معلم الانشاء سبق 9: فعل مضارع اور فعل منفی
فعل مضارع کیسے بنایا جاتا ہے اور حال یا ماضی کے کام کی نفی کیسے کی جاتی ہے؟
1فعل مضارع کا تعارف اور اہمیت
عربی زبان میں فعل کے تین بنیادی زمانے شمار کیے جاتے ہیں: ماضی، مضارع اور امر۔ فعل مضارع وہ صیغہ ہے جو حال اور مستقبل دونوں پر دلالت کرتا ہے، اور بعض اوقات ایسے مستقل حقائق کے بیان کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جن کا کوئی خاص زمانہ متعین نہیں، جیسے
۔ گزشتہ سبق میں فعل ماضی کی گردان سیکھی گئی تھی، جو ایک مکمل ہو چکے کام کو ظاہر کرتی ہے۔ اب اسی مادّے سے فعل مضارع بنانا سیکھیں گے، جو عربی تحریر میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا صیغہ ہے، کیونکہ روزمرہ گفتگو اور علمی نصوص میں اکثر حال یا مستقبل ہی کی بات ہوتی ہے۔ اس سبق کا دوسرا اہم حصہ فعل منفی ہے، جو مثبت جملے کے ساتھ سیکھنا ضروری ہے تاکہ طالب علم دونوں طرح کے جملے بنا سکے۔
2چار حروفِ مضارعت اور صیغوں کی تشکیل
فعل مضارع فعل ماضی کے تین اصلی حروف (مادّہ) میں ایک اضافی حرف لگا کر بنایا جاتا ہے، اور یہ اضافی حروف صرف چار ہیں: أ، ن، ي، ت — جنہیں یاد رکھنے کے لیے علماء نے ایک لفظ أَنَيْتُ کی شکل میں جمع کر دیا ہے۔ ہر حرف ایک خاص صیغے کی نشاندہی کرتا ہے: أ متکلم واحد کے لیے (میں)، ن متکلم جمع کے لیے (ہم)، ي غائب مذکر کے لیے (وہ)، اور ت حاضر یا غائب مؤنث کے لیے۔ مادّے كتب سے مثالیں: أَكْتُبُ (میں لکھتا ہوں)، نَكْتُبُ (ہم لکھتے ہیں)، يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے)، تَكْتُبُ (وہ لکھتی ہے / تو لکھتا ہے) ۔ غور کریں کہ ماضی کے صیغے كَتَبَ میں پہلا حرف متحرک تھا، مگر مضارع بناتے وقت پہلا اصلی حرف ساکن ہوجاتا ہے اور اس سے پہلے حرفِ مضارعت لگ کر خود متحرک ہوتا ہے، جبکہ درمیانی حرف پر ضمہ، فتحہ یا کسرہ میں سے کوئی ایک حرکت آتی ہے جو ہر فعل میں الگ ہوسکتی ہے۔
3فعل مضارع کی مکمل گردان — چودہ صیغے
جس طرح فعل ماضی کی گردان چودہ صیغوں پر مشتمل تھی، فعل مضارع کی گردان بھی چودہ صیغوں میں مکمل ہوتی ہے، مگر یہاں تبدیلی حرفِ مضارعت کے اضافے اور بعض صیغوں کے آخر میں مزید حروف (الف، واو، نون، یاء) کے اضافے سے آتی ہے۔ غائب کی گردان: هُوَ يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے)، هُمَا يَكْتُبَانِ (وہ دونوں مرد لکھتے ہیں)، هُمْ يَكْتُبُونَ (وہ سب مرد لکھتے ہیں)، هِيَ تَكْتُبُ (وہ لکھتی ہے)، هُمَا تَكْتُبَانِ (وہ دونوں عورتیں لکھتی ہیں)، هُنَّ يَكْتُبْنَ (وہ سب عورتیں لکھتی ہیں)۔ حاضر کی گردان: أَنْتَ تَكْتُبُ (تو لکھتا ہے)، أَنْتُمَا تَكْتُبَانِ (تم دونوں مرد لکھتے ہو)، أَنْتُمْ تَكْتُبُونَ (تم سب مرد لکھتے ہو)، أَنْتِ تَكْتُبِينَ (تو لکھتی ہے)، أَنْتُمَا تَكْتُبَانِ (تم دونوں عورتیں لکھتی ہو)، أَنْتُنَّ تَكْتُبْنَ (تم سب عورتیں لکھتی ہو)۔ متکلم کی گردان: أَنَا أَكْتُبُ (میں لکھتا ہوں)، نَحْنُ نَكْتُبُ (ہم لکھتے ہیں) ۔ اس گردان میں دلچسپ بات یہ ہے کہ حاضر اور غائب کی جمع مؤنث دونوں کا صیغہ (يَكْتُبْنَ اور تَكْتُبْنَ) صرف حرفِ مضارعت کے فرق سے پہچانا جاتا ہے، اور تثنیہ کا صیغہ تَكْتُبَانِ حاضر و غائب مؤنث میں یکساں لکھا جاتا ہے، فرق صرف سیاق سے معلوم ہوتا ہے۔
4فعل منفی — مضارع کی نفی بذریعہ لَا
اب تک مثبت فعل مضارع سیکھا گیا۔ کسی کام کے حال میں نہ ہونے کی خبر دینے کے لیے حرفِ نفی لَا کو فعل مضارع سے پہلے لگایا جاتا ہے، اور اس کا فعل کے اعراب پر کوئی اثر نہیں پڑتا — فعل اپنی اصل مرفوع حالت میں ہی رہتا ہے۔ مثلاً لَا يَكْتُبُ (وہ نہیں لکھتا) ،
،
۔ یہ سب سے آسان اور زیادہ استعمال ہونے والی نفی ہے کیونکہ فعل کی صورت جوں کی توں رہتی ہے، صرف ابتدا میں لَا کا اضافہ ہوتا ہے۔ اسی طرح صرف ایک لفظ کا اضافہ پورے جملے کو منفی بنا دیتا ہے:
۔
5فعل منفی — ماضی کی نفی بذریعہ مَا
جس طرح لَا حال کی نفی کے لیے فعل مضارع سے پہلے آتا ہے، ماضی کے کسی کام کے نہ ہونے کی خبر دینے کے لیے حرفِ نفی مَا کو فعل ماضی سے پہلے لگایا جاتا ہے۔ فعل ماضی چونکہ اصلاً مبنی ہوتا ہے، مَا کے آنے سے اس کی بنا میں کوئی تبدیلی نہیں آتی — فعل اسی طرح رہتا ہے جیسے مثبت جملے میں تھا۔ مثال کے طور پر مَا كَتَبَ (اس نے نہیں لکھا) ،
،
۔ مَا اور لَا دونوں سادہ حروفِ نفی ہیں جن کے بعد فعل کی بنیادی حالت متاثر نہیں ہوتی، برخلاف کچھ دیگر حروفِ نفی (جیسے لَمْ) کے، جن کا تفصیلی مطالعہ آئندہ سبق میں کیا جائے گا۔
6لَا اور مَا کا موازنہ اور عملی نکات
مختصراً، لَا اور مَا دونوں نفی کے بنیادی اور آسان حروف ہیں، مگر ان کا اطلاق مختلف زمانوں پر ہوتا ہے: لَا فعل مضارع کے ساتھ آکر حال کی نفی کرتا ہے، جبکہ مَا فعل ماضی کے ساتھ آکر گزرے ہوئے کام کی نفی کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں فعل کے اعراب یا بنا میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ نفی کا حرف ہمیشہ فعل سے پہلے آتا ہے، اور جملے کی باقی ساخت (فاعل کا مرفوع اور مفعول بہ کا منصوب ہونا) بالکل ویسے ہی برقرار رہتی ہے جیسے مثبت جملے میں تھی۔ اس طرح ایک ہی جملے کو مثبت اور منفی دونوں صورتوں میں بدلنا محض ایک حرف کے اضافے کا معاملہ رہ جاتا ہے، جو عربی انشاء کی مشق کے لیے ایک بنیادی اور کارآمد مہارت ہے۔
مصادر و مراجع
- معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 9
- النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
فعل مضارع وہ فعل ہے جو حال (اِس وقت جاری کام) اور مستقبل (آئندہ ہونے والے کام) دونوں زمانوں پر دلالت کرتا ہے، اور بعض اوقات ایسے مستقل حقائق پر بھی جن کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا، جیسے
۔ اس کے برعکس فعل ماضی صرف اس کام کو ظاہر کرتا ہے جو گزر چکا اور مکمل ہو چکا ہے، جیسے كَتَبَ (اس نے لکھا)۔ ساختی اعتبار سے بھی دونوں میں بنیادی فرق ہے: فعل ماضی مبنی ہوتا ہے، یعنی اس کی آخری حرکت کسی عامل کے تابع نہیں بدلتی، جبکہ فعل مضارع معرب ہوتا ہے، یعنی اس کا آخری حرف مختلف عوامل (جیسے نفی کے حروف، ناصب یا جازم حروف) کے زیرِ اثر مرفوع، منصوب یا مجزوم ہوسکتا ہے۔ نیز فعل مضارع کی پہچان یہ ہے کہ اس کے شروع میں ہمیشہ چار حروفِ مضارعت میں سے ایک حرف — أ، ن، ي یا ت — لازماً موجود ہوتا ہے، جبکہ فعل ماضی میں ایسی کوئی علامت نہیں ہوتی، بلکہ وہ عموماً مادّے کی اصل صورت میں یا اس کے ساتھ ضمائر کے متصل ہونے سے پہچانا جاتا ہے۔
فعل مضارع کی تشکیل چار حروفِ مضارعت کے اضافے سے ہوتی ہے، جنہیں یاد رکھنے کے لیے مجموعی طور پر أَنَيْتُ کہا جاتا ہے۔ پہلا حرف أ متکلم واحد یعنی خود بولنے والے (میں) کے لیے آتا ہے، جیسے أَكْتُبُ (میں لکھتا ہوں)۔ دوسرا حرف ن متکلم جمع، یعنی بولنے والے کے ساتھ دوسرے بھی شامل ہوں (ہم) کے لیے آتا ہے، جیسے نَكْتُبُ (ہم لکھتے ہیں)۔ تیسرا حرف ي غائب مذکر (وہ، جس کے بارے میں بات ہو رہی ہے اور وہ مرد ہو) کے لیے آتا ہے، جیسے يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے)۔ چوتھا حرف ت دو مواقع پر آتا ہے: حاضر مذکر واحد کے لیے (تو لکھتا ہے) اور غائب مؤنث واحد کے لیے (وہ عورت لکھتی ہے) — دونوں صورتوں میں فعل کی ظاہری شکل ایک جیسی، یعنی تَكْتُبُ ہوتی ہے، اور اصل معنی جملے کے سیاق یا فاعل کے ذکر سے متعین ہوتا ہے۔ یہ چار حروف دراصل فعل کے شروع میں لگ کر یہ بتاتے ہیں کہ کام کرنے والا کون ہے، اس لیے انہیں پہچاننا فعل مضارع سیکھنے کی بنیاد ہے، اور جب تک یہ چاروں حروف اچھی طرح یاد نہ ہوں، طالب علم کسی بھی نئے مادّے سے صحیح مضارع بنانے میں دشواری محسوس کرے گا۔
فعل ماضی كَتَبَ (اس نے لکھا) میں تین اصلی حروف ک، ت، ب موجود ہیں، جن پر بالترتیب فتحہ، فتحہ اور فتحہ کی حرکات ہیں۔ فعل مضارع بناتے وقت پہلے اصلی حرف (ک) کو ساکن کردیا جاتا ہے اور اس سے پہلے مناسب حرفِ مضارعت لگا کر اسے متحرک بنایا جاتا ہے، جبکہ درمیانی حرف (ت) پر ایک نئی حرکت آتی ہے جو ہر فعل میں مختلف ہوسکتی ہے (ضمہ، فتحہ یا کسرہ) اور اسے لغت یا استاد سے سیکھنا پڑتا ہے — كَتَبَ کے مادّے میں یہ حرکت ضمہ ہے، اس لیے مضارع يَكْتُبُ بنتا ہے، جس میں تاء پر پیش ہے۔ آخری اصلی حرف (ب) پر عموماً فعل مضارع کے مرفوع ہونے کی علامت کے طور پر ضمہ آتا ہے، جب تک کوئی ناصب یا جازم حرف اس میں تبدیلی نہ کرے۔ اس طرح مضارع کی بنیادی ساخت یوں سمجھی جاسکتی ہے: حرفِ مضارعت + ساکن پہلا اصلی حرف + متحرک درمیانی حرف + آخری اصلی حرف بمعہ اعرابی علامت۔ یہی اصول دوسرے افعال جیسے فَتَحَ → يَفْتَحُ اور جَلَسَ → يَجْلِسُ پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے۔
فعل مضارع کی گردان بھی فعل ماضی کی طرح چودہ صیغوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ غائب کی چھ صورتیں: هُوَ يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے)، هُمَا يَكْتُبَانِ (وہ دونوں مرد لکھتے ہیں)، هُمْ يَكْتُبُونَ (وہ سب مرد لکھتے ہیں)، هِيَ تَكْتُبُ (وہ لکھتی ہے)، هُمَا تَكْتُبَانِ (وہ دونوں عورتیں لکھتی ہیں)، هُنَّ يَكْتُبْنَ (وہ سب عورتیں لکھتی ہیں)۔ حاضر کی چھ صورتیں: أَنْتَ تَكْتُبُ (تو لکھتا ہے)، أَنْتُمَا تَكْتُبَانِ (تم دونوں مرد لکھتے ہو)، أَنْتُمْ تَكْتُبُونَ (تم سب مرد لکھتے ہو)، أَنْتِ تَكْتُبِينَ (تو لکھتی ہے)، أَنْتُمَا تَكْتُبَانِ (تم دونوں عورتیں لکھتی ہو)، أَنْتُنَّ تَكْتُبْنَ (تم سب عورتیں لکھتی ہو)۔ اور متکلم کی دو صورتیں: أَنَا أَكْتُبُ (میں لکھتا ہوں)، نَحْنُ نَكْتُبُ (ہم لکھتے ہیں) ۔ اس گردان میں یاد رہے کہ تثنیہ کا صیغہ (يَكْتُبَانِ یا تَكْتُبَانِ) آخر میں الف نون سے، جمع مذکر سالم کا صیغہ (يَكْتُبُونَ) واو نون سے، جمع مؤنث کا صیغہ (يَكْتُبْنَ) نون کے ساکن ہونے سے، اور مؤنث حاضر واحد (تَكْتُبِينَ) یاء کے اضافے سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ چودہ صیغے دراصل چھ اصناف — واحد، تثنیہ، جمع، ہر ایک مذکر و مؤنث — اور تین اشخاص — غائب، حاضر، متکلم — کے امتزاج سے بنتے ہیں، اور اسی ترتیب سے فعل ماضی کی گردان بھی یاد کی گئی تھی، اس لیے دونوں گردانوں کا موازنہ کرنے سے یاد رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔
فعل مضارع کے ذریعے بیان ہونے والے حال کے کام کی نفی کرنے کے لیے حرفِ نفی لَا کو فعل مضارع سے عین پہلے لگایا جاتا ہے۔ لَا کا استعمال نہایت سادہ ہے کیونکہ یہ فعل کے اعراب پر کوئی اثر نہیں ڈالتا — فعل اپنی اصل مرفوع حالت میں، یعنی آخری حرف پر ضمہ کے ساتھ، جوں کا توں باقی رہتا ہے۔ مثلاً لَا يَكْتُبُ (وہ نہیں لکھتا) میں يَكْتُبُ کا آخری حرف اسی طرح مرفوع ہے جیسے مثبت جملے يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے) میں تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ لَا کے اضافے سے پورے جملے کا معنی نفی میں بدل گیا۔ اسی طرح
اور
جیسی مثالوں میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ چونکہ لَا کے استعمال میں فعل کی بنیادی گردان تبدیل نہیں ہوتی، اس لیے طالب علم کے لیے یہ نفی کا سب سے آسان اور ابتدائی طریقہ ہے، اور ہر مثبت مضارع جملے کو محض لَا کے اضافے سے فوراً منفی بنایا جاسکتا ہے، بغیر اس کے کہ فاعل، مفعول یا فعل کی حرکات میں کوئی اور رد و بدل کرنا پڑے۔
فعل ماضی کے ذریعے بیان ہونے والے گزرے ہوئے کام کی نفی کرنے کے لیے حرفِ نفی مَا کو فعل ماضی سے پہلے لگایا جاتا ہے۔ چونکہ فعل ماضی اصلاً مبنی ہوتا ہے، یعنی اس کی آخری حرکت کسی عامل کے زیرِ اثر تبدیل نہیں ہوتی، اس لیے مَا کے آنے سے بھی فعل کی بنا میں کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ بالکل اسی طرح رہتا ہے جیسے مثبت جملے میں تھا۔ مثال کے طور پر مَا كَتَبَ کا مطلب ہے 'اس نے نہیں لکھا'، جبکہ مثبت جملہ كَتَبَ (اس نے لکھا) تھا — دیکھیں کہ كَتَبَ کی صورت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، صرف پہلے مَا کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح
اور
میں بھی یہی طریقہ اپنایا گیا ہے۔ اس طرح لَا اور مَا دونوں سادہ حروفِ نفی ہیں جو بالترتیب فعل مضارع اور فعل ماضی کے ساتھ خاص ہیں اور دونوں فعل کی بنیادی ساخت کو متاثر کیے بغیر محض جملے کا معنی مثبت سے منفی میں بدل دیتے ہیں۔
لَا اور مَا دونوں نفی کے حروف ہیں، مگر ان کا اطلاق مختلف زمانوں پر ہوتا ہے۔ لَا فعل مضارع کے ساتھ آکر حال (اور بعض اوقات عمومی حقیقت) کی نفی کرتا ہے، جبکہ مَا فعل ماضی کے ساتھ آکر گزرے ہوئے کام کی نفی کرتا ہے۔ دونوں کی مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والے فعل کے اعراب یا بنا میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، برخلاف بعض دیگر حروفِ نفی کے جن کا مطالعہ آئندہ اسباق میں کیا جائے گا۔ اب جملے
کا تجزیہ کریں: الطَّالِبُ مبتدأ ہے اور مرفوع ہے (پیش کے ساتھ)۔ لَا حرفِ نفی ہے جس کا کوئی محلِ اعراب نہیں۔ يَكْتُبُ فعل مضارع مرفوع ہے، اس کے فاعل کی ضمیر مستتر (چھپی ہوئی) ہُوَ اسی فعل میں شامل ہے جو الطَّالِبُ کی طرف لوٹتی ہے۔ الدَّرْسَ مفعول بہ ہے اور منصوب ہے (زبر کے ساتھ)۔ پورا جملہ يَكْتُبُ الدَّرْسَ مل کر خبرِ مبتدأ کے طور پر آیا ہے۔ اس تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ نفی کا اضافہ جملے کی بنیادی نحوی ساخت کو متاثر نہیں کرتا، صرف معنی کو منفی بنا دیتا ہے۔