نواسخِ جملہ: مَا اور لَا المشبہتان بلیس
مَا اور لَا نافیہ لفظ و معنی میں لَيْسَ کے مشابہ ہیں اور اسی کی طرح اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں۔ اس سبق میں ان کا عمل، خبر پر بِ زائدہ، عمل کی شرائط، اور شرط نہ پائے جانے پر عمل کے باطل ہونے کی مثالیں بیان ہوئی ہیں۔
1مَا اور لَا المشبہتان بلیس
یہ نواسخِ جملہ کی تیسری قسم ہیں۔ یہ دونوں حروف لفظاً اور معناً لَيْسَ کے مشابہ ہیں اور اسی جیسا عمل کرتے ہیں، اس لیے انہیں المشبہتان بلیس (لیس کے مشابہ) کہا جاتا ہے۔
2عمل
یہ دونوں بھی جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں، اور افعالِ ناقصہ کی طرح ان کا اسم مرفوع رہتا ہے اور خبر منصوب ہو جاتی ہے:
لَيْسَ کی طرح مَا اور لَا کی خبر پر بھی کبھی بِ زائدہ داخل کر دیتے ہیں، اس صورت میں خبر لفظاً مجرور ہو جاتی ہے:
3عمل کی شرائط
- (1) ان کا اسم مقدم رہے، مؤخر نہ ہو۔
- (2) ان کی نفی کو إِلَّا (حرفِ استثناء) کے ذریعے ختم نہ کیا جائے۔
- (3) مَا معرفہ اور نکرہ دونوں پر آتا ہے، مگر لَا کے لیے مزید شرط یہ ہے کہ اس کا اسم و خبر دونوں نکرہ ہوں۔
ان شرطوں کے نہ پائے جانے کی صورت میں مَا اور لَا کا عمل باطل ہو جاتا ہے، اور جملہ مبتدا و خبر (دونوں مرفوع) کی حالت پر لوٹ آتا ہے۔
| مثال | عمل کیوں باطل ہوا |
|---|---|
| مَا عِنْدِي قَلَمُكَ | مبتدا مؤخر ہے |
| مَا الدُّنْيَا إِلَّا فَانِيَةٌ | إِلَّا سے نفی ختم ہو گئی |
| مَا الطَّلَبَةُ إِلَّا لَاعِبُونَ | إِلَّا سے نفی ختم ہو گئی |
| لَا عِنْدِي دِرْهَمٌ | مبتدا مؤخر ہے |
| لَا مَحْمُودٌ إِلَّا خَطِيبٌ | إِلَّا (نیز اسم معرفہ) |
| لَا الْمَدِينَةُ وَاسِعَةٌ وَلَا الشَّوَارِعُ نَظِيفَةٌ | لَا کا مبتدا معرفہ ہے |
مصادر و تمارین
- اشرف الانشاء شرح اردو معلم الانشاء (جلد اول)، الدرس الثانی والعشرون، ص 201–205
- التمرین (125): اردو ترجمہ
- التمرین (126): عربی ترجمہ
درس 22 کے مطابق مَا اور لَا نواسخِ جملہ کی تیسری قسم ہیں۔ یہ دونوں حروف لفظ اور معنی دونوں میں لَيْسَ کے مشابہ ہیں: معنی میں اس لیے کہ دونوں نفی کے لیے آتے ہیں، اور عمل میں اس لیے کہ لَيْسَ جیسا ہی عمل کرتے ہیں؛ اسی وجہ سے انہیں "المشبہتان بلیس" یعنی لیس کے مشابہ دو حروف کہا جاتا ہے۔ یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں، اور افعالِ ناقصہ کی طرح ان کا اسم مرفوع باقی رہتا ہے اور خبر منصوب ہو جاتی ہے۔ کتاب کی مثال: مَا مَحْمُودٌ خَطِيبًا یعنی محمود مقرر نہیں ہے؛ یہاں مَحْمُودٌ اسم مرفوع اور خَطِيبًا خبر منصوب ہے۔
کتاب کے مطابق لَيْسَ کی طرح مَا اور لَا کی خبر پر بھی کبھی بِ زائدہ داخل کر دیتے ہیں؛ اس صورت میں خبر لفظاً مجرور ہو جاتی ہے، اگرچہ محلاً منصوب ہی رہتی ہے۔ یہ بِ نفی کی تاکید کے لیے آتی ہے، اس لیے اس کا ترجمہ "ہرگز" یا "بالکل" سے کیا جا سکتا ہے۔ کتاب کی مثال: مَا مَحْمُودٌ بِخَطِيبٍ۔ التمرین (125) میں قرآنی مثال ہے: مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ یعنی اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں۔ التمرین (126) میں مَا بَنَاتُ حَامِدٍ بِجَاهِلَاتٍ اور مَا نَحْنُ بِغَافِلِينَ عَنْ وَاجِبَاتِنَا بھی اسی کی مثالیں ہیں۔
کتاب نے ان کے عمل کی یہ شرائط بیان کی ہیں: (1) ان کا اسم مقدم رہے، یعنی خبر سے پہلے آئے، مؤخر نہ ہو۔ (2) ان کی نفی کو إِلَّا (حرفِ استثناء) کے ذریعے ختم نہ کیا جائے، کیونکہ إِلَّا آنے سے کلام کا حاصل اثبات ہو جاتا ہے۔ (3) مَا تو معرفہ اور نکرہ دونوں پر آتا ہے، مگر لَا کے لیے مزید شرط یہ ہے کہ اس کا اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں۔ ان شرطوں کے نہ پائے جانے کی صورت میں مَا اور لَا کا عمل باطل ہو جاتا ہے، اور اسم و خبر دونوں مبتدا و خبر کی طرح مرفوع ہو جاتے ہیں۔
کتاب نے مَا کے عمل باطل ہونے کی یہ مثالیں دی ہیں: مَا عِنْدِي قَلَمُكَ یعنی میرے پاس تمہارا قلم نہیں؛ یہاں مبتدا قَلَمُكَ خبر عِنْدِي سے مؤخر ہو گیا، اس لیے پہلی شرط نہ پائی گئی اور مَا نے عمل نہیں کیا۔ مَا الدُّنْيَا إِلَّا فَانِيَةٌ یعنی دنیا فنا ہونے والی ہی ہے؛ یہاں إِلَّا نے نفی توڑ دی، اس لیے خبر فَانِيَةٌ مرفوع ہے۔ اسی طرح مَا الطَّلَبَةُ إِلَّا لَاعِبُونَ یعنی طلبہ تو بس کھیلنے والے ہیں؛ یہاں بھی إِلَّا کی وجہ سے خبر لَاعِبُونَ واو کے ساتھ مرفوع آئی۔ ان سب میں جملہ عام مبتدا و خبر کی طرح ہو گیا۔
کتاب نے لَا کی یہ مثالیں دی ہیں: لَا عِنْدِي دِرْهَمٌ یعنی میرے پاس کوئی درہم نہیں؛ یہاں مبتدا دِرْهَمٌ مؤخر ہے، اس لیے لَا کا عمل باطل ہوا۔ لَا مَحْمُودٌ إِلَّا خَطِيبٌ یعنی محمود تو مقرر ہی ہے؛ یہاں إِلَّا سے نفی ٹوٹ گئی، نیز مَحْمُودٌ معرفہ (علم) ہے۔ لَا الْمَدِينَةُ وَاسِعَةٌ وَلَا الشَّوَارِعُ نَظِيفَةٌ یعنی نہ شہر کشادہ ہے اور نہ سڑکیں صاف؛ یہاں لَا کا مبتدا الْمَدِينَةُ معرفہ ہے، اور لَا کے لیے اسم و خبر کا نکرہ ہونا شرط ہے، اس لیے عمل باطل ہوا اور خبر وَاسِعَةٌ مرفوع آئی۔ ایسی صورت میں لَا کو دہرایا جاتا ہے۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: اخلاص کے بغیر کوئی دوستی ہمیشہ نہیں رہتی۔ یہاں لَا مشبہ بلیس ہے؛ اس کا اسم صَدَاقَةٌ نکرہ مرفوع ہے اور خبر دَائِمَةً نکرہ منصوب ہے، اور چونکہ دونوں نکرہ ہیں اور اسم مقدم ہے، اس لیے لَا نے عمل کیا۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: ایک طالب علم غیر حاضر نہیں بلکہ دو غیر حاضر ہیں۔ یہاں بھی تِلْمِيذٌ اسم مرفوع اور غَائِبًا خبر منصوب ہے۔ یہ لَا ایک فرد کی نفی کرتا ہے، اس لیے اس کے بعد بَلْ تِلْمِيذَانِ کہنا درست ہوا؛ لائے نفی جنس کے ساتھ ایسا کہنا صحیح نہ ہوتا، کیونکہ وہ پوری جنس کی نفی کرتا ہے (درس 23)۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: سخی آدمی اپنے مال میں بخل نہیں کرتا اور نہ اسے روک کر رکھتا ہے۔ یہاں مَا کا اسم الْجَوَادُ معرفہ ہے، جو مَا کے لیے جائز ہے، اور خبر يَبْخَلُ جملہ فعلیہ ہے جو محلاً منصوب ہے۔ دوسرے حصے میں لَا هُوَ مُمْسِكٌ میں لَا کا اسم ضمیر هُوَ معرفہ ہے، اس لیے لَا نے عمل نہیں کیا اور مُمْسِكٌ مرفوع رہا۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: میرے والدین پاکستان کوچ کرنے والے نہیں۔ یہاں وَالِدَايَ اسم مرفوع ہے اور مُرْتَحِلَيْنِ خبر تثنیہ منصوب، جس کی علامتِ نصب یاء ہے۔
اس شعر کا ترجمہ ہے: جوان آدمی کے جسم کی خوبصورتی اس کے لیے کوئی شرف نہیں، جبکہ اس کے کردار اور اخلاق میں شرف نہ ہو۔ پہلے مصرع میں مَا مشبہ بلیس ہے؛ اس کا اسم الْحُسْنُ مرفوع ہے اور خبر شَرَفًا منصوب ہے۔ فِي جَسَدِ الْفَتٰى اور لَهُ متعلقات ہیں جو اسم اور خبر کے درمیان آئے ہیں، مگر اسم خبر سے مقدم ہی ہے، اس لیے عمل درست ہے۔ دوسرے مصرع میں إِذَا شرطیہ ہے اور لَمْ يَكُنْ میں يَكُنْ فعل ناقص مجزوم ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اصل شرف اخلاق اور کردار میں ہے، ظاہری حسن میں نہیں۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: مَا أَنْتُمْ بِمُجِدِّينَ جِدًّا فِيمَا أَرٰى۔ یہاں مَا کا اسم ضمیر أَنْتُمْ ہے، جو معرفہ ہے، اور مَا معرفہ پر بھی عمل کرتا ہے؛ خبر مُجِدِّينَ پر بِ زائدہ آئی ہے، اس لیے وہ لفظاً مجرور ہے۔ فِيمَا أَرٰى کا مطلب ہے "جہاں تک میں دیکھتا ہوں"۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: لَا كُلُّ غَنِيٍّ مُرْتَاحًا۔ یہاں لَا کا اسم كُلُّ غَنِيٍّ ہے جو نکرہ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے نکرہ ہی ہے، اور خبر مُرْتَاحًا نکرہ منصوب ہے؛ اس لیے لَا کی شرط پوری ہو گئی۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: لَا صَدِيقَانِ مُعْتَمِدَيْنِ فِي هٰذَا الزَّمَانِ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ۔ یہاں لَا مشبہ بلیس ہے؛ اس کا اسم صَدِيقَانِ نکرہ مرفوع ہے جس کی علامتِ رفع الف ہے، اور خبر مُعْتَمِدَيْنِ نکرہ منصوب ہے جس کی علامتِ نصب یاء ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: مَا الْمُدَاهَنَةُ فِي الدِّينِ بِمَحْمُودَةٍ۔ یہاں مَا کا اسم الْمُدَاهَنَةُ معرفہ مرفوع ہے، اور خبر مَحْمُودَةٍ پر بِ زائدہ ہے، اس لیے وہ لفظاً مجرور ہے۔ فِي الدِّينِ اسم کا متعلق ہے، اور اسم خبر سے مقدم ہے، اس لیے مَا کا عمل برقرار رہا۔
التمرین (125)
ما و لا المشبہتان بلیس — اردو ترجمہ
اسم مرفوع، خبر منصوب؛ خبر پر بِ زائدہ بھی۔
1لَا صَدَاقَةٌ دَائِمَةً بِغَيْرِ إِخْلَاصٍحل دیکھیں ▾
2مَا الْمَعْرُوفُ ضَائِعًا عِنْدَ الْكِرَامِحل دیکھیں ▾
3مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَحل دیکھیں ▾
4مَا الْجَوَادُ يَبْخَلُ بِمَالِهِ وَلَا هُوَ مُمْسِكٌحل دیکھیں ▾
5لَا ثَمَرَةٌ نَاضِجَةً فِي الْبُسْتَانِحل دیکھیں ▾
6أَلَيْسَ اللّٰهُ بِقَادِرٍ عَلٰى أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتٰى؟حل دیکھیں ▾
7مَا الْإِغْرَاقُ فِي التَّرَفِ مَحْمُودًاحل دیکھیں ▾
8مَا وَالِدَايَ مُرْتَحِلَيْنِ إِلٰى بَاكِسْتَانَحل دیکھیں ▾
9مَا أَصْدِقَاؤُكَ مُخْلِصِينَ لَكَحل دیکھیں ▾
10لَا تِلْمِيذٌ غَائِبًا بَلْ تِلْمِيذَانِحل دیکھیں ▾
11وَمَا الْحُسْنُ فِي جَسَدِ الْفَتٰى شَرَفًا لَهُحل دیکھیں ▾
التمرین (126)
ما و لا المشبہتان بلیس — عربی ترجمہ
لا کے اسم و خبر نکرہ؛ ما معرفہ و نکرہ دونوں پر۔
1اس باغ کے درخت پھل دار نہیںحل دیکھیں ▾
2تمہارا مقالہ مجھ سے چھپا ہوا نہیںحل دیکھیں ▾
3میری نگاہ میں تم لوگ کچھ زیادہ محنتی نہیں ہوحل دیکھیں ▾
4محمود کے دونوں بیٹے محنتی ہیں لیکن ذہین و سمجھدار نہیںحل دیکھیں ▾
5ہر دولت مند عیش و آرام میں نہیںحل دیکھیں ▾
6آج کل دو دوست ایک دوسرے پر بھروسہ کرنے والے نہیںحل دیکھیں ▾
7حامد کی بیٹیاں ہرگز نادان نہیںحل دیکھیں ▾
8وہ موجودہ حالت سے بالکل واقف نہیںحل دیکھیں ▾
9وہ لوگ ہمارے نزدیک قابل تعریف نہیںحل دیکھیں ▾
10اس زمانے میں دین پر قائم رہنا آسان نہیںحل دیکھیں ▾
11ہم موجودہ حالت پر مطمئن نہیںحل دیکھیں ▾
12دین میں مداہنت کوئی پسندیدہ بات نہیںحل دیکھیں ▾
13ہم اپنے فرائض سے غافل نہیںحل دیکھیں ▾
عامل ہے یا عمل باطل؟
اس جملے میں ما / لا نے عمل کیا ہے یا عمل باطل ہے؟