معلم الانشاء سبق 11: فعل مضارع منفی اور استمراری صیغے
لَمْ کے ذریعے فعل مضارع کی نفی کیسے کی جاتی ہے، اور جاری (استمراری) کام ماضی و حال میں کیسے بیان ہوتا ہے؟
1پچھلے اسباق کا اعادہ اور آج کے سبق کا خاکہ
گزشتہ اسباق میں ہم نے فعل ماضی، فعل مضارع اور فعل مجہول کی گردان سیکھی، اور مضارع کی سادہ نفی کے دو حروف لَا (حال کی نفی) اور مَا (ماضی کی نفی) سے واقفیت حاصل کی۔ آج کے سبق میں فعل مضارع کی نفی کا ایک تیسرا اور زیادہ باریک طریقہ — لَمْ کے ذریعے — سیکھیں گے، جس میں فعل بظاہر مضارع کی شکل میں ہوتا ہے مگر معنی ماضی کا دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ استمراری یعنی جاری کام کے صیغوں کا مطالعہ بھی کیا جائے گا: یہ کہ عربی میں 'وہ لکھتا ہے' اور 'وہ لکھ رہا ہے' کا فرق کیسے ظاہر ہوتا ہے، اور ماضی میں جاری کام (تھا لکھ رہا) کس طرح بیان کیا جاتا ہے۔ یہ سبق دراصل افعال کے پورے زمانی نظام کو مکمل کرتا ہے اور طالب علم کو مکالمے اور تحریر میں زیادہ باریک اور درست زمانی فرق بیان کرنے کے قابل بناتا ہے۔
2لَمْ کے ذریعے ماضی کی نفی اور فعل کا مجزوم ہونا
لَمْ ایک ایسا حرفِ نفی ہے جو فعل مضارع سے پہلے آکر اسے ماضی کے معنی میں منفی کردیتا ہے، یعنی لَمْ يَكْتُبْ کا مطلب ہے 'اس نے نہیں لکھا'، بالکل اسی طرح جیسے مَا كَتَبَ کا مطلب تھا۔ فرق یہ ہے کہ لَمْ کے بعد فعل کی شکل بدستور مضارع کی رہتی ہے، مگر لَمْ اس مضارع کو مجزوم کردیتا ہے — یعنی آخری حرف پر جو پہلے ضمہ تھا، اب سکون آجاتا ہے: يَكْتُبُ سے يَكْتُبْ۔ اگر فعل کا آخری حرف علتی ہو تو جزم کی علامت سکون کے بجائے اس حرف کا حذف ہونا ہوتا ہے، جیسے يَذْهَبُ کا مجزوم يَذْهَبْ۔ عربی نحو میں لَمْ کو 'حرفِ جازم' کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے بعد آنے والے فعل مضارع کی حرکتِ آخر کو جزم میں بدل دیتا ہے۔ اسے یاد رکھنا ضروری ہے کیونکہ بغیر صحیح جزم کے جملہ گرامری اعتبار سے ناقص شمار ہوگا:
میں يَكْتُبِ کا آخری حرف مجزوم ہے۔
3عربی میں استمرار (جاری کام) کا بنیادی مفہوم
عربی زبان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ فعل مضارع بذاتِ خود عادی اور جاری، دونوں طرح کے کام پر دلالت کرسکتا ہے۔ يَكْتُبُ کا مطلب سیاق کے مطابق 'وہ لکھتا ہے' (عادی کام، ہمیشہ کی عادت) بھی ہوسکتا ہے اور 'وہ لکھ رہا ہے' (اسی وقت جاری کام) بھی۔ یہ بات اردو اور انگریزی سے مختلف ہے، جہاں دونوں مفہوم کے لیے الگ الگ گرامری صورتیں مقرر ہیں (وہ لکھتا ہے بمقابلہ وہ لکھ رہا ہے)۔ عربی میں یہ فرق خود فعل کی صورت بدلنے سے نہیں بلکہ سیاق و سباق، یا جملے میں شامل قرائن جیسے الْآنَ (اس وقت)، الْيَوْمَ (آج) یا حالیہ کیفیت کے ذکر سے متعین کیا جاتا ہے۔ مثلاً
کا لازمی مطلب 'وہ اس وقت لکھ رہا ہے' ہوگا کیونکہ الْآنَ کی موجودگی جاری کام کی طرف واضح اشارہ کرتی ہے۔
4ماضی استمراری کی تشکیل: كَانَ کے ساتھ فعل مضارع
ماضی میں جاری کام، یعنی 'تھا لکھ رہا' یا 'لکھا کرتا تھا' کے مفہوم کو ظاہر کرنے کے لیے فعلِ ناقص كَانَ کو فعل مضارع کے ساتھ ملایا جاتا ہے: كَانَ يَكْتُبُ (وہ لکھ رہا تھا / لکھا کرتا تھا) ۔ كَانَ کو فعلِ ناقص اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اکیلا مکمل معنی نہیں دیتا، بلکہ اسے ایک اسم (اسمِ كَانَ) اور ایک خبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہاں دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ خبر ایک پورا جملہ فعلیہ (يَكْتُبُ) ہے، جو نحوی اعتبار سے محلاً منصوب شمار ہوتا ہے۔ مکمل جملے
میں الطَّالِبُ اسمِ كَانَ اور مرفوع ہے، يَكْتُبُ الدَّرْسَ خبرِ كَانَ ہے، اور حِينَ دَخَلْتُ ایک ظرفیہ جملہ ہے جو یہ بتاتا ہے کہ لکھنے کا عمل کس لمحے جاری تھا۔
5استمراری جملوں کی نفی: حال میں لَا اور ماضی میں لَمْ يَكُنْ
استمراری جملوں کو منفی کرنے کے لیے وہی حروفِ نفی کام آتے ہیں جو پہلے سیکھے جاچکے ہیں۔ حال میں جاری کام کی نفی کے لیے سادہ طور پر لَا استعمال ہوتا ہے، جیسے
۔ ماضی استمراری، یعنی كَانَ يَكْتُبُ، کی نفی کے لیے كَانَ کا مضارع يَكُونُ استعمال ہوتا ہے، اور جب اس پر لَمْ لگایا جاتا ہے تو یہ مجزوم ہوکر يَكُنْ بن جاتا ہے، اور اصل فعل (يَكْتُبُ) بطور خبر آتا ہے:
۔ نفی دراصل معاون فعل كَانَ پر واقع ہوتی ہے، اصل مضارع فعل يَكْتُبُ بطور خبر بغیر تبدیلی کے باقی رہتا ہے۔
6چاروں حروفِ نفی کا خلاصہ اور امتیازی نکات
اب تک زیرِ مطالعہ چاروں طریقوں کو یکجا کرکے دیکھیں تو ایک واضح نظام سامنے آتا ہے۔ لَا فعل مضارع کے ساتھ آکر سادہ حال یا استمراری کی نفی کرتا ہے اور فعل کے اعراب کو متاثر نہیں کرتا۔ مَا فعل ماضی کے ساتھ آکر گزرے ہوئے واقعے کی نفی کرتا ہے اور فعل ماضی مبنی ہونے کی وجہ سے اس کی بنا نہیں بدلتی۔ لَمْ فعل مضارع کے ساتھ آکر ماضی کے معنی میں نفی کرتا ہے اور فعل کو مجزوم کردیتا ہے۔ اور لَمْ يَكُنْ ماضی استمراری کی نفی کے لیے آتا ہے، جہاں لَمْ معاون فعل كَانَ کے مضارع کو مجزوم کرتا ہے، اصل فعل خبر کی حیثیت سے جوں کا توں رہتا ہے۔ ان چاروں حروف کا فرق سمجھ لینے سے طالب علم کسی بھی زمانے کے مثبت جملے کو باآسانی اور درست اعراب کے ساتھ منفی بنا سکتا ہے۔
مصادر و مراجع
- معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 11
- النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
لَمْ ایک حرفِ نفی ہے جو فعل مضارع سے پہلے آکر اسے ماضی کے معنی میں منفی کردیتا ہے، یعنی فعل کی ظاہری صورت مضارع کی ہی رہتی ہے مگر پیغام یہ ہوتا ہے کہ گزرے ہوئے وقت میں یہ کام نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر لَمْ يَكْتُبْ کا مطلب ہے 'اس نے نہیں لکھا'، بالکل اسی طرح جیسے مَا كَتَبَ کہا جاتا۔ یہ عربی گرامر کا ایک نہایت دلچسپ اور منفرد پہلو ہے: صیغہ بظاہر مضارع کا ہے، حرفِ مضارعت (ي، ت وغیرہ) بھی موجود ہے، مگر لَمْ کی موجودگی پورے فعل کے زمانی مفہوم کو مضارع سے ماضی کی طرف منتقل کردیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لَمْ فعل کو نحوی طور پر بھی متاثر کرتا ہے، کیونکہ یہ اسے مجزوم بنا دیتا ہے، یعنی آخری حرف کی ضمہ کی حرکت سکون میں بدل جاتی ہے۔ یوں لَمْ ایک ہی وقت میں دو کام کرتا ہے: معنوی اعتبار سے زمانہ بدل دیتا ہے اور نحوی اعتبار سے فعل کے اعراب کو جزم میں بدل دیتا ہے، جو اسے مَا اور لَا سے ممتاز بناتا ہے۔
اس جملے کا ترجمہ ہے: طالب علم نے واجب (سبق) نہیں لکھا۔ اعرابی تجزیہ یہ ہے: لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے، جس کا کوئی محلِ اعراب نہیں مگر یہ اپنے بعد آنے والے فعل مضارع کو مجزوم کرتا ہے۔ يَكْتُبِ فعل مضارع مجزوم ہے، اور چونکہ اصل صورت يَكْتُبُ تھی جس کے آخر میں ضمہ تھا، لَمْ کے آنے سے یہ سکون میں بدل جاتا، مگر اگلے لفظ الطَّالِبُ کا ہمزہ وصلی ملانے کے لیے تلفظ میں کسرہ سے پڑھا جاتا ہے، جسے التقاء الساکنین سے بچنے کی ایک تجویدی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ الطَّالِبُ فاعل ہے اور مرفوع ہے۔ الْوَاجِبَ مفعول بہ ہے اور منصوب ہے۔ اس جملے سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ فعل بظاہر مضارع کی شکل میں ہے، مگر لَمْ کے استعمال کی وجہ سے پورے جملے کا زمانی مفہوم ماضی کی نفی کا بن جاتا ہے — یعنی گفتگو سے پہلے سبق نہیں لکھا گیا تھا۔ طالب علم کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لَمْ کے بعد فعل کی ظاہری شکل مضارع کی ہونے کے باوجود، اسے ماضی کی نفی کے طور پر ہی ترجمہ کرنا چاہیے، ورنہ ترجمہ غلط ہوجائے گا۔
عربی زبان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ فعل مضارع بذاتِ خود عادی اور جاری، دونوں طرح کے کام کا مفہوم دے سکتا ہے۔ يَكْتُبُ کا مطلب سیاق کے مطابق 'وہ لکھتا ہے' (ہمیشہ کی عادت، عمومی حقیقت) بھی ہوسکتا ہے اور 'وہ لکھ رہا ہے' (اسی لمحے جاری کام) بھی۔ یہ اردو اور انگریزی کے طرزِ اظہار سے واضح طور پر مختلف ہے، جہاں دونوں مفہوم کے لیے الگ الگ گرامری ڈھانچے مقرر ہیں: اردو میں 'لکھتا ہے' بمقابلہ 'لکھ رہا ہے'، اور انگریزی میں 'writes' بمقابلہ 'is writing'۔ عربی میں یہ فرق فعل کی اپنی صورت بدلنے سے ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ سیاق و سباق، کلام میں شامل قرائن (جیسے الْآنَ 'اس وقت'، یا الْيَوْمَ 'آج') یا پوری گفتگو کے پس منظر سے متعین کیا جاتا ہے۔ مثلاً اکیلے يَكْتُبُ کا ترجمہ 'وہ لکھتا ہے' کیا جاسکتا ہے، مگر
میں الْآنَ کی موجودگی واضح طور پر جاری کام کی طرف اشارہ کرتی ہے، اس لیے اس کا ترجمہ 'وہ اس وقت لکھ رہا ہے' زیادہ موزوں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ عربی سیکھنے والے کو ہمیشہ پورے جملے اور اس کے سیاق پر نظر رکھنی چاہیے، محض ایک الگ فعل کو دیکھ کر حتمی ترجمہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
ماضی استمراری فعلِ ناقص كَانَ کو فعل مضارع کے ساتھ ملا کر بنایا جاتا ہے: كَانَ يَكْتُبُ (وہ لکھ رہا تھا / لکھا کرتا تھا) ۔ كَانَ کو 'فعلِ ناقص' اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اکیلا مکمل جملہ نہیں بنا سکتا، بلکہ اسے ایک اسم (اسمِ كَانَ، جو مرفوع ہوتا ہے) اور ایک خبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ترکیب میں دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ خبر کسی مفرد اسم کے بجائے ایک مکمل جملہ فعلیہ (يَكْتُبُ) ہے، اور نحو کا اصول یہ ہے کہ جب خبر ایک جملہ ہو تو وہ بذاتِ خود کسی اعرابی علامت کی حامل نہیں ہوتی، مگر اس کا شمار محلاً منصوب میں کیا جاتا ہے، یعنی اگر بالفرض وہ مفرد اسم ہوتی تو منصوب ہوتی۔ نحوی طور پر پورے جملے
میں الطَّالِبُ اسمِ كَانَ اور مرفوع ہے، اور يَكْتُبُ کا جملہ خبرِ كَانَ محلاً منصوب ہے۔ اس طرح كَانَ کا بنیادی کردار یہ ہے کہ وہ اکیلے مضارع کے حال یا مستقبل کے مفہوم کو ماضی کے دائرے میں منتقل کردیتا ہے، اور نتیجتاً پورا مرکب ماضی میں ایک جاری عمل کا بیان بن جاتا ہے۔
ماضی استمراری، یعنی كَانَ يَكْتُبُ کی نفی کرنے کے لیے لَمْ کو خود معاون فعل كَانَ کے مضارع يَكُونُ پر لگایا جاتا ہے، جو اس سے مجزوم ہوکر يَكُنْ بن جاتا ہے، اور اس کے بعد اصل مضارع فعل (يَكْتُبُ) بطور خبر آتا ہے:
۔ اعرابی تجزیہ یوں ہے: لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے، يَكُنْ فعلِ ناقص کا مضارع مجزوم ہے (اصل يَكُونُ تھا، جزم کے باعث واو گر گئی اور نون ساکن ہوگئی)، اسمِ يَكُنْ فعل میں مستتر ضمیر ہُوَ ہے، اور يَكْتُبُ کا جملہ خبرِ يَكُنْ محلاً منصوب ہے۔ اس ساخت کی خوبصورتی یہ ہے کہ نفی دراصل معاون فعل (كَانَ کے مضارع) پر واقع ہوتی ہے، جبکہ اصل کام بتانے والا فعل (يَكْتُبُ) بغیر کسی اعرابی تبدیلی کے، بطور خبر، اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ یہی طریقہ حال میں جاری کام کی نفی (لَا يَكْتُبُ الْآنَ) سے مختلف ہے، کیونکہ حال کی نفی میں کوئی معاون فعل درکار نہیں ہوتا۔ اس فرق کو ذہن میں رکھنے سے طالب علم آسانی سے پہچان سکتا ہے کہ کسی جملے میں نفی حال کی جارہی ہے یا ماضی میں جاری کام کی، جو کہ عربی مکالمے میں درست وقت کی نشاندہی کے لیے نہایت اہم ہے۔
یہ چاروں حروف مل کر عربی کے نفی کے مکمل نظام کو تشکیل دیتے ہیں، اور ہر ایک کا اپنا خاص میدانِ کار ہے۔ لَا فعل مضارع کے ساتھ آکر سادہ حال یا استمراری کام کی نفی کرتا ہے، جیسے
، اور فعل کے اعراب پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ مَا فعل ماضی کے ساتھ آکر گزرے ہوئے واقعے کی نفی کرتا ہے، جیسے مَا كَتَبَ، اور چونکہ ماضی مبنی ہوتا ہے، اس کی بنا بھی نہیں بدلتی۔ لَمْ فعل مضارع کے ساتھ آکر ماضی کے معنی میں نفی کرتا ہے، جیسے لَمْ يَكْتُبْ ، اور فعل کو مجزوم کردیتا ہے۔ اور لَمْ يَكُنْ ماضی استمراری کی نفی کے لیے آتا ہے، جیسے
، جہاں لَمْ دراصل معاون فعل كَانَ کے مضارع کو مجزوم کرتا ہے، اصل فعل بطور خبر بغیر کسی تبدیلی کے باقی رہتا ہے۔ ان چاروں میں امتیاز یہ ہے کہ لَا اور مَا فعل کے اعراب کو نہیں چھیڑتے، جبکہ لَمْ اور لَمْ يَكُنْ اپنے متعلقہ مضارع فعل کو مجزوم کرتے ہیں — یہ فرق یاد رکھنے سے کسی بھی زمانے کا منفی جملہ درست اعراب کے ساتھ بنایا جاسکتا ہے۔