فعل امر و نہی؛ انشائی مضمون: القرآن الکریم اور اخلاقِ نبوی ﷺ
فعلِ امر اور فعلِ نہی کیسے بنائے جاتے ہیں، اور ان قواعد کو استعمال کرتے ہوئے قرآنِ کریم اور اخلاقِ نبوی ﷺ پر ایک مختصر، درست اور بامعنی عربی مضمون کیسے لکھا جائے؟
1تمہید
اب تک ہم فعل کی بہت سی صورتیں — ماضی، مضارع، منفی، مجہول اور استمراری — پڑھ چکے ہیں۔ اس سبق میں فعل کی دو آخری اہم صورتیں، یعنی فعلِ امر اور فعلِ نہی، تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ ان دونوں کا تعلق براہِ راست ہمارے روزمرہ کے حکم، درخواست اور نصیحت کے جملوں سے ہے، اور یہی دونوں آگے چل کر خط و کتابت، درخواست نویسی اور مکالمے میں بار بار استعمال ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سبق میں دو مختصر انشائی مضامین — القرآن الکریم، اور اخلاقِ نبی کریم ﷺ — بھی نمونے کے طور پر دیے گئے ہیں، تاکہ طالب علم گرامر کے قواعد کو خالص نظریاتی صورت میں یاد رکھنے کے بجائے عملی، بامعنی اور دینی مضمون نویسی میں استعمال کرنا سیکھے۔ یہی اس پورے کورس کا حتمی مقصد ہے: نحو و صرف کے قواعد سے حقیقی انشا تک پہنچنا۔
2فعلِ امر — تشکیل اور قاعدہ
فعلِ امر وہ فعل ہے جو مخاطب کو کسی کام کے کرنے کا حکم، درخواست یا نصیحت دیتا ہے، جیسے اردو میں لکھو، پڑھو، جاؤ، بیٹھو۔ اسے فعلِ مضارع کے صیغۂ مخاطب (تُو کے صیغے) سے بنایا جاتا ہے، اور اس کے تین مرحلے ہیں۔ پہلا مرحلہ: فعلِ مضارع کے شروع سے حرفِ مضارعت (ت) ہٹا دیا جاتا ہے، جیسے تَكْتُبُ سے صرف كْتُبُ باقی رہتا ہے۔ دوسرا مرحلہ: فعل کے آخری حرف کو ساکن (جزم) کردیا جاتا ہے، جس سے كْتُبْ بنتا ہے۔ تیسرا مرحلہ: چونکہ عربی میں کوئی لفظ ساکن حرف سے شروع نہیں ہوسکتا، اور یہاں پہلا حرف (ک) خود ساکن رہ گیا ہے، اس لیے کلمے کے شروع میں ایک اضافی ہمزہ، یعنی ہمزۃ الوصل، بڑھا دیا جاتا ہے۔ اس طرح مکمل فعلِ امر اُكْتُبْ (لکھو) بن جاتا ہے۔ ہمزۃ الوصل کی حرکت اس بات پر منحصر ہوتی ہے کہ فعلِ مضارع کا تیسرا اصلی حرف (عین الفعل) کس حرکت پر ہے: اگر وہ مضموم (پیش) ہو، جیسے تَنْصُرُ میں، تو ہمزۃ الوصل بھی مضموم آئے گی: اُنْصُرْ (مدد کرو)؛ اور اگر وہ مفتوح یا مکسور ہو، جیسے تَذْهَبُ اور تَجْلِسُ میں، تو ہمزۃ الوصل مکسور آئے گی: اِذْهَبْ (جاؤ)، اِجْلِسْ (بیٹھو)۔ اسی اصول کے تحت تَقْرَأُ سے اِقْرَأْ (پڑھو) بنتا ہے۔
3فعلِ نہی — تشکیل اور قاعدہ
فعلِ نہی اس کے بالکل برعکس، کسی کام سے منع کرتا یا روکتا ہے، جیسے اردو میں مت کرو، نہ جاؤ، مت بولو۔ اسے بنانے کا طریقہ فعلِ امر سے مختلف اور دراصل زیادہ آسان ہے: فعلِ مضارع کے شروع میں حرفِ نہی لَا (جسے نحوی اصطلاح میں لَا النَّاہِیَۃ کہا جاتا ہے) لگا دیا جاتا ہے، اور فعلِ مضارع کو مجزوم کردیا جاتا ہے، یعنی اس کا آخری حرف ساکن ہوجاتا ہے۔ اس میں امر کے برعکس حرفِ مضارعت (ت، ی، ا، ن) بالکل باقی رہتا ہے، صرف آخری حرکت گر کر ساکن ہوجاتی ہے۔ مثلاً تَكْتُبُ سے لَا تَكْتُبْ (مت لکھو)، تَذْهَبُ سے لَا تَذْهَبْ (مت جاؤ)، اور تَتَكَاسَلُ سے لَا تَتَكَاسَلْ (سستی مت کرو) بنتا ہے۔ چونکہ فعلِ مضارع کے شروع میں موجود حرفِ مضارعت خود متحرک ہوتا ہے، اس لیے فعلِ نہی میں ہمزۃ الوصل کی کبھی ضرورت نہیں پڑتی۔ خلاصہ یہ کہ فعلِ امر میں حرفِ مضارعت ہٹا کر ہمزۃ الوصل بڑھائی جاتی ہے، جبکہ فعلِ نہی میں حرفِ مضارعت باقی رکھتے ہوئے صرف لَا اور جزم کا اضافہ کیا جاتا ہے۔
4امر و نہی کا مشقی جملہ
دونوں افعال ایک ہی جملے میں حرفِ عطف وَ کے ذریعے جمع بھی ہوسکتے ہیں، جیسا کہ اس مثالی جملے میں دکھایا گیا ہے:
اس جملے میں اُكْتُبِ فعلِ امر ہے جس کا مفعول الدَّرْسَ (کسرہ کے ساتھ التقاء الساکنین سے بچنے کے لیے) ہے، جبکہ لَا تَتَكَاسَلْ فعلِ نہی ہے، اور یہ ثابت کرتا ہے کہ ایک ہی جملے میں حکم اور ممانعت دونوں بیک وقت بیان ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح کے مختصر امر و نہی کے جملے روزمرہ گفتگو، نصیحت اور اسلامی آداب میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں، مثلاً اسْتَعِنْ بِاللَّهِ وَلَا تَعْجِزْ (اللہ سے مدد مانگو اور عاجز مت آؤ)۔
5انشائی مضمون لکھنے کے راہنما اصول
انشائی مضمون لکھتے وقت طالب علم کو چند بنیادی اصولوں کا خیال رکھنا چاہیے: پہلے موضوع کی مختصر تعریف پر مشتمل ایک جامع جملہ لکھا جائے، پھر دو یا تین معاون جملوں میں موضوع کی نمایاں خصوصیات بیان کی جائیں، اور آخر میں ایک مختصر ذاتی یا اختتامی جملہ لکھا جائے۔ اسلوب سادہ، جملے مختصر اور گرامر کے لحاظ سے مکمل درست ہونے چاہئیں، کیونکہ انشاء میں طوالت سے زیادہ درستی اور ربط اہم ہوتا ہے۔ نیچے دو نمونہ مضامین دیے گئے ہیں جو اسی اصول پر لکھے گئے ہیں۔
6نمونہ مضمون: القرآن الکریم
القرآن الکریم پر یہ نمونہ مضمون ملاحظہ کریں:
7نمونہ مضمون: اخلاقِ نبی کریم ﷺ
اخلاقِ نبی کریم ﷺ پر یہ نمونہ مضمون ملاحظہ کریں:
8دونوں مضامین سے سیکھنے والے گرامری نکات
ان دونوں نمونہ مضامین سے کئی اہم گرامری اور اسلوبی نکات سیکھے جاسکتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ اسمیہ جملے (جیسے الْقُرْآنُ الْكَرِيمُ هُوَ كَلَامُ اللهِ) موضوع کی تعریف بیان کرنے کے لیے بہترین ہیں، کیونکہ یہ ثبات اور دوام ظاہر کرتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اخلاقِ نبوی ﷺ کے مضمون میں فعلِ ناقص كَانَ کا بار بار استعمال دانستہ ہے، کیونکہ كَانَ ماضی میں کسی مستقل اور دیرپا صفت کے ہونے کو ظاہر کرتا ہے — یعنی آپ ﷺ کی یہ صفات وقتی نہیں بلکہ آپ ﷺ کی مستقل عادت اور خصلت تھیں۔ تیسرا نکتہ حرفِ عطف وَ اور حرفِ سببیت فَ کا مناسب استعمال ہے، جو جملوں کو آپس میں مربوط کرتا ہے اور مضمون کو ایک مسلسل بہاؤ دیتا ہے۔ آخری اور سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ دونوں مضامین اختتام پر طالب علم کے ذاتی جذبے یا نتیجے پر مبنی جملے کے ساتھ مکمل ہوتے ہیں، جو انشائی مضمون کو محض معلوماتی تحریر سے بڑھ کر ایک بامقصد، دلی اظہار بنا دیتا ہے۔
مصادر و مراجع
- معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 12
- النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
فعلِ امر بنانے کے تین بنیادی مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ یہ کہ فعلِ مضارع کے صیغۂ مخاطب سے شروع کا حرفِ مضارعت (ت) ہٹا دیا جاتا ہے، مثلاً تَكْتُبُ سے صرف كْتُبُ باقی رہتا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ کہ فعل کے آخری حرف کو ساکن کردیا جاتا ہے، جس سے كْتُبْ بنتا ہے۔ تیسرا مرحلہ یہ کہ چونکہ عربی کلمہ ساکن حرف سے شروع نہیں ہوسکتا، اس لیے ابتدا میں ہمزۃ الوصل بڑھائی جاتی ہے، جس سے مکمل فعلِ امر اُكْتُبْ (لکھو) بن جاتا ہے۔ تَنْصُرُ کی مثال میں چونکہ عین الفعل (ن کے بعد کا حرف ص) مضموم ہے، اس لیے ہمزۃ الوصل بھی مضموم آئے گی، اور فعلِ امر اُنْصُرْ (مدد کرو) بنے گا۔ اگر عین الفعل مفتوح یا مکسور ہو، جیسے تَذْهَبُ میں، تو ہمزۃ الوصل مکسور آئے گی، یعنی اِذْهَبْ (جاؤ)۔ اس طرح ہمزۃ الوصل کی حرکت ہمیشہ فعل کے تیسرے اصلی حرف کی حرکت کے تابع ہوتی ہے۔
فعلِ نہی بنانے کے لیے فعلِ مضارع کے شروع میں حرفِ نہی لَا (لَا النَّاہِیَۃ) لگایا جاتا ہے، اور فعلِ مضارع کو مجزوم کیا جاتا ہے، یعنی اس کا آخری حرف ساکن کردیا جاتا ہے، جیسے تَكْتُبُ سے لَا تَكْتُبْ (مت لکھو) اور تَذْهَبُ سے لَا تَذْهَبْ (مت جاؤ) بنتا ہے۔ فعلِ امر کی تشکیل کا بنیادی طریقہ اس سے مختلف ہے: امر میں شروع کا حرفِ مضارعت مکمل طور پر ہٹا دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ ہمزۃ الوصل بڑھائی جاتی ہے، جبکہ نہی میں حرفِ مضارعت بالکل باقی رہتا ہے اور صرف لَا کا اضافہ اور آخری حرکت کی تبدیلی (جزم) ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فعلِ نہی میں کبھی بھی ہمزۃ الوصل کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ حرفِ مضارعت خود متحرک ہوتا ہے اور کلمہ ساکن سے شروع نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ کہ امر ہمزۃ الوصل اور حرفِ مضارعت کے حذف پر مبنی ہے، جبکہ نہی حرفِ مضارعت کی بقا اور لَا کے اضافے پر مبنی ہے۔
ہمزۃ الوصل کی حرکت کا تعین اس اصول کے تحت ہوتا ہے کہ وہ فعلِ مضارع کے تیسرے اصلی حرف، یعنی عین الفعل، کی اصل حرکت کے مطابق آتی ہے۔ تَنْصُرُ میں عین الفعل (ص) پر ضمہ (پیش) ہے، اس لیے جب اس سے فعلِ امر بنایا جاتا ہے تو ہمزۃ الوصل بھی مضموم لائی جاتی ہے، یعنی اُنْصُرْ (مدد کرو)۔ اس کے برعکس تَذْهَبُ میں عین الفعل (ہ) پر فتحہ ہے، اور قاعدے کے مطابق جہاں عین الفعل مفتوح یا مکسور ہو وہاں ہمزۃ الوصل ہمیشہ مکسور آتی ہے، اس لیے فعلِ امر اِذْهَبْ (جاؤ) بنتا ہے، نہ کہ اَذْهَبْ۔ اس اصول کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان تلفظ میں ہم آہنگی چاہتی ہے، اور مضموم عین الفعل والے افعال میں مضموم ہمزہ لانا زبان پر زیادہ آسان اور فصیح تلفظ فراہم کرتا ہے، جبکہ باقی تمام صورتوں میں مکسور ہمزہ ہی اصل اور غالب قاعدہ ہے۔
اس جملے کا مکمل ترجمہ یہ ہے: سبق لکھو اور اس میں سستی نہ کرو۔ اس جملے میں دو افعال استعمال ہوئے ہیں۔ پہلا اُكْتُبِ ہے، جو فعلِ امر ہے اور لکھنے کا حکم دیتا ہے؛ اس کا مفعولٌ بہ الدَّرْسَ ہے، اور اُكْتُبِ کے آخر میں کسرہ التقاء الساکنین سے بچنے کے لیے لایا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد لام تعریف والا اسم آرہا ہے۔ دوسرا فعل لَا تَتَكَاسَلْ ہے، جو فعلِ نہی ہے اور سستی کرنے سے منع کرتا ہے؛ اس میں حرفِ مضارعت (ت) باقی ہے اور صرف آخری حرف مجزوم ہوکر ساکن ہوا ہے۔ یہ جملہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ عربی میں حرفِ عطف وَ کے ذریعے ایک ہی جملے میں حکم اور ممانعت دونوں کو ایک ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے، جو کہ روزمرہ نصیحت آموز عبارتوں میں بہت عام اسلوب ہے۔
قرآن کریم پر لکھے گئے نمونہ مضمون میں چند بنیادی نکات ترتیب سے بیان کیے گئے ہیں: سب سے پہلے قرآن کی تعریف، یعنی یہ اللہ کا وہ کلام ہے جو نبی محمد ﷺ پر جبریل علیہ السلام کے ذریعے نازل ہوا؛ پھر اس کی حفاظت، یعنی اللہ نے اسے تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھا ہے؛ اس کے بعد اس کا بیانی اعجاز، یعنی کوئی فصیح و بلیغ انسان اس کی سب سے چھوٹی سورت جیسا کلام بھی نہیں لاسکا؛ پھر اس کا مواد، یعنی بہترین قصے، حکمتیں اور واضح احکام؛ اور آخر میں طالب علم کا ذاتی جذبۂ محبت اور تلاوت کا عزم۔ اس مشق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ طالب علم دینی موضوع پر اسمیہ جملوں کی مدد سے ایک مربوط، مختصر اور گرامری اعتبار سے درست عربی مضمون لکھنا سیکھے، جو آگے چل کر زیادہ پیچیدہ عربی تحریر کی بنیاد بنے۔
اخلاقِ نبوی ﷺ کے مضمون میں فعلِ ناقص كَانَ کا بار بار استعمال دانستہ اور بامعنی ہے، کیونکہ كَانَ ماضی کے زمانے میں کسی صفت کے مستقل اور دیرپا ہونے کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ کسی وقتی یا عارضی حالت کو۔ جب ہم كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا لکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اخلاقِ حسنہ آپ ﷺ کی مستقل عادت اور خصلت تھی، جو زندگی بھر برقرار رہی، نہ کہ کبھی کبھار ظاہر ہونے والا رویہ۔ اسی طرح كَانَ ﷺ صَادِقًا أَمِينًا اور كَانَ ﷺ رَحِيمًا بِالضُّعَفَاءِ میں بھی یہی مفہوم ملتا ہے۔ نحوی اعتبار سے كَانَ اپنے اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتا ہے، اور اس طرح یہ جملہ خبر کی عملی مثال بھی بن جاتا ہے، جو آئندہ سبق میں خبر و انشاء کے فرق کو سمجھنے کے لیے مفید تمہید ثابت ہوتی ہے۔
دونوں نمونہ مضامین میں کئی مشترک اسلوبی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اول، دونوں کا آغاز ایک جامع اسمیہ جملے سے ہوتا ہے جو موضوع کی بنیادی تعریف بیان کرتا ہے۔ دوم، اس کے بعد دو یا تین معاون جملوں میں موضوع کی نمایاں خصوصیات، جیسے قرآن کا اعجاز و حفاظت یا نبی کریم ﷺ کی صداقت و رحمت، مختصراً بیان کی جاتی ہیں۔ سوم، دونوں مضامین حرفِ عطف وَ اور حرفِ سببیت فَ کے ذریعے جملوں کو باہم مربوط رکھتے ہیں تاکہ عبارت میں تسلسل قائم رہے۔ چہارم، دونوں کا اختتام طالب علم کے ذاتی احساس یا عملی عزم پر مبنی جملے سے ہوتا ہے۔ اس مشترک اسلوب کا تدریسی مقصد یہ ہے کہ طالب علم دینی موضوعات پر سادہ مگر مکمل اور مربوط عربی مضمون لکھنے کا ایک قابلِ تقلید نمونہ (ٹیمپلیٹ) ذہن نشین کرلے، جسے وہ آئندہ کسی بھی مختصر انشائی موضوع پر لاگو کرسکے۔