مرکب توصیفی اور اضافی؛ شہور ہجریہ و میلادیہ
مرکب توصیفی اور مرکب اضافی میں کیا فرق ہے، اور اسلامی و عیسوی مہینوں کے نام عربی میں کیسے لکھے جاتے ہیں؟
1تمہید
عربی زبان میں دو یا زیادہ الفاظ کا باہمی امتزاج جب ایک خاص معنوی وحدت پیدا کرے تو اسے مرکب کہا جاتا ہے۔ گزشتہ سبق میں مرکب ناقص کی تعیین زیرِ بحث آچکی ہے، اور اب اس سبق میں مرکب کی دو نہایت اہم اور کثیر الاستعمال قسموں، یعنی مرکب توصیفی اور مرکب اضافی، کا تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا۔ یہ دونوں مرکبات روزمرہ عربی گفتگو اور تحریر کی بنیاد ہیں، کیونکہ کوئی بھی جملہ کسی چیز کی صفت بیان کیے بغیر یا اس کی ملکیت و نسبت ظاہر کیے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ اسی سبق کے دوسرے حصے میں اسلامی اور عیسوی مہینوں کے نام بھی بیان کیے جائیں گے، جن میں سے کئی نام خود مرکب اضافی کی زندہ اور عملی مثالیں ہیں، اس لیے یہ دونوں موضوعات ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔
2مرکب توصیفی کی تعریف
مرکب توصیفی ایک ایسا مرکب ہے جو موصوف، یعنی وہ اسم جس کی صفت بیان کی جائے، اور صفت، یعنی وہ اسم جو موصوف کی کسی خوبی، رنگ، حالت یا کیفیت کو ظاہر کرے، کے ملاپ سے بنتا ہے۔ صفت ہمیشہ موصوف کے فوراً بعد آتی ہے اور اس کے ساتھ چار امور میں لازمی مطابقت رکھتی ہے: تذکیر و تانیث، یعنی دونوں مذکر ہوں یا دونوں مؤنث؛ عدد، یعنی افراد، تثنیہ اور جمع کی مطابقت؛ تعریف و تنکیر، یعنی دونوں معرفہ ہوں یا دونوں نکرہ؛ اور اعراب، یعنی دونوں مرفوع ہوں، دونوں منصوب ہوں یا دونوں مجرور ہوں۔ مثال کے طور پر قَلَمٌ جَمِيلٌ (ایک خوبصورت قلم) میں دونوں الفاظ مذکر، مفرد، نکرہ اور مرفوع ہیں، اس لیے یہ مرکب گرامری طور پر درست بنا ہے۔
3مرکب توصیفی کے مزید نمونے
معرفہ حالت میں مرکب توصیفی کی مثال الْمُعَلِّمُ النَّشِيطُ (وہ چست استاد) ہے، جس میں دونوں اجزاء پر ال داخل ہونے کی وجہ سے دونوں معرفہ ہوگئے ہیں۔ مؤنث موصوف پر بھی صفت میں علامتِ تانیث لازمی آئے گی، جیسے الْمَدْرَسَةُ الْجَدِيدَةُ (وہ نیا سکول)۔ تثنیہ اور جمع میں بھی صفت اپنے موصوف کے عدد کی مکمل پیروی کرتی ہے، جیسے الطَّالِبَانِ الْمُجْتَهِدَانِاور الطُّلَّابُ الْمُجْتَهِدُونَ ۔ ان چار امور میں سے کسی ایک میں بھی عدم مطابقت جملے کو گرامری طور پر غلط بنا دیتی ہے۔
4مرکب اضافی کی تعریف اور قواعد
مرکب اضافی دو اسموں کے درمیان ملکیت، نسبت یا تعلق کے رشتے سے بنتا ہے۔ پہلے اسم کو مضاف اور دوسرے کو مضاف الیہ کہا جاتا ہے۔ مضاف سے دو چیزیں لازمی طور پر گر جاتی ہیں: تنوین اور حرفِ تعریف ال، یعنی مضاف کبھی بھی منون نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس پر ال داخل ہوسکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں مضاف الیہ ہمیشہ مجرور، یعنی کسرہ کی حالت میں ہوتا ہے، خواہ وہ بذاتِ خود معرفہ ہو یا نکرہ۔ مثال: كِتَابُ الْمُعَلِّمِ (استاد کی کتاب) ، جس میں كِتَابُ مضاف ہے، بغیر تنوین اور بغیر ال کے، اور الْمُعَلِّمِ مضاف الیہ ہے، مجرور کی حالت میں۔
5مرکب اضافی میں تعریف و تنکیر کا اصول
مرکب اضافی کی تعریف و تنکیر کا فیصلہ ہمیشہ مضاف الیہ کی بنیاد پر ہوتا ہے، مضاف کی بنیاد پر ہرگز نہیں۔ اگر مضاف الیہ معرفہ ہو، جیسے بَابُ الْبَيْتِ (گھر کا دروازہ)، تو پورا مرکب معرفہ شمار ہوگا، چاہے مضاف بَابُ پر خود کوئی علامتِ تعریف موجود نہ ہو۔ اگر مضاف الیہ نکرہ ہو، جیسے بَابُ بَيْتٍ ، تو پورا مرکب نکرہ شمار ہوگا۔ اسی حساب سے بعد میں لگنے والی صفت کی تعریف و تنکیر بھی طے ہوتی ہے، جیسے
میں صفت الْجَدِيدُ معرفہ آئی۔
6توصیفی اور اضافی میں امتیاز
دونوں مرکبات میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مرکب توصیفی میں دوسرا لفظ پہلے کی کوئی صفت یا کیفیت بیان کرتا ہے، جبکہ مرکب اضافی میں دوسرا لفظ پہلے کی ملکیت یا نسبت ظاہر کرتا ہے۔ آسان امتحان یہ ہے کہ دونوں الفاظ کے درمیان 'کا/کی/کے' لگا کر معنی جانچا جائے: اگر معنی درست بنے تو مرکب اضافی، ورنہ توصیفی۔ مثلاً كِتَابُ الطَّالِبِمیں 'طالب علم کا کتاب' درست ہے، جبکہ كِتَابٌ جَدِيدٌ میں 'نئے کا کتاب' بے معنی ہے۔ مزید یہ کہ مضاف سے تنوین اور ال گرتے ہیں، جبکہ موصوف پر یہ برقرار رہ سکتے ہیں۔
7شہور ہجریہ (اسلامی مہینے)
اسلامی قمری سال کے بارہ مہینوں کی ترتیب یہ ہے: مُحَرَّمٌ (محرم)، صَفَرٌ (صفر)، رَبِيعٌ الْأَوَّلُ (ربیع الاول)، رَبِيعٌ الْآخِرُ (ربیع الآخر)، جُمَادَى الْأُولَى (جمادی الاولیٰ)، جُمَادَى الْآخِرَةُ (جمادی الآخرہ)، رَجَبٌ (رجب)، شَعْبَانُ (شعبان)، رَمَضَانُ (رمضان)، شَوَّالٌ (شوال)، ذُو الْقَعْدَةِ (ذوالقعدہ)، اور ذُو الْحِجَّةِ (ذوالحجہ) ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ رَبِيعٌ الْأَوَّلُ، جُمَادَى الْأُولَى اور ذُو الْحِجَّةِ جیسے نام بذاتِ خود مرکب اضافی کی عملی مثالیں ہیں، جیسے ذُو الْحِجَّةِ کا لفظی معنی 'حج والا مہینہ' ہے۔ جملے میں استعمال کی مثال:
، اور
۔
8شہور میلادیہ (عیسوی مہینے)
عیسوی سال کے بارہ مہینوں کے عربی نام بالعموم انگریزی الفاظ کی معرب شکل ہیں: يَنَايِرُ (جنوری)، فِبْرَايِرُ (فروری)، مَارِسُ (مارچ)، أَبْرِيلُ (اپریل)، مَايُو (مئی)، يُونِيُو (جون)، يُولِيُو (جولائی)، أَغُسْطُسُ (اگست)، سِبْتَمْبِرُ (ستمبر)، أُكْتُوبَرُ (اکتوبر)، نُوفِمْبِرُ (نومبر)، اور دِيسِمْبِرُ (دسمبر) ۔ ان ناموں کے جملوں میں استعمال کی مثال:
۔ چونکہ یہ الفاظ عجمی الاصل ہیں، اس لیے ان میں سے بیشتر کی ہجے بدلتی نہیں، اور روزمرہ استعمال میں انہیں بغیر کسی گرامری تبدیلی کے، بس درست تلفظ کے ساتھ یاد رکھنا ہی سب سے آسان طریقہ ہے۔
9خلاصہ
اس سبق سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مرکب توصیفی اور مرکب اضافی، اگرچہ بظاہر دو اسموں کے ملاپ کی ایک جیسی ساخت رکھتے ہیں، مگر معنوی اور نحوی اعتبار سے بالکل مختلف اصولوں پر کھڑے ہیں۔ صفت اپنے موصوف کی چار امور میں پوری طرح پیروی کرتی ہے، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتے ہوئے مضاف سے تنوین اور ال چھین لیتا ہے۔ ان دونوں مرکبات پر مکمل عبور کے بغیر روزمرہ کی سادہ عربی عبارت بھی درست لکھنا ممکن نہیں، اور شہور ہجریہ و میلادیہ کے نام اسی بنیادی مہارت کو عملی جامہ پہنانے کا بہترین اور دلچسپ ذریعہ ہیں۔
مصادر و مراجع
- معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 4
- النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
مرکب توصیفی وہ مرکب ہے جو ایک اسم، جسے موصوف کہا جاتا ہے، اور اس کی کسی صفت، حالت یا کیفیت کو بیان کرنے والے دوسرے اسم، جسے صفت کہتے ہیں، کے ملاپ سے بنتا ہے۔ صفت ہمیشہ موصوف کے فوراً بعد آتی ہے اور اس کے ساتھ چار امور میں لازمی مطابقت رکھتی ہے۔ پہلا امر تذکیر و تانیث ہے، یعنی موصوف مذکر ہو تو صفت بھی مذکر ہوگی، اور مؤنث ہو تو صفت بھی مؤنث ہوگی۔ دوسرا امر عدد ہے، یعنی مفرد، تثنیہ یا جمع کی مکمل مطابقت۔ تیسرا امر تعریف و تنکیر ہے، یعنی دونوں معرفہ ہوں یا دونوں نکرہ۔ چوتھا امر اعراب ہے، یعنی دونوں مرفوع، منصوب یا مجرور ہوں۔ مثال کے طور پر الْمُعَلِّمُ النَّشِيطُ (وہ چست استاد) میں دونوں الفاظ مذکر ہیں، مفرد ہیں، دونوں پر ال ہونے کی وجہ سے معرفہ ہیں، اور دونوں مرفوع ہیں۔ اگر ان چاروں امور میں سے کسی ایک میں بھی فرق آجائے تو پورا جملہ گرامری طور پر غلط ہوجائے گا، اسی لیے مرکب توصیفی بناتے وقت ان چاروں پہلوؤں پر بیک وقت نظر رکھنی نہایت ضروری ہے۔
مرکب اضافی دو اسموں کے درمیان ملکیت، نسبت یا تعلق کے رشتے سے بنتا ہے۔ پہلے اسم کو مضاف اور دوسرے کو مضاف الیہ کہا جاتا ہے۔ مضاف پر دو پابندیاں لازمی طور پر لاگو ہوتی ہیں: پہلی یہ کہ اس سے تنوین بالکل ختم ہوجاتی ہے، اور دوسری یہ کہ اس پر حرفِ تعریف ال کبھی داخل نہیں ہوسکتا، چاہے مضاف الیہ خود معرفہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں مضاف الیہ ہمیشہ مجرور، یعنی کسرہ یا اس کے قائم مقام علامت کی حالت میں رہتا ہے، اور یہ حالت خود مرکب کے اعراب سے بالکل آزاد ہے۔ مثال کے طور پر كِتَابُ الْمُعَلِّمِ (استاد کی کتاب) میں كِتَابُ مضاف ہے، بغیر تنوین اور بغیر ال کے، جبکہ الْمُعَلِّمِ مضاف الیہ ہے، مجرور کی حالت میں۔ اگر یہی مرکب کسی جملے میں مفعول بن جائے، جیسے
، تو مضاف منصوب ہوجائے گا مگر مضاف الیہ پھر بھی مجرور ہی رہے گا، کیونکہ مضاف الیہ کی حالتِ جر مرکب کے موقعِ اعراب سے متاثر نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہمیشہ جر کی حالت میں ہی رہتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں فاعل ہو، مفعول ہو یا کسی حرفِ جر کے بعد آئے۔
مرکب اضافی کی تعریف و تنکیر کا فیصلہ ہمیشہ مضاف الیہ کی بنیاد پر ہوتا ہے، مضاف کی بنیاد پر ہرگز نہیں، کیونکہ مضاف پر تو ویسے بھی ال داخل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی تنوین باقی رہتی ہے۔ اگر مضاف الیہ معرفہ ہو، جیسے کسی علم یا ال والے اسم کی صورت میں، تو پورا مرکب معرفہ شمار ہوگا۔ مثلاً بَابُ الْبَيْتِ (گھر کا دروازہ) میں بَابُ پر کوئی علامتِ تعریف موجود نہیں، مگر چونکہ مضاف الیہ الْبَيْتِ پر ال موجود ہے، اس لیے پورا مرکب معرفہ بن گیا، اور اس کا معنی ہے 'وہ مخصوص دروازہ جو اس خاص گھر کا ہے'، نہ کہ کوئی بھی عام دروازہ۔ اس کے برعکس اگر مضاف الیہ نکرہ ہو، جیسے بَابُ بَيْتٍ (ایک گھر کا دروازہ) ، تو پورا مرکب بھی نکرہ ہی شمار ہوگا۔ یہ اصول عملی طور پر بہت اہم ہے، کیونکہ اگر بعد میں اس مرکب کی کوئی صفت لگانی ہو تو اس صفت کی تعریف و تنکیر بھی مضاف الیہ کی حالت کے مطابق ہی طے کی جائے گی، جیسے
میں الْجَدِيدُ معرفہ آیا کیونکہ الطَّالِبِ معرفہ تھا، ورنہ صفت بھی نکرہ ہی آتی۔
دونوں مرکبات کے درمیان امتیاز کا سب سے آسان اور قابلِ اعتماد طریقہ یہ ہے کہ دونوں الفاظ کے درمیان اردو کے لفظ 'کا، کی یا کے' کا اضافہ کرکے معنی کو جانچا جائے۔ اگر ایسا کرنے سے جملے کا مفہوم درست اور فطری بن جائے تو یہ مرکب اضافی ہے، کیونکہ اس میں دوسرا لفظ پہلے کی ملکیت یا نسبت ظاہر کرتا ہے۔ اور اگر ایسا کرنے سے معنی بگڑ جائے یا بے معنی ہوجائے تو یہ مرکب توصیفی ہے، کیونکہ اس میں دوسرا لفظ محض پہلے کی کوئی صفت یا کیفیت بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر كِتَابُ الطَّالِبِمیں 'طالب علم کا کتاب' کا مفہوم بالکل درست اور فطری بنتا ہے، اس لیے یہ مرکب اضافی ہے۔ اس کے برعکس كِتَابٌ جَدِيدٌ میں 'نئے کا کتاب' کہنا بے معنی ہے، اس لیے یہ مرکب توصیفی ہے۔ ایک اضافی علامت یہ بھی ہے کہ مرکب اضافی میں مضاف سے تنوین اور ال گر جاتے ہیں، جبکہ مرکب توصیفی میں موصوف اور صفت دونوں پر یہ تنوین یا ال بیک وقت موجود رہ سکتے ہیں، بلکہ ہونے بھی چاہئیں، ورنہ چاروں امور کی مطابقت ٹوٹ جائے گی اور جملہ گرامری طور پر خراب ہوجائے گا۔
اسلامی قمری سال کے بارہ مہینے ترتیب سے یہ ہیں: مُحَرَّمٌ، صَفَرٌ، رَبِيعٌ الْأَوَّلُ، رَبِيعٌ الْآخِرُ، جُمَادَى الْأُولَى، جُمَادَى الْآخِرَةُ، رَجَبٌ، شَعْبَانُ، رَمَضَانُ، شَوَّالٌ، ذُو الْقَعْدَةِ، اور ذُو الْحِجَّةِ۔ ان میں سے رَبِيعٌ الْأَوَّلُ، رَبِيعٌ الْآخِرُ، جُمَادَى الْأُولَى، جُمَادَى الْآخِرَةُ، ذُو الْقَعْدَةِ اور ذُو الْحِجَّةِ در حقیقت خود مرکب اضافی کی زندہ مثالیں ہیں، کیونکہ ان میں پہلا لفظ، یعنی رَبِيعٌ، جُمَادَى یا ذُو، دوسرے لفظ کی طرف مضاف ہے اور اس سے ایک خاص نسبت رکھتا ہے۔ مثلاً ذُو الْحِجَّةِ کا لفظی معنی 'حج والا مہینہ' ہے، جہاں ذُو مضاف ہے اور الْحِجَّةِ مضاف الیہ، مجرور کی حالت میں، بالکل اسی طرح جیسے جُمَادَى الْأُولَى میں الْأُولَى مضاف الیہ کے حکم میں شمار ہوتا ہے اور اس مہینے کو دوسرے جمادی سے ممتاز کرتا ہے۔ اسی طرح رَبِيعٌ الْأَوَّلُ اور رَبِيعٌ الْآخِرُ دراصل ایک ہی موسمِ ربیع کے دو الگ الگ مہینوں کی نشاندہی کے لیے مرکب توصیفی نما ترتیب رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ نحو کے قواعد محض کتابی نہیں بلکہ روزمرہ کے مانوس ترین الفاظ میں بھی برابر کارفرما ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اسلامی مہینوں کے نام یاد کرنا دراصل مرکب اضافی کی زندہ مشق بھی بن جاتا ہے۔
عیسوی سال کے بارہ مہینوں کے عربی نام یہ ہیں: يَنَايِرُ، فِبْرَايِرُ، مَارِسُ، أَبْرِيلُ، مَايُو، يُونِيُو، يُولِيُو، أَغُسْطُسُ، سِبْتَمْبِرُ، أُكْتُوبَرُ، نُوفِمْبِرُ، اور دِيسِمْبِرُ۔ اسلامی مہینوں کے ناموں کے برعکس، جو خالص عربی الاصل ہیں اور بعض تو خود نحوی مرکبات بھی ہیں، عیسوی مہینوں کے یہ نام دراصل انگریزی یا لاطینی الفاظ کی معرب یعنی عربی شکل ہیں، اسی لیے ان کی آوازیں غیر عربی الفاظ سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی نام مضاف اور مضاف الیہ کی ترکیب پر مشتمل نہیں، بلکہ ہر مہینہ ایک ہی مفرد لفظ سے مکمل ہوتا ہے۔ چونکہ یہ الفاظ عجمی الاصل ہیں، اس لیے ان کی ہجے اور تلفظ اکثر مقرر ہوتے ہیں اور انہیں محض ازبر یاد کرنا پڑتا ہے۔ جملے میں استعمال کی مثال
سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ان ناموں سے پہلے اکثر لفظ شَهْرِ (مہینہ) بھی مرکب اضافی کی صورت میں لگایا جاتا ہے، جس میں شَهْرِ مضاف اور مہینے کا نام مضاف الیہ کے حکم میں شمار ہوتا ہے، اور یوں دونوں سبقوں کا موازنہ طلبہ کے لیے مہینوں کی دو الگ الگ گرامری بناوٹ کو یاد رکھنا آسان بنا دیتا ہے۔