معلم الانشاء سبق 8: فعل ماضی کا تعارف اور گردان
کیا آپ جانتے ہیں کہ عربی کا فعل ماضی صرف ایک لفظ کَتَبَ سے چودہ مختلف صیغوں میں ڈھل جاتا ہے، اور ہر صیغہ ایک الگ فاعل کی نشاندہی کرتا ہے؟
1فعل ماضی کی تعریف اور بنیادی پہچان
عربی زبان میں فعل کی سب سے بنیادی قسم فعل ماضی ہے، جو کسی ایسے کام کی خبر دیتا ہے جو گفتگو کے وقت سے پہلے مکمل طور پر واقع ہو چکا ہو۔ اردو میں اس کا مفہوم عموماً "اس نے کیا"، "میں نے کیا" یا "ہم نے کیا" کی صورت میں ادا ہوتا ہے۔ فعل ماضی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کی آخری حرکت (اعراب) ہمیشہ ایک جیسی، یعنی مبنی علی الفتح، رہتی ہے، سوائے چند مخصوص صیغوں کے جہاں ضمیر کے اتصال کی وجہ سے یہ حرکت بدل جاتی ہے۔ فعل ماضی کی پہچان کی ایک آسان علامت یہ ہے کہ اس کے ساتھ تاءِ ساکنہ (تاءِ فاعل) کا اتصال ممکن ہوتا ہے، جیسے كَتَبْتُ (میں نے لکھا)، جبکہ فعل مضارع یا امر کے ساتھ یہ تاء کبھی نہیں لگتی۔
2نمونہ فعل كَتَبَ اور چودہ صیغوں کا تعارف
فعل ماضی کے قواعد سیکھنے کے لیے عربی گرامر کی روایت میں ایک نمونہ فعل کو بطور مثال چنا جاتا ہے، اور سب سے زیادہ استعمال ہونے والا نمونہ كَتَبَ (اس نے لکھا) ہے، جو باب فَعَلَ يَفْعُلُ سے تعلق رکھنے والا ایک مجرد ثلاثی فعل ہے۔ اسی ایک مادّے سے چودہ مختلف صیغے (گردان کی صورتیں) بنائے جاتے ہیں، اور ہر صیغہ ایک مخصوص فاعل (کام کرنے والا) کی نشاندہی کرتا ہے: واحد، تثنیہ اور جمع کی سطح پر، اور مذکر و مؤنث دونوں اصناف میں، نیز غائب، حاضر اور متکلم تینوں زمانی زاویوں سے۔ اس مکمل گردان کو یاد کرنا فعل ماضی کے استعمال کی بنیاد ہے، کیونکہ اسی کے ذریعے طالب علم کسی بھی جملے میں فاعل کی صحیح شناخت کر سکتا ہے۔
3غائب (تیسرے شخص) کے چھ صیغے
سب سے پہلے غائب (تیسرے شخص) کے چھ صیغے دیکھیے۔ واحد مذکر غائب کے لیے هُوَ كَتَبَ (وہ لکھا، یعنی اس نے لکھا) استعمال ہوتا ہے، جو دراصل خود لغت کی بنیادی شکل ہے۔ تثنیہ مذکر غائب کے لیے هُمَا كَتَبَا (ان دونوں نے لکھا) آتا ہے، جہاں الف کا اضافہ دو افراد کی نشاندہی کرتا ہے۔ جمع مذکر غائب کے لیے هُمْ كَتَبُوا (ان سب نے لکھا) استعمال ہوتا ہے، جس میں واو الجماعت اور خاموش الف شامل کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح مؤنث کی طرف آئیں تو واحد مؤنث غائب کے لیے هِيَ كَتَبَتْ (اس نے لکھا، عورت)، تثنیہ مؤنث غائب کے لیے هُمَا كَتَبَتَا (ان دونوں عورتوں نے لکھا)، اور جمع مؤنث غائب کے لیے هُنَّ كَتَبْنَ (ان سب عورتوں نے لکھا) استعمال ہوتا ہے، جس میں نون النسوہ کا اضافہ کیا جاتا ہے اور فعل کی بنیادی ساخت ساکن ہو جاتی ہے۔
4حاضر (دوسرے شخص) کے چھ صیغے
اس کے بعد حاضر (دوسرے شخص) کے چھ صیغے آتے ہیں، جو کسی سامنے موجود شخص سے خطاب کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ واحد مذکر حاضر کے لیے أَنْتَ كَتَبْتَ (تم نے لکھا، مرد سے خطاب)، تثنیہ مذکر حاضر کے لیے أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا (تم دونوں نے لکھا)، اور جمع مذکر حاضر کے لیے أَنْتُمْ كَتَبْتُمْ (تم سب نے لکھا) استعمال ہوتا ہے۔ مؤنث حاضر کی طرف آئیں تو واحد مؤنث حاضر کے لیے أَنْتِ كَتَبْتِ (تم نے لکھا، عورت سے خطاب)، تثنیہ مؤنث حاضر کے لیے بھی وہی صیغہ أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا استعمال ہوتا ہے جو مذکر تثنیہ میں تھا (کیونکہ عربی میں تثنیہ کی حاضر صورت میں مذکر مؤنث کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی)، اور جمع مؤنث حاضر کے لیے أَنْتُنَّ كَتَبْتُنَّ (تم سب نے لکھا، عورتوں سے خطاب) استعمال ہوتا ہے۔
5متکلم (پہلے شخص) کے دو صیغے
آخر میں متکلم (پہلے شخص) کے دو صیغے آتے ہیں، جو خود بولنے والے کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور ان میں جنس کی کوئی تفریق نہیں ہوتی۔ واحد متکلم کے لیے أَنَا كَتَبْتُ (میں نے لکھا) استعمال ہوتا ہے، جبکہ متکلم مع الغیر (یعنی تثنیہ اور جمع دونوں کے لیے مشترک صیغہ) کے لیے نَحْنُ كَتَبْنَا (ہم نے لکھا) استعمال ہوتا ہے۔ اس طرح فعل ماضی کی مکمل گردان چودہ صیغوں پر مشتمل ہوتی ہے: چھ غائب کے، چھ حاضر کے اور دو متکلم کے، اور یہی ترتیب ہر مجرد ثلاثی فعل کی گردان میں دہرائی جاتی ہے۔
6مکمل گردان کا خاکہ اور ضمیر کے اتصال کا قاعدہ
اس گردان کا مکمل خاکہ یوں ہے: غائب مذکر — هُوَ كَتَبَ، هُمَا كَتَبَا، هُمْ كَتَبُوا؛ غائب مؤنث — هِيَ كَتَبَتْ، هُمَا كَتَبَتَا، هُنَّ كَتَبْنَ؛ حاضر مذکر — أَنْتَ كَتَبْتَ، أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا، أَنْتُمْ كَتَبْتُمْ؛ حاضر مؤنث — أَنْتِ كَتَبْتِ، أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا، أَنْتُنَّ كَتَبْتُنَّ؛ اور متکلم — أَنَا كَتَبْتُ، نَحْنُ كَتَبْنَا۔ اس سے ایک اہم قاعدہ سامنے آتا ہے: جب بھی فعل کے ساتھ کوئی متحرک ضمیر (تاء، نا، یا نون النسوہ) جڑتا ہے تو فعل کی آخری حرکت ختم ہو کر سکون میں بدل جاتی ہے، جیسے كَتَبْتُ میں بَ ساکن ہو گیا، جبکہ جہاں ضمیر الف یا واو کی صورت میں جڑتا ہے وہاں فعل کی اصل حرکت (فتحہ) برقرار رہتی ہے، جیسے كَتَبَا اور كَتَبُوا۔
7دیگر افعال کی گردان: ذَهَبَ اور قَرَأَ
اسی اصول کی روشنی میں دو اور عام افعال کی گردان بھی دیکھی جا سکتی ہے۔ فعل ذَهَبَ (جانا): هُوَ ذَهَبَ (وہ گیا)، هِيَ ذَهَبَتْ (وہ گئی)، هُمْ ذَهَبُوا (وہ سب گئے)۔ فعل قَرَأَ (پڑھنا): هُوَ قَرَأَ (اس نے پڑھا)، هِيَ قَرَأَتْ (اس نے پڑھا، عورت)، هُمْ قَرَءُوا (ان سب نے پڑھا)۔ ان دونوں میں بھی وہی اصول کارفرما ہے: واحد مؤنث میں تاءِ تانیث ساکنہ کا اضافہ اور جمع مذکر میں واوِ جماعت کا اضافہ۔
8فعل ماضی میں فاعل سے مطابقت کے اصول
فعل ماضی کے استعمال میں طالب علم کو سب سے زیادہ احتیاط اس بات میں کرنی چاہیے کہ فاعل کی جنس اور تعداد کے مطابق صحیح صیغہ منتخب کیا جائے، کیونکہ عربی جملے میں فعل ہمیشہ اپنے فاعل سے جنس میں مطابقت رکھتا ہے، جیسے الْأُسْتَاذُ كَتَبَ (استاد نے لکھا) بمقابلہ الطَّالِبَةُ كَتَبَتْ (طالبہ نے لکھا)۔ اسی طرح جب فاعل کوئی ضمیر نہ ہو بلکہ ظاہری اسم ہو، تو فعل واحد ہی رہتا ہے چاہے فاعل جمع کیوں نہ ہو، جیسے كَتَبَ الطُّلَّابُ الدَّرْسَ (طلبہ نے سبق لکھا)، جہاں كَتَبَ واحد مذکر کی صورت میں آیا اگرچہ الطُّلَّابُ جمع ہے، کیونکہ فعل جب فاعل سے پہلے آئے تو واحد ہی رہتا ہے۔
مصادر و مراجع
- معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 8
- النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
فعل ماضی وہ فعل ہے جو کسی ایسے کام یا واقعے کی خبر دیتا ہے جو گفتگو کے وقت سے پہلے مکمل طور پر واقع ہو چکا ہو، جیسے كَتَبَ (اس نے لکھا) اور ذَهَبَ (وہ گیا)۔ اس کے مقابلے میں فعل مضارع کسی ایسے کام کی خبر دیتا ہے جو حال میں جاری ہو یا مستقبل میں واقع ہونے والا ہو، جیسے يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے/لکھے گا)۔ ان دونوں کو ممتاز کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ فعل ماضی کے ساتھ تاءِ فاعل (تاءِ ساکنہ) کا اتصال ممکن ہوتا ہے، جیسے كَتَبْتُ (میں نے لکھا)، جبکہ فعل مضارع کے ساتھ یہ تاء کبھی نہیں جڑتی بلکہ اس کے شروع میں حروفِ مضارعت (أ، ن، ی، ت) آتے ہیں۔ اسی طرح فعل ماضی کی آخری حرکت بنیادی طور پر ہمیشہ فتحہ (مبنی علی الفتح) ہوتی ہے، سوائے چند صیغوں کے جہاں ضمیر کے اتصال سے یہ سکون میں بدل جاتی ہے، جبکہ فعل مضارع کی آخری حرکت اعرابی طور پر بدلتی رہتی ہے (مرفوع، منصوب یا مجزوم)۔
فعل ماضی كَتَبَ کے غائب (تیسرے شخص) کے چھ صیغے یہ ہیں۔ مذکر کی طرف سے: واحد مذکر غائب کے لیے هُوَ كَتَبَ (اس نے لکھا)، جو دراصل لغت کی بنیادی اور اصل صورت ہے۔ تثنیہ مذکر غائب کے لیے هُمَا كَتَبَا (ان دونوں مردوں نے لکھا)، جس میں الف کا اضافہ دو افراد کی نشاندہی کے لیے کیا گیا۔ جمع مذکر غائب کے لیے هُمْ كَتَبُوا (ان سب مردوں نے لکھا)، جس میں واوِ جماعت اور اس کے بعد ایک خاموش الف (الف الفارقہ) شامل کیا جاتا ہے جو صرف تحریر میں لکھا جاتا ہے مگر پڑھا نہیں جاتا۔ مؤنث کی طرف سے: واحد مؤنث غائب کے لیے هِيَ كَتَبَتْ (اس عورت نے لکھا)، جس میں تاءِ تانیث ساکنہ کا اضافہ ہوا۔ تثنیہ مؤنث غائب کے لیے هُمَا كَتَبَتَا (ان دونوں عورتوں نے لکھا)، جس میں تاءِ تانیث کے بعد الف تثنیہ کا اضافہ ہوا۔ جمع مؤنث غائب کے لیے هُنَّ كَتَبْنَ (ان سب عورتوں نے لکھا)، جس میں نونِ نسوہ کا اضافہ کیا گیا اور اس کے سبب فعل کی بنیادی حرکت ساکن ہو گئی۔
فعل ماضی كَتَبَ کے حاضر (دوسرے شخص) کے چھ صیغے یہ ہیں: واحد مذکر حاضر کے لیے أَنْتَ كَتَبْتَ (تم نے لکھا، مرد سے خطاب)، تثنیہ مذکر حاضر کے لیے أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا (تم دونوں مردوں نے لکھا)، جمع مذکر حاضر کے لیے أَنْتُمْ كَتَبْتُمْ (تم سب مردوں نے لکھا)، واحد مؤنث حاضر کے لیے أَنْتِ كَتَبْتِ (تم نے لکھا، عورت سے خطاب)، تثنیہ مؤنث حاضر کے لیے أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا (تم دونوں عورتوں نے لکھا)، اور جمع مؤنث حاضر کے لیے أَنْتُنَّ كَتَبْتُنَّ (تم سب عورتوں نے لکھا)۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ تثنیہ حاضر کا صیغہ أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا دونوں جنسوں کے لیے بالکل یکساں رہتا ہے، جبکہ واحد اور جمع میں مذکر و مؤنث الگ الگ صیغے رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ عربی گرامر کی ایک مستقل خصوصیت ہے: عربی زبان میں تثنیہ کے ضمیرِ حاضر اور غائب دونوں میں اکثر مذکر و مؤنث کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی، اور یہی اصول اسمائے اشارہ اور موصولہ کی تثنیہ میں بھی (بعض صورتوں میں) دیکھا جا سکتا ہے۔
فعل ماضی كَتَبَ کے متکلم (پہلے شخص) کے صرف دو صیغے ہوتے ہیں، کیونکہ متکلم کی سطح پر عربی زبان تثنیہ کی الگ صورت نہیں رکھتی۔ واحد متکلم کے لیے أَنَا كَتَبْتُ (میں نے لکھا) استعمال ہوتا ہے، جس میں تاءِ فاعل مضموم (پیش کے ساتھ) آتی ہے۔ متکلم مع الغیر، یعنی تثنیہ اور جمع دونوں کے لیے مشترک صیغہ، نَحْنُ كَتَبْنَا (ہم نے لکھا) استعمال ہوتا ہے، جس میں فاعل کی علامت نَا ہے۔ ان دونوں صیغوں میں جنس کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی، یعنی خواہ بولنے والا مرد ہو یا عورت، دونوں صورتوں میں یہی صیغے استعمال ہوں گے: مرد بھی أَنَا كَتَبْتُ کہے گا اور عورت بھی۔ اس کی منطقی وجہ یہ ہے کہ متکلم کی حیثیت میں بولنے والا خود اپنی بات کر رہا ہوتا ہے، اور چونکہ سننے والے کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ بولنے والا کون ہے، اس لیے فعل میں جنس کی علیحدہ علامت کی عملی ضرورت باقی نہیں رہتی، برخلاف غائب و حاضر کے جہاں جنس کی وضاحت ضروری ہوتی ہے۔
فعل ماضی كَتَبَ کی مکمل گردان کا جائزہ لینے سے ایک اہم اور مستقل اصول سامنے آتا ہے: جب بھی فعل کے ساتھ کوئی متحرک ضمیر بطور فاعل جڑتا ہے — یعنی تاء (كَتَبْتَ، كَتَبْتِ، كَتَبْتُ)، تاءِ جمع (كَتَبْتُمْ، كَتَبْتُنَّ)، نا (كَتَبْنَا)، یا نونِ نسوہ (كَتَبْنَ) — تو فعل کی بنیادی آخری حرکت (فتحہ) ختم ہو کر سکون میں بدل جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ضمیر خود ایک متحرک حرف کی صورت میں فعل سے جڑتا ہے تو تلفظ میں روانی اور سہولت پیدا کرنے کے لیے فعل کے آخری حرف کو ساکن کر دیا جاتا ہے، تاکہ دو متواتر حرکتیں اکٹھی نہ ہوں۔ اس کے برعکس جہاں ضمیر خود ایک حرفِ مد (الف یا واو) کی صورت میں جڑتا ہے، جیسے كَتَبَا اور كَتَبُوا میں، وہاں فعل کی اصل حرکت فتحہ برقرار رہتی ہے کیونکہ الف اور واو خود ساکن حروف ہیں اور ان سے پہلے حرکت کا ہونا ضروری ہے۔ یہی اصول ہر مجرد ثلاثی فعل ماضی کی گردان میں یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ كَتَبَ ہو، ذَهَبَ ہو یا قَرَأَ ہو۔
فعل ذَهَبَ (جانا) کی گردان غائب میں یوں ہوگی: هُوَ ذَهَبَ (وہ گیا)، هُمَا ذَهَبَا (وہ دونوں گئے)، هُمْ ذَهَبُوا (وہ سب گئے)؛ اور مؤنث میں هِيَ ذَهَبَتْ (وہ گئی)، هُمَا ذَهَبَتَا (وہ دونوں عورتیں گئیں)، هُنَّ ذَهَبْنَ (وہ سب عورتیں گئیں)۔ اسی طرح فعل قَرَأَ (پڑھنا) کی گردان غائب میں یوں ہوگی: هُوَ قَرَأَ (اس نے پڑھا)، هُمَا قَرَآ (ان دونوں نے پڑھا)، هُمْ قَرَءُوا (ان سب نے پڑھا)؛ اور مؤنث میں هِيَ قَرَأَتْ (اس نے پڑھا، عورت)، هُمَا قَرَأَتَا (ان دونوں عورتوں نے پڑھا)، هُنَّ قَرَأْنَ (ان سب عورتوں نے پڑھا)۔ یہ دونوں افعال بالکل وہی اصول اپناتے ہیں جو كَتَبَ کی گردان میں دیکھا گیا تھا: واحد مؤنث میں تاءِ تانیث ساکنہ کا اضافہ، تثنیہ میں الف کا اضافہ، اور جمع مذکر میں واوِ جماعت کے ساتھ خاموش الف کا اضافہ۔ اس مماثلت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر مجرد ثلاثی فعل ماضی کی گردان ایک ہی مستقل سانچے پر چلتی ہے، اور صرف مادّہ (اصل تین حروف) بدلتا ہے۔
عربی زبان میں فعل ماضی ہمیشہ اپنے فاعل کی جنس (مذکر/مؤنث) سے مطابقت رکھتا ہے، جیسے الْأُسْتَاذُ كَتَبَ (استاد نے لکھا، مذکر) بمقابلہ الطَّالِبَةُ كَتَبَتْ (طالبہ نے لکھا، مؤنث)۔ تاہم ایک اہم اور اکثر طلبہ کے لیے حیران کن اصول یہ ہے کہ جب فاعل ایک ظاہری اسم (نہ کہ ضمیر) ہو اور جملے میں فعل اپنے فاعل سے پہلے آئے (یعنی جملہ فعلیہ کی معیاری ترتیب فعل-فاعل ہو)، تو فعل ہمیشہ واحد کی صورت میں رہتا ہے چاہے فاعل خود تثنیہ یا جمع کیوں نہ ہو، جیسے كَتَبَ الطُّلَّابُ الدَّرْسَ (طلبہ نے سبق لکھا) میں كَتَبَ واحد مذکر کی صورت میں آیا اگرچہ الطُّلَّابُ جمع ہے۔ اس کے برعکس اگر فاعل کی ضمیر پہلے سے فعل میں شامل ہو (یعنی فعل فاعل کے بعد آئے یا فاعل کی جگہ ضمیر مستتر لے لے)، تو فعل جمع یا تثنیہ کی مکمل صورت اختیار کر لیتا ہے، جیسے الطُّلَّابُ كَتَبُوا الدَّرْسَ (طلبہ نے سبق لکھا) میں فعل جمع کی مکمل صورت میں آیا۔ یہ فرق دراصل عربی نحو کے قاعدہ 'الفعل مع الفاعل الظاہر المتأخر یبقی مفردا' سے ماخوذ ہے۔