نواسخِ جملہ: لائے نفی جنس
لائے نفی جنس پوری جنس کی مطلق نفی کرتا ہے اور إِنَّ کی طرح اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ اس سبق میں اس کے اسم کی صورتیں (مفرد مبنی بر فتحہ، مضاف اور شبہ مضاف منصوب)، عمل کی شرائط اور شرائط مفقود ہونے پر لَا کے تکرار کا حکم بیان ہوا ہے۔
1لائے نفی جنس
یہ نواسخِ جملہ کی چوتھی قسم ہے۔ یہ مطلق نفی کے لیے آتا ہے، یعنی جس چیز پر داخل ہو سرے سے اس کی پوری جنس کا انکار کرتا ہے۔ یہ إِنَّ کی طرح اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے:
2اسم کی صورتیں
- (1) لائے نفی جنس کا اسم نکرہ یا نکرہ کی طرف مضاف ہوتا ہے۔
- (2) اگر اسم مفرد ہو (یعنی مضاف نہ ہو) تو مبنی بر فتحہ ہوتا ہے، اس پر تنوین نہیں آتی: لَا رَجُلَ جَالِسٌ فِي الطَّرِيقِ (راستے میں کوئی شخص نہیں بیٹھا)۔
- (3) اگر اسم مضاف یا شبہ مضاف ہو تو منصوب اور معرب رہتا ہے، اس لیے تنوین آتی ہے: لَا رَاكِبًا فَرَسًا فِي الطَّرِيقِ (راستے میں کوئی گھوڑ سوار نہیں)؛ لَا شَاهِدَ زُورٍ مَحْبُوبٌ (کوئی جھوٹا گواہ پیارا نہیں)؛ لَا مُسْرِفًا فِي مَالِهِ مَحْمُودٌ (اپنے مال میں فضول خرچی کرنے والا پسندیدہ نہیں)۔
3شرائطِ عمل
- (1) لائے نفی جنس پر کوئی حرفِ جار داخل نہ ہو۔
- (2) اس کے اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں۔
- (3) لَا اور اس کے اسم کے درمیان کوئی فصل نہ ہو۔
پہلی شرط نہ پائی جائے تو لَا کا عمل باطل ہو جاتا ہے اور وہ صرف نفی کا معنی دیتا ہے۔ دوسری اور تیسری شرط نہ پائی جائے تو بھی عمل باطل ہو جاتا ہے، اور اس صورت میں لَا کا مکرر لانا واجب ہے۔
| مثال | مفقود شرط |
|---|---|
| اِشْتَرَيْتُ الْقَلَمَ بِلَا رِيشَةٍ | پہلی (حرف جار داخل) |
| لَا زَيْدٌ فِي الدَّارِ وَلَا عَمْرٌو | دوسری (اسم معرفہ) |
| لَا الرَّجُلُ كَرِيمٌ وَلَا ابْنُهُ | دوسری |
| لَا الْقَمَرُ طَالِعٌ وَلَا النُّجُومُ لَامِعَةٌ | دوسری |
| لَا هُوَ حَيٌّ فَيُرْجٰى وَلَا هُوَ مَيِّتٌ فَيُنْعٰى | دوسری (ضمیر معرفہ) |
| لَا فِي الْحَدِيقَةِ صِبْيَانٌ وَلَا بَنَاتٌ | تیسری (فصل) |
مصادر و تمارین
- اشرف الانشاء شرح اردو معلم الانشاء (جلد اول)، الدرس الثالث والعشرون، ص 206–210
- التمرین (127): اردو ترجمہ
- التمرین (128): عربی ترجمہ
درس 23 کے مطابق لائے نفی جنس نواسخِ جملہ کی چوتھی قسم ہے۔ یہ مطلق نفی کے لیے آتا ہے، یعنی جس چیز پر داخل ہوتا ہے اس کی پوری جنس کا سرے سے انکار کر دیتا ہے؛ اس میں کسی ایک فرد کے بھی موجود ہونے کی گنجائش نہیں رہتی۔ یہ إِنَّ کی طرح عمل کرتا ہے، یعنی اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ کتاب کی مثال: لَا تِلْمِيذَ حَاضِرٌ یعنی کوئی طالب علم حاضر نہیں ہے؛ یہاں تِلْمِيذَ اسم ہے جو مبنی بر فتحہ ہو کر محلاً منصوب ہے، اور حَاضِرٌ خبر مرفوع ہے۔ اس جملے کا مطلب ہے کہ ایک بھی طالب علم حاضر نہیں۔
کتاب کے مطابق لائے نفی جنس کا اسم ہمیشہ نکرہ یا نکرہ کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ اگر اسم مفرد ہو تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے، یعنی اس کے آخر پر صرف فتحہ آتا ہے اور تنوین نہیں آتی۔ یہاں مفرد سے مراد تثنیہ و جمع کا مقابل نہیں، بلکہ یہ کہ وہ اسم نہ مضاف ہو اور نہ شبہ مضاف۔ کتاب کی مثال: لَا رَجُلَ جَالِسٌ فِي الطَّرِيقِ یعنی راستے میں کوئی شخص نہیں بیٹھا۔ اسی طرح التمرین (127) میں لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ اور لَا خَيْرَ فِي وُدِّ امْرِئٍ مُتَقَلِّبٍ میں اسم مفرد مبنی بر فتحہ ہے۔ تثنیہ یاء پر اور جمع مذکر سالم بھی یاء پر مبنی ہوتے ہیں۔
کتاب کے مطابق اگر لائے نفی جنس کا اسم مفرد کے بجائے مضاف یا شبہ مضاف ہو تو دونوں صورتوں میں وہ منصوب رہتا ہے اور معرب سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس پر تنوین بھی آتی ہے۔ مثالیں: لَا رَاكِبًا فَرَسًا فِي الطَّرِيقِ یعنی راستے میں کوئی گھوڑ سوار نہیں؛ یہاں رَاكِبًا شبہ مضاف ہے کیونکہ اس کا مفعول فَرَسًا اس سے جڑا ہے۔ لَا شَاهِدَ زُورٍ مَحْبُوبٌ یعنی کوئی جھوٹا گواہ پیارا نہیں؛ یہاں شَاهِدَ مضاف ہے۔ لَا مُسْرِفًا فِي مَالِهِ مَحْمُودٌ یعنی اپنے مال میں فضول خرچی کرنے والا پسندیدہ نہیں؛ یہاں مُسْرِفًا جار مجرور سے جڑ کر شبہ مضاف ہے۔
کتاب نے لائے نفی جنس کے عمل کی تین شرائط بیان کی ہیں: (1) اس پر کوئی حرفِ جار داخل نہ ہو۔ (2) اس کے اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں؛ اگر اسم معرفہ ہو، جیسے علم، ضمیر یا معرف باللام، تو یہ عمل نہیں کرے گا۔ (3) لَا اور اس کے اسم کے درمیان کوئی فصل نہ ہو، یعنی اسم فوراً لَا کے بعد آئے؛ اگر خبر یا جار مجرور بیچ میں آ جائے تو عمل ختم ہو جائے گا۔ یہ شرائط اس لیے ہیں کہ لائے نفی جنس پوری جنس کی نفی کرتا ہے، اور یہ معنی نکرہ ہی سے ادا ہوتا ہے، معرفہ سے نہیں۔
کتاب کے مطابق اگر پہلی شرط نہ پائی جائے، یعنی لَا پر حرفِ جار داخل ہو جائے، تو لَا کا عمل باطل ہو جاتا ہے اور اس کی حیثیت صرف نفی کی رہ جاتی ہے۔ اس صورت میں اس کے بعد والا اسم حرفِ جار کی وجہ سے مجرور ہو جاتا ہے، اور لَا کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کتاب کی مثال: اِشْتَرَيْتُ الْقَلَمَ بِلَا رِيشَةٍ یعنی میں نے قلم بغیر نب کے خریدا۔ یہاں لَا پر بِ داخل ہے، اس لیے رِيشَةٍ مجرور ہے اور لَا نے کوئی عمل نہیں کیا؛ یہ صرف "بغیر" کا معنی دے رہا ہے۔ اسی طرح جِئْتُ بِلَا زَادٍ وغیرہ۔
کتاب کے مطابق دوسری شرط (اسم و خبر نکرہ ہونا) یا تیسری شرط (فصل نہ ہونا) نہ پائی جائے تو لَا کا عمل باطل ہو جاتا ہے، اور اس صورت میں لَا کو مکرر لانا واجب ہو جاتا ہے۔ دوسری شرط مفقود ہونے کی مثالیں: لَا زَيْدٌ فِي الدَّارِ وَلَا عَمْرٌو، لَا الرَّجُلُ كَرِيمٌ وَلَا ابْنُهُ، لَا الْقَمَرُ طَالِعٌ وَلَا النُّجُومُ لَامِعَةٌ اور لَا هُوَ حَيٌّ فَيُرْجٰى وَلَا هُوَ مَيِّتٌ فَيُنْعٰى؛ ان میں اسم معرفہ ہے اس لیے مرفوع ہے۔ تیسری شرط مفقود ہونے کی مثال: لَا فِي الْحَدِيقَةِ صِبْيَانٌ وَلَا بَنَاتٌ؛ یہاں فِي الْحَدِيقَةِ نے فصل کر دیا۔
پہلی آیت کا ترجمہ ہے: دین میں کوئی زبردستی نہیں، ہدایت یقیناً گمراہی سے واضح ہو چکی ہے۔ یہاں إِكْرَاهَ لائے نفی جنس کا اسم مفرد ہے، اس لیے مبنی بر فتحہ ہے؛ فِي الدِّينِ جار مجرور خبر ہے جو شبہ جملہ ہے۔ قَدْ تَبَيَّنَ میں قَدْ ماضی پر تاکید کے لیے ہے۔ دوسرا جملہ حدیث ہے: لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ یعنی جس میں امانت داری نہیں اس کا ایمان نہیں، اور جو عہد کا پاس نہیں رکھتا اس کا دین نہیں۔ اس میں چار بار لائے نفی جنس آیا ہے، اور ہر جگہ اسم مفرد مبنی بر فتحہ اور خبر جار مجرور ہے۔
پہلے جملے کا ترجمہ ہے: کوئی مومن اپنے رب کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے۔ یہاں لائے نفی جنس کا اسم مُؤْمِنِينَ جمع مذکر سالم ہے اور مفرد (غیر مضاف) ہے، اس لیے یاء پر مبنی ہے، کیونکہ جمع مذکر سالم کا نصب یاء سے ہوتا ہے؛ خبر قَانِطُونَ مرفوع ہے۔ دوسرے جملے کا ترجمہ ہے: آسمان میں کوئی ستارے چمکنے والے نہیں۔ یہاں كَوَاكِبَ جمع مکسر ہے، اس لیے فتحہ پر مبنی ہے، اور لَامِعَاتٌ خبر مرفوع ہے۔ كَوَاكِبَ غیر منصرف ہے، لیکن یہاں فتحہ بنا کی وجہ سے ہے، اعراب کی وجہ سے نہیں۔
لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کا ترجمہ ہے: اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ یہاں إِلٰهَ لائے نفی جنس کا اسم مفرد ہے، اس لیے مبنی بر فتحہ ہے؛ اس کی خبر محذوف ہے جو مَوْجُودٌ یا بِحَقٍّ مانی جاتی ہے، اور إِلَّا اللّٰهُ مستثنیٰ ہے۔ یوں پوری جنسِ معبود کی نفی کر کے صرف اللہ کا اثبات کیا گیا۔ دوسرا جملہ حضرت یوسف علیہ السلام کا قول ہے جو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ یعنی آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ یہاں تَثْرِيبَ اسم مبنی بر فتحہ ہے اور عَلَيْكُمْ جار مجرور خبر ہے۔
دونوں نفی کے لیے آتے ہیں اور دونوں کے اسم و خبر نکرہ ہوتے ہیں، مگر عمل اور معنی دونوں میں فرق ہے۔ عمل میں: لائے نفی جنس إِنَّ کی طرح اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے، جبکہ لَا مشبہ بلیس لَيْسَ کی طرح اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔ معنی میں: لائے نفی جنس پوری جنس کی نفی کرتا ہے، جیسے لَا تِلْمِيذَ حَاضِرٌ یعنی ایک بھی طالب علم حاضر نہیں؛ جبکہ لَا مشبہ بلیس ایک فرد کی نفی بھی کر سکتا ہے، اسی لیے درس 22 میں لَا تِلْمِيذٌ غَائِبًا بَلْ تِلْمِيذَانِ کہنا درست تھا۔ لائے نفی جنس کے ساتھ بَلْ تِلْمِيذَانِ کہنا صحیح نہیں ہوتا۔
التمرین (127)
لائے نفی جنس — اردو ترجمہ
مفرد مبنی بر فتحہ؛ مضاف و شبہ مضاف منصوب منوّن؛ خبر مرفوع۔
1لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّحل دیکھیں ▾
2لَا خَيْرَ فِي وُدِّ امْرِئٍ مُتَقَلِّبٍحل دیکھیں ▾
3لَا مُؤْمِنِينَ قَانِطُونَ مِنْ رَحْمَةِ رَبِّهِمْحل دیکھیں ▾
4لَا دُكَّانَ فَاكِهَانِيٍّ قَرِيبٌ مِنْ هُنَاحل دیکھیں ▾
5لَا شَجَرَةَ رُمَّانٍ فِي الْبُسْتَانِحل دیکھیں ▾
6لَا رَاكِبًا دَرَّاجَةً فِي الطَّرِيقِحل دیکھیں ▾
7لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُحل دیکھیں ▾
8لَا مُجِدًّا فِي عَمَلِهِ مَذْمُومٌحل دیکھیں ▾
9وَلَا مُقَصِّرًا فِي عَمَلِهِ مَمْدُوحٌحل دیکھیں ▾
10لَا عَاصِيًا أَبَاهُ مَحْمُودٌ فِي الْعَشِيرَةِحل دیکھیں ▾
11لَا مُتَنَافِسِينَ فِي الْخَيْرِ نَادِمُونَحل دیکھیں ▾
12لَا كَوَاكِبَ لَامِعَاتٌ فِي السَّمَاءِحل دیکھیں ▾
13لَا أُمَّةَ أَكْثَرُ دَهَاءً مِنَ الْإِنْجِلِيزِ فِيمَا أَظُنُّحل دیکھیں ▾
التمرین (128)
لائے نفی جنس — عربی ترجمہ
"کوئی … نہیں" = لائے نفی جنس۔
1اس شہر میں کوئی بڑا ہسپتال نہیںحل دیکھیں ▾
2لکھنؤ میں کوئی بڑی مسجد نہیںحل دیکھیں ▾
3ہماری جماعت میں کوئی طالب علم فیل نہیںحل دیکھیں ▾
4احمد کے باغ میں فوارے نہیںحل دیکھیں ▾
5میرے پاس کوئی اونی لباس نہیںحل دیکھیں ▾
6خرچ میں میانہ روی کرنے والا کوئی قابل مذمت نہیںحل دیکھیں ▾
7محمود جیسا والد کا فرماں بردار کوئی نہیںحل دیکھیں ▾
8اللہ کے سوا کوئی معبود نہیںحل دیکھیں ▾
9جو کچھ ہو آپ کے لیے کوئی مضائقہ نہیںحل دیکھیں ▾
10یہاں سے قریب کوئی قہوہ خانہ نہیںحل دیکھیں ▾
11یہاں کوئی ماہر طبیب نہیںحل دیکھیں ▾
12تمہارے درجے میں کوئی سائیکل سوار نہیںحل دیکھیں ▾
13کوئی مسلمان اپنے حال پر مطمئن نہیںحل دیکھیں ▾
14تم دونوں جیسے مخلص دو دوست کوئی نہیںحل دیکھیں ▾
15میرے خیال میں تمہاری جماعت میں کوئی محنتی طالب علم نہیںحل دیکھیں ▾
16آج تم پر کوئی ملامت نہیںحل دیکھیں ▾
اسم کا حکم پہچانیں
لائے نفی جنس کے اسم کا حکم کیا ہے؟