معلم الانشاء سبق 10: فعل مجہول (ماضی مجہول)
فعل معروف کو فعل مجہول میں کیسے بدلا جاتا ہے اور نائب الفاعل کسے کہتے ہیں؟
1فعل معروف اور فعل مجہول کا فرق
عربی میں فعل کی دو بنیادی حالتیں ہیں: فعل معروف اور فعل مجہول۔ فعل معروف وہ فعل ہے جس میں فاعل، یعنی کام کرنے والا، جملے میں مذکور اور معلوم ہو، جیسے
، جہاں واضح ہے کہ لکھنے والا کون تھا۔ اس کے برعکس فعل مجہول وہ فعل ہے جس میں فاعل جان بوجھ کر حذف کردیا جاتا ہے، یا وہ سرے سے نامعلوم ہوتا ہے، اور اس کی جگہ ایک نیا رکن — نائب الفاعل — لے لیتا ہے، جیسے كُتِبَ الدَّرْسُ (سبق لکھا گیا) ۔ مجہول کا اسلوب اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب فاعل کا نام بتانا مقصود نہ ہو، یا وہ حقیقتاً معلوم نہ ہو، یا گفتگو کا مرکز خود فاعل نہیں بلکہ نتیجہ اور کام ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عربی صحافتی، علمی اور تاریخی عبارتوں میں فعل مجہول کثرت سے ملتا ہے، کیونکہ اکثر یہ بتانا زیادہ اہم ہوتا ہے کہ کیا ہوا، بہ نسبت اس کے کہ کس نے کیا۔
2ماضی مجہول بنانے کا قاعدہ اور اس کی وجہ
فعل ماضی معروف کو مجہول میں بدلنے کا قاعدہ نہایت منظم ہے: فعل کے پہلے حرف کو مضموم (پیش) اور ماقبلِ آخر حرف یعنی آخری حرف سے پہلے والے حرف کو مکسور (زیر) کردیا جاتا ہے، جبکہ باقی تمام حروف اور ان کی ترتیب ویسے ہی رہتی ہے۔ اس طرح تین حرفی فعل کا وزن فَعَلَ سے بدل کر فُعِلَ ہوجاتا ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد یہ ہے کہ سننے والے کو فوراً آواز ہی سے معلوم ہوجائے کہ یہ فعل مجہول ہے، کیونکہ عربی صرف میں ہر صیغے کا اپنا مخصوص وزن اور آہنگ ہوتا ہے، اور پہلے حرف پر ضمہ کی آواز، عام معروف فعل فَعَلَ کی آواز سے واضح طور پر مختلف اور ممتاز ہے۔ یہ قاعدہ ہر صحیح تین حرفی فعل ماضی پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے، اس لیے اسے یاد رکھنا نسبتاً آسان ہے۔
3ماضی مجہول کی مثالیں اور مشقی اطلاق
اس قاعدے کا عملی اطلاق چند مثالوں سے واضح ہوتا ہے۔ كَتَبَ (اس نے لکھا) کا پہلا حرف ک زبر کے ساتھ تھا، اسے پیش دیا اور ماقبلِ آخر حرف ب کو زیر دیا، تو یہ كُتِبَ (لکھا گیا) بن گیا۔ اسی طرح فَتَحَ (اس نے کھولا) کا پہلا حرف ف تھا، اسے پیش دیا اور ماقبلِ آخر ت کو زیر دیا، تو یہ فُتِحَ (کھولا گیا) بنا۔ ضَرَبَ (اس نے مارا) اسی اصول پر ضُرِبَ (مارا گیا) بن جاتا ہے۔ کچھ افعال میں درمیانی حرف علت (الف، واو، یاء) ہونے کی وجہ سے صورت قدرے بدل جاتی ہے، جیسے قَرَأَ (اس نے پڑھا) کا مجہول قُرِئَ (پڑھا گیا) بنتا ہے، جہاں آخری حرف سے پہلے کسرہ آنے پر ہمزہ کی نشست بھی اسی کسرہ کے مطابق تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ چند استثنائی صورتیں معتل یا مہموز افعال میں پیش آتی ہیں، مگر بنیادی اصول — پہلا پیش، ماقبلِ آخر زیر — ہر جگہ برقرار رہتا ہے۔
4نائب الفاعل — تعریف اور اعراب
جب فعل مجہول بنتا ہے تو معروف جملے کا فاعل حذف ہوجاتا ہے، اور اس خالی جگہ کو کوئی دوسرا اسم پُر کرتا ہے جسے نائب الفاعل (فاعل کا قائم مقام) کہا جاتا ہے۔ عموماً یہ اسم وہی ہوتا ہے جو معروف جملے میں مفعول بہ تھا۔ نائب الفاعل کا سب سے اہم قاعدہ یہ ہے کہ یہ ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے معروف جملے میں فاعل مرفوع ہوتا تھا — کیونکہ نحوی اعتبار سے یہ فاعل کا متبادل ہونے کے سبب اسی کی جگہ لے کر اسی کا اعراب بھی اپنا لیتا ہے۔ كُتِبَ الدَّرْسُ میں الدَّرْسُ نائب الفاعل ہے اور مرفوع ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہی لفظ معروف جملے
میں مفعول بہ تھا اور منصوب تھا (الدَّرْسَ)، مگر مجہول بننے پر اس کا اعراب منصوب سے مرفوع میں بدل گیا۔ یہ اعرابی تبدیلی — مفعول بہ کا نائب الفاعل بن کر منصوب سے مرفوع ہوجانا — پورے سبق کا سب سے اہم اور امتحان میں کثرت سے پوچھا جانے والا نکتہ ہے۔
5معروف سے مجہول کی طرف مکمل جملے کی تبدیلی
کسی مکمل معروف جملے کو مجہول میں بدلنے کے تین مراحل ہیں: پہلے فعل ماضی کو معروف کے وزن فَعَلَ سے مجہول کے وزن فُعِلَ میں بدلا جاتا ہے، دوسرے اصل فاعل کو جملے سے حذف کردیا جاتا ہے، اور تیسرے اصل مفعول بہ کو نائب الفاعل بنا کر اس کا اعراب منصوب سے مرفوع کردیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر
میں الْوَلَدُ فاعل اور مرفوع، جبکہ الْبَابَ مفعول بہ اور منصوب تھا۔ اسی جملے کو مجہول میں بدلنے پر یہ فُتِحَ الْبَابُ (دروازہ کھولا گیا) بن جاتا ہے — الْوَلَدُ مکمل طور پر حذف ہوگیا، اور الْبَابَ اب الْبَابُ کی صورت میں نائب الفاعل بن کر مرفوع ہوگیا۔ اگر جملے میں مفعول بہ سے آگے کوئی اور کلمہ (جیسے ظرف یا حال) بھی ہو تو وہ اپنی جگہ اور اعراب پر جوں کا توں رہتا ہے، صرف فاعل اور مفعول بہ کے کردار اور اعراب میں یہ تبدیلی واقع ہوتی ہے۔
6فعل مجہول کے استعمال کے مواقع اور خلاصہ
فعل مجہول کا استعمال عموماً ان مواقع پر کیا جاتا ہے: جب حقیقتاً فاعل معلوم نہ ہو، جیسے کسی چوری کی خبر میں چور کا نام معلوم نہ ہونا؛ جب فاعل کا ذکر غیر ضروری یا واضح ہو، جیسے
، جہاں بنانے والے کارکنوں کا نام اہم نہیں؛ یا جب بات کا مرکز نتیجہ ہو نہ کہ کرنے والا، جیسے تاریخی واقعات کے بیان میں۔ خلاصۃً، فعل مجہول اور فعل معروف کے درمیان تبدیلی دراصل تین چیزوں کا مجموعہ ہے: صیغے کا وزن فَعَلَ سے فُعِلَ میں بدلنا (پہلا پیش، ماقبلِ آخر زیر)، فاعل کا حذف ہونا، اور مفعول بہ کا نائب الفاعل بن کر منصوب سے مرفوع ہوجانا۔ یہ تینوں نکات ایک ساتھ یاد رکھنے سے طالب علم کسی بھی معروف جملے کو باآسانی مجہول میں، اور مجہول جملے کو دوبارہ فاعل شامل کرکے معروف میں بدل سکتا ہے۔
مصادر و مراجع
- معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 10
- النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
فعل معروف وہ فعل ہے جس میں فاعل، یعنی کام کرنے والا، جملے میں مذکور اور واضح ہوتا ہے، جیسے
، جہاں یہ بالکل واضح ہے کہ لکھنے والا طالب علم تھا۔ فعل مجہول اس کے برعکس وہ فعل ہے جس میں فاعل جان بوجھ کر حذف کردیا جاتا ہے یا وہ سرے سے نامعلوم ہوتا ہے، اور اس کی جگہ نائب الفاعل نامی رکن لے لیتا ہے، جیسے كُتِبَ الدَّرْسُ (سبق لکھا گیا) ، جہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ لکھنے والا کون تھا، صرف یہ خبر دی جاتی ہے کہ سبق لکھا جا چکا ہے۔ صرفی اعتبار سے بھی دونوں مختلف ہیں: معروف فعل کا وزن فَعَلَ ہوتا ہے (پہلا اور تیسرا حرف زبر کے ساتھ)، جبکہ مجہول فعل کا وزن فُعِلَ ہوتا ہے (پہلا حرف پیش اور ماقبلِ آخر حرف زیر کے ساتھ)۔ یہ فرق سننے یا پڑھنے ہی سے فوراً پہچانا جاسکتا ہے، اور دونوں طرزِ بیان میں معنوی فرق یہ ہے کہ معروف میں توجہ کرنے والے پر اور مجہول میں توجہ خود کام یا اس کے نتیجے پر مرکوز ہوتی ہے۔
ماضی مجہول بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ فعل کے پہلے حرف کو مضموم (پیش) اور ماقبلِ آخر حرف کو مکسور (زیر) کردیا جاتا ہے، جبکہ باقی حروف اور ان کی ترتیب جوں کی توں رہتی ہے، یعنی صرفی وزن فَعَلَ سے بدل کر فُعِلَ ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر كَتَبَ (اس نے لکھا) میں پہلا حرف ک زبر کے ساتھ تھا، اسے پیش کردیا، اور ماقبلِ آخر حرف ب زبر کے ساتھ تھا، اسے زیر کردیا، تو یہ كُتِبَ (لکھا گیا) بن گیا۔ اسی طرح فَتَحَ (اس نے کھولا) کا پہلا حرف ف تھا، اسے پیش دیا اور ماقبلِ آخر حرف ت کو زیر دیا، تو یہ فُتِحَ (کھولا گیا) بن گیا۔ یہ قاعدہ ہر صحیح تین حرفی فعل ماضی پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے، اس لیے اس کی مشق سے کسی بھی نئے فعل کو بھی آسانی سے مجہول بنایا جاسکتا ہے، جیسے نَصَرَ سے نُصِرَ اور ضَرَبَ سے ضُرِبَ۔ اس قاعدے کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ فعل کی پہلی دو حرکات کو الٹ کر پیش اور زیر میں تبدیل کردیا جائے، تیسرے حرف کی اصل حرکت (عموماً فتحہ) کو بدلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
مجہول جملے میں جو اسم فاعل کی جگہ لیتا ہے اسے نائب الفاعل، یعنی فاعل کا قائم مقام، کہا جاتا ہے، اور یہ ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے معروف جملے میں فاعل مرفوع ہوتا تھا، کیونکہ نحوی اعتبار سے یہ فاعل کے خالی مقام پر آکر اسی کا اعراب اختیار کرلیتا ہے۔ جب معروف جملہ
کو مجہول میں بدلا جاتا ہے تو یہ كُتِبَ الدَّرْسُ بن جاتا ہے — اصل فاعل الطَّالِبُ حذف ہوگیا، اور اصل مفعول بہ الدَّرْسَ نائب الفاعل بن گیا۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی اس کا اعراب بھی بدل جاتا ہے: منصوب (الدَّرْسَ، زبر کے ساتھ) سے مرفوع (الدَّرْسُ، پیش کے ساتھ) ہوجاتا ہے۔ یہی اعرابی تبدیلی — یعنی مفعول بہ کا نائب الفاعل بن کر منصوب سے مرفوع میں تبدیل ہونا — فعل مجہول کے پورے قاعدے کی سب سے نمایاں اور امتحان میں کثرت سے پوچھی جانے والی علامت ہے۔ یاد رہے کہ اگر جملے میں مفعول بہ موجود نہ ہو تو نائب الفاعل کسی اور متعلقہ اسم، جیسے ظرف یا جار مجرور، سے بھی بنایا جاسکتا ہے، مگر ابتدائی سطح پر عموماً مفعول بہ ہی نائب الفاعل بنتا ہے۔
قُرِئَفعل قَرَأَ (اس نے پڑھا) کی مجہول صورت ہے، جس کا مطلب ہے 'پڑھا گیا'۔ عام اصول کے مطابق تو پہلے حرف کو پیش اور ماقبلِ آخر کو زیر دیا جانا چاہیے تھا، اور بنیادی طور پر یہی ہوا بھی ہے، مگر چونکہ قَرَأَ کا آخری اصلی حرف ہمزہ ہے، اس لیے جب اس سے پہلے والے حرف (ر) پر کسرہ (زیر) آتی ہے تو ہمزہ کی نشست بھی اسی مناسبت سے تبدیل ہوجاتی ہے، اور وہ یاء کی کرسی پر لکھا جاتا ہے، یعنی ئَ کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ املائی تبدیلی ہمزہ کے قواعد کا حصہ ہے، نہ کہ مجہول کے بنیادی صرفی اصول میں کوئی استثنا۔ اسی طرح کے مہموز الآخر افعال، جیسے قَرَأَ، سَأَلَ وغیرہ، میں مجہول بناتے وقت ہمزہ کی جگہ کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے، جبکہ سالم افعال جیسے كَتَبَ، فَتَحَ، ضَرَبَ اور نَصَرَ میں ایسی کوئی پیچیدگی نہیں آتی اور بنیادی قاعدہ براہِ راست لاگو ہوجاتا ہے۔ طالب علم کو چاہیے کہ ایسے مہموز افعال کی فہرست الگ سے یاد کرے تاکہ املا میں غلطی نہ ہو، کیونکہ معنی اور قاعدہ دونوں درست ہونے کے باوجود محض ہمزہ کی غلط جگہ لکھنا جملے کو غلط بنا سکتا ہے۔
فُتِحَ الْبَابُ کا ترجمہ ہے: دروازہ کھولا گیا۔ اس جملے میں الْبَابُ نائب الفاعل ہے، جو مرفوع ہے (پیش کے ساتھ)، اور فعل فُتِحَ مجہول ہے۔ اگر اس جملے کو معروف میں بدلنا ہو تو ایک فاعل شامل کرنا ضروری ہوگا، مثلاً
— اس معروف جملے میں الْوَلَدُ فاعل بن کر مرفوع ہوا اور الْبَابَ مفعول بہ بن کر منصوب ہوا، یعنی وہی لفظ جو مجہول جملے میں الْبَابُ (مرفوع، نائب الفاعل) تھا، معروف جملے میں الْبَابَ (منصوب، مفعول بہ) بن گیا۔ اس مثال سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ مجہول اور معروف کے درمیان تبدیلی دراصل تین چیزوں کا مجموعہ ہے: فعل کے وزن کی تبدیلی (فَتَحَ سے فُتِحَ)، فاعل کا اضافہ یا حذف (الْوَلَدُ)، اور اسی کے نتیجے میں مفعول بہ کے اعراب کی تبدیلی (منصوب سے مرفوع یا مرفوع سے منصوب)۔ اس دو طرفہ تبدیلی کی مشق سے طالب علم دونوں سمتوں میں، یعنی معروف سے مجہول اور مجہول سے معروف، جملے بنانے کی مہارت حاصل کرتا ہے، اور یہی مہارت آگے چل کر پیچیدہ عبارتوں کے صحیح ترجمے اور تجزیے کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔
فعل مجہول بالخصوص ان عبارتوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے جہاں فاعل کا ذکر یا تو ممکن نہ ہو، یا ضروری نہ ہو، یا خود گفتگو کا مرکز نتیجہ ہو، فاعل نہیں۔ صحافتی زبان میں، مثلاً کسی واقعے کی خبر دیتے وقت اکثر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اصل ذمہ دار کون تھا، تو ایسے مواقع پر مجہول کا اسلوب اپنایا جاتا ہے، جیسے سُرِقَتِ السَّيَّارَةُ (گاڑی چوری کر لی گئی) ۔ علمی اور تاریخی تحریروں میں بھی، جہاں کسی عمارت کی تعمیر، کسی کتاب کی تصنیف، یا کسی واقعے کے وقوع کا ذکر ہو اور کرنے والے کا نام غیر متعلق یا واضح ہو، مجہول کا استعمال زیادہ مناسب اور مختصر معلوم ہوتا ہے، جیسے
۔ اس کے علاوہ، جب فاعل کو چھپانا مقصود ہو، یا شائستگی کا تقاضا یہ ہو کہ کسی کی خطا کا نام لے کر ذکر نہ کیا جائے، تب بھی فعل مجہول بہترین اسلوب ثابت ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم اور حدیثِ نبوی ﷺ کی زبان میں بھی متعدد مقامات پر مجہول کا استعمال ملتا ہے، جہاں نتیجے کی اہمیت فاعل کے ذکر سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔