ اکثر طلبہ کی غلطی یہ ہوتی ہے کہ وہ صرف دو اسموں کے پے در پے آنے کو دیکھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں، جبکہ اصل معیار یہی ہے کہ اعرابی مطابقت اور معنوی تعلق دونوں کو ایک ساتھ پرکھا جائے۔

3ایک ہی عبارت میں دونوں مرکبات کا مشترک تجزیہ

حقیقی عبارتوں میں اکثر دونوں مرکبات ایک ہی جملے میں یکجا پائے جاتے ہیں، اور ایسی صورت میں ہر جزو کا الگ الگ تجزیہ ضروری ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿هَذَا كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُیہ طالب علم کی نئی کتاب ہے

میں پہلے كِتَابُ الطَّالِبِ ایک مرکب اضافی ہے جس میں كِتَابُ مضاف اور الطَّالِبِ مضاف الیہ ہے، اور پھر الْجَدِيدُ پورے مرکب اضافی کی صفت بن کر آیا ہے جو کِتَابُ کی خصوصیت بیان کر رہا ہے، اس لیے وہ اسی طرح معرفہ اور مرفوع لایا گیا جیسے موصوف كِتَابُ معرفہ بالاضافہ اور مرفوع تھا۔ اسی طرح

﴿رَأَيْتُ بَيْتَ الْمُعَلِّمِ الْكَبِيرَمیں نے استاد کا بڑا گھر دیکھا

میں بَيْتَ الْمُعَلِّمِ مرکب اضافی ہے اور الْكَبِيرَ اس پورے مرکب کی صفت ہے، جو مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب آئی۔ ایسی مرکب عبارتوں کے تجزیے میں طالب علم کو چاہیے کہ پہلے اضافت کی حد بندی کرے، پھر دیکھے کہ باقی بچا ہوا لفظ کس چیز کی صفت بن رہا ہے۔

4ترجمے کے لیے مفید صفاتی الفاظ کا ذخیرہ

ترجمے کی مہارت بڑھانے کے لیے چند عام صفاتی الفاظ کا ذخیرہ ضروری ہے: جَدِيدٌ (نیا)، قَدِيمٌ (پرانا)، كَبِيرٌ (بڑا)، صَغِيرٌ (چھوٹا)، جَمِيلٌ (خوبصورت)، طَوِيلٌ (لمبا)، قَصِيرٌ (چھوٹا/پست قد)، سَهْلٌ (آسان)، اور صَعْبٌ (مشکل)۔ ترجمے کے دوران سب سے اہم اصول یہی ہے کہ صفت کا وزن ہمیشہ موصوف کی جنس کے مطابق تبدیل کیا جائے، یعنی مذکر موصوف کے ساتھ صفت بھی مذکر اور مؤنث موصوف کے ساتھ صفت بھی مؤنث (عموماً تاء مربوطہ کے اضافے سے) استعمال ہو، جیسے قَلَمٌ طَوِيلٌ (لمبا قلم) بمقابلہ مَسْطَرَةٌ طَوِيلَةٌ (لمبا فٹا) ۔

5اردو سے عربی: مکمل ترجمہ کی مشقیں

اب اردو سے عربی ترجمے کی چند مکمل مشقیں دیکھیے۔ پہلا جملہ: "یہ ایک پرانی مسجد ہے" کا عربی ترجمہ

﴿هَذِهِ مَسْجِدٌ قَدِيمٌ

نہیں بلکہ درست طور پر

﴿هَذَا مَسْجِدٌ قَدِيمٌچونکہ مَسْجِدٌ مذکر ہے

بنے گا، اور اگر ہم اضافت شامل کریں تو "یہ شہر کی پرانی مسجد ہے" کا ترجمہ

﴿هَذَا مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ الْقَدِيمُ

ہوگا، جس میں مَسْجِدُ الْمَدِينَةِ اضافت اور الْقَدِيمُ اس کی صفت ہے۔ دوسرا جملہ: "طالبہ کا بستہ نیا اور خوبصورت ہے" کا ترجمہ

﴿حَقِيبَةُ الطَّالِبَةِ جَدِيدَةٌ وَجَمِيلَةٌ

بنے گا، جہاں دونوں صفتیں حَقِيبَةُ کی تانیث کے مطابق تاء مربوطہ کے ساتھ آئیں۔ اسی طرح "استاد کا سوال آسان تھا" کا ترجمہ

﴿كَانَ سُؤَالُ الْأُسْتَاذِ سَهْلًا

ہوگا۔

6عربی سے اردو: تجزیہ اور ترجمہ کی مشق

عربی سے اردو ترجمے کی مشق کے لیے یہ عبارت لیجیے:

﴿فِي حَدِيقَةِ الْمَدْرَسَةِ أَشْجَارٌ طَوِيلَةٌ وَأَزْهَارٌ جَمِيلَةٌ

۔ اس کا تجزیہ یوں ہوگا: حَدِيقَةِ الْمَدْرَسَةِ مرکب اضافی ہے (اسکول کا باغ)، أَشْجَارٌ طَوِيلَةٌ مرکب توصیفی ہے (لمبے درخت)، اور أَزْهَارٌ جَمِيلَةٌ بھی مرکب توصیفی ہے (خوبصورت پھول)۔ مکمل ترجمہ: "اسکول کے باغ میں لمبے درخت اور خوبصورت پھول ہیں۔" اسی طرح

﴿كِتَابُ التَّارِيخِ الْقَدِيمُ عَلَى الْمَكْتَبِ الْكَبِيرِ

کا ترجمہ ہوگا "تاریخ کی پرانی کتاب بڑی میز پر ہے"، جس میں كِتَابُ التَّارِيخِ اضافت ہے، الْقَدِيمُ اس کی صفت ہے، اور الْمَكْتَبِ الْكَبِيرِ ایک اور مرکب توصیفی ہے جو حرف جر عَلَى کی وجہ سے مجرور آیا۔

7خلاصہ: کامیاب ترجمے کی کنجی

ان مشقوں سے واضح ہوتا ہے کہ کامیاب ترجمے کی کنجی یہ ہے کہ طالب علم پہلے پورے جملے کو چھوٹے چھوٹے مرکبات میں تقسیم کرے، ہر مرکب کی نوعیت (توصیفی یا اضافی) طے کرے، اعراب اور جنس کی مطابقت کو یقینی بنائے، اور پھر ان اجزاء کو ایک روانی بھری اردو یا عربی عبارت میں جوڑے۔ یہی مہارت آگے چل کر جملوں کی تراکیب، فعل کے ساتھ مرکبات کے استعمال، اور مضمون نویسی میں بنیادی ستون کا کام دے گی، اس لیے اس پر مسلسل اور متنوع مشق نہایت ضروری ہے۔

مصادر و مراجع

  1. معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 6-7
  2. النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
جَدِيدٌنیا
قَدِيمٌپرانا
كَبِيرٌبڑا
صَغِيرٌچھوٹا
جَمِيلٌخوبصورت
طَوِيلٌلمبا
قَصِيرٌپست قد/چھوٹا
سَهْلٌآسان
صَعْبٌمشکل
حَدِيقَةٌباغ
حَقِيبَةٌبستہ/بیگ
مَكْتَبٌمیز/دفتر
سُؤَالٌسوال
زَهْرَةٌ (جمع: أَزْهَارٌ)پھول (جمع: پھول)

مرکب توصیفی اور مرکب اضافی میں بنیادی فرق موصوف و صفت کے تعلق اور مضاف و مضاف الیہ کے تعلق کا ہے۔ مرکب توصیفی میں دونوں اجزاء ایک ہی چیز کو بیان کرتے ہیں: دوسرا لفظ پہلے کی محض ایک کیفیت یا خاصیت بتاتا ہے، اور دونوں الفاظ جنس، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب میں مکمل مطابقت رکھتے ہیں، جیسے رَجُلٌ طَوِيلٌ (ایک لمبا آدمی)۔ اس کے برعکس مرکب اضافی میں دوسرا لفظ (مضاف الیہ) پہلے لفظ (مضاف) کا مالک، اس سے متعلق، یا اس کا جزو ہوتا ہے، اور اعرابی طور پر مضاف سے تنوین و الف لام ساقط ہو جاتے ہیں جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے، جیسے بَابُ الْبَيْتِ (گھر کا دروازہ) ۔ عملی تجزیے کی مثال:

﴿رَأَيْتُ سَيَّارَةَ أَبِي الْجَدِيدَةَمیں نے اپنے والد کی نئی گاڑی دیکھی

میں سَيَّارَةَ أَبِي مرکب اضافی ہے، جس میں سَيَّارَةَ مضاف اور أَبِي مضاف الیہ ہے، جبکہ الْجَدِيدَةَ پورے مرکب اضافی کی صفت بن کر آیا ہے اور اسی لیے یہ منصوب اور معرفہ کی صورت میں تاء مربوطہ کے ساتھ آیا، کیونکہ سَيَّارَةَ مؤنث ہے۔ اس طرح کی مخلوط عبارتوں میں پہلے اضافت کی حد کھینچنا اور پھر باقی بچے ہوئے لفظ کی نوعیت جانچنا ہی درست تجزیے کی کنجی ہے۔

اس جملے کا درست عربی ترجمہ

﴿هَذَا كِتَابُ الْأُسْتَاذِ الْجَمِيلُ الْجَدِيدُ

بنے گا۔ اس ترجمے کی تشکیل میں سب سے پہلے یہ طے کیا جاتا ہے کہ "استاد کی کتاب" اصل میں ایک اضافت ہے، یعنی مالکیت کا تعلق، اس لیے اسے كِتَابُ الْأُسْتَاذِ کی صورت میں مرکب اضافی بنایا گیا، جس میں كِتَابُ مضاف اور الْأُسْتَاذِ مضاف الیہ (مجرور) ہے، اور مضاف سے تنوین ساقط کر دی گئی۔ اس کے بعد "خوبصورت اور نئی" دو صفات ہیں جو دراصل پورے مرکب اضافی كِتَابُ الْأُسْتَاذِ کی خصوصیات بیان کر رہی ہیں، اس لیے یہ دونوں صفات موصوف كِتَابُ کی جنس (مذکر)، عدد (واحد) اور حالتِ تعریف (چونکہ اضافت معرفہ بناتی ہے) کے مطابق معرفہ اور مرفوع لائی گئیں: الْجَمِيلُ اور الْجَدِيدُ۔ اس مثال سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ جب مرکب اضافی کسی صفت کا موصوف بنتا ہے تو اعرابی و معنوی مطابقت ہمیشہ مضاف کے حساب سے کی جاتی ہے، نہ کہ مضاف الیہ کے حساب سے، کیونکہ اصل میں توصیف پورے مرکب کی نہیں بلکہ مضاف کی ہو رہی ہوتی ہے۔

اس عبارت کا سلیس اردو ترجمہ ہے: "اسکول کے باغ میں لمبے درخت اور خوبصورت پھول ہیں۔" اس جملے کے تجزیے میں سب سے پہلا مرکب حَدِيقَةِ الْمَدْرَسَةِ ہے، جو ایک مرکب اضافی ہے: حَدِيقَةِ مضاف ہے اور الْمَدْرَسَةِ مضاف الیہ، اور اس کا مطلب ہے "اسکول کا باغ"، یعنی باغ اسکول سے منسوب ہونے کی وجہ سے اضافت بنی۔ دوسرا حصہ أَشْجَارٌ طَوِيلَةٌ ایک مرکب توصیفی ہے، جہاں أَشْجَارٌ (درخت، جمع مؤنث سماعی) موصوف اور طَوِيلَةٌ اس کی صفت ہے، اور چونکہ غیر عاقل کی جمع کا حکم مؤنث واحد جیسا ہوتا ہے، اس لیے صفت مؤنث وزن پر آئی۔ تیسرا حصہ أَزْهَارٌ جَمِيلَةٌ بھی اسی اصول پر بنا ایک اور مرکب توصیفی ہے، جس کا مطلب "خوبصورت پھول" ہے۔ یہ عبارت اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ ایک ہی مختصر جملے میں مرکب اضافی اور دو الگ مرکب توصیفی بیک وقت استعمال ہو سکتے ہیں، اور طالب علم کو ہر جزو کو الگ الگ پہچان کر پورے جملے کی روانی بحال کرنی چاہیے۔

عربی زبان کا ایک اہم اور اکثر طلبہ کے لیے غیر متوقع اصول یہ ہے کہ جب کسی غیر عاقل (بے جان یا حیوان) چیز کی جمع بنائی جاتی ہے تو اس کے ساتھ آنے والی صفت، فعل یا ضمیر مؤنث واحد کی صورت میں لائی جاتی ہے، چاہے اصل اسم مذکر ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ كُتُبٌ جَدِيدَةٌ (نئی کتابیں) میں كُتُبٌ (کتاب کی جمع، جو بذات خود مذکر شمار ہوتی ہے) کے ساتھ صفت جَدِيدَةٌ مؤنث وزن پر آئی، اور أَشْجَارٌ طَوِيلَةٌمیں بھی یہی اصول لاگو ہوا۔ یہ عام قاعدے سے اس لیے مختلف ہے کہ عاقل (ذی روح، سمجھ بوجھ رکھنے والی) مخلوق کی جمع میں صفت اکثر جمع کی ہی صورت میں آتی ہے، جیسے مُعَلِّمُونَ جُدُدٌ (نئے اساتذہ) میں صفت جمع مذکر سالم کے وزن پر آئی۔ عربی گرامر میں اس اصول کو ٰجمع غیر العاقل بمنزلہ مؤنث مفردٰ کہا جاتا ہے، اور یہ ابتدائی طلبہ کے لیے ایک عام غلطی کا باعث بنتا ہے کیونکہ اردو میں اس طرح کی کوئی تفریق موجود نہیں۔ اس اصول کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر غیر عاقل جمع کو ذہنی طور پر ایک واحد مؤنث لفظ کی طرح برتا جائے۔

مرکب اضافی کی صحیح تشکیل کے لیے مضاف پر تین اہم پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ مضاف سے تنوین ہمیشہ ساقط کر دی جاتی ہے، کیونکہ تنوین نکرہ ہونے کی علامت ہے جبکہ اضافت اسم کو ایک خاص درجے کی تخصیص عطا کر دیتی ہے۔ دوسری یہ کہ مضاف پر الف لام کبھی داخل نہیں ہو سکتا، اس لیے الْكِتَابُ الطَّالِبِجیسی ترکیب غلط ہے اور درست شکل صرف كِتَابُ الطَّالِبِہے۔ تیسری یہ کہ اگر مضاف دو یا زیادہ الفاظ کی مثنیٰ یا جمع سالم مذکر کی صورت میں ہو تو اس کا آخری نون بھی اضافت کی وجہ سے گر جاتا ہے، جیسے مُعَلِّمَا الْمَدْرَسَةِ (اسکول کے دو استاد) میں مُعَلِّمَانِ کا نون گر گیا۔ اس کے مقابلے میں مضاف الیہ کا اعراب ہمیشہ اور بلا استثناء مجرور ہی رہتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں مرفوع، منصوب یا مجرور کسی بھی محل میں کیوں نہ ہو، کیونکہ مضاف الیہ کی جر کا سبب حرفِ اضافت (یعنی خود اضافت کا تعلق) ہے نہ کہ عاملِ خارجی۔ اس اصول کی بدولت طالب علم کسی بھی مرکب اضافی میں مضاف الیہ کو محض اس کے آخری اعراب سے فوراً پہچان سکتا ہے۔

اس جملے کا مناسب ترجمہ ہے:

﴿غُرْفَةُ الطَّالِبَاتِ كَبِيرَةٌ وَنَظِيفَةٌ

۔ ترجمے کی تشکیل میں پہلا قدم یہ تھا کہ "طالبات کا کمرہ" ایک اضافتی تعلق ہے، اس لیے غُرْفَةُ الطَّالِبَاتِ کی صورت میں مرکب اضافی بنایا گیا، جس میں غُرْفَةُ (کمرہ) مضاف اور الطَّالِبَاتِ (طالبات، جمع مؤنث سالم) مضاف الیہ بن کر مجرور آیا۔ چونکہ مضاف غُرْفَةُ خود تاء مربوطہ کی وجہ سے مؤنث ہے، اس لیے دونوں خبریں یعنی صفاتِ خبریہ كَبِيرَةٌ (بڑی) اور نَظِيفَةٌ (صاف) بھی مؤنث وزن میں تاء مربوطہ کے ساتھ لائی گئیں، کیونکہ یہاں یہ الفاظ دراصل جملہ اسمیہ کی خبر بن رہے ہیں اور مبتدا (غُرْفَةُ الطَّالِبَاتِ) کی جنس کے مطابق ہونا لازم ہے۔ اس مثال سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اضافت میں صفت یا خبر کی مطابقت ہمیشہ مضاف کی جنس سے کی جاتی ہے، مضاف الیہ کی جنس سے نہیں، چاہے مضاف الیہ خود مؤنث جمع (الطَّالِبَاتِ) ہی کیوں نہ ہو۔ یہی باریک فرق طلبہ کو ترجمے کی مشق میں سب سے زیادہ محتاط رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

کسی بھی طویل عربی یا اردو عبارت کے کامیاب ترجمے کے لیے ایک منظم مرحلہ وار طریقہ اپنانا چاہیے۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ پوری عبارت کو چھوٹے چھوٹے لفظی گروہوں میں تقسیم کیا جائے اور ہر دو متصل اسموں کے تعلق کو جانچا جائے۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہر گروہ کی نوعیت طے کی جائے: کیا یہ مرکب توصیفی ہے (معنوی مطابقت اور اعرابی یکسانیت کی بنیاد پر) یا مرکب اضافی ہے (ملکیت/نسبت کے معنی اور مضاف سے تنوین کے سقوط کی بنیاد پر)۔ تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ جب ایک مرکب اضافی پر کوئی مزید صفت آئے تو یہ طے کیا جائے کہ وہ صفت پورے مرکب کے مضاف کی خصوصیت بیان کر رہی ہے، اور اسی کے مطابق اس کی جنس، عدد اور اعراب متعین کیے جائیں۔ چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ اردو میں ترجمہ کرتے وقت اضافت کو ہمیشہ "کا/کی/کے" سے اور توصیف کو براہ راست صفت سے ادا کیا جائے، جبکہ عربی میں ترجمہ کرتے وقت اردو کی اضافتی تراکیب (مثلاً "کا", "کی") کو عربی اضافت میں اور اردو کی سادہ صفتی تراکیب کو عربی توصیف میں بدلا جائے۔ آخری مرحلہ یہ ہے کہ پورے جملے کو دوبارہ پڑھ کر یہ یقین کیا جائے کہ ہر صفت اپنے حقیقی موصوف سے مطابقت رکھتی ہے، نہ کہ کسی بھی قریب ترین لفظ سے۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 17 سوالات)
1﴿قَلَمٌ جَدِيدٌ﴾ میں مرکب کی قسم کیا ہے؟
الفمرکب اضافی
بمرکب توصیفی
جمرکب ناقص
دمرکب جاری
قَلَمٌ موصوف اور جَدِيدٌ اس کی صفت ہے، دونوں جنس اور اعراب میں مطابق ہیں، اس لیے یہ مرکب توصیفی ہے۔
2﴿بَابُ الْمَدْرَسَةِ﴾ میں مضاف کون سا لفظ ہے؟
الفالْمَدْرَسَةِ
ببَابُ
جدونوں
دکوئی نہیں
بَابُ مضاف ہے (تنوین ساقط)، اور الْمَدْرَسَةِ مضاف الیہ ہے جو مجرور آیا۔
3مرکب اضافی میں مضاف الیہ کا اعراب ہمیشہ کیا ہوتا ہے؟
الفمرفوع
بمنصوب
جمجرور
دحالت کے مطابق بدلتا ہے
مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں کسی بھی محل میں ہو۔
4مرکب اضافی بنانے کے لیے مضاف سے کیا ساقط کیا جاتا ہے؟
الفصرف الف لام
بصرف تنوین
جتنوین اور الف لام دونوں
دکچھ بھی نہیں
مضاف سے تنوین بھی ساقط ہوتی ہے اور اس پر الف لام بھی داخل نہیں ہوتا۔
5﴿هَذَا كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُ﴾ میں الْجَدِيدُ کس چیز کی صفت ہے؟
الفالطَّالِبِ کی
بپورے مرکب اضافی كِتَابُ الطَّالِبِ کی (بلحاظ مضاف)
جهَذَا کی
دکسی کی نہیں
الْجَدِيدُ دراصل مضاف كِتَابُ کی خصوصیت بیان کر رہا ہے، اس لیے وہ اسی کی جنس اور اعراب کے مطابق آیا۔
6غیر عاقل اسم کی جمع کے ساتھ صفت عموماً کس صورت میں آتی ہے؟
الفجمع مذکر سالم
بجمع مؤنث سالم
جمؤنث واحد
دمثنیٰ
غیر عاقل کی جمع کا حکم مؤنث واحد جیسا ہوتا ہے، جیسے ﴿كُتُبٌ جَدِيدَةٌ﴾۔
7﴿سَيَّارَةُ أَبِي الْجَدِيدَةُ﴾ میں الْجَدِيدَةُ مؤنث وزن میں کیوں آیا؟
الفأَبِي مؤنث ہے اس لیے
بسَيَّارَةُ (مضاف) مؤنث ہے اس لیے
جاتفاقی طور پر
دکوئی وجہ نہیں
صفت ہمیشہ مضاف کی جنس کے مطابق آتی ہے، اور سَيَّارَةُ تاء مربوطہ کی وجہ سے مؤنث ہے۔
8"طالب علم کی نئی کتاب" کا درست عربی ترجمہ کیا ہے؟
الفكِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُ
بالْكِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُ
جكِتَابٌ الطَّالِبِ جَدِيدٌ
دطَالِبٌ كِتَابُ الْجَدِيدُ
درست ترتیب: مضاف (بلا تنوین/ال) + مضاف الیہ (مجرور) + صفتِ مضاف (معرفہ، مطابق جنس و اعراب)۔
9﴿فِي حَدِيقَةِ الْمَدْرَسَةِ أَشْجَارٌ طَوِيلَةٌ﴾ میں حَدِيقَةِ الْمَدْرَسَةِ کس قسم کا مرکب ہے؟
الفمرکب توصیفی
بمرکب اضافی
جمرکب ناقص
دجملہ فعلیہ
حَدِيقَةِ مضاف اور الْمَدْرَسَةِ مضاف الیہ ہے، یہ نسبت/ملکیت کا تعلق ہے یعنی مرکب اضافی۔
10مرکب توصیفی میں موصوف اور صفت کن چار چیزوں میں مطابقت رکھتے ہیں؟
الفجنس، عدد، تعریف و تنکیر، اعراب
بصرف جنس اور عدد
جصرف اعراب اور تعریف
دکوئی مطابقت ضروری نہیں
موصوف اور صفت جنس، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب چاروں میں ایک دوسرے کے مطابق ہوتے ہیں۔
11لفظ صَعْبٌ کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
الفآسان
بمشکل
جخوبصورت
دلمبا
صَعْبٌ کا معنی "مشکل" ہے، اس کا متضاد سَهْلٌ (آسان) ہے۔
12"اسکول کا باغ بڑا ہے" کا مناسب عربی ترجمہ کیا ہوگا؟
الفحَدِيقَةُ الْمَدْرَسَةِ كَبِيرَةٌ
بالْحَدِيقَةُ الْمَدْرَسَةِ كَبِيرٌ
جحَدِيقَةٌ الْمَدْرَسَةِ كَبِيرَةٌ
دمَدْرَسَةُ الْحَدِيقَةِ كَبِيرٌ
حَدِيقَةُ الْمَدْرَسَةِ درست اضافت ہے، اور خبر كَبِيرَةٌ مضاف حَدِيقَةُ کی تانیث کے مطابق مؤنث آئی۔
13مرکب اضافی میں اگر مضاف مثنیٰ (جیسے مُعَلِّمَانِ) ہو تو کیا تبدیلی آتی ہے؟
الفکوئی تبدیلی نہیں
بآخری نون گر جاتا ہے
جالف لام لگ جاتا ہے
دتنوین لگ جاتی ہے
اضافت کی وجہ سے مثنیٰ اور جمع مذکر سالم کے آخری نون کا سقوط ہوتا ہے، جیسے مُعَلِّمَا الْمَدْرَسَةِ۔
14﴿كِتَابُ التَّارِيخِ الْقَدِيمُ عَلَى الْمَكْتَبِ الْكَبِيرِ﴾ کا اردو ترجمہ کیا ہے؟
الفتاریخ کی پرانی کتاب بڑی میز پر ہے
ببڑی کتاب تاریخ کی میز پر ہے
جپرانی میز تاریخ کی کتاب پر ہے
دکتاب بڑی میز کی تاریخ ہے
كِتَابُ التَّارِيخِ (اضافت) + الْقَدِيمُ (صفت) + عَلَى الْمَكْتَبِ الْكَبِيرِ (توصیفی، مجرور بہ حرفِ جر)۔
15درج ذیل میں سے کون سا جوڑا "لمبا/لمبی" کے درست مذکر مؤنث اوزان کو ظاہر کرتا ہے؟
الفطَوِيلٌ / طَوِيلَةٌ
بطَوِيلٌ / طَائِلَةٌ
جطَالٌ / طَوِيلَةٌ
دطَوِيلٌ / طُولَى
عام صفات میں مؤنث بنانے کے لیے تاء مربوطہ کا اضافہ کافی ہوتا ہے: طَوِيلٌ سے طَوِيلَةٌ۔
16مرکب کی نشاندہی کرتے وقت سب سے پہلا اور بنیادی سوال کیا ہونا چاہیے؟
الفکیا لفظ لمبا ہے؟
بدوسرے اسم کا پہلے اسم سے کیا تعلق ہے (صفت یا ملکیت)؟
جکیا جملہ فعلیہ ہے؟
دکیا لفظ نکرہ ہے؟
بنیادی معیار یہ ہے کہ دوسرا اسم پہلے کی صفت ہے (توصیفی) یا اس سے منسوب/مملوک ہے (اضافی)۔
17"طالبات کا کمرہ صاف ہے" میں خبر نَظِيفَةٌ مؤنث وزن میں کیوں آئی؟
الفالطَّالِبَاتِ جمع مؤنث ہے اس لیے
بغُرْفَةُ (مضاف) خود مؤنث ہے اس لیے
جکوئی خاص وجہ نہیں
دکیونکہ کمرہ چھوٹا ہے
خبر ہمیشہ مبتدا (یہاں مضاف غُرْفَةُ) کی جنس کے مطابق آتی ہے، مضاف الیہ کی جنس معتبر نہیں۔