نواسخِ جملہ: حروفِ مشبہ بالفعل
نواسخِ جملہ وہ کلمات ہیں جو جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر مبتدا و خبر کا اعراب بدل دیتے ہیں۔ اس سبق میں ان کی پہلی قسم، حروفِ مشبہ بالفعل إِنَّ، أَنَّ، كَأَنَّ، لَيْتَ، لَعَلَّ اور لٰكِنَّ کا عمل، معانی، إِنَّ و أَنَّ کا فرق اور ان کی خبر کی صورتیں بیان ہوئی ہیں۔
1نواسخِ جملہ
نواسخِ جملہ کی بحث نحو کی کتابوں میں پڑھی ہوگی۔ یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں اور مبتدا و خبر کا اعراب بدل دیتے ہیں، اس لیے انہیں نواسخِ جملہ (جملہ کے حکم کو بدلنے والے) کہتے ہیں۔ ان کے داخل ہونے کے بعد مبتدا کا نام اسم ہو جاتا ہے۔
- (1) حروفِ مشبہ بالفعل
- (2) افعالِ ناقصہ
- (3) مَا و لَا المشبہتان بلیس
- (4) لائے نفی جنس
یہاں پہلی قسم کا بیان ہے؛ باقی اگلے اسباق میں آئیں گی۔
2حروفِ مشبہ بالفعل اور ان کا عمل
یہ چھ ہیں: إِنَّ، أَنَّ، كَأَنَّ، لَيْتَ، لَعَلَّ، لٰكِنَّ۔ یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اپنے اسم (مبتدا) کو نصب دیتے ہیں اور خبر اپنے حال پر مرفوع رہتی ہے۔ انہیں مشبہ بالفعل اس لیے کہتے ہیں کہ فعل کی طرح یہ بھی ایک اسم کو نصب اور دوسرے کو رفع دیتے ہیں۔
3معانی
| حرف | معنی | مثال |
|---|---|---|
| إِنَّ، أَنَّ | تاکید و تحقیق (بے شک، کہ) | إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ |
| كَأَنَّ | تشبیہ (گویا کہ) | كَأَنَّ مَحْمُودًا أَسَدٌ گویا محمود شیر ہے |
| لَيْتَ | تمنا (کاش) — ناممکن بات کی بھی | لَيْتَ الشَّبَابَ عَائِدٌ |
| لَعَلَّ | امید (شاید) — ممکن بات کی | لَعَلَّ الْقِطَارَ مُتَأَخِّرٌ |
| لٰكِنَّ | استدراک (لیکن) | الرَّجُلُ بَخِيلٌ وَلٰكِنَّ ابْنَهُ جَوَادٌ |
لَيْتَ اور لَعَلَّ دونوں تمنا و آرزو کے لیے آتے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ لَيْتَ سے امرِ محال کی بھی تمنا کی جاتی ہے اور لَعَلَّ سے امرِ ممکن کی۔ لٰكِنَّ استدراک کے لیے آتا ہے، یعنی سابقہ کلام سے جو شبہ یا وہم پیدا ہو اسے دور کرنے کے لیے۔
4إِنَّ اور أَنَّ میں فرق
أَنَّ اپنے معمول سمیت مصدر کے معنی میں مؤول ہوتا ہے اور دوسرے جملے کا جزو بن جاتا ہے: عَلِمْتُ أَنَّكَ ذَاهِبٌ یعنی عَلِمْتُ ذَهَابَكَ۔ إِنَّ مصدر کے معنی میں مؤول نہیں ہوتا، نہ کسی دوسرے جملے کا جزو بنتا ہے، بلکہ مستقل جملے پر آتا ہے: إِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔
- إِنَّ کو ان صورتوں میں مکسور لکھنا اور پڑھنا چاہیے: (1) شروعِ کلام میں: إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ۔
- (2) قول اور اس کے مشتقات کے بعد: قُلْ إِنَّ الْحَقَّ وَاضِحٌ۔
- (3) صلہ کے شروع میں: زُرْتُ الَّذِي إِنِّي أُجِلُّهُ؛ جَاءَ الَّذِينَ إِنَّ مَجِيئَهُمْ يَسُرُّنِي۔
- أَنَّ وسطِ کلام میں آتا ہے، خصوصاً حروفِ جارہ کے بعد: أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللّٰهَ يَرٰى۔
مصادر و تمارین
- اشرف الانشاء شرح اردو معلم الانشاء (جلد اول)، الدرس العشرون، ص 183–189
- التمرین (115)–(116): خبر مفرد
- التمرین (117)–(118): خبر جملہ
درس 20 کے مطابق نواسخِ جملہ وہ کلمات ہیں جو جملہ اسمیہ یعنی مبتدا و خبر پر داخل ہوتے ہیں اور ان کا اعراب بدل دیتے ہیں؛ چونکہ یہ جملے کے سابقہ حکم کو منسوخ کر دیتے ہیں، اس لیے انہیں نواسخِ جملہ کہتے ہیں۔ ان کے داخل ہونے کے بعد مبتدا کا نام "اسم" ہو جاتا ہے، اور خبر کا نام خبر ہی رہتا ہے۔ نواسخ چار طرح کے ہیں: (1) حروفِ مشبہ بالفعل، (2) افعالِ ناقصہ، (3) مَا و لَا المشبہتان بلیس، اور (4) لائے نفی جنس۔ اس درس میں پہلی قسم کا بیان ہے اور باقی قسمیں اگلے اسباق (21 تا 23) میں آئیں گی۔
حروفِ مشبہ بالفعل چھ ہیں: إِنَّ، أَنَّ، كَأَنَّ، لَيْتَ، لَعَلَّ اور لٰكِنَّ۔ یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اپنے اسم یعنی مبتدا کو نصب دیتے ہیں، جبکہ خبر اپنے حال پر مرفوع ہی باقی رہتی ہے۔ مثلاً زَيْدٌ قَائِمٌ پر إِنَّ داخل کیا تو إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ ہو گیا۔ انہیں مشبہ بالفعل اس لیے کہتے ہیں کہ یہ عمل میں فعل کے مشابہ ہیں: جس طرح فعل ایک اسم (مفعول) کو نصب اور دوسرے (فاعل) کو رفع دیتا ہے، اسی طرح یہ بھی ایک اسم کو نصب اور دوسرے کو رفع دیتے ہیں۔ نیز ان کے آخر میں فعل ماضی کی طرح فتحہ ہے۔
إِنَّ اور أَنَّ دونوں جملے میں تاکید و تحقیق کا معنی پیدا کرتے ہیں؛ ان کا ترجمہ "بے شک، یقیناً" اور أَنَّ کا "کہ" سے کیا جاتا ہے۔ جیسے إِنَّ زَيْدًا قَائِمٌ یعنی بے شک زید کھڑا ہے، اور سَرَّنِي أَنَّ النَّتِيجَةَ حَسَنَةٌ یعنی مجھے خوشی ہوئی کہ نتیجہ اچھا ہے۔ كَأَنَّ تشبیہ کا معنی دیتا ہے اور اس کا ترجمہ "گویا کہ" سے ہوتا ہے، جیسے كَأَنَّ مَحْمُودًا أَسَدٌ یعنی گویا محمود شیر ہے، اور التمرین (115) میں كَأَنَّ الشَّمْسَ قُرْصٌ مِنَ الذَّهَبِ یعنی سورج گویا سونے کی ٹکیہ ہے۔ ان سب کا اسم منصوب اور خبر مرفوع ہے۔
لَيْتَ اور لَعَلَّ دونوں تمنا و آرزو کے لیے آتے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ لَيْتَ (کاش) سے ناممکن اور محال بات کی بھی تمنا کی جاتی ہے، جیسے لَيْتَ الْحَيَاةَ خَالِيَةٌ مِنَ الْكَدَرِ یعنی کاش زندگی پریشانیوں سے خالی ہوتی؛ جبکہ لَعَلَّ (شاید) سے ممکن بات کی امید کی جاتی ہے، جیسے لَعَلَّ الْقِطَارَ مُتَأَخِّرٌ یعنی شاید گاڑی لیٹ ہے۔ لٰكِنَّ استدراک کے لیے آتا ہے، یعنی سابقہ کلام سے جو وہم پیدا ہو اسے دور کرنے کے لیے، جیسے الرَّجُلُ بَخِيلٌ وَلٰكِنَّ ابْنَهُ جَوَادٌ؛ یہاں یہ وہم ہو سکتا تھا کہ بیٹا بھی بخیل ہوگا، لٰكِنَّ نے اسے دور کر دیا۔
کتاب کے مطابق أَنَّ اپنے اسم و خبر سمیت مصدر کے معنی میں مؤول ہوتا ہے، اور اس طرح وہ دوسرے جملے کا جزو (فاعل، مفعول، مجرور وغیرہ) بن جاتا ہے۔ مثال: عَلِمْتُ أَنَّكَ ذَاهِبٌ کا مطلب ہے عَلِمْتُ ذَهَابَكَ یعنی میں نے تیرا جانا معلوم کر لیا؛ یہاں أَنَّكَ ذَاهِبٌ عَلِمْتُ کا مفعول بن گیا۔ اس کے برعکس إِنَّ مصدر کے معنی میں مؤول نہیں ہوتا، نہ کسی دوسرے جملے کا جزو بنتا ہے، بلکہ ایک مستقل جملے پر آتا ہے، جیسے إِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ اسی لیے إِنَّ عموماً شروعِ کلام میں اور أَنَّ وسطِ کلام میں آتا ہے۔
کتاب نے تین صورتیں بتائی ہیں جن میں إِنَّ بالکسر ہی لکھنا اور پڑھنا چاہیے: (1) جب وہ شروعِ کلام میں ہو، جیسے إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ۔ (2) جب قول اور اس کے مشتقات کے بعد آئے، جیسے قُلْ إِنَّ الْحَقَّ وَاضِحٌ۔ (3) جب صلہ کے شروع میں ہو، جیسے زُرْتُ الَّذِي إِنِّي أُجِلُّهُ اور جَاءَ الَّذِينَ إِنَّ مَجِيئَهُمْ يَسُرُّنِي۔ ان کے علاوہ أَنَّ بالفتح وسطِ کلام میں آتا ہے، اور قول و صلہ کی باقی صورتوں میں بھی أَنَّ ہی پڑھا جاتا ہے، خصوصاً حروفِ جارہ کے بعد، جیسے أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللّٰهَ يَرٰى۔
کتاب کے فائدہ کے مطابق جس طرح جملہ اسمیہ کی خبر مفرد، جملہ اور شبہ جملہ آتی ہے، اسی طرح نواسخ کی خبر بھی تینوں طرح آتی ہے۔ التمرین (115) اور (116) میں خبر مفرد ہے، جیسے إِنَّ الْمُجِدِّينَ فَائِزُونَ۔ التمرین (117) اور (118) میں خبر جملہ ہے، جیسے إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ، إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ اور إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ۔ ان میں خبر والا فعل اسم کے مطابق آیا ہے اور اس کی ضمیر اسم کی طرف لوٹتی ہے۔ شبہ جملہ کی مثال: إِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ میں عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ متعلق ہے۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: میں نے بارہا دیکھا کہ آدمی کا عیاشی میں غرق ہو جانا اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ یہاں أَنَّ وسطِ کلام میں وَجَدْتُ کے بعد آیا ہے، اور اپنے اسم انْغِمَاسَ اور خبر يَضُرُّهُ سمیت مصدر کی تاویل میں ہو کر وَجَدْتُ کا مفعول ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: میرا خیال ہے کہ اخبار فروش بہت ہو گئے ہیں۔ یہاں أَنَّ کا اسم بَائِعِي منصوب ہے؛ یہ جمع مذکر سالم ہے جس کا نون اضافت کی وجہ سے گرا، اور نصب کی حالت میں یاء آئی۔ خبر قَدْ كَثُرُوا جملہ فعلیہ ہے۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: الْأَصْدِقَاءُ كَثِيرُونَ لٰكِنَّ الْأَوْفِيَاءَ قَلِيلُونَ۔ یہاں پہلا حصہ عام جملہ اسمیہ ہے جس میں مبتدا و خبر دونوں مرفوع ہیں؛ دوسرے حصے میں لٰكِنَّ استدراک کے لیے آیا، جس نے یہ وہم دور کیا کہ سب دوست وفادار ہوں گے۔ اس کا اسم الْأَوْفِيَاءَ منصوب اور خبر قَلِيلُونَ مرفوع ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: لَيْتَكُمْ تَلَامِيذُ مُجْتَهِدُونَ۔ یہاں لَيْتَ کا اسم ضمیر كُمْ ہے، جو محلاً منصوب ہے، اور تَلَامِيذُ مُجْتَهِدُونَ خبر مرفوع ہے۔ لَيْتَ کے ساتھ ضمیر متصل آتی ہے، منفصل نہیں۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: أَنْتُمَا ذَكِيَّانِ لٰكِنَّكُمَا لَا تَجْتَهِدَانِ فِي الْقِرَاءَةِ۔ یہاں لٰكِنَّ کا اسم ضمیر كُمَا ہے، اور خبر جملہ فعلیہ منفی لَا تَجْتَهِدَانِ ہے جو تثنیہ حاضر کے مطابق آیا۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: إِنَّ مَنَارَتَيْ هٰذَا الْمَسْجِدِ عَالِيَتَانِ جِدًّا كَأَنَّهُمَا تُنَاجِيَانِ السَّمَاءَ۔ یہاں إِنَّ کا اسم مَنَارَتَيْ تثنیہ منصوب ہے، جس کا نون اضافت کی وجہ سے گرا ہے، اور خبر عَالِيَتَانِ مرفوع ہے۔ كَأَنَّ کا اسم ضمیر هُمَا ہے اور خبر تُنَاجِيَانِ جملہ فعلیہ ہے، جو تثنیہ مؤنث کے مطابق آیا۔
التمرین (115)
حروف مشبہ بالفعل (خبر مفرد) — اردو ترجمہ
اسم منصوب، خبر مرفوع۔
1إِنَّ الرِّيحَ شَدِيدَةٌحل دیکھیں ▾
2إِنَّ الْهَوَاءَ الطَّلْقَ مُفِيدٌحل دیکھیں ▾
3كَأَنَّ الشَّمْسَ قُرْصٌ مِنَ الذَّهَبِحل دیکھیں ▾
4إِنَّ الْمُجِدِّينَ فَائِزُونَحل دیکھیں ▾
5لَعَلَّ الْعُمَّالَ مُتْعَبُونَحل دیکھیں ▾
6لَيْتَ الْحَيَاةَ خَالِيَةٌ مِنَ الْكَدَرِحل دیکھیں ▾
7إِنَّ الْبَخِيلَ عَدُوٌّ لِنَفْسِهِحل دیکھیں ▾
8سَرَّنِي أَنَّ النَّتِيجَةَ حَسَنَةٌحل دیکھیں ▾
9الرَّجُلُ بَخِيلٌ وَلٰكِنَّ ابْنَهُ جَوَادٌحل دیکھیں ▾
10لَيْتَ النَّاسَ مُنْصِفُونَحل دیکھیں ▾
11لَعَلَّ الْقِطَارَ مُتَأَخِّرٌحل دیکھیں ▾
12إِنَّ الْفَتَيَاتِ مُهَذَّبَاتٌحل دیکھیں ▾
التمرین (116)
حروف مشبہ بالفعل (خبر مفرد) — عربی ترجمہ
معنی کے مطابق حرف منتخب کریں۔
1بے شک محمود محنتی طالب علم ہےحل دیکھیں ▾
2واقعی یہ محل بڑا شاندار ہےحل دیکھیں ▾
3یہ شہر خوبصورت ہے لیکن اس کی سڑکیں تنگ ہیںحل دیکھیں ▾
4مجھے خوشی ہوئی کہ خالد کامیاب ہےحل دیکھیں ▾
5کاش سب طلبہ کامیاب ہوتےحل دیکھیں ▾
6گویا یہ محل ایک بلند پہاڑ ہےحل دیکھیں ▾
7گویا اساتذہ مہربان باپ ہیںحل دیکھیں ▾
8محمود گرفتار ہے مگر وہ بے گناہ ہےحل دیکھیں ▾
9دوست بہت ہیں پر وفادار تھوڑےحل دیکھیں ▾
10یہ لوگ نیت میں مخلص ہیں لیکن غلطی پر ہیںحل دیکھیں ▾
11کاش تم لوگ محنتی طالب علم ہوتےحل دیکھیں ▾
12شاید یہ لوگ سیاح ہیںحل دیکھیں ▾
13اس حوض کا پانی گویا صاف آئینہ ہےحل دیکھیں ▾
14گویا ستارے روشن چراغ ہیںحل دیکھیں ▾
التمرین (117)
حروف مشبہ بالفعل (خبر جملہ) — اردو ترجمہ
خبر جملہ؛ اس کی ضمیر اسم کی طرف لوٹتی ہے۔
1إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِحل دیکھیں ▾
2إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِحل دیکھیں ▾
3إِنَّ السَّفِينَةَ لَا تَجْرِي عَلَى الْيَبَسِحل دیکھیں ▾
4لَعَلَّ اللّٰهَ يَرْزُقُنِي صَلَاحًاحل دیکھیں ▾
5لَيْتَكُمْ تَجْتَهِدُونَ قَبْلَ الِامْتِحَانِحل دیکھیں ▾
6كَأَنَّ أُذُنَيِ الْفِيلِ مِرْوَحَتَانِحل دیکھیں ▾
7إِنَّ الْجَاهِلَ يُسِيءُ إِلٰى نَفْسِهِحل دیکھیں ▾
8إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِحل دیکھیں ▾
9إِنَّ الْأُمَّهَاتِ يُهَذِّبْنَ الْبَنَاتِحل دیکھیں ▾
10وَجَدْتُ أَنَّ انْغِمَاسَ الْمَرْءِ فِي التَّرَفِ يَضُرُّهُحل دیکھیں ▾
11أَرٰى أَنَّ بَائِعِي الصُّحُفِ قَدْ كَثُرُواحل دیکھیں ▾
12إِنَّ الْأَغْنِيَاءَ كَثِيرُونَ وَلٰكِنَّهُمْ لَا يُوَاسُونَ الْفُقَرَاءَحل دیکھیں ▾
التمرین (118)
حروف مشبہ بالفعل (خبر جملہ) — عربی ترجمہ
اسم ضمیر ہو تو متصل آتی ہے۔
1بے شک ورزش جسم کو مضبوط کرتی ہےحل دیکھیں ▾
2بے شک محمود اچھی تقریر کرتا ہےحل دیکھیں ▾
3کاش تم میری نصیحت پر عمل کرتےحل دیکھیں ▾
4تم دونوں ذہین ہو لیکن پڑھنے میں محنت نہیں کرتےحل دیکھیں ▾
5میں جانتا تھا کہ یہ طلبہ امتحان میں فیل ہوں گےحل دیکھیں ▾
6شاید یہ لوگ اب پڑھنے میں محنت کر رہے ہیںحل دیکھیں ▾
7لوگ دنیا کی زندگی میں ڈوبے ہیں گویا وہ کبھی نہیں مریں گےحل دیکھیں ▾
8بخیل گمان کرتا ہے کہ مال ہمیشہ رہنے والا ہےحل دیکھیں ▾
9کاش ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر کرتےحل دیکھیں ▾
10اسلام ہی سچا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتےحل دیکھیں ▾
11کاش مسلمان اسلام کے احکام پر عمل کرتےحل دیکھیں ▾
12اس مسجد کے دونوں مینار بہت بلند ہیں، گویا آسمان سے سرگوشی کر رہے ہیںحل دیکھیں ▾
معنی کے مطابق حرف
اردو معنی کے مطابق درست حرف منتخب کریں
1"بے شک" — شروعِ کلام میں تاکیدحل دیکھیں ▾
2"مجھے خوشی ہوئی کہ …"حل دیکھیں ▾
3"گویا کہ سورج سونے کی ٹکیہ ہے"حل دیکھیں ▾
4"کاش جوانی لوٹ آتی"حل دیکھیں ▾
5"شاید گاڑی لیٹ ہے"حل دیکھیں ▾
6"دوست بہت ہیں لیکن وفادار کم"حل دیکھیں ▾
7"کہہ دو کہ حق واضح ہے" (قول کے بعد)حل دیکھیں ▾
8"کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے" (بـ کے بعد)حل دیکھیں ▾
اعراب پہچانیں
درست اعراب والا جملہ منتخب کریں
اسم منصوب، خبر مرفوع۔