اسم موصول، صلہ اور عائد
اسم موصول وہ مبہم اسم ہے جس کا مقصود ایک دوسرے جملے (صلہ) سے واضح ہوتا ہے، اور صلہ میں ایک ضمیر (عائد) اسم موصول کی طرف لوٹتی ہے۔ اس سبق میں اسمائے موصولہ کے صیغے، مَنْ، مَا اور أَيٌّ کا استعمال، عائد کی مطابقت اور نکرہ کی صفت میں اسم موصول لانے کی عام غلطی بیان ہوئی ہے۔
1اسمائے موصولہ
اسم اشارہ کی طرح اسم موصول کے بھی چھ صیغے ہیں:
| واحد | تثنیہ | جمع | |
|---|---|---|---|
| مذکر | الَّذِي | اللَّذَانِ / اللَّذَيْنِ | الَّذِينَ |
| مؤنث | الَّتِي | اللَّتَانِ / اللَّتَيْنِ | اللَّاتِي |
ان کے علاوہ مَنْ، مَا اور أَيٌّ بھی اسم موصول ہیں۔ مَنْ عاقل کے لیے اور مَا غیر عاقل کے لیے آتا ہے، اور یہ مطلقاً یعنی واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتے ہیں؛ اسی طرح أَيٌّ بھی۔
2صلہ
ان کلمات کا ترجمہ "جو، جس، جو شخص، جس چیز" وغیرہ سے ہوتا ہے، جس سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کون یا کیا چیز مراد ہے۔ اس لیے اسم موصول کے بعد ایک دوسرا جملہ لایا جاتا ہے جو مقصود کو واضح کرتا ہے؛ اس دوسرے جملے کا نام صلہ ہے۔
3عائد اور اس کی مطابقت
صلہ میں ایک ضمیر ہوتی ہے جو اسم موصول کی طرف لوٹتی ہے؛ اس ضمیر کو عائد (لوٹنے والی) کہتے ہیں۔ عائد اپنے اسم موصول کی مناسبت سے واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث کی مختلف شکلوں میں بدلتا رہتا ہے:
4فائدہ
- (1) مَنْ، مَا اور أَيٌّ کا استعمال مبتدا، فاعل یا مفعول تینوں طرح ہوتا ہے، اور اسی طرح الَّذِي وغیرہ کا بھی؛ البتہ الَّذِي، اللَّذَانِ وغیرہ صفت کے طور پر زیادہ مستعمل ہیں۔
- (2) اسمائے موصولہ، جیسا کہ درس 2 میں پڑھا، معرفہ ہوتے ہیں؛ اس لیے اسم موصول اسی لفظ کی صفت بنے گا جو معرفہ ہو، تاکہ موصوف و صفت میں مطابقت رہے۔ اس کی پوری مشق کتاب کے دوسرے حصے میں آئے گی۔
مصادر و تمارین
- اشرف الانشاء شرح اردو معلم الانشاء (جلد اول)، الدرس التاسع عشر، ص 178–182
- التمرین (113): اردو ترجمہ
- التمرین (114): عربی ترجمہ
اسم موصول وہ اسم ہے جس کا معنی "جو، جس، جو شخص، جس چیز" وغیرہ ہو، مگر خود اس سے یہ واضح نہ ہو کہ کون یا کیا چیز مراد ہے؛ اس کا مقصود بعد والے جملے سے واضح ہوتا ہے۔ کتاب کے مطابق اسم اشارہ کی طرح اسم موصول کے بھی چھ صیغے ہیں: الَّذِي، اللَّذَانِ، الَّذِينَ، الَّتِي، اللَّتَانِ اور اللَّاتِي۔ ان کے علاوہ مَنْ، مَا اور أَيٌّ بھی اسم موصول ہیں۔ مَنْ عاقل کے لیے اور مَا غیر عاقل کے لیے آتا ہے، اور یہ دونوں واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے ایک ہی صورت میں استعمال ہوتے ہیں؛ اسی طرح أَيٌّ بھی۔
اسم موصول کا ترجمہ "جو، جس، جو شخص، جس چیز" وغیرہ سے ہوتا ہے، اور ان الفاظ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کون شخص یا کون سی چیز مراد ہے۔ اس ابہام کو دور کرنے کے لیے اسم موصول کے بعد ایک دوسرا جملہ لایا جاتا ہے جو مقصود کو واضح کر دیتا ہے؛ اسی جملے کو صلہ کہتے ہیں۔ مثلاً هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ میں الَّذِي اسم موصول ہے، اور خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ صلہ ہے جس نے بتایا کہ مراد وہ ذات ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ اسم موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر ہی جملے کا ایک جزو (مبتدا، فاعل، مفعول یا صفت) بنتا ہے۔
صلہ میں ایک ضمیر ہوتی ہے جو اسم موصول کی طرف لوٹتی ہے؛ اسے عائد یعنی لوٹنے والی ضمیر کہتے ہیں۔ یہی ضمیر صلہ کو اسم موصول سے جوڑتی ہے۔ عائد اپنے اسم موصول کی مناسبت سے واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث میں بدلتا رہتا ہے۔ کتاب کی مثالیں: أُحِبُّ الَّذِي يَصْدُقُ، أُحِبُّ اللَّذَيْنِ يَصْدُقَانِ، أُحِبُّ الَّذِينَ يَصْدُقُونَ؛ اور مؤنث میں أُحِبُّ الَّتِي تَصْدُقُ، أُحِبُّ اللَّتَيْنِ تَصْدُقَانِ، أُحِبُّ اللَّاتِي يَصْدُقْنَ۔ ان میں فعل کے اندر کی ضمیر عائد ہے، اور اسی کی مناسبت سے فعل بدلتا گیا ہے۔
تثنیہ کے اسمائے موصولہ معرب ہیں، یعنی ان کی آخری صورت اعراب کے ساتھ بدلتی ہے۔ حالتِ رفع میں اللَّذَانِ اور اللَّتَانِ آتے ہیں، جبکہ حالتِ نصب و جر میں اللَّذَيْنِ اور اللَّتَيْنِ۔ أُحِبُّ اللَّذَيْنِ يَصْدُقَانِ میں اسم موصول أُحِبُّ کا مفعول ہے، اس لیے منصوب ہو کر یاء کے ساتھ آیا۔ اس کے برعکس التمرین (113) کے جملے الضَّيْفَانِ اللَّذَانِ كَانَا عِنْدَنَا سَافَرَا میں اسم موصول مرفوع الضَّيْفَانِ کی صفت ہے، اس لیے الف کے ساتھ اللَّذَانِ آیا۔ باقی اسمائے موصولہ مبنی ہیں اور ہر حالت میں ایک ہی رہتے ہیں۔
کتاب کے فائدہ (1) کے مطابق مَنْ، مَا اور أَيٌّ کا استعمال مبتدا، فاعل اور مفعول تینوں طرح ہوتا ہے، اور اسی طرح الَّذِي وغیرہ بھی ان تینوں حیثیتوں سے آتے ہیں؛ البتہ الَّذِي، اللَّذَانِ وغیرہ صفت کے طور پر زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ مثالیں: مبتدا: مَنْ حَفَرَ حَفِيرًا لِأَخِيهِ كَانَ حَتْفُهُ فِيهِ؛ فاعل: يَرْضَى اللّٰهُ عَنِ الَّذِينَ يُطِيعُونَ أَمْرَهُ میں مجرور؛ مفعول: لَا تُحَاوِلْ تَأْدِيبَ مَنْ لَا يَتَأَدَّبُ میں مضاف الیہ؛ اور صفت: الْأَسَاتِذَةُ الَّذِينَ عَلَّمُونِي، جہاں الَّذِينَ نے الْأَسَاتِذَةُ کی صفت بن کر اسے متعین کیا۔
کتاب کے فائدہ (2) کے مطابق اسمائے موصولہ، جیسا کہ درس 2 میں پڑھا گیا، معرفہ ہوتے ہیں۔ درس 4 میں یہ قاعدہ گزر چکا ہے کہ صفت تعریف و تنکیر میں اپنے موصوف کے مطابق ہوتی ہے۔ اس لیے اسم موصول صرف اسی لفظ کی صفت بن سکتا ہے جو معرفہ ہو۔ کتاب بتاتی ہے کہ طلبہ اس میں اکثر غلطی کرتے ہیں اور نکرہ کی صفت اسم موصول سے لے آتے ہیں، جیسے جَاءَ رَجُلٌ الَّذِي كَانَ مُنْتَظِرًا؛ یہ غلط ہے، کیونکہ رَجُلٌ نکرہ ہے۔ صحیح جَاءَ الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ مُنْتَظِرًا ہے، یعنی وہ آدمی آیا جو انتظار کر رہا تھا۔ اس کی پوری مشق کتاب کے دوسرے حصے میں آئے گی۔
اس حدیث کا ترجمہ ہے: کامل مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اس میں الْمُسْلِمُ مبتدا ہے اور مَنْ اسم موصول ہو کر خبر ہے؛ مَنْ یہاں عاقل کے لیے آیا ہے۔ اس کا صلہ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ہے۔ صلہ میں لِسَانِهِ اور يَدِهِ کی ضمیر هِ عائد ہے جو مَنْ کی طرف لوٹتی ہے؛ چونکہ مَنْ کا لفظ واحد مذکر ہے، اس لیے عائد بھی واحد مذکر آیا۔ صلہ میں سَلِمَ کا فاعل اسم ظاہر الْمُسْلِمُونَ ہے، اس لیے فعل واحد رہا۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: ایسی بات کا وعدہ مت کر جس کے پورا کرنے پر تو قدرت نہیں رکھتا۔ یہاں مَا اسم موصول ہے جو غیر عاقل یعنی بات یا کام کے لیے آیا ہے، اور حرفِ جار بِ کی وجہ سے محلاً مجرور ہے۔ اس کا صلہ لَا تَقْدِرُ عَلٰى إِيفَائِهِ ہے، جس میں إِيفَائِهِ کی ضمیر عائد ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: اس چیز کو سیدھا کرنے کی کوشش مت کر جو سیدھی نہیں ہو سکتی۔ یہاں مَا مضاف الیہ ہے، اور صلہ لَا يَسْتَقِيمُ میں فعل کی پوشیدہ ضمیر هُوَ عائد ہے۔ دونوں جملے نہی کے ساتھ حکمت کی باتیں ہیں۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: الْوَلَدُ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الشَّارِعِ أَخِي۔ یہاں الْوَلَدُ معرفہ ہے، اس لیے اس کی صفت الَّذِي لائی گئی؛ الْوَلَدُ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الشَّارِعِ مل کر مبتدا ہے اور أَخِي خبر؛ صلہ میں يَجْرِي کی ضمیر عائد ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: ضَاعَ الْكِتَابُ الَّذِي أَعْطَيْتَنِي أَمْسِ۔ یہاں الْكِتَابُ فاعل ہے اور الَّذِي اس کی صفت۔ صلہ أَعْطَيْتَنِيهِ میں عائد مفعول کی ضمیر ہے جو کلام میں حذف کر دی گئی ہے؛ مفعول والی ضمیرِ عائد کا حذف عربی میں عام ہے۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: رِجَالُ الشُّرْطَةِ قَدْ قَبَضُوا عَلَى الَّذِينَ كَانُوا يُحَاوِلُونَ النَّقْبَ۔ یہاں الَّذِينَ حرفِ جار عَلٰى کے بعد آیا ہے؛ اس کا صلہ كَانُوا يُحَاوِلُونَ النَّقْبَ ماضی استمراری ہے، اور كَانُوا کی ضمیر جمع مذکر عائد ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ هُوَ الَّذِي كَانَ خَوَّضَ الْخَيْلَ فِي نَهْرِ دِجْلَةَ۔ یہاں الَّذِي اسم موصول ہو کر خبر ہے، اور هُوَ ضمیر فصل تاکید کے لیے ہے۔ صلہ ماضی بعید كَانَ خَوَّضَ ہے جس میں كَانَ کی ضمیر عائد ہے۔
التمرین (113)
اسم موصول — اردو ترجمہ
صلہ اور عائد پر غور کریں۔
1هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍحل دیکھیں ▾
2هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدٰى وَدِينِ الْحَقِّحل دیکھیں ▾
3الضَّيْفَانِ اللَّذَانِ كَانَا عِنْدَنَا سَافَرَاحل دیکھیں ▾
4الْأَسَاتِذَةُ الَّذِينَ عَلَّمُونِي أُجِلُّهُمْ وَأُحِبُّهُمْحل دیکھیں ▾
5هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَحل دیکھیں ▾
6الْأُمَّهَاتُ اللَّاتِي يُرَبِّينَ أَوْلَادَهُنَّ عَلَى الْفَضِيلَةِ هُنَّ خَيْرُ أُمَّهَاتٍحل دیکھیں ▾
7الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِحل دیکھیں ▾
8مَنْ حَفَرَ حَفِيرًا لِأَخِيهِ كَانَ حَتْفُهُ فِيهِحل دیکھیں ▾
9لَا تَعِدْ بِمَا لَا تَقْدِرُ عَلٰى إِيفَائِهِحل دیکھیں ▾
10لَا تُحَاوِلْ تَأْدِيبَ مَنْ لَا يَتَأَدَّبُحل دیکھیں ▾
11لَا تُحَاوِلْ تَقْوِيمَ مَا لَا يَسْتَقِيمُحل دیکھیں ▾
12سَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَحل دیکھیں ▾
التمرین (114)
اسم موصول — عربی ترجمہ
معرفہ موصوف کے بعد موصول؛ عائد مطابق۔
1جو لڑکا سڑک پر دوڑ رہا ہے میرا بھائی ہےحل دیکھیں ▾
2جو بیمار عورت کل یہاں آئی تھی آج فوت ہو گئیحل دیکھیں ▾
3کیا تم اس لڑکے کو پہچانتے ہو جس نے تمہیں سلام کیا تھا؟حل دیکھیں ▾
4کیا یہ وہی طالب علم ہے جس نے انعام پایا تھا؟حل دیکھیں ▾
5یہ وہی عمارت ہے جس میں میں دو سال پہلے رہتا تھاحل دیکھیں ▾
6جو کتاب تم نے کل مجھے دی تھی گم ہو گئیحل دیکھیں ▾
7جو بزرگوں کی نصیحت نہیں سنتا وہ خود کو نقصان پہنچاتا ہےحل دیکھیں ▾
8اس لڑکے کو بلاؤ جس کی یہ کاپی ہےحل دیکھیں ▾
9ان دونوں لڑکوں سے ملو جو آج آئے ہیںحل دیکھیں ▾
10اللہ ان لوگوں سے راضی ہوتا ہے جو اس کا حکم مانتے ہیںحل دیکھیں ▾
11پولیس والوں نے ان لوگوں کو گرفتار کر لیا جو نقب زنی کی کوشش میں تھےحل دیکھیں ▾
12یہ وہی گھڑی ہے جو میرے والد نے مجھے انعام میں دیحل دیکھیں ▾
13کیا یہ وہی دونوں ہیں جو ہم سے دہلی میں ملے تھے؟حل دیکھیں ▾
14سعد بن ابی وقاص وہی ہیں جنہوں نے دریائے دجلہ میں گھوڑے ڈال دیےحل دیکھیں ▾
درست اسم موصول
خالی جگہ کے لیے موزوں اسم موصول منتخب کریں
موصوف کے مطابق؛ رفع میں ـانِ، نصب و جر میں ـيْنِ۔