مکمل مختصر سوالات و جوابات

مختصر سوالات مع جوابات

تمام پندرہ اسباق کے کل 106 مختصر سوالات و جوابات ایک ہی جگہ۔ نیچے دیے گئے خانوں سے مطلوبہ اسباق منتخب کریں۔

اسباق منتخب کریں

سبق 1۔ کلام، اسم اور فعل کا تعارف

کلمہ سے مراد زبان کا وہ مفرد لفظ ہے جو کسی معنی پر دلالت کرے، جیسے كِتَابٌ، كَتَبَ یا فِي — یہ اکیلا کوئی خبر یا مکمل بات نہیں دیتا۔ کلام یا جملہ اس وقت وجود میں آتا ہے جب دو یا زیادہ کلمات اس ترتیب سے جمع ہوں کہ سامع کو مکمل اور مفید معنی حاصل ہوجائے اور وہ اس پر سکوت کرکے مطمئن ہوجائے، جیسے الْوَلَدُ مُجْتَهِدٌ (لڑکا محنتی ہے) ۔ اس فرق کی اہمیت یہ ہے کہ عربی نحو کی پوری عمارت انہی دو درجوں پر استوار ہے: پہلے مرحلے میں طالب علم کو مفرد کلمہ کی قسم (اسم، فعل یا حرف) پہچاننا سکھایا جاتا ہے، اور دوسرے مرحلے میں انہی کلمات کو ملا کر مرکبات اور مکمل جملے بنانے کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔ اگر طالب علم کلمہ اور کلام کا یہ بنیادی فرق نہ سمجھے تو وہ نہ کسی عبارت کا درست تجزیہ کرسکے گا اور نہ خود کوئی درست جملہ تحریر کرسکے گا، اس لیے یہ تصور پورے مضمونِ انشاء کی بنیاد شمار ہوتا ہے۔

اسم وہ کلمہ ہے جو کسی زمانے کی قید کے بغیر اپنے معنی پر خود بخود دلالت کرے، جیسے كِتَابٌ (کتاب) یا مُحَمَّدٌ (محمد) — یہ محض کسی ذات یا شے کا نام ہے، اس میں ماضی، حال یا مستقبل کا کوئی تصور شامل نہیں۔ چونکہ یہ تعریف مجرد ہے، اس لیے نحویوں نے اسم کی چار عملی علامات مقرر کی ہیں۔ پہلی، اس پر حرفِ تعریف ال کا داخل ہونا، جیسے الْكِتَابُ۔ دوسری، تنوین کا قبول ہونا، جیسے كِتَابٌ، جہاں آخر میں دو زبر یا دو پیش آتا ہے۔ تیسری، اس کا حرفِ جر کے بعد آنا، جیسے فِي الْبَيْتِ (گھر میں)، کیونکہ حرفِ جر کے بعد ہمیشہ اسم ہی آتا ہے۔ چوتھی، اس کا مضاف بن جانا، یعنی کسی دوسرے اسم کی طرف نسبت کرکے مرکب اضافی بنانا، جیسے كِتَابُ الطَّالِبِ (طالب علم کی کتاب)۔ اگر کسی لفظ میں ان چار علامتوں میں سے ایک بھی پائی جائے تو وہ لفظ یقیناً اسم شمار ہوگا، فعل یا حرف ہرگز نہیں۔ عملی مشق کے لیے طالب علم کو چاہیے کہ کسی بھی عبارت کا مطالعہ کرتے وقت ہر لفظ پر یہ چاروں علامتیں باری باری آزمائے، کیونکہ بعض اوقات ایک ہی لفظ میں بیک وقت دو یا تین علامتیں بھی پائی جاسکتی ہیں، جیسے الطَّالِبِ میں ال بھی موجود ہے اور یہ کسی مضاف کی طرف مضاف الیہ بھی بن سکتا ہے، جس سے اسم ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔

فعل کی سب سے امتیازی علامت یہ ہے کہ اس پر ضمائرِ فاعلی بطور لاحقہ لگ سکتی ہیں، جیسے كَتَبْتُ (میں نے لکھا) یا كَتَبْنَا (ہم نے لکھا)، اور خاص طور پر یہ کہ اس پر تاءِ تانیثِ ساکنہ داخل ہوسکتی ہے، جیسے كَتَبَتْ (اس نے لکھا — مؤنث فاعل کے لیے)۔ یہ دونوں علامتیں نہ اسم میں پائی جاتی ہیں اور نہ حرف میں، اس لیے یہ فعل کی مخصوص شناخت شمار ہوتی ہیں۔ بنیادی فرق یہ ہے کہ اسم بغیر کسی زمانی قید کے کسی ذات یا شے کا نام بتاتا ہے، جبکہ فعل ہمیشہ کسی نہ کسی زمانے — ماضی، مضارع یا امر — کے ساتھ کسی کام یا حالت پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی اسم صرف یہ بتاتا ہے کہ کیا چیز ہے، جبکہ فعل یہ بھی بتاتا ہے کہ کیا ہوا، ہو رہا ہے، یا کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر كِتَابٌ محض کتاب کا نام ہے، جبکہ كَتَبَ کا مطلب ہے کہ لکھنے کا کام ماضی میں انجام پاچکا ہے۔ یہی زمانی دلالت فعل کو اسم سے ممتاز کرنے والا سب سے بنیادی وصف ہے۔

حرف وہ کلمہ ہے جس کا اپنا کوئی مستقل و مکمل معنی نہیں ہوتا، بلکہ یہ صرف اس وقت معنی دیتا ہے جب کسی اسم یا فعل کے ساتھ مل جائے، جیسے فِي (میں)، عَلَى (پر)، مِنْ (سے)، إِلَى (کی طرف) اور وَ (اور)۔ اگر حرف کو تنہا بولا جائے تو سامع کے ذہن میں کوئی مکمل تصور پیدا نہیں ہوتا؛ مثلاً اکیلا فِي کہنے سے کچھ مفہوم نہیں بنتا، لیکن جب یہ الْبَيْتِ سے مل جائے، جیسے فِي الْبَيْتِ (گھر میں)، تو ایک مکانی مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔ حرف کو اسم اور فعل سے ممتاز کرنے کا سب سے قابلِ اعتماد طریقہ منفی علامتوں کے ذریعے ہے: حرف پر نہ ال داخل ہوسکتا ہے، نہ تنوین آسکتی ہے، نہ یہ مضاف بن سکتا ہے، اور نہ اس پر تاءِ تانیثِ ساکنہ یا فاعل کی ضمائر لاحق ہوسکتی ہیں — یعنی اسم اور فعل کی تمام امتیازی علامتوں کی مکمل عدم موجودگی ہی حرف کی اصل پہچان ہے۔ اسی لیے حرف کو زبان کا وہ کلمہ کہا جاتا ہے جو محض ربط اور نسبت پیدا کرنے کا کام دیتا ہے۔

اس مختصر جملے میں تین الفاظ ہیں۔ الْوَلَدُ اسم ہے کیونکہ اس کے شروع میں حرفِ تعریف ال داخل ہے، اور یہ ایک ذات یعنی لڑکے کا نام بتا رہا ہے بغیر کسی زمانی قید کے۔ فِي حرف ہے کیونکہ اس کا اپنا کوئی مستقل معنی نہیں، یہ صرف الْوَلَدُ اور الْبَيْتِ کے درمیان مکانی تعلق یعنی ظرفیت ظاہر کرنے کے لیے آیا ہے، اور نہ اس پر ال آسکتا ہے نہ تنوین۔ الْبَيْتِ بھی اسم ہے، اسی وجہ سے کہ اس پر ال داخل ہے اور یہ حرفِ جر فِي کے بعد آیا ہے، جو اسم کی ایک الگ علامت ہے۔ چونکہ اس جملے میں کوئی فعل موجود نہیں، اس لیے یہ جملہ اسمیہ ہے، یعنی ایسا جملہ جس کی بنیاد دو اسموں — مبتدا الْوَلَدُ اور خبر فِي الْبَيْتِ — پر ہو، فعل پر نہیں۔ یہ تجزیہ اس بات کی بھی عمدہ مثال ہے کہ ایک مکمل جملہ محض دو اسموں اور ایک حرف سے بھی تشکیل پاسکتا ہے، اور فعل کی موجودگی جملہ بننے کے لیے لازمی شرط نہیں۔

اس سبق میں پڑھائے گئے دس بنیادی الفاظ میں سے كِتَابٌ (کتاب)، بَيْتٌ (گھر)، شَمْسٌ (سورج)، وَلَدٌ (لڑکا) اور مَدْرَسَةٌ (سکول) قابلِ ذکر ہیں۔ یہ تمام الفاظ نکرہ اسماء کی مثالیں اس لیے شمار ہوتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی کسی خاص اور معین شے کی نشاندہی نہیں کرتا، بلکہ اپنی جنس کے کسی بھی فرد پر عمومی طور پر دلالت کرتا ہے — مثلاً كِتَابٌ سنتے ہی سامع کے ذہن میں کوئی ایک معین کتاب نہیں آتی بلکہ کوئی بھی کتاب کا تصور آتا ہے۔ ان الفاظ کے نکرہ ہونے کی صرفی و نحوی علامت یہ ہے کہ یہ سب منون ہیں، یعنی ان کے آخر میں تنوین موجود ہے (كِتَابٌ، بَيْتٌ، وَلَدٌ وغیرہ)، اور ان پر حرفِ تعریف ال داخل نہیں کیا گیا۔ اگر انہی الفاظ پر ال داخل کردیا جائے، جیسے الْكِتَابُ یا الْبَيْتُ، تو یہ نکرہ سے نکل کر معرفہ بن جائیں گے، کیونکہ اب یہ کسی خاص و معلوم شے کی نشاندہی کریں گے۔ نکرہ اور معرفہ کا یہ مکمل فرق اگلے سبق میں تفصیل سے پڑھایا جائے گا۔

نحویوں نے زبان کے وسیع استقرائی مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہر بامعنی مفرد لفظ کے معنی کی نوعیت تین ہی صورتوں میں محدود ہے۔ یا تو وہ لفظ کسی ذات، شے یا وصف کا نام ہوگا اور اس میں کسی زمانے کی قید شامل نہیں ہوگی — یہ اسم کہلائے گا، جیسے قَلَمٌ۔ یا وہ لفظ کسی کام یا حالت پر دلالت کرے گا اور ساتھ ہی اس میں ماضی، حال یا مستقبل میں سے کسی زمانے کی نشاندہی بھی شامل ہوگی — یہ فعل کہلائے گا، جیسے كَتَبَ۔ یا پھر وہ لفظ بذاتِ خود کوئی مکمل و مستقل معنی نہیں رکھے گا بلکہ صرف دوسرے کلمات کے درمیان نسبت اور ربط پیدا کرے گا — یہ حرف کہلائے گا، جیسے فِي۔ چونکہ ہر ممکنہ معنی انہی تین دائروں — بغیر زمانہ کا نام، بمعہ زمانہ عمل، اور محض ربط — میں سما جاتا ہے، اس لیے کوئی چوتھی قسم عملاً ممکن ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صدیوں کے نحوی مطالعے کے باوجود آج تک اسم، فعل اور حرف کے علاوہ کلمہ کی کوئی چوتھی قسم تسلیم نہیں کی گئی۔

سبق 2۔ نکرہ اور معرفہ؛ الوان العربیہ

نکرہ وہ اسم ہے جو کسی خاص و معین شے کی نشاندہی نہیں کرتا بلکہ عمومی جنس پر دلالت کرتا ہے، جیسے رَجُلٌ (کوئی آدمی) — سننے والا نہیں جانتا کہ کون سا آدمی مراد ہے، بس اتنا معلوم ہے کہ کوئی آدمی ہے۔ جبکہ معرفہ وہ اسم ہے جو کسی خاص و متعین شے کی نشاندہی کرے، جیسے مُحَمَّدٌ (ایک معین شخص کا نام) یا الرَّجُلُ (وہ مخصوص آدمی جسے سننے والا پہلے سے پہچانتا ہے)۔ فرق کا لب لباب یہ ہے کہ نکرہ سننے والے کے ذہن میں کوئی خاص تصویر نہیں بناتا، جبکہ معرفہ ایک متعین اور معلوم تصور دیتا ہے۔ عملی طور پر نکرہ کی علامت یہ ہے کہ اس پر تنوین آتی ہے اور ال داخل نہیں ہوتا، جبکہ معرفہ اسماء اکثر ال، اسمِ علم، ضمیر، اسمِ اشارہ، اسمِ موصول یا اضافت کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عربی عبارت پڑھتے وقت سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہر اسم نکرہ ہے یا معرفہ، کیونکہ اسی سے آگے کے جملے کا نحوی ڈھانچہ متعین ہوتا ہے۔

معرفہ کی چھ اقسام یہ ہیں۔ پہلی، اسمِ علم — یعنی کسی خاص ذات کا نام، جیسے مُحَمَّدٌ۔ دوسری، ضمیر — یعنی وہ لفظ جو کسی اسم کی جگہ استعمال ہو، جیسے أَنَا (میں) یا هُوَ (وہ)۔ تیسری، اسمِ اشارہ — یعنی اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ، جیسے هَذَا (یہ) یا تِلْكَ (وہ، مؤنث کے لیے دور کا اشارہ)۔ چوتھی، اسمِ موصول — جیسے الَّذِي (جو، مذکر کے لیے)۔ پانچویں، اسم بمع ال — یعنی جس پر حرفِ تعریف داخل ہو، جیسے الْكِتَابُ۔ چھٹی، مضاف الی معرفہ — یعنی وہ اسم جو کسی معرفہ اسم کی طرف مضاف ہو، جیسے كِتَابُ مُحَمَّدٍ (محمد کی کتاب)، جہاں كِتَابُ خود بذاتِ خود نکرہ تھا مگر معرفہ اسم کی طرف اضافت کی وجہ سے معرفہ بن گیا۔ یہ چھ اقسام اس لیے وضع کی گئی ہیں تاکہ زبان میں پائے جانے والے تمام معرفہ اسماء کو ایک منظم فہرست میں سمویا جاسکے، اور طالب علم کسی بھی معرفہ لفظ کو دیکھتے ہی فوراً بتا سکے کہ وہ ان چھ میں سے کس قسم سے تعلق رکھتا ہے۔

بیشتر بنیادی رنگوں کی مذکر صفت أَفْعَل کے وزن پر اور مؤنث صفت فَعْلَاء کے وزن پر آتی ہے۔ مثلاً أَحْمَرُ (سرخ، مذکر) کا مؤنث حَمْرَاءُ ہے، أَخْضَرُ (سبز، مذکر) کا مؤنث خَضْرَاءُ ہے، أَصْفَرُ (پیلا، مذکر) کا مؤنث صَفْرَاءُ ہے، اور أَسْوَدُ (سیاہ، مذکر) کا مؤنث سَوْدَاءُ ہے۔ یہ وزن اس لیے یاد رکھنا آسان ہے کہ یہی وزن جسمانی عیوب یا مستقل صفات، جیسے أَعْمَى (اندھا)، کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے، اور خاص بات یہ ہے کہ اس وزن پر آنے والے الفاظ ممنوع من الصرف ہوتے ہیں، یعنی ان پر تنوین نہیں آتی۔ عملی طور پر، جب موصوف مذکر ہو، جیسے الْكِتَابُ، تو صفت أَفْعَل کے وزن پر آئے گی، یعنی الْكِتَابُ الْأَحْمَرُ، اور جب موصوف مؤنث ہو، جیسے الْحَقِيبَةُ، تو صفت فَعْلَاء کے وزن پر آئے گی، یعنی الْحَقِيبَةُ حَمْرَاءُ، تاکہ موصوف اور صفت میں تذکیر و تانیث کی مطابقت برقرار رہے۔ یہ اصول رنگوں کے علاوہ کئی دیگر صفاتی الفاظ پر بھی لاگو ہوتا ہے، مثلاً أَعْمَى (اندھا) کا مؤنث عَمْيَاءُ اور أَصَمُّ (بہرا) کا مؤنث صَمَّاءُ اسی وزن پر بنتا ہے، اس لیے ایک بار یہ قاعدہ یاد ہوجانے کے بعد طالب علم اسے متعدد الفاظ پر بآسانی منطبق کرسکتا ہے۔

دونوں مرکب توصیفی ہیں، یعنی موصوف اور اس کی صفت پر مشتمل ہیں، مگر ان میں تعریف و تنکیر کا بنیادی فرق ہے۔ الْكِتَابُ الْأَحْمَرُ معرفہ ہے، کیونکہ دونوں اجزاء — موصوف الْكِتَابُ اور صفت الْأَحْمَرُ — پر حرفِ تعریف ال داخل ہے، اور اس کا مطلب ہے وہ سرخ کتاب جسے سننے والا پہلے سے پہچانتا ہے۔ جبکہ كِتَابٌ أَحْمَرُ نکرہ ہے، کیونکہ دونوں الفاظ منون یعنی تنوین والے ہیں، اور اس کا مطلب ہے کوئی سرخ کتاب، غیر متعین اور نامعلوم۔ یہ مثال اس بنیادی اصول کو واضح کرتی ہے کہ مرکب توصیفی میں صفت ہمیشہ اپنے موصوف کی تعریف و تنکیر کی پیروی کرتی ہے — یعنی اگر موصوف معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ ہوگی، اور اگر موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی نکرہ ہوگی۔ اگر کوئی طالب علم غلطی سے الْكِتَابُ أَحْمَرُ یا كِتَابٌ الْأَحْمَرُ لکھ دے تو یہ نحوی اعتبار سے غلط شمار ہوگا، کیونکہ اس میں موصوف اور صفت کے درمیان تعریف و تنکیر کی مطابقت ٹوٹ جاتی ہے۔ اسی لیے عربی انشاء لکھتے وقت ہمیشہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اگر موصوف پر ال ہے تو صفت پر بھی ال آئے، اور اگر موصوف منون ہے تو صفت بھی منون رہے، ورنہ جملہ سننے یا پڑھنے والے کو فوراً کھٹکے گا۔

مضاف الی معرفہ معرفہ کی چھٹی اور آخری قسم ہے، جس میں کوئی ایسا لفظ جو بذاتِ خود نکرہ ہو، کسی دوسرے معرفہ اسم کی طرف مضاف ہوکر معرفہ کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔ كِتَابُ مُحَمَّدٍ (محمد کی کتاب) اس کی عمدہ مثال ہے، کیونکہ لفظ كِتَابُ اکیلا اپنی اصل حالت میں نکرہ ہوتا، یعنی کوئی بھی کتاب، لیکن جب یہ مُحَمَّدٍ کی طرف مضاف ہوا — جو خود اسمِ علم ہونے کی وجہ سے معرفہ ہے — تو پورا مرکب اضافی معرفہ بن گیا، یعنی اب یہ ایک معین اور معلوم کتاب کی نشاندہی کررہا ہے: وہ کتاب جو خاص طور پر محمد کی ملکیت ہے۔ یہ اصول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اضافت (یعنی مضاف کا مضاف الیہ کی طرف نسبت) اسم کی تعریف و تنکیر کو براہِ راست متاثر کرتی ہے: اگر مضاف الیہ معرفہ ہو تو پورا مرکب معرفہ بن جاتا ہے، اور اگر مضاف الیہ نکرہ ہو، جیسے كِتَابُ طَالِبٍ (کسی طالب علم کی کتاب)، تو پورا مرکب نکرہ ہی رہتا ہے۔ اسی اصول سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مرکب اضافی کی تعریف و تنکیر کا فیصلہ ہمیشہ آخری لفظ یعنی مضاف الیہ کی حالت سے ہوتا ہے، مضاف کی ذاتی حیثیت سے نہیں۔

موصوف اور صفت کے درمیان دو بنیادی پہلوؤں میں مطابقت لازمی ہے: پہلا، تذکیر و تانیث میں مطابقت، اور دوسرا، تعریف و تنکیر میں مطابقت۔ تذکیر و تانیث کی مطابقت کا مطلب یہ ہے کہ اگر موصوف مذکر ہو تو صفت بھی مذکر وزن پر آئے گی، جیسے قَلَمٌ أَحْمَرُ (سرخ قلم)، اور اگر موصوف مؤنث ہو تو صفت بھی مؤنث وزن پر آئے گی، جیسے وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ (سرخ پھول)۔ تعریف و تنکیر کی مطابقت کا مطلب یہ ہے کہ اگر موصوف معرفہ ہو تو صفت بھی معرفہ ہوگی، جیسے الْوَرْدَةُ الْحَمْرَاءُ (وہ سرخ پھول)، اور اگر موصوف نکرہ ہو تو صفت بھی نکرہ ہوگی، جیسے وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ۔ یہ دونوں پہلو بیک وقت لاگو ہوتے ہیں، یعنی ایک درست مرکب توصیفی میں چار حالتیں ممکن ہیں: مذکر-نکرہ، مذکر-معرفہ، مؤنث-نکرہ اور مؤنث-معرفہ، اور صفت ہر حالت میں موصوف کے عین مطابق آنی چاہیے، ورنہ جملہ نحوی طور پر غلط تصور ہوگا۔ ان دو اصولوں کو ایک ساتھ ذہن میں رکھنا خاص طور پر ابتدائی طلبہ کے لیے مشکل ہوتا ہے، اس لیے مشق کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ ہر مرکب توصیفی لکھتے وقت پہلے موصوف کی جنس اور تعریف طے کی جائے، پھر اسی کے مطابق صفت کا انتخاب کیا جائے۔

ضمیر اور اسمِ اشارہ کو معرفہ کی مستقل اقسام میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ یہ دونوں بذاتِ خود ہمیشہ کسی خاص و متعین چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں، اس لیے انہیں کبھی نکرہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ ضمیر، جیسے أَنَا (میں) یا هُوَ (وہ)، ہمیشہ کسی معین متکلم، مخاطب یا غائب کی جگہ استعمال ہوتا ہے — جب کوئی هُوَ کہتا ہے تو اس کے ذہن میں کوئی خاص شخص یا چیز ہوتی ہے، عمومی جنس نہیں۔ اسی طرح اسمِ اشارہ، جیسے هَذَا (یہ) یا تِلْكَ (وہ)، کسی مخصوص اور حاضر یا معلوم شے کی طرف براہِ راست اشارہ کرتا ہے، جیسے هَذَا كِتَابٌ (یہ ایک کتاب ہے) ، جہاں هَذَا اس مخصوص کتاب کی طرف اشارہ کررہا ہے جو سامنے موجود ہے۔ چونکہ ان دونوں اقسام کی نوعیت ہی تعین اور تخصیص پر مبنی ہے، اس لیے نہ ضمیر پر تنوین آسکتی ہے اور نہ اسمِ اشارہ پر، اور نہ یہ دونوں کبھی عمومی جنس کی نمائندگی کرتے ہیں — یہی وجہ ہے کہ یہ ہمیشہ معرفہ شمار ہوتے ہیں۔

سبق 3۔ مرکب ناقص (مذکر) کی تعیین؛ ایام الاسبوع

مرکب تام وہ ہے جو مکمل اور مستقل معنی دے، یعنی جملہ، جیسے الْوَلَدُ مُجْتَهِدٌ (لڑکا محنتی ہے) — اس پر سکوت کیا جاسکتا ہے کیونکہ بات مکمل ہوچکی ہے اور سامع کو کوئی مزید انتظار نہیں رہتا۔ مرکب ناقص وہ ہے جو اکیلا مکمل معنی نہ دے بلکہ کلام میں محض ایک اکائی کی طرح استعمال ہو، جیسے كِتَابٌ جَدِيدٌ (ایک نئی کتاب) — اس پر سکوت کرنے سے سننے والا منتظر رہتا ہے کہ ابھی مزید کچھ کہا جانا باقی ہے۔ فرق پہچاننے کا آسان اصول یہ ہے کہ مرکب تام میں ایک لفظ مبتدا اور دوسرا خبر کی حیثیت رکھتا ہے، یعنی جملہ اسمیہ یا فعلیہ بنتا ہے، جبکہ مرکب ناقص میں دونوں الفاظ مل کر صرف ایک ہی چیز کو بیان کرتے ہیں یا ایک اکائی تشکیل دیتے ہیں، جیسے موصوف-صفت یا مضاف-مضاف الیہ۔ یعنی سکوت کا اصول ہی وہ بنیادی کسوٹی ہے جس سے کسی بھی مرکب کی نوعیت جانچی جاتی ہے۔ اسی اصول کی بدولت طالب علم کسی بھی نامانوس عبارت میں بھی، بغیر گہرے صرفی تجزیے کے، محض سکوت کے تصور سے یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ سامنے کا مرکب مکمل جملہ ہے یا ابھی ادھورا ہے۔

مرکب ناقص کی دو مشہور اقسام ہیں: مرکب توصیفی اور مرکب اضافی۔ مرکب توصیفی وہ ہے جو موصوف اور اس کی صفت پر مشتمل ہو، یعنی ایک اسم اور اس کی خصوصیت بیان کرنے والا دوسرا اسم، جیسے كِتَابٌ جَدِيدٌ (ایک نئی کتاب)، جہاں كِتَابٌ موصوف ہے اور جَدِيدٌ اس کی صفت۔ مرکب اضافی وہ ہے جو مضاف اور مضاف الیہ پر مشتمل ہو، یعنی ایک اسم دوسرے اسم کی طرف نسبت یا ملکیت ظاہر کرے، جیسے بَيْتُ الطَّالِبِ (طالب علم کا گھر)، جہاں بَيْتُ مضاف ہے اور الطَّالِبِ مضاف الیہ۔ دونوں اقسام اس لحاظ سے مشترک ہیں کہ اکیلی حالت میں کوئی بھی مکمل خبر نہیں دیتیں اور کلام میں محض ایک اکائی کی طرح کام کرتی ہیں۔ ان دونوں کے تفصیلی تشکیلی قواعد — مثلاً یہ کہ صفت موصوف کی تذکیر و تانیث اور تعریف و تنکیر کی پیروی کرتی ہے، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور آتا ہے — اگلے سبق میں مکمل طور پر پڑھائے جائیں گے۔ فی الحال طالب علم کے لیے صرف یہ سمجھنا کافی ہے کہ ہر مرکب ناقص کی جڑ انہی دو بنیادی تعلقات میں سے کسی ایک پر ٹکی ہوتی ہے، خواہ عبارت میں یہ کتنے ہی الفاظ کے سلسلے میں دہرائے جائیں۔

مرکب ناقص کی تعیین میں سب سے پہلے یہ دیکھا جاتا ہے کہ الفاظ کا مجموعہ مکمل جملہ بناتا ہے یا نہیں۔ اگر نہیں بناتا تو اگلا مرحلہ یہ ہے کہ موصوف اور صفت، یا مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان تعلق کی نوعیت متعین کی جائے — یعنی آیا دوسرا لفظ پہلے کی صفت بیان کر رہا ہے، جسے توصیفی تعلق کہتے ہیں، یا ملکیت و نسبت ظاہر کر رہا ہے، جسے اضافی تعلق کہتے ہیں۔ مذکر مرکب کی تعیین میں خاص طور پر موصوف یا مضاف کی جنس یعنی مذکر ہونے کو پہچاننا ضروری ہے، کیونکہ اگر موصوف مذکر ہو تو صفت بھی لازماً مذکر وزن میں آئے گی، جیسے وَلَدٌ مُجْتَهِدٌ (محنتی لڑکا) نہ کہ مُجْتَهِدَةٌ۔ اسی طرح مذکر مضاف کی صورت میں مضاف الیہ کی جنس مستقل رہتی ہے کیونکہ اضافت میں مطابقت لازم نہیں ہوتی، مگر خود مضاف کی جنس آگے آنے والے مبتدا-خبر یا موصوف-صفت کے تعلق کو ضرور متاثر کرتی ہے۔ لہٰذا کسی بھی مذکر مرکب کا تجزیہ کرتے وقت طالب علم کو پہلے موصوف یا مضاف کی نشاندہی کرنی چاہیے، پھر اس کی جنس معلوم کرکے آگے کی صفت یا خبر کی صحیح شکل کا اندازہ لگانا چاہیے۔

كِتَابٌ جَدِيدٌ مرکب ناقص، اور خاص طور پر مرکب توصیفی، کی مثال ہے، کیونکہ یہ اکیلا کوئی مکمل خبر نہیں دیتا — یہ صرف موصوف كِتَابٌ اور اس کی صفت جَدِيدٌ کا مجموعہ ہے جو کلام میں ایک اکائی کے طور پر استعمال ہوتا ہے، اور سننے والا اس پر سکوت کرکے مطمئن نہیں ہوتا بلکہ منتظر رہتا ہے کہ ابھی کوئی خبر باقی ہے۔ اسے مرکب تام یعنی جملے میں تبدیل کرنے کے لیے اس میں ایک مبتدا یا خبر کا اضافہ کرنا ضروری ہے، مثلاً

﴿هَذَا كِتَابٌ جَدِيدٌیہ ایک نئی کتاب ہے

— اب یہ ایک مکمل جملہ اسمیہ بن گیا ہے جس پر سکوت کیا جاسکتا ہے، کیونکہ هَذَا مبتدا اور كِتَابٌ جَدِيدٌ (بمعہ اپنے اندرونی توصیفی تعلق کے) پوری خبر بن گیا۔ اسی طرح اسے فعل کے ساتھ بھی مکمل کیا جاسکتا ہے، مثلاً

﴿اِشْتَرَيْتُ كِتَابًا جَدِيدًامیں نے ایک نئی کتاب خریدی

، جہاں پورا مرکب ناقص جملہ فعلیہ میں مفعول بن جاتا ہے۔ ان دونوں طریقوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مرکب ناقص اپنی اصل حیثیت میں محض ایک تصوراتی اکائی ہوتا ہے، اور اسے کلام میں مکمل جملے کا درجہ دینے کے لیے یا تو اسمیہ ساخت میں مبتدا-خبر کا اضافہ درکار ہوتا ہے یا فعلیہ ساخت میں فعل و فاعل کا۔

ہفتے کے سات دن یہ ہیں: الْأَحَدُ (اتوار)، الْإِثْنَيْنِ (پیر)، الثُّلَاثَاءُ (منگل)، الْأَرْبِعَاءُ (بدھ)، الْخَمِيسُ (جمعرات)، الْجُمُعَةُ (جمعہ)، اور السَّبْتُ (ہفتہ)۔ یہ سب معرفہ اسماء ہیں، کیونکہ ہر دن کے نام پر حرفِ تعریف ال داخل ہے، اور ہر دن اپنی جگہ ایک مخصوص و متعین وقت کی نشاندہی کرتا ہے، اس لیے اسے نکرہ کے بجائے معرفہ سمجھا جاتا ہے — جب کوئی الثُّلَاثَاءُ کہتا ہے تو سامع کے ذہن میں ایک خاص، معلوم دن آتا ہے، عمومی جنس نہیں۔ عملی جملوں میں دن کا نام لینے کے لیے عام طور پر يَوْمَ (دن) کا لفظ ساتھ لگایا جاتا ہے، جیسے يَوْمَ الْجُمُعَةِ (جمعہ کے دن)، جو خود ایک مرکب اضافی بناتا ہے۔ عربی ہفتہ اتوار سے شروع ہوکر ہفتہ یعنی سنیچر پر ختم ہوتا ہے، اور یہ ترتیب یاد رکھنا انشاء میں تاریخ و وقت بیان کرنے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ان سات ناموں کو زبانی یاد کرنا اس لیے بھی اہم ہے کہ ان کے بغیر روزمرہ گفتگو میں تاریخ، ملاقات کا وقت، یا کسی سرگرمی کا دن بتانا ممکن ہی نہیں، اور یہ الفاظ آگے چل کر مہینوں اور موسموں کے نام سیکھنے کی بنیاد بھی فراہم کرتے ہیں۔

يَوْمَ الْجُمُعَةِ ایک مرکب اضافی، یعنی مرکب ناقص کی ایک عملی مثال ہے، جس میں يَوْمَ مضاف ہے اور الْجُمُعَةِ مضاف الیہ۔ اس ترکیب کا مقصد یہ ہے کہ صرف الْجُمُعَةُ کہنے کے بجائے، جو خود ایک معرفہ اسم ہے، اس سے پہلے يَوْمَ لگا کر یہ واضح کیا جائے کہ مراد جمعہ کا پورا دن ہے، خاص طور پر جب اسے ظرفِ زمان کے طور پر جملے میں استعمال کرنا ہو۔ چونکہ یہ ترکیب مرکب ناقص ہے، اس لیے یہ اکیلی کوئی مکمل خبر نہیں دیتی بلکہ کلام میں ایک اکائی کے طور پر کام کرتی ہے، جیسے

﴿أَذْهَبُ إِلَى الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِمیں جمعہ کے دن مسجد جاتا ہوں

، جہاں يَوْمَ الْجُمُعَةِ پورے جملے میں ظرفِ زمان کی حیثیت سے آیا ہے۔ چونکہ الْجُمُعَةِ خود معرفہ ہے، اس لیے اضافت کے قاعدے کے مطابق پورا مرکب يَوْمَ الْجُمُعَةِ بھی معرفہ شمار ہوگا، اور اس کے مضاف الیہ یعنی الْجُمُعَةِ پر ہمیشہ کسرہ (زیر) آئے گا کیونکہ مضاف الیہ نحوی طور پر مجرور ہوتا ہے۔ یہی اصول تمام دنوں کے ناموں کے ساتھ يَوْمَ لگاتے وقت لاگو ہوتا ہے۔

بَيْتُ الطَّالِبِ (طالب علم کا گھر) مرکب ناقص کی دوسری قسم، یعنی مرکب اضافی، کی مثال ہے، جس میں بَيْتُ مضاف ہے اور الطَّالِبِ مضاف الیہ، اور دونوں کے درمیان ملکیت یا نسبت کا تعلق پایا جاتا ہے۔ چونکہ یہ مرکب اکیلا کوئی خبر نہیں دیتا، اس لیے سننے والا اس پر سکوت کرکے مطمئن نہیں ہوتا اور مزید بات کا منتظر رہتا ہے۔ اسے مرکب تام یعنی مکمل جملے میں تبدیل کرنے کے لیے کسی مبتدا یا خبر کا اضافہ ضروری ہے، مثلاً

﴿هَذَا بَيْتُ الطَّالِبِیہ طالب علم کا گھر ہے

، جہاں هَذَا مبتدا اور بَيْتُ الطَّالِبِ (اپنے اندرونی اضافی تعلق کے ساتھ) خبر بن گیا، اور اب یہ ایک مکمل جملہ اسمیہ ہے جس پر سکوت کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرح اسے فعل کے ذریعے بھی مکمل کیا جاسکتا ہے، جیسے

﴿زُرْتُ بَيْتَ الطَّالِبِمیں نے طالب علم کے گھر کی زیارت کی

، جہاں پورا مرکب اضافی مفعول بہ کے طور پر جملے کا حصہ بن گیا۔ ان دونوں مثالوں سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایک ہی مرکب اضافی مختلف جملوں میں کبھی خبر بن سکتا ہے اور کبھی مفعول، لیکن اس کی اندرونی نحوی ساخت — یعنی مضاف اور مضاف الیہ کا آپس میں تعلق — ہمیشہ ایک ہی رہتی ہے۔

سبق 4۔ مرکب توصیفی اور اضافی؛ شہور ہجریہ و میلادیہ

مرکب توصیفی وہ مرکب ہے جو ایک اسم، جسے موصوف کہا جاتا ہے، اور اس کی کسی صفت، حالت یا کیفیت کو بیان کرنے والے دوسرے اسم، جسے صفت کہتے ہیں، کے ملاپ سے بنتا ہے۔ صفت ہمیشہ موصوف کے فوراً بعد آتی ہے اور اس کے ساتھ چار امور میں لازمی مطابقت رکھتی ہے۔ پہلا امر تذکیر و تانیث ہے، یعنی موصوف مذکر ہو تو صفت بھی مذکر ہوگی، اور مؤنث ہو تو صفت بھی مؤنث ہوگی۔ دوسرا امر عدد ہے، یعنی مفرد، تثنیہ یا جمع کی مکمل مطابقت۔ تیسرا امر تعریف و تنکیر ہے، یعنی دونوں معرفہ ہوں یا دونوں نکرہ۔ چوتھا امر اعراب ہے، یعنی دونوں مرفوع، منصوب یا مجرور ہوں۔ مثال کے طور پر الْمُعَلِّمُ النَّشِيطُ (وہ چست استاد) میں دونوں الفاظ مذکر ہیں، مفرد ہیں، دونوں پر ال ہونے کی وجہ سے معرفہ ہیں، اور دونوں مرفوع ہیں۔ اگر ان چاروں امور میں سے کسی ایک میں بھی فرق آجائے تو پورا جملہ گرامری طور پر غلط ہوجائے گا، اسی لیے مرکب توصیفی بناتے وقت ان چاروں پہلوؤں پر بیک وقت نظر رکھنی نہایت ضروری ہے۔

مرکب اضافی دو اسموں کے درمیان ملکیت، نسبت یا تعلق کے رشتے سے بنتا ہے۔ پہلے اسم کو مضاف اور دوسرے کو مضاف الیہ کہا جاتا ہے۔ مضاف پر دو پابندیاں لازمی طور پر لاگو ہوتی ہیں: پہلی یہ کہ اس سے تنوین بالکل ختم ہوجاتی ہے، اور دوسری یہ کہ اس پر حرفِ تعریف ال کبھی داخل نہیں ہوسکتا، چاہے مضاف الیہ خود معرفہ ہی کیوں نہ ہو۔ اس کے مقابلے میں مضاف الیہ ہمیشہ مجرور، یعنی کسرہ یا اس کے قائم مقام علامت کی حالت میں رہتا ہے، اور یہ حالت خود مرکب کے اعراب سے بالکل آزاد ہے۔ مثال کے طور پر كِتَابُ الْمُعَلِّمِ (استاد کی کتاب) میں كِتَابُ مضاف ہے، بغیر تنوین اور بغیر ال کے، جبکہ الْمُعَلِّمِ مضاف الیہ ہے، مجرور کی حالت میں۔ اگر یہی مرکب کسی جملے میں مفعول بن جائے، جیسے

﴿قَرَأْتُ كِتَابَ الْمُعَلِّمِمیں نے استاد کی کتاب پڑھی

، تو مضاف منصوب ہوجائے گا مگر مضاف الیہ پھر بھی مجرور ہی رہے گا، کیونکہ مضاف الیہ کی حالتِ جر مرکب کے موقعِ اعراب سے متاثر نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہمیشہ جر کی حالت میں ہی رہتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں فاعل ہو، مفعول ہو یا کسی حرفِ جر کے بعد آئے۔

مرکب اضافی کی تعریف و تنکیر کا فیصلہ ہمیشہ مضاف الیہ کی بنیاد پر ہوتا ہے، مضاف کی بنیاد پر ہرگز نہیں، کیونکہ مضاف پر تو ویسے بھی ال داخل نہیں ہوسکتا اور نہ ہی تنوین باقی رہتی ہے۔ اگر مضاف الیہ معرفہ ہو، جیسے کسی علم یا ال والے اسم کی صورت میں، تو پورا مرکب معرفہ شمار ہوگا۔ مثلاً بَابُ الْبَيْتِ (گھر کا دروازہ) میں بَابُ پر کوئی علامتِ تعریف موجود نہیں، مگر چونکہ مضاف الیہ الْبَيْتِ پر ال موجود ہے، اس لیے پورا مرکب معرفہ بن گیا، اور اس کا معنی ہے 'وہ مخصوص دروازہ جو اس خاص گھر کا ہے'، نہ کہ کوئی بھی عام دروازہ۔ اس کے برعکس اگر مضاف الیہ نکرہ ہو، جیسے بَابُ بَيْتٍ (ایک گھر کا دروازہ) ، تو پورا مرکب بھی نکرہ ہی شمار ہوگا۔ یہ اصول عملی طور پر بہت اہم ہے، کیونکہ اگر بعد میں اس مرکب کی کوئی صفت لگانی ہو تو اس صفت کی تعریف و تنکیر بھی مضاف الیہ کی حالت کے مطابق ہی طے کی جائے گی، جیسے

﴿كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُ

میں الْجَدِيدُ معرفہ آیا کیونکہ الطَّالِبِ معرفہ تھا، ورنہ صفت بھی نکرہ ہی آتی۔

دونوں مرکبات کے درمیان امتیاز کا سب سے آسان اور قابلِ اعتماد طریقہ یہ ہے کہ دونوں الفاظ کے درمیان اردو کے لفظ 'کا، کی یا کے' کا اضافہ کرکے معنی کو جانچا جائے۔ اگر ایسا کرنے سے جملے کا مفہوم درست اور فطری بن جائے تو یہ مرکب اضافی ہے، کیونکہ اس میں دوسرا لفظ پہلے کی ملکیت یا نسبت ظاہر کرتا ہے۔ اور اگر ایسا کرنے سے معنی بگڑ جائے یا بے معنی ہوجائے تو یہ مرکب توصیفی ہے، کیونکہ اس میں دوسرا لفظ محض پہلے کی کوئی صفت یا کیفیت بیان کرتا ہے۔ مثال کے طور پر كِتَابُ الطَّالِبِمیں 'طالب علم کا کتاب' کا مفہوم بالکل درست اور فطری بنتا ہے، اس لیے یہ مرکب اضافی ہے۔ اس کے برعکس كِتَابٌ جَدِيدٌ میں 'نئے کا کتاب' کہنا بے معنی ہے، اس لیے یہ مرکب توصیفی ہے۔ ایک اضافی علامت یہ بھی ہے کہ مرکب اضافی میں مضاف سے تنوین اور ال گر جاتے ہیں، جبکہ مرکب توصیفی میں موصوف اور صفت دونوں پر یہ تنوین یا ال بیک وقت موجود رہ سکتے ہیں، بلکہ ہونے بھی چاہئیں، ورنہ چاروں امور کی مطابقت ٹوٹ جائے گی اور جملہ گرامری طور پر خراب ہوجائے گا۔

اسلامی قمری سال کے بارہ مہینے ترتیب سے یہ ہیں: مُحَرَّمٌ، صَفَرٌ، رَبِيعٌ الْأَوَّلُ، رَبِيعٌ الْآخِرُ، جُمَادَى الْأُولَى، جُمَادَى الْآخِرَةُ، رَجَبٌ، شَعْبَانُ، رَمَضَانُ، شَوَّالٌ، ذُو الْقَعْدَةِ، اور ذُو الْحِجَّةِ۔ ان میں سے رَبِيعٌ الْأَوَّلُ، رَبِيعٌ الْآخِرُ، جُمَادَى الْأُولَى، جُمَادَى الْآخِرَةُ، ذُو الْقَعْدَةِ اور ذُو الْحِجَّةِ در حقیقت خود مرکب اضافی کی زندہ مثالیں ہیں، کیونکہ ان میں پہلا لفظ، یعنی رَبِيعٌ، جُمَادَى یا ذُو، دوسرے لفظ کی طرف مضاف ہے اور اس سے ایک خاص نسبت رکھتا ہے۔ مثلاً ذُو الْحِجَّةِ کا لفظی معنی 'حج والا مہینہ' ہے، جہاں ذُو مضاف ہے اور الْحِجَّةِ مضاف الیہ، مجرور کی حالت میں، بالکل اسی طرح جیسے جُمَادَى الْأُولَى میں الْأُولَى مضاف الیہ کے حکم میں شمار ہوتا ہے اور اس مہینے کو دوسرے جمادی سے ممتاز کرتا ہے۔ اسی طرح رَبِيعٌ الْأَوَّلُ اور رَبِيعٌ الْآخِرُ دراصل ایک ہی موسمِ ربیع کے دو الگ الگ مہینوں کی نشاندہی کے لیے مرکب توصیفی نما ترتیب رکھتے ہیں۔ یہ حقیقت طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ نحو کے قواعد محض کتابی نہیں بلکہ روزمرہ کے مانوس ترین الفاظ میں بھی برابر کارفرما ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اسلامی مہینوں کے نام یاد کرنا دراصل مرکب اضافی کی زندہ مشق بھی بن جاتا ہے۔

عیسوی سال کے بارہ مہینوں کے عربی نام یہ ہیں: يَنَايِرُ، فِبْرَايِرُ، مَارِسُ، أَبْرِيلُ، مَايُو، يُونِيُو، يُولِيُو، أَغُسْطُسُ، سِبْتَمْبِرُ، أُكْتُوبَرُ، نُوفِمْبِرُ، اور دِيسِمْبِرُ۔ اسلامی مہینوں کے ناموں کے برعکس، جو خالص عربی الاصل ہیں اور بعض تو خود نحوی مرکبات بھی ہیں، عیسوی مہینوں کے یہ نام دراصل انگریزی یا لاطینی الفاظ کی معرب یعنی عربی شکل ہیں، اسی لیے ان کی آوازیں غیر عربی الفاظ سے ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی نام مضاف اور مضاف الیہ کی ترکیب پر مشتمل نہیں، بلکہ ہر مہینہ ایک ہی مفرد لفظ سے مکمل ہوتا ہے۔ چونکہ یہ الفاظ عجمی الاصل ہیں، اس لیے ان کی ہجے اور تلفظ اکثر مقرر ہوتے ہیں اور انہیں محض ازبر یاد کرنا پڑتا ہے۔ جملے میں استعمال کی مثال

﴿وُلِدْتُ فِي شَهْرِ سِبْتَمْبِرَمیں ستمبر کے مہینے میں پیدا ہوا

سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ان ناموں سے پہلے اکثر لفظ شَهْرِ (مہینہ) بھی مرکب اضافی کی صورت میں لگایا جاتا ہے، جس میں شَهْرِ مضاف اور مہینے کا نام مضاف الیہ کے حکم میں شمار ہوتا ہے، اور یوں دونوں سبقوں کا موازنہ طلبہ کے لیے مہینوں کی دو الگ الگ گرامری بناوٹ کو یاد رکھنا آسان بنا دیتا ہے۔

سبق 5۔ تذکیر و تأنیث؛ فصول السنہ

مؤنث کی تین بنیادی لفظی علامات مقرر کی گئی ہیں، جن کی بنیاد پر کسی اسم کو ظاہری طور پر مؤنث پہچانا جاتا ہے۔ پہلی علامت تاءِ مربوطہ ہے، جو گول تاء کی صورت میں الفاظ کے آخر میں آتی ہے، جیسے مَدْرَسَةٌ (سکول) اور طَالِبَةٌ (طالبہ)، اور یہ سب سے زیادہ عام، سب سے زیادہ کثیر الاستعمال اور آسانی سے پہچانی جانے والی علامت ہے۔ دوسری علامت الفِ ممدودہ ہے، جو ہمزہ کے ساتھ لمبی الف کی صورت میں آتی ہے، جیسے صَحْرَاءُ (صحرا) اور حَمْرَاءُ (سرخ رنگ، مؤنث صورت)۔ تیسری علامت الفِ مقصورہ ہے، جو مختصر الف کی صورت میں الفاظ کے آخر میں آتی ہے، جیسے كُبْرَى (بڑی) اور سَلْمَى (ایک عربی نام) ۔ جس لفظ کے آخر میں ان تینوں علامتوں میں سے کوئی ایک بھی موجود ہو، وہ لفظی طور پر مؤنث شمار کیا جائے گا، اور اس کی بنیاد پر جملے میں فعل، صفت اور ضمیر سب مؤنث صورت میں لائے جائیں گے، تاکہ چاروں مطابقتوں میں سے تذکیر و تانیث کی مطابقت مکمل رہے اور جملہ گرامری اعتبار سے درست اور فصیح شمار ہو، اور اسی بنیاد پر آگے چل کر پورے جملے کی ساخت بھی درست بنتی ہے۔

مؤنث سماعی وہ الفاظ ہیں جن پر مؤنث ہونے کی کوئی ظاہری لفظی علامت، یعنی تاءِ مربوطہ، الفِ ممدودہ یا الفِ مقصورہ، موجود نہیں ہوتی، مگر عربوں کے دیرینہ استعمال اور رواج کی بنا پر، یعنی سماعاً، یہ الفاظ مؤنث مانے جاتے ہیں۔ اس کی سب سے مشہور مثالیں شَمْسٌ (سورج)، أَرْضٌ (زمین)، سَمَاءٌ (آسمان)، اور نَارٌ (آگ) ہیں، جن میں سے کسی پر بھی مؤنث کی کوئی علامت موجود نہیں۔ اس کے برعکس لفظی مؤنث وہ ہے جس کی پہچان محض لفظ کو دیکھ کر ہی ہوجاتی ہے، کیونکہ اس پر تینوں علامتوں میں سے کوئی ایک موجود ہوتی ہے۔ چونکہ مؤنث سماعی کا کوئی قاعدہ کارفرما نہیں، اس لیے یہ الفاظ لغت سے براہِ راست ازبر کرنے پڑتے ہیں، اور جملہ بناتے وقت طالب علم کو ان کی فہرست ذہن میں رکھنی چاہیے تاکہ فعل و صفت میں غلطی نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم شَمْسٌ کو مذکر سمجھ کر اس کی صفت مذکر بنا دے، جیسے شَمْسٌ سَاطِعٌ کہہ دے، تو یہ گرامری غلطی ہوگی، درست صورت شَمْسٌ سَاطِعَةٌ ہے، کیونکہ شَمْسٌ سماعاً مؤنث ہے، خواہ اس پر کوئی لفظی علامت ظاہر نہ ہو۔

ان دونوں جملوں میں فرق کی بنیادی وجہ فاعل کی جنس ہے۔ الْوَلَدُ ذَهَبَمیں فاعل الْوَلَدُ مذکر ہے، اس لیے فعل ذَهَبَ اپنی اصل صورت میں ہی رہا، مگر الْبِنْتُ ذَهَبَتْمیں فاعل الْبِنْتُ مؤنث ہے، اس لیے فعل کے آخر میں تاءِ تانیثِ ساکنہ کا اضافہ کیا گیا تاکہ فعل اپنے فاعل کی جنس سے ہم آہنگ ہو۔ یہ اصول عربی نحو کا ایک بنیادی قاعدہ ہے کہ فعل ہمیشہ اپنے فاعل کی جنس کی پیروی کرتا ہے، خواہ فعل ماضی ہو یا مضارع۔ یہی اصول ضمیر پر بھی لاگو ہوتا ہے: مذکر کے لیے ضمیر هُوَاستعمال ہوگا، جیسے هُوَ طَالِبٌ، جبکہ مؤنث کے لیے هِيَاستعمال ہوگا، جیسے هِيَ طَالِبَةٌ ۔ یوں تذکیر و تانیث کی مطابقت فعل اور ضمیر دونوں پر یکساں طور پر لاگو ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اسے عربی زبان کا ایک ہمہ گیر اصول قرار دیا جاتا ہے۔ اسی اصول کی بنا پر مضارع کے صیغوں میں بھی فرق آتا ہے، جیسے الْوَلَدُ يَذْهَبُ (لڑکا جاتا ہے) بمقابلہ الْبِنْتُ تَذْهَبُ (لڑکی جاتی ہے)، جہاں فعل کے شروع میں ت کا اضافہ مؤنث فاعل کی نشاندہی کرتا ہے۔

مذکر اسم عربی زبان کی اصل اور بنیادی حالت ہوتا ہے اور اس پر مؤنث کی کوئی خاص لفظی علامت نہیں لگتی، جیسے وَلَدٌ (لڑکا) اور كِتَابٌ (کتاب) ۔ اسے 'غیرِ علامت زدہ' اس لیے کہا جاتا ہے کہ عربی گرامر میں یہ اصول کارفرما ہے کہ جب تک کسی اسم میں مؤنث کی کوئی واضح لفظی علامت، یعنی تاءِ مربوطہ، الفِ ممدودہ یا الفِ مقصورہ، یا سماعی حیثیت موجود نہ ہو، اس اسم کو بطورِ اصول مذکر ہی سمجھا جاتا ہے۔ یعنی مذکر کی کوئی مثبت اور جداگانہ علامت بیان نہیں کی جاتی؛ اس کی پہچان دراصل مؤنث کی علامتوں کی عدم موجودگی سے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زبان سیکھنے والے کو صرف مؤنث کی علامتیں یاد کرنی پڑتی ہیں، اور جو لفظ ان علامتوں سے خالی ہو، وہ خودبخود مذکر شمار ہوجاتا ہے، اور اسی بنیاد پر اس پر لگنے والی صفت، فعل اور ضمیر بھی مذکر صورت میں لائے جاتے ہیں۔ اسی اصول کی روشنی میں یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ عربی لغت میں مؤنث الفاظ کی فہرست محدود اور قابلِ ذکر ہے، جبکہ مذکر الفاظ کی کوئی الگ فہرست نہیں بنائی جاتی، کیونکہ باقی تمام الفاظ خودبخود اسی زمرے میں شمار ہوجاتے ہیں۔

سال کے چار موسموں کے عربی نام یہ ہیں: الرَّبِيعُ (بہار)، الصَّيْفُ (گرمی)، الْخَرِيفُ (خزاں)، اور الشِّتَاءُ (سردی)۔ یہ چاروں نام بذاتِ خود مذکر ہیں، حالانکہ الشِّتَاءُ کے آخر کی آواز بظاہر الفِ ممدودہ سے ملتی جلتی محسوس ہوسکتی ہے، مگر یہ محض حرفِ اصلی کا حصہ ہے، علامتِ تانیث نہیں، اس لیے اسے مذکر ہی شمار کیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ چاروں مذکر ہیں، اس لیے ان پر مبنی کوئی بھی صفت بھی مذکر صورت میں ہی آئے گی، جیسے الشِّتَاءُ بَارِدٌ (سردی کا موسم ٹھنڈا ہے) اور الصَّيْفُ حَارٌّ (گرمی کا موسم گرم ہے) ۔ اگر غلطی سے ان موسموں کے ساتھ مؤنث صفت لگا دی جائے، جیسے بَارِدَةٌ، تو جملہ گرامری طور پر غلط ہوجائے گا۔ اسی لیے ان چاروں موسمی ناموں کی جنس کو خاص طور پر ذہن نشین کرلینا ضروری ہے، تاکہ ان پر جملے بناتے وقت مطابقتِ تذکیر و تانیث میں کوئی غلطی نہ ہو۔ نیز یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ عربی زبان میں ایسے کئی الفاظ موجود ہیں جن کی آواز مؤنث جیسی محسوس ہوتی ہے مگر وہ حقیقت میں مذکر ہوتے ہیں، اس لیے صرف آواز پر بھروسا نہ کرکے، ہر لفظ کی جنس کو باقاعدہ یاد کرلینا ہی محفوظ طریقہ ہے۔

تذکیر و تانیث کی مطابقت عربی جملے کے تین بنیادی اجزاء پر لاگو ہوتی ہے: فعل، صفت اور ضمیر۔ فعل اپنے فاعل کی جنس کے مطابق ہوتا ہے، جیسے مؤنث فاعل کے ساتھ فعل پر تاءِ تانیث آتی ہے۔ صفت اپنے موصوف کی جنس کے مطابق ہوتی ہے، جیسے مؤنث موصوف کی صفت پر بھی علامتِ تانیث آتی ہے۔ اور ضمیر اپنے مرجع کی جنس کے مطابق منتخب کیا جاتا ہے، یعنی مذکر کے لیے هُوَ اور مؤنث کے لیے هِيَ استعمال ہوتا ہے۔ ایک مکمل جملہ

﴿الْبِنْتُ الذَّكِيَّةُ ذَهَبَتْ إِلَى الْمَدْرَسَةِ وَهِيَ سَعِيدَةٌوہ ذہین لڑکی خوش ہوکر سکول گئی

میں تینوں اجزاء کی مطابقت واضح دکھائی دیتی ہے: صفت الذَّكِيَّةُ، فعل ذَهَبَتْ، اور ضمیر هِيَ، سب مؤنث موصوف الْبِنْتُ کے مطابق مؤنث صورت میں آئے ہیں۔ یہ مثال ثابت کرتی ہے کہ تذکیر و تانیث کا اصول جملے کے ہر جزو کو یکساں طور پر باندھے رکھتا ہے، اور اگر کسی ایک جزو میں بھی چوک ہوجائے، مثلاً صفت مذکر رہ جائے یا ضمیر غلط منتخب ہو، تو پورا جملہ گرامری اعتبار سے کمزور اور غلط شمار ہوگا، چاہے باقی تمام اجزاء درست ہوں۔

سبق 6۔ توصیف و تنکیر میں تفریق اور مطابقت کے مزید قواعد؛ اوقات و زمان

جمعِ غیر عاقل، یعنی غیر ذی روح اشیاء کی جمع، کی صفت عموماً مفرد مؤنث کی صورت میں آتی ہے، خواہ اصل موصوف مذکر ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر كُتُبٌ جَدِيدَةٌ (نئی کتابیں) میں كُتُبٌ جمع مذکر ہے، مگر صفت جَدِيدَةٌ مفرد مؤنث کی صورت میں آئی، اور اسی طرح أَقْلَامٌ طَوِيلَةٌ (لمبی قلمیں) اور بُيُوتٌ صَغِيرَةٌ (چھوٹے گھر) میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ یہ اصول بظاہر موصوف کی اصل جنس سے متصادم لگتا ہے، کیونکہ عام قاعدے کے مطابق صفت کو موصوف کے عدد اور جنس دونوں کی پیروی کرنی چاہیے، مگر عربی زبان میں یہ ایک قائم شدہ استثنا ہے جسے 'جمعِ غیر عاقل، واحدِ مؤنث کے حکم میں' کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ غیر ذی روح اشیاء کی جمع کو معنوی اعتبار سے ایک اکائی یا جماعت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور اسی لیے اس کی صفت بھی واحد مؤنث کی صورت اختیار کرلیتی ہے، چاہے مفرد شے مذکر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ قاعدہ نحوِ عربی کے مبتدی طلبہ کے لیے سب سے زیادہ مشکل اور غیرمانوس محسوس ہوتا ہے، اس لیے اسے مکرر مثالوں کے ذریعے ذہن نشین کرنا ضروری ہے، جیسے مَدَارِسُ جَمِيلَةٌ (خوبصورت سکول) میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔

جمعِ عاقل، یعنی انسانوں کی جمع، کی صفت اپنی حقیقی جمع کی صورت میں ہی آتی ہے اور تذکیر و تانیث کی مطابقت بھی مکمل طور پر برقرار رہتی ہے، جیسے طُلَّابٌ مُجْتَهِدُونَ (محنتی طالب علم) میں صفت مُجْتَهِدُونَ بھی جمع مذکر سالم کی صورت میں آئی، اور طَالِبَاتٌ مُجْتَهِدَاتٌ (محنتی طالبات) میں صفت جمع مؤنث سالم کی صورت میں آئی۔ اس کے برعکس جمعِ غیر عاقل، یعنی غیر ذی روح اشیاء کی جمع، کی صفت مفرد مؤنث کی صورت اختیار کرلیتی ہے، خواہ موصوف اصل میں مذکر ہو، جیسے كُتُبٌ جَدِيدَةٌ (نئی کتابیں) ۔ یہ فرق یاد رکھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اگر موصوف انسان ہے تو صفت اسی کی اصل جمع اور جنس میں رہے گی، اور اگر موصوف کوئی بے جان یا غیر ذی روح چیز ہے تو صفت خودبخود مفرد مؤنث بن جائے گی، چاہے وہ چیز مذکر جمع کی صورت میں ہو یا مؤنث جمع کی صورت میں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ استثنائی قاعدہ ہمیشہ 'کیا موصوف عاقل ہے یا غیر عاقل؟' کے سوال سے شروع کیا جاتا ہے، اور جواب کے مطابق ہی صفت کی صحیح صورت متعین کی جاتی ہے، اسی لیے اسے چار عمومی امورِ مطابقت کے علاوہ ایک پانچواں خصوصی امتحان بھی کہا جاسکتا ہے۔

دونوں مرکب توصیفی ہیں، مگر تعریف و تنکیر کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ الطَّالِبُ الْمُجْتَهِدُمعرفہ ہے، کیونکہ دونوں اجزاء پر حرفِ تعریف ال داخل ہے، اور اس کا معنی ہے 'وہ مخصوص محنتی طالب علم'، یعنی کوئی متعین اور معلوم شخص۔ اس کے برعکس طَالِبٌ مُجْتَهِدٌ نکرہ ہے، کیونکہ دونوں الفاظ منون ہیں، اور اس کا معنی ہے 'کوئی بھی محنتی طالب علم'، یعنی کوئی غیر متعین اور نامعلوم شخص۔ یہ فرق مطابقتِ تعریف و تنکیر کے اصول کی عملی مثال ہے، جس کے مطابق صفت ہمیشہ اپنے موصوف کی تعریف و تنکیر کی پیروی کرتی ہے: معرفہ موصوف کے ساتھ صفت بھی معرفہ آئے گی، اور نکرہ موصوف کے ساتھ صفت بھی نکرہ آئے گی۔ اگر یہ اصول نظرانداز کیا جائے، یعنی معرفہ موصوف کے ساتھ نکرہ صفت یا نکرہ موصوف کے ساتھ معرفہ صفت لگا دی جائے، تو جملہ گرامری طور پر غلط ہوجائے گا، اور یہ عربی انشاء میں طلبہ کی سب سے عام غلطیوں میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔ اسی اصول کی روشنی میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر موصوف کے ساتھ ایک سے زائد صفات ہوں تو ہر صفت الگ الگ اسی تعریف و تنکیر کی مطابقت کی پابند ہوگی، یعنی ایک صفت معرفہ اور دوسری نکرہ نہیں آسکتی۔

اس جملے کا ترجمہ ہے: میں صبح کے وقت یونیورسٹی جاتا ہوں۔ اس جملے میں دو حروفِ جر استعمال ہوئے ہیں۔ پہلا حرفِ جر إِلَى (کی طرف) ہے، جو الْجَامِعَةِ سے پہلے آیا اور فعل ذَهَبَ کی سمت یا منزل ظاہر کر رہا ہے، یعنی جانے کی جگہ کیا ہے۔ دوسرا حرفِ جر فِي (میں) ہے، جو الصَّبَاحِ سے پہلے آیا اور وقت ظاہر کر رہا ہے، یعنی یہ عمل کس وقت انجام پاتا ہے۔ دونوں حروفِ جر کے بعد اسم مجرور کی صورت میں آیا ہے، یعنی الْجَامِعَةِ اور الصَّبَاحِ دونوں مجرور ہیں، جو حرفِ جر کے بعد اسم کے آنے کے قاعدے کی عملی تصدیق ہے۔ یہ جملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ عربی زبان میں جگہ اور وقت دونوں کو ظاہر کرنے کے لیے الگ الگ حروفِ جر استعمال ہوتے ہیں، اور دونوں کو ایک ہی جملے میں یکجا بھی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرز پر

﴿أَعُودُ مِنَ الْجَامِعَةِ فِي الْمَسَاءِمیں شام کو یونیورسٹی سے واپس آتا ہوں

جیسے جملے بنا کر طالب علم حروفِ جر اور اوقات کے الفاظ دونوں کی بیک وقت مشق کرسکتا ہے۔

دن کے پانچ بنیادی اوقات یہ ہیں: الصَّبَاحُ (صبح)، الظُّهْرُ (دوپہر)، الْعَصْرُ (سہ پہر یا عصر)، الْمَسَاءُ (شام)، اور اللَّيْلُ (رات)۔ ان میں سے الظُّهْرُ اور الْعَصْرُ نمازوں کے اوقات کے ناموں سے بھی ملتے جلتے ہیں، اس لیے جو طالب علم پہلے سے نمازوں کے اوقات جانتا ہے، اس کے لیے یہ الفاظ یاد رکھنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔ ہر ایک وقت پر مبنی جملہ اس طرح بنایا جاسکتا ہے: الصَّبَاحُ جَمِيلٌ (صبح خوبصورت ہے) ،

﴿أَتَغَدَّى فِي الظُّهْرِمیں دوپہر کو کھانا کھاتا ہوں

،

﴿أَشْرَبُ الشَّايَ فِي الْعَصْرِمیں سہ پہر کو چائے پیتا ہوں

،

﴿أَعُودُ إِلَى الْبَيْتِ فِي الْمَسَاءِمیں شام کو گھر واپس آتا ہوں

، اور

﴿أَنَامُ فِي اللَّيْلِمیں رات کو سوتا ہوں

۔ یہ تمام جملے حرفِ جر فِي کے بعد وقت کے اسم کے مجرور آنے کے قاعدے کی عملی مثالیں ہیں، اور ان کی مسلسل مشق سے طالب علم اپنی روزمرہ کی مصروفیات کو عربی میں بیان کرنے کی مہارت حاصل کرلیتا ہے، جو کہ عملی انشاء نویسی کا بنیادی مقصد ہے۔ نیز اگر ان اوقات کی کوئی صفت بیان کرنی ہو، جیسے صَبَاحٌ جَمِيلٌ (ایک خوبصورت صبح) ، تو وہاں بھی وہی چار امورِ مطابقت لاگو ہوں گے جو پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔

عربی زبان میں ایک ہی موصوف کی ایک سے زائد صفات بیان کی جاسکتی ہیں، اور ہر صفت الگ الگ چاروں امور، یعنی تذکیر و تانیث، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب، میں موصوف کے مطابق ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر

﴿الْبَيْتُ الْكَبِيرُ الْجَمِيلُوہ بڑا اور خوبصورت گھر

میں دونوں صفات الْكَبِيرُ اور الْجَمِيلُ، موصوف الْبَيْتُ کی طرح مذکر، مفرد، معرفہ اور مرفوع ہیں، یعنی کوئی بھی صفت اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ اسی طرح تثنیہ کی صورت میں الْقَلَمَانِ الْجَدِيدَانِ (وہ دونوں نئے قلم) میں بھی صفت موصوف کے تثنیہ ہونے کی مکمل پیروی کرتی ہے۔ اگر موصوف مؤنث اور جمع ہو تو ہر صفت بھی مؤنث اور جمع کی صورت میں آئے گی، جیسے

﴿الطَّالِبَاتُ الْمُجْتَهِدَاتُ النَّشِيطَاتُوہ محنتی اور چست طالبات

۔ یہ مشقیں طالب علم کو یہ سکھاتی ہیں کہ مطابقت کا اصول محض ایک صفت تک محدود نہیں بلکہ جملے میں شامل ہر اضافی صفت پر بھی برابر لاگو ہوتا ہے، اور اگر موصوف جمعِ غیر عاقل ہو تو یہی متعدد صفات بھی مفرد مؤنث کی صورت میں آئیں گی، جیسے

﴿كُتُبٌ جَدِيدَةٌ مُفِيدَةٌنئی اور مفید کتابیں

۔

سبق 7۔ معلم الانشاء سبق 6-7: مرکبات کی مزید مشق و ترجمہ

مرکب توصیفی اور مرکب اضافی میں بنیادی فرق موصوف و صفت کے تعلق اور مضاف و مضاف الیہ کے تعلق کا ہے۔ مرکب توصیفی میں دونوں اجزاء ایک ہی چیز کو بیان کرتے ہیں: دوسرا لفظ پہلے کی محض ایک کیفیت یا خاصیت بتاتا ہے، اور دونوں الفاظ جنس، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب میں مکمل مطابقت رکھتے ہیں، جیسے رَجُلٌ طَوِيلٌ (ایک لمبا آدمی)۔ اس کے برعکس مرکب اضافی میں دوسرا لفظ (مضاف الیہ) پہلے لفظ (مضاف) کا مالک، اس سے متعلق، یا اس کا جزو ہوتا ہے، اور اعرابی طور پر مضاف سے تنوین و الف لام ساقط ہو جاتے ہیں جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے، جیسے بَابُ الْبَيْتِ (گھر کا دروازہ) ۔ عملی تجزیے کی مثال:

﴿رَأَيْتُ سَيَّارَةَ أَبِي الْجَدِيدَةَمیں نے اپنے والد کی نئی گاڑی دیکھی

میں سَيَّارَةَ أَبِي مرکب اضافی ہے، جس میں سَيَّارَةَ مضاف اور أَبِي مضاف الیہ ہے، جبکہ الْجَدِيدَةَ پورے مرکب اضافی کی صفت بن کر آیا ہے اور اسی لیے یہ منصوب اور معرفہ کی صورت میں تاء مربوطہ کے ساتھ آیا، کیونکہ سَيَّارَةَ مؤنث ہے۔ اس طرح کی مخلوط عبارتوں میں پہلے اضافت کی حد کھینچنا اور پھر باقی بچے ہوئے لفظ کی نوعیت جانچنا ہی درست تجزیے کی کنجی ہے۔

اس جملے کا درست عربی ترجمہ

﴿هَذَا كِتَابُ الْأُسْتَاذِ الْجَمِيلُ الْجَدِيدُ

بنے گا۔ اس ترجمے کی تشکیل میں سب سے پہلے یہ طے کیا جاتا ہے کہ "استاد کی کتاب" اصل میں ایک اضافت ہے، یعنی مالکیت کا تعلق، اس لیے اسے كِتَابُ الْأُسْتَاذِ کی صورت میں مرکب اضافی بنایا گیا، جس میں كِتَابُ مضاف اور الْأُسْتَاذِ مضاف الیہ (مجرور) ہے، اور مضاف سے تنوین ساقط کر دی گئی۔ اس کے بعد "خوبصورت اور نئی" دو صفات ہیں جو دراصل پورے مرکب اضافی كِتَابُ الْأُسْتَاذِ کی خصوصیات بیان کر رہی ہیں، اس لیے یہ دونوں صفات موصوف كِتَابُ کی جنس (مذکر)، عدد (واحد) اور حالتِ تعریف (چونکہ اضافت معرفہ بناتی ہے) کے مطابق معرفہ اور مرفوع لائی گئیں: الْجَمِيلُ اور الْجَدِيدُ۔ اس مثال سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ جب مرکب اضافی کسی صفت کا موصوف بنتا ہے تو اعرابی و معنوی مطابقت ہمیشہ مضاف کے حساب سے کی جاتی ہے، نہ کہ مضاف الیہ کے حساب سے، کیونکہ اصل میں توصیف پورے مرکب کی نہیں بلکہ مضاف کی ہو رہی ہوتی ہے۔

اس عبارت کا سلیس اردو ترجمہ ہے: "اسکول کے باغ میں لمبے درخت اور خوبصورت پھول ہیں۔" اس جملے کے تجزیے میں سب سے پہلا مرکب حَدِيقَةِ الْمَدْرَسَةِ ہے، جو ایک مرکب اضافی ہے: حَدِيقَةِ مضاف ہے اور الْمَدْرَسَةِ مضاف الیہ، اور اس کا مطلب ہے "اسکول کا باغ"، یعنی باغ اسکول سے منسوب ہونے کی وجہ سے اضافت بنی۔ دوسرا حصہ أَشْجَارٌ طَوِيلَةٌ ایک مرکب توصیفی ہے، جہاں أَشْجَارٌ (درخت، جمع مؤنث سماعی) موصوف اور طَوِيلَةٌ اس کی صفت ہے، اور چونکہ غیر عاقل کی جمع کا حکم مؤنث واحد جیسا ہوتا ہے، اس لیے صفت مؤنث وزن پر آئی۔ تیسرا حصہ أَزْهَارٌ جَمِيلَةٌ بھی اسی اصول پر بنا ایک اور مرکب توصیفی ہے، جس کا مطلب "خوبصورت پھول" ہے۔ یہ عبارت اس بات کی عمدہ مثال ہے کہ ایک ہی مختصر جملے میں مرکب اضافی اور دو الگ مرکب توصیفی بیک وقت استعمال ہو سکتے ہیں، اور طالب علم کو ہر جزو کو الگ الگ پہچان کر پورے جملے کی روانی بحال کرنی چاہیے۔

عربی زبان کا ایک اہم اور اکثر طلبہ کے لیے غیر متوقع اصول یہ ہے کہ جب کسی غیر عاقل (بے جان یا حیوان) چیز کی جمع بنائی جاتی ہے تو اس کے ساتھ آنے والی صفت، فعل یا ضمیر مؤنث واحد کی صورت میں لائی جاتی ہے، چاہے اصل اسم مذکر ہی کیوں نہ ہو۔ یہی وجہ ہے کہ كُتُبٌ جَدِيدَةٌ (نئی کتابیں) میں كُتُبٌ (کتاب کی جمع، جو بذات خود مذکر شمار ہوتی ہے) کے ساتھ صفت جَدِيدَةٌ مؤنث وزن پر آئی، اور أَشْجَارٌ طَوِيلَةٌمیں بھی یہی اصول لاگو ہوا۔ یہ عام قاعدے سے اس لیے مختلف ہے کہ عاقل (ذی روح، سمجھ بوجھ رکھنے والی) مخلوق کی جمع میں صفت اکثر جمع کی ہی صورت میں آتی ہے، جیسے مُعَلِّمُونَ جُدُدٌ (نئے اساتذہ) میں صفت جمع مذکر سالم کے وزن پر آئی۔ عربی گرامر میں اس اصول کو ٰجمع غیر العاقل بمنزلہ مؤنث مفردٰ کہا جاتا ہے، اور یہ ابتدائی طلبہ کے لیے ایک عام غلطی کا باعث بنتا ہے کیونکہ اردو میں اس طرح کی کوئی تفریق موجود نہیں۔ اس اصول کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر غیر عاقل جمع کو ذہنی طور پر ایک واحد مؤنث لفظ کی طرح برتا جائے۔

مرکب اضافی کی صحیح تشکیل کے لیے مضاف پر تین اہم پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ مضاف سے تنوین ہمیشہ ساقط کر دی جاتی ہے، کیونکہ تنوین نکرہ ہونے کی علامت ہے جبکہ اضافت اسم کو ایک خاص درجے کی تخصیص عطا کر دیتی ہے۔ دوسری یہ کہ مضاف پر الف لام کبھی داخل نہیں ہو سکتا، اس لیے الْكِتَابُ الطَّالِبِجیسی ترکیب غلط ہے اور درست شکل صرف كِتَابُ الطَّالِبِہے۔ تیسری یہ کہ اگر مضاف دو یا زیادہ الفاظ کی مثنیٰ یا جمع سالم مذکر کی صورت میں ہو تو اس کا آخری نون بھی اضافت کی وجہ سے گر جاتا ہے، جیسے مُعَلِّمَا الْمَدْرَسَةِ (اسکول کے دو استاد) میں مُعَلِّمَانِ کا نون گر گیا۔ اس کے مقابلے میں مضاف الیہ کا اعراب ہمیشہ اور بلا استثناء مجرور ہی رہتا ہے، خواہ پورا مرکب جملے میں مرفوع، منصوب یا مجرور کسی بھی محل میں کیوں نہ ہو، کیونکہ مضاف الیہ کی جر کا سبب حرفِ اضافت (یعنی خود اضافت کا تعلق) ہے نہ کہ عاملِ خارجی۔ اس اصول کی بدولت طالب علم کسی بھی مرکب اضافی میں مضاف الیہ کو محض اس کے آخری اعراب سے فوراً پہچان سکتا ہے۔

اس جملے کا مناسب ترجمہ ہے:

﴿غُرْفَةُ الطَّالِبَاتِ كَبِيرَةٌ وَنَظِيفَةٌ

۔ ترجمے کی تشکیل میں پہلا قدم یہ تھا کہ "طالبات کا کمرہ" ایک اضافتی تعلق ہے، اس لیے غُرْفَةُ الطَّالِبَاتِ کی صورت میں مرکب اضافی بنایا گیا، جس میں غُرْفَةُ (کمرہ) مضاف اور الطَّالِبَاتِ (طالبات، جمع مؤنث سالم) مضاف الیہ بن کر مجرور آیا۔ چونکہ مضاف غُرْفَةُ خود تاء مربوطہ کی وجہ سے مؤنث ہے، اس لیے دونوں خبریں یعنی صفاتِ خبریہ كَبِيرَةٌ (بڑی) اور نَظِيفَةٌ (صاف) بھی مؤنث وزن میں تاء مربوطہ کے ساتھ لائی گئیں، کیونکہ یہاں یہ الفاظ دراصل جملہ اسمیہ کی خبر بن رہے ہیں اور مبتدا (غُرْفَةُ الطَّالِبَاتِ) کی جنس کے مطابق ہونا لازم ہے۔ اس مثال سے یہ نکتہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اضافت میں صفت یا خبر کی مطابقت ہمیشہ مضاف کی جنس سے کی جاتی ہے، مضاف الیہ کی جنس سے نہیں، چاہے مضاف الیہ خود مؤنث جمع (الطَّالِبَاتِ) ہی کیوں نہ ہو۔ یہی باریک فرق طلبہ کو ترجمے کی مشق میں سب سے زیادہ محتاط رہنے پر مجبور کرتا ہے۔

کسی بھی طویل عربی یا اردو عبارت کے کامیاب ترجمے کے لیے ایک منظم مرحلہ وار طریقہ اپنانا چاہیے۔ پہلا مرحلہ یہ ہے کہ پوری عبارت کو چھوٹے چھوٹے لفظی گروہوں میں تقسیم کیا جائے اور ہر دو متصل اسموں کے تعلق کو جانچا جائے۔ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ہر گروہ کی نوعیت طے کی جائے: کیا یہ مرکب توصیفی ہے (معنوی مطابقت اور اعرابی یکسانیت کی بنیاد پر) یا مرکب اضافی ہے (ملکیت/نسبت کے معنی اور مضاف سے تنوین کے سقوط کی بنیاد پر)۔ تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ جب ایک مرکب اضافی پر کوئی مزید صفت آئے تو یہ طے کیا جائے کہ وہ صفت پورے مرکب کے مضاف کی خصوصیت بیان کر رہی ہے، اور اسی کے مطابق اس کی جنس، عدد اور اعراب متعین کیے جائیں۔ چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ اردو میں ترجمہ کرتے وقت اضافت کو ہمیشہ "کا/کی/کے" سے اور توصیف کو براہ راست صفت سے ادا کیا جائے، جبکہ عربی میں ترجمہ کرتے وقت اردو کی اضافتی تراکیب (مثلاً "کا", "کی") کو عربی اضافت میں اور اردو کی سادہ صفتی تراکیب کو عربی توصیف میں بدلا جائے۔ آخری مرحلہ یہ ہے کہ پورے جملے کو دوبارہ پڑھ کر یہ یقین کیا جائے کہ ہر صفت اپنے حقیقی موصوف سے مطابقت رکھتی ہے، نہ کہ کسی بھی قریب ترین لفظ سے۔

سبق 8۔ سبق 1 تا 7 کا جامع اعادہ اور وسط مدتی امتحان کی تیاری

عربی زبان میں ہر بامعنی لفظ (کلمہ) تین بنیادی اقسام میں سے کسی ایک میں آتا ہے: اسم، فعل اور حرف۔ اسم وہ کلمہ ہے جو کسی شخص، چیز، جگہ یا معنی کا نام ہو اور خود بخود کسی زمانے کی نشاندہی نہ کرے، جیسے كِتَابٌ (کتاب) اور مَدِينَةٌ (شہر)۔ اسم کی پہچان کی علامتیں تنوین، الف لام، اور حروف جر کا دخول ہیں۔ فعل وہ کلمہ ہے جو کسی کام یا واقعے کے کسی خاص زمانے یعنی ماضی، حال یا مستقبل میں وقوع پذیر ہونے کی خبر دے، جیسے كَتَبَ (اس نے لکھا) اور يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے)۔ فعل کی پہچان قَدْ، سَوْفَ اور تاءِ فاعل جیسی علامتوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ حرف وہ کلمہ ہے جس کا اپنا کوئی مستقل و کامل معنی نہیں ہوتا بلکہ وہ دوسرے کلمات کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے، جیسے فِي (میں)، مِنْ (سے) اور عَلَى (پر)۔ حرف کی کوئی مثبت علامت نہیں ہوتی بلکہ جب کوئی لفظ اسم اور فعل کی علامتیں قبول نہ کرے تو وہ حرف شمار ہوتا ہے۔ ان تینوں اقسام کی درست پہچان پورے عربی گرامر کی بنیاد ہے۔

نکرہ وہ اسم ہے جو کسی غیر معین اور عمومی شخص یا چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور اس کی نمایاں علامت تنوین ہے، جیسے قَلَمٌ (ایک قلم، کوئی بھی قلم)۔ معرفہ وہ اسم ہے جو کسی معین اور متعین چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور اس کی سب سے عام علامت الف لام کا اضافہ ہے، جیسے الْقَلَمُ (وہی مخصوص قلم)۔ معرفہ کی دیگر اقسام میں اعلام (جیسے مُحَمَّدٌ)، ضمائر اور اسمائے اشارہ بھی شامل ہیں۔ رنگوں کے الفاظ دراصل صفات ہیں اور اکثر مشہور رنگ وزن أَفْعَلُ (مذکر) اور فَعْلَاءُ (مؤنث) پر آتے ہیں، جیسے أَحْمَرُ (سرخ، مذکر) اور حَمْرَاءُ (سرخ، مؤنث)۔ چونکہ رنگ اپنے موصوف کی صفت ہوتے ہیں، اس لیے یہ موصوف کی جنس، عدد اور تعریف و تنکیر کے مطابق بدلتے ہیں: قَلَمٌ أَحْمَرُ (ایک سرخ قلم) میں موصوف مذکر نکرہ ہے تو صفت بھی اسی وزن میں آئی، جبکہ وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ (ایک سرخ گلاب) میں موصوف مؤنث ہے تو صفت بھی مؤنث وزن میں آئی۔

مرکب ناقص وہ ترکیب ہے جو دو یا زیادہ الفاظ کے ملاپ سے بنتی ہے مگر مکمل اور خودمختار مفہوم ادا نہیں کرتی، بلکہ سننے والے کو ذہنی طور پر مزید جزو کے انتظار میں رکھتی ہے، جیسے كِتَابُ الطَّالِبِ (طالب علم کی کتاب) — جو تنہا ایک ادھورا خیال ہے جب تک اس پر کوئی خبر (جیسے مَوْجُودٌ یا جَدِيدٌ) کا اضافہ نہ کیا جائے۔ اس کے برعکس مرکب توصیفی اور مرکب اضافی خود ایک مکمل ترکیب کی صورت میں کام کرتے ہیں، مگر جب یہی مرکبات جملے کا حصہ بنتے ہیں تو بذاتِ خود بھی ناقص کہلا سکتے ہیں جب تک جملہ مکمل نہ ہو۔ اصل فرق یہ ہے کہ مرکب ناقص کی اصطلاح خاص طور پر اضافت کے ابتدائی تعارف میں اس نامکمل معنی کی طرف توجہ دلانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ ہفتے کے سات دن یوں ہیں: يَوْمُ السَّبْتِ (ہفتہ)، يَوْمُ الْأَحَدِ (اتوار)، يَوْمُ الِاثْنَيْنِ (پیر)، يَوْمُ الثُّلَاثَاءِ (منگل)، يَوْمُ الْأَرْبِعَاءِ (بدھ)، يَوْمُ الْخَمِيسِ (جمعرات)، اور يَوْمُ الْجُمُعَةِ (جمعہ)۔

مرکب توصیفی موصوف اور صفت کے ملاپ سے بنتا ہے، اور یہ دونوں اجزاء چار چیزوں میں لازمی مطابقت رکھتے ہیں: جنس (مذکر/مؤنث)، عدد (واحد/تثنیہ/جمع)، تعریف و تنکیر (دونوں معرفہ یا دونوں نکرہ)، اور اعراب (دونوں مرفوع، منصوب یا مجرور)۔ مثال: بَيْتٌ كَبِيرٌ (ایک بڑا گھر) — بَيْتٌ موصوف اور كَبِيرٌ صفت ہے، دونوں مذکر، واحد، نکرہ اور مرفوع ہیں۔ مرکب اضافی مضاف اور مضاف الیہ کے ملاپ سے بنتا ہے، جس میں مضاف سے تنوین اور الف لام دونوں ساقط ہو جاتے ہیں، جبکہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور رہتا ہے، خواہ پورا مرکب کسی بھی محل میں ہو۔ مثال: بَيْتُ الْمُعَلِّمِ (استاد کا گھر) — بَيْتُ مضاف ہے (بلا تنوین) اور الْمُعَلِّمِ مضاف الیہ ہے (مجرور)۔ ان دونوں مرکبات کی سب سے واضح تمیز یہ ہے کہ توصیفی میں معنوی تعلق وصفیت (خصوصیت بیان کرنا) کا ہوتا ہے جبکہ اضافی میں تعلق ملکیت، نسبت یا جزئیت کا ہوتا ہے۔

عربی میں ہر اسم یا تو مذکر ہوتا ہے یا مؤنث۔ مؤنث ہونے کی سب سے عام اور قیاسی علامت تاء مربوطہ (ة) کا اضافہ ہے، جیسے طَالِبٌ (مذکر) سے طَالِبَةٌ (مؤنث)۔ اس کے علاوہ الف ممدودہ (اء) اور الف مقصورہ (ى) بھی تانیث کی علامتیں ہیں، جیسے صَحْرَاءُ اور كُبْرَى۔ بعض اسماء سماعی طور پر مؤنث شمار ہوتے ہیں حالانکہ ان پر کوئی ظاہری علامت موجود نہیں ہوتی، جیسے شَمْسٌ (سورج)، أَرْضٌ (زمین) اور نَارٌ (آگ) — ان کو مؤنث سماعی کہا جاتا ہے اور انہیں لازماً یاد رکھنا پڑتا ہے۔ فعل اور صفت کی جنس کے ساتھ مطابقت اس لیے ضروری ہے کہ عربی جملے کی ساخت میں فاعل، مبتدا یا موصوف کی جنس پورے جملے کے باقی اجزاء (فعل، خبر، صفت، ضمیر) پر اثرانداز ہوتی ہے، اور اگر یہ مطابقت نہ کی جائے تو جملہ گرامری طور پر غلط اور بامعنی نہیں رہتا، جیسے صحیح جملہ الطَّالِبَةُ ذَكِيَّةٌ ہے نہ کہ الطَّالِبَةُ ذَكِيٌّ۔

عربی گرامر کا ایک اہم اور اکثر غیر متوقع اصول یہ ہے کہ جب کوئی اسم غیر عاقل (بے جان یا حیوان، یعنی غیر ذی عقل) چیز کی جمع کی صورت میں ہو تو اس کے ساتھ آنے والا فعل، صفت اور ضمیر مؤنث واحد کی شکل میں لایا جاتا ہے، چاہے اصل مفرد اسم مذکر ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً كُتُبٌ جَدِيدَةٌ (نئی کتابیں) میں كُتُبٌ کی جمع کے باوجود صفت جَدِيدَةٌ مؤنث واحد کے وزن پر آئی۔ یہ اصول عاقل مخلوق کی جمع سے مختلف ہے، جہاں مطابقت عموماً جمع کی صورت میں ہی برقرار رہتی ہے، جیسے مُعَلِّمُونَ جُدُدٌ (نئے اساتذہ)۔ دن کے اوقات سے متعلق بنیادی الفاظ یہ ہیں: صَبَاحٌ (صبح)، ضُحًى (چاشت کا وقت)، ظُهْرٌ (دوپہر)، عَصْرٌ (سہ پہر)، مَسَاءٌ (شام) اور لَيْلٌ (رات)۔ ان الفاظ کا درست استعمال روزمرہ کے جملوں اور اوقاتِ نماز جیسے موضوعات میں نہایت اہم ہے۔

عملی عبارتوں میں اکثر مرکب توصیفی اور مرکب اضافی ایک ہی جملے میں یکجا پائے جاتے ہیں، اور اس کی ایک عمدہ مثال یہ جملہ ہے: هَذَا كِتَابُ الطَّالِبِ الْجَدِيدُ (یہ طالب علم کی نئی کتاب ہے)۔ اس کے تجزیے میں سب سے پہلے كِتَابُ الطَّالِبِ کو مرکب اضافی کے طور پر پہچانا جاتا ہے، جس میں كِتَابُ مضاف ہے (تنوین ساقط) اور الطَّالِبِ مضاف الیہ ہے (مجرور)۔ اس کے بعد باقی بچا ہوا لفظ الْجَدِيدُ دراصل پورے مرکب اضافی کی صفت بن کر آیا ہے، اور چونکہ یہ صفت اصل میں مضاف كِتَابُ کی خصوصیت بیان کر رہی ہے، اس لیے یہ اسی کی جنس (مذکر)، عدد (واحد) اور حالتِ تعریف (اضافت کی وجہ سے معرفہ) کے مطابق لائی گئی۔ اس طرح کے مخلوط تجزیے میں طالب علم کو ہمیشہ پہلے اضافت کی حد بندی کرنی چاہیے اور پھر باقی بچے ہوئے الفاظ کی نوعیت طے کرنی چاہیے، کیونکہ یہی طریقہ امتحان میں طویل عبارتوں کے درست تجزیے کی ضمانت دیتا ہے۔

اسلامی (ہجری) مہینوں میں مُحَرَّمٌ، صَفَرٌ، رَبِيعُ الْأَوَّلِ، رَبِيعُ الثَّانِي، جُمَادَى الْأُولَى، جُمَادَى الْآخِرَةُ، رَجَبٌ، شَعْبَانُ، رَمَضَانُ، شَوَّالٌ، ذُو الْقَعْدَةِ اور ذُو الْحِجَّةِ شامل ہیں۔ عیسوی مہینوں میں يَنَايِرُ (جنوری)، فِبْرَايِرُ (فروری)، مَارِسُ (مارچ) اور اسی طرح باقی مہینے شامل ہیں۔ یہ الفاظ تاریخ بتانے والے جملوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے وُلِدْتُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ (میں رمضان کے مہینے میں پیدا ہوا)۔ موسموں (فصول السنہ) کے چار نام یہ ہیں: الرَّبِيعُ (بہار)، الصَّيْفُ (گرمی)، الْخَرِيفُ (خزاں) اور الشِّتَاءُ (سردی)۔ یہ الفاظ موسم کی کیفیت بیان کرنے والے جملوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے الْجَوُّ بَارِدٌ فِي الشِّتَاءِ (سردیوں میں موسم ٹھنڈا ہوتا ہے)۔ ان تمام موضوعاتی الفاظ کا امتحان میں براہ راست پوچھا جانا ممکن ہے، اس لیے ان کی مکمل تشکیل (تشکیل کے ساتھ) یاد رکھنا ضروری ہے۔

وسط مدتی امتحان کی مؤثر تیاری کے لیے سب سے پہلے طالب علم کو ہر سبق کی بنیادی تعریف کو ایک جامع اور اپنے الفاظ میں مختصر جملے کی صورت لکھنا چاہیے، تاکہ رٹا لگانے کے بجائے سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ ہر قاعدے پر کم از کم دو نئی مثالیں خود سے بنائی جائیں، کیونکہ امتحان میں اکثر نصاب کی مثالوں سے ہٹ کر نئی مثالیں پوچھی جاتی ہیں۔ تیسرا قدم یہ ہے کہ مختلف اسباق کے قواعد کو ملا کر ایک طویل اور مخلوط عبارت کا مکمل تجزیہ کرنے کی مشق کی جائے، جیسے ایک ایسا جملہ جس میں مرکب توصیفی، مرکب اضافی، تذکیر و تانیث کی مطابقت اور نکرہ و معرفہ سب اکٹھے موجود ہوں۔ چوتھا اور آخری قدم یہ ہے کہ موضوعاتی الفاظ کی فہرستیں (رنگ، دن، مہینے، موسم، اوقات) بار بار دہرائی جائیں کیونکہ یہ اکثر ترجمے کے سوالات میں براہ راست استعمال ہوتی ہیں۔ اس ترتیب سے تیاری کرنے پر طالب علم کو انفرادی اور مخلوط دونوں طرح کے سوالات میں اعتماد حاصل ہوگا۔

حرف کی پہچان کا طریقہ اسم اور فعل کی علامتوں سے مختلف ہے، کیونکہ حرف کی اپنی کوئی مثبت (ایجابی) علامت موجود نہیں ہوتی۔ اس کے برخلاف، حرف کو منفی طریقے سے پہچانا جاتا ہے: جب کوئی لفظ نہ تو اسم کی علامتیں (تنوین، الف لام، حروف جر کا دخول، اضافت میں آنا) قبول کرے اور نہ فعل کی علامتیں (زمانے کی خبر دینا، قَدْ یا سَوْفَ کا دخول، تاءِ فاعل کا اضافہ)، تو وہ لفظ حرف شمار ہوتا ہے۔ حروف کی مثالیں یہ ہیں: فِي (میں)، مِنْ (سے)، إِلَى (کی طرف)، عَلَى (پر)، وَ (اور)، اور هَلْ (کیا)۔ ان تمام الفاظ کا اپنا کوئی مکمل و مستقل معنی نہیں بلکہ یہ جملے کے دیگر اجزاء کے درمیان ربط اور معنوی تعلق پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر فِي الْبَيْتِ (گھر میں) میں فِي تنہا کوئی مکمل معنی نہیں دیتا بلکہ الْبَيْتِ کے ساتھ مل کر ایک ظرفیت کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حروف کو کبھی بھی مرفوع، منصوب یا مجرور نہیں کیا جاتا، کیونکہ ان پر اعراب کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

سبق 9۔ معلم الانشاء سبق 8: فعل ماضی کا تعارف اور گردان

فعل ماضی وہ فعل ہے جو کسی ایسے کام یا واقعے کی خبر دیتا ہے جو گفتگو کے وقت سے پہلے مکمل طور پر واقع ہو چکا ہو، جیسے كَتَبَ (اس نے لکھا) اور ذَهَبَ (وہ گیا)۔ اس کے مقابلے میں فعل مضارع کسی ایسے کام کی خبر دیتا ہے جو حال میں جاری ہو یا مستقبل میں واقع ہونے والا ہو، جیسے يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے/لکھے گا)۔ ان دونوں کو ممتاز کرنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ فعل ماضی کے ساتھ تاءِ فاعل (تاءِ ساکنہ) کا اتصال ممکن ہوتا ہے، جیسے كَتَبْتُ (میں نے لکھا)، جبکہ فعل مضارع کے ساتھ یہ تاء کبھی نہیں جڑتی بلکہ اس کے شروع میں حروفِ مضارعت (أ، ن، ی، ت) آتے ہیں۔ اسی طرح فعل ماضی کی آخری حرکت بنیادی طور پر ہمیشہ فتحہ (مبنی علی الفتح) ہوتی ہے، سوائے چند صیغوں کے جہاں ضمیر کے اتصال سے یہ سکون میں بدل جاتی ہے، جبکہ فعل مضارع کی آخری حرکت اعرابی طور پر بدلتی رہتی ہے (مرفوع، منصوب یا مجزوم)۔

فعل ماضی كَتَبَ کے غائب (تیسرے شخص) کے چھ صیغے یہ ہیں۔ مذکر کی طرف سے: واحد مذکر غائب کے لیے هُوَ كَتَبَ (اس نے لکھا)، جو دراصل لغت کی بنیادی اور اصل صورت ہے۔ تثنیہ مذکر غائب کے لیے هُمَا كَتَبَا (ان دونوں مردوں نے لکھا)، جس میں الف کا اضافہ دو افراد کی نشاندہی کے لیے کیا گیا۔ جمع مذکر غائب کے لیے هُمْ كَتَبُوا (ان سب مردوں نے لکھا)، جس میں واوِ جماعت اور اس کے بعد ایک خاموش الف (الف الفارقہ) شامل کیا جاتا ہے جو صرف تحریر میں لکھا جاتا ہے مگر پڑھا نہیں جاتا۔ مؤنث کی طرف سے: واحد مؤنث غائب کے لیے هِيَ كَتَبَتْ (اس عورت نے لکھا)، جس میں تاءِ تانیث ساکنہ کا اضافہ ہوا۔ تثنیہ مؤنث غائب کے لیے هُمَا كَتَبَتَا (ان دونوں عورتوں نے لکھا)، جس میں تاءِ تانیث کے بعد الف تثنیہ کا اضافہ ہوا۔ جمع مؤنث غائب کے لیے هُنَّ كَتَبْنَ (ان سب عورتوں نے لکھا)، جس میں نونِ نسوہ کا اضافہ کیا گیا اور اس کے سبب فعل کی بنیادی حرکت ساکن ہو گئی۔

فعل ماضی كَتَبَ کے حاضر (دوسرے شخص) کے چھ صیغے یہ ہیں: واحد مذکر حاضر کے لیے أَنْتَ كَتَبْتَ (تم نے لکھا، مرد سے خطاب)، تثنیہ مذکر حاضر کے لیے أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا (تم دونوں مردوں نے لکھا)، جمع مذکر حاضر کے لیے أَنْتُمْ كَتَبْتُمْ (تم سب مردوں نے لکھا)، واحد مؤنث حاضر کے لیے أَنْتِ كَتَبْتِ (تم نے لکھا، عورت سے خطاب)، تثنیہ مؤنث حاضر کے لیے أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا (تم دونوں عورتوں نے لکھا)، اور جمع مؤنث حاضر کے لیے أَنْتُنَّ كَتَبْتُنَّ (تم سب عورتوں نے لکھا)۔ یہ بات قابلِ غور ہے کہ تثنیہ حاضر کا صیغہ أَنْتُمَا كَتَبْتُمَا دونوں جنسوں کے لیے بالکل یکساں رہتا ہے، جبکہ واحد اور جمع میں مذکر و مؤنث الگ الگ صیغے رکھتے ہیں۔ اس کی وجہ عربی گرامر کی ایک مستقل خصوصیت ہے: عربی زبان میں تثنیہ کے ضمیرِ حاضر اور غائب دونوں میں اکثر مذکر و مؤنث کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی، اور یہی اصول اسمائے اشارہ اور موصولہ کی تثنیہ میں بھی (بعض صورتوں میں) دیکھا جا سکتا ہے۔

فعل ماضی كَتَبَ کے متکلم (پہلے شخص) کے صرف دو صیغے ہوتے ہیں، کیونکہ متکلم کی سطح پر عربی زبان تثنیہ کی الگ صورت نہیں رکھتی۔ واحد متکلم کے لیے أَنَا كَتَبْتُ (میں نے لکھا) استعمال ہوتا ہے، جس میں تاءِ فاعل مضموم (پیش کے ساتھ) آتی ہے۔ متکلم مع الغیر، یعنی تثنیہ اور جمع دونوں کے لیے مشترک صیغہ، نَحْنُ كَتَبْنَا (ہم نے لکھا) استعمال ہوتا ہے، جس میں فاعل کی علامت نَا ہے۔ ان دونوں صیغوں میں جنس کی کوئی تفریق نہیں کی جاتی، یعنی خواہ بولنے والا مرد ہو یا عورت، دونوں صورتوں میں یہی صیغے استعمال ہوں گے: مرد بھی أَنَا كَتَبْتُ کہے گا اور عورت بھی۔ اس کی منطقی وجہ یہ ہے کہ متکلم کی حیثیت میں بولنے والا خود اپنی بات کر رہا ہوتا ہے، اور چونکہ سننے والے کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ بولنے والا کون ہے، اس لیے فعل میں جنس کی علیحدہ علامت کی عملی ضرورت باقی نہیں رہتی، برخلاف غائب و حاضر کے جہاں جنس کی وضاحت ضروری ہوتی ہے۔

فعل ماضی كَتَبَ کی مکمل گردان کا جائزہ لینے سے ایک اہم اور مستقل اصول سامنے آتا ہے: جب بھی فعل کے ساتھ کوئی متحرک ضمیر بطور فاعل جڑتا ہے — یعنی تاء (كَتَبْتَ، كَتَبْتِ، كَتَبْتُ)، تاءِ جمع (كَتَبْتُمْ، كَتَبْتُنَّ)، نا (كَتَبْنَا)، یا نونِ نسوہ (كَتَبْنَ) — تو فعل کی بنیادی آخری حرکت (فتحہ) ختم ہو کر سکون میں بدل جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ضمیر خود ایک متحرک حرف کی صورت میں فعل سے جڑتا ہے تو تلفظ میں روانی اور سہولت پیدا کرنے کے لیے فعل کے آخری حرف کو ساکن کر دیا جاتا ہے، تاکہ دو متواتر حرکتیں اکٹھی نہ ہوں۔ اس کے برعکس جہاں ضمیر خود ایک حرفِ مد (الف یا واو) کی صورت میں جڑتا ہے، جیسے كَتَبَا اور كَتَبُوا میں، وہاں فعل کی اصل حرکت فتحہ برقرار رہتی ہے کیونکہ الف اور واو خود ساکن حروف ہیں اور ان سے پہلے حرکت کا ہونا ضروری ہے۔ یہی اصول ہر مجرد ثلاثی فعل ماضی کی گردان میں یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے، چاہے وہ كَتَبَ ہو، ذَهَبَ ہو یا قَرَأَ ہو۔

فعل ذَهَبَ (جانا) کی گردان غائب میں یوں ہوگی: هُوَ ذَهَبَ (وہ گیا)، هُمَا ذَهَبَا (وہ دونوں گئے)، هُمْ ذَهَبُوا (وہ سب گئے)؛ اور مؤنث میں هِيَ ذَهَبَتْ (وہ گئی)، هُمَا ذَهَبَتَا (وہ دونوں عورتیں گئیں)، هُنَّ ذَهَبْنَ (وہ سب عورتیں گئیں)۔ اسی طرح فعل قَرَأَ (پڑھنا) کی گردان غائب میں یوں ہوگی: هُوَ قَرَأَ (اس نے پڑھا)، هُمَا قَرَآ (ان دونوں نے پڑھا)، هُمْ قَرَءُوا (ان سب نے پڑھا)؛ اور مؤنث میں هِيَ قَرَأَتْ (اس نے پڑھا، عورت)، هُمَا قَرَأَتَا (ان دونوں عورتوں نے پڑھا)، هُنَّ قَرَأْنَ (ان سب عورتوں نے پڑھا)۔ یہ دونوں افعال بالکل وہی اصول اپناتے ہیں جو كَتَبَ کی گردان میں دیکھا گیا تھا: واحد مؤنث میں تاءِ تانیث ساکنہ کا اضافہ، تثنیہ میں الف کا اضافہ، اور جمع مذکر میں واوِ جماعت کے ساتھ خاموش الف کا اضافہ۔ اس مماثلت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہر مجرد ثلاثی فعل ماضی کی گردان ایک ہی مستقل سانچے پر چلتی ہے، اور صرف مادّہ (اصل تین حروف) بدلتا ہے۔

عربی زبان میں فعل ماضی ہمیشہ اپنے فاعل کی جنس (مذکر/مؤنث) سے مطابقت رکھتا ہے، جیسے الْأُسْتَاذُ كَتَبَ (استاد نے لکھا، مذکر) بمقابلہ الطَّالِبَةُ كَتَبَتْ (طالبہ نے لکھا، مؤنث)۔ تاہم ایک اہم اور اکثر طلبہ کے لیے حیران کن اصول یہ ہے کہ جب فاعل ایک ظاہری اسم (نہ کہ ضمیر) ہو اور جملے میں فعل اپنے فاعل سے پہلے آئے (یعنی جملہ فعلیہ کی معیاری ترتیب فعل-فاعل ہو)، تو فعل ہمیشہ واحد کی صورت میں رہتا ہے چاہے فاعل خود تثنیہ یا جمع کیوں نہ ہو، جیسے كَتَبَ الطُّلَّابُ الدَّرْسَ (طلبہ نے سبق لکھا) میں كَتَبَ واحد مذکر کی صورت میں آیا اگرچہ الطُّلَّابُ جمع ہے۔ اس کے برعکس اگر فاعل کی ضمیر پہلے سے فعل میں شامل ہو (یعنی فعل فاعل کے بعد آئے یا فاعل کی جگہ ضمیر مستتر لے لے)، تو فعل جمع یا تثنیہ کی مکمل صورت اختیار کر لیتا ہے، جیسے الطُّلَّابُ كَتَبُوا الدَّرْسَ (طلبہ نے سبق لکھا) میں فعل جمع کی مکمل صورت میں آیا۔ یہ فرق دراصل عربی نحو کے قاعدہ 'الفعل مع الفاعل الظاہر المتأخر یبقی مفردا' سے ماخوذ ہے۔

سبق 10۔ معلم الانشاء سبق 9: فعل مضارع اور فعل منفی

فعل مضارع وہ فعل ہے جو حال (اِس وقت جاری کام) اور مستقبل (آئندہ ہونے والے کام) دونوں زمانوں پر دلالت کرتا ہے، اور بعض اوقات ایسے مستقل حقائق پر بھی جن کا کوئی خاص وقت نہیں ہوتا، جیسے

﴿الشَّمْسُ تَطْلُعُ مِنَ الشَّرْقِسورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے

۔ اس کے برعکس فعل ماضی صرف اس کام کو ظاہر کرتا ہے جو گزر چکا اور مکمل ہو چکا ہے، جیسے كَتَبَ (اس نے لکھا)۔ ساختی اعتبار سے بھی دونوں میں بنیادی فرق ہے: فعل ماضی مبنی ہوتا ہے، یعنی اس کی آخری حرکت کسی عامل کے تابع نہیں بدلتی، جبکہ فعل مضارع معرب ہوتا ہے، یعنی اس کا آخری حرف مختلف عوامل (جیسے نفی کے حروف، ناصب یا جازم حروف) کے زیرِ اثر مرفوع، منصوب یا مجزوم ہوسکتا ہے۔ نیز فعل مضارع کی پہچان یہ ہے کہ اس کے شروع میں ہمیشہ چار حروفِ مضارعت میں سے ایک حرف — أ، ن، ي یا ت — لازماً موجود ہوتا ہے، جبکہ فعل ماضی میں ایسی کوئی علامت نہیں ہوتی، بلکہ وہ عموماً مادّے کی اصل صورت میں یا اس کے ساتھ ضمائر کے متصل ہونے سے پہچانا جاتا ہے۔

فعل مضارع کی تشکیل چار حروفِ مضارعت کے اضافے سے ہوتی ہے، جنہیں یاد رکھنے کے لیے مجموعی طور پر أَنَيْتُ کہا جاتا ہے۔ پہلا حرف أ متکلم واحد یعنی خود بولنے والے (میں) کے لیے آتا ہے، جیسے أَكْتُبُ (میں لکھتا ہوں)۔ دوسرا حرف ن متکلم جمع، یعنی بولنے والے کے ساتھ دوسرے بھی شامل ہوں (ہم) کے لیے آتا ہے، جیسے نَكْتُبُ (ہم لکھتے ہیں)۔ تیسرا حرف ي غائب مذکر (وہ، جس کے بارے میں بات ہو رہی ہے اور وہ مرد ہو) کے لیے آتا ہے، جیسے يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے)۔ چوتھا حرف ت دو مواقع پر آتا ہے: حاضر مذکر واحد کے لیے (تو لکھتا ہے) اور غائب مؤنث واحد کے لیے (وہ عورت لکھتی ہے) — دونوں صورتوں میں فعل کی ظاہری شکل ایک جیسی، یعنی تَكْتُبُ ہوتی ہے، اور اصل معنی جملے کے سیاق یا فاعل کے ذکر سے متعین ہوتا ہے۔ یہ چار حروف دراصل فعل کے شروع میں لگ کر یہ بتاتے ہیں کہ کام کرنے والا کون ہے، اس لیے انہیں پہچاننا فعل مضارع سیکھنے کی بنیاد ہے، اور جب تک یہ چاروں حروف اچھی طرح یاد نہ ہوں، طالب علم کسی بھی نئے مادّے سے صحیح مضارع بنانے میں دشواری محسوس کرے گا۔

فعل ماضی كَتَبَ (اس نے لکھا) میں تین اصلی حروف ک، ت، ب موجود ہیں، جن پر بالترتیب فتحہ، فتحہ اور فتحہ کی حرکات ہیں۔ فعل مضارع بناتے وقت پہلے اصلی حرف (ک) کو ساکن کردیا جاتا ہے اور اس سے پہلے مناسب حرفِ مضارعت لگا کر اسے متحرک بنایا جاتا ہے، جبکہ درمیانی حرف (ت) پر ایک نئی حرکت آتی ہے جو ہر فعل میں مختلف ہوسکتی ہے (ضمہ، فتحہ یا کسرہ) اور اسے لغت یا استاد سے سیکھنا پڑتا ہے — كَتَبَ کے مادّے میں یہ حرکت ضمہ ہے، اس لیے مضارع يَكْتُبُ بنتا ہے، جس میں تاء پر پیش ہے۔ آخری اصلی حرف (ب) پر عموماً فعل مضارع کے مرفوع ہونے کی علامت کے طور پر ضمہ آتا ہے، جب تک کوئی ناصب یا جازم حرف اس میں تبدیلی نہ کرے۔ اس طرح مضارع کی بنیادی ساخت یوں سمجھی جاسکتی ہے: حرفِ مضارعت + ساکن پہلا اصلی حرف + متحرک درمیانی حرف + آخری اصلی حرف بمعہ اعرابی علامت۔ یہی اصول دوسرے افعال جیسے فَتَحَيَفْتَحُ اور جَلَسَيَجْلِسُ پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے۔

فعل مضارع کی گردان بھی فعل ماضی کی طرح چودہ صیغوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ غائب کی چھ صورتیں: هُوَ يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے)، هُمَا يَكْتُبَانِ (وہ دونوں مرد لکھتے ہیں)، هُمْ يَكْتُبُونَ (وہ سب مرد لکھتے ہیں)، هِيَ تَكْتُبُ (وہ لکھتی ہے)، هُمَا تَكْتُبَانِ (وہ دونوں عورتیں لکھتی ہیں)، هُنَّ يَكْتُبْنَ (وہ سب عورتیں لکھتی ہیں)۔ حاضر کی چھ صورتیں: أَنْتَ تَكْتُبُ (تو لکھتا ہے)، أَنْتُمَا تَكْتُبَانِ (تم دونوں مرد لکھتے ہو)، أَنْتُمْ تَكْتُبُونَ (تم سب مرد لکھتے ہو)، أَنْتِ تَكْتُبِينَ (تو لکھتی ہے)، أَنْتُمَا تَكْتُبَانِ (تم دونوں عورتیں لکھتی ہو)، أَنْتُنَّ تَكْتُبْنَ (تم سب عورتیں لکھتی ہو)۔ اور متکلم کی دو صورتیں: أَنَا أَكْتُبُ (میں لکھتا ہوں)، نَحْنُ نَكْتُبُ (ہم لکھتے ہیں) ۔ اس گردان میں یاد رہے کہ تثنیہ کا صیغہ (يَكْتُبَانِ یا تَكْتُبَانِ) آخر میں الف نون سے، جمع مذکر سالم کا صیغہ (يَكْتُبُونَ) واو نون سے، جمع مؤنث کا صیغہ (يَكْتُبْنَ) نون کے ساکن ہونے سے، اور مؤنث حاضر واحد (تَكْتُبِينَ) یاء کے اضافے سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ چودہ صیغے دراصل چھ اصناف — واحد، تثنیہ، جمع، ہر ایک مذکر و مؤنث — اور تین اشخاص — غائب، حاضر، متکلم — کے امتزاج سے بنتے ہیں، اور اسی ترتیب سے فعل ماضی کی گردان بھی یاد کی گئی تھی، اس لیے دونوں گردانوں کا موازنہ کرنے سے یاد رکھنا آسان ہوجاتا ہے۔

فعل مضارع کے ذریعے بیان ہونے والے حال کے کام کی نفی کرنے کے لیے حرفِ نفی لَا کو فعل مضارع سے عین پہلے لگایا جاتا ہے۔ لَا کا استعمال نہایت سادہ ہے کیونکہ یہ فعل کے اعراب پر کوئی اثر نہیں ڈالتا — فعل اپنی اصل مرفوع حالت میں، یعنی آخری حرف پر ضمہ کے ساتھ، جوں کا توں باقی رہتا ہے۔ مثلاً لَا يَكْتُبُ (وہ نہیں لکھتا) میں يَكْتُبُ کا آخری حرف اسی طرح مرفوع ہے جیسے مثبت جملے يَكْتُبُ (وہ لکھتا ہے) میں تھا، فرق صرف اتنا ہے کہ لَا کے اضافے سے پورے جملے کا معنی نفی میں بدل گیا۔ اسی طرح

﴿لَا نَفْهَمُ هٰذَا الدَّرْسَہم یہ سبق نہیں سمجھتے

اور

﴿الْبِنْتُ لَا تَقْرَأُ الْآنَلڑکی اس وقت نہیں پڑھ رہی

جیسی مثالوں میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ چونکہ لَا کے استعمال میں فعل کی بنیادی گردان تبدیل نہیں ہوتی، اس لیے طالب علم کے لیے یہ نفی کا سب سے آسان اور ابتدائی طریقہ ہے، اور ہر مثبت مضارع جملے کو محض لَا کے اضافے سے فوراً منفی بنایا جاسکتا ہے، بغیر اس کے کہ فاعل، مفعول یا فعل کی حرکات میں کوئی اور رد و بدل کرنا پڑے۔

فعل ماضی کے ذریعے بیان ہونے والے گزرے ہوئے کام کی نفی کرنے کے لیے حرفِ نفی مَا کو فعل ماضی سے پہلے لگایا جاتا ہے۔ چونکہ فعل ماضی اصلاً مبنی ہوتا ہے، یعنی اس کی آخری حرکت کسی عامل کے زیرِ اثر تبدیل نہیں ہوتی، اس لیے مَا کے آنے سے بھی فعل کی بنا میں کوئی فرق نہیں پڑتا، وہ بالکل اسی طرح رہتا ہے جیسے مثبت جملے میں تھا۔ مثال کے طور پر مَا كَتَبَ کا مطلب ہے 'اس نے نہیں لکھا'، جبکہ مثبت جملہ كَتَبَ (اس نے لکھا) تھا — دیکھیں کہ كَتَبَ کی صورت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، صرف پہلے مَا کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح

﴿مَا ذَهَبَ الْوَلَدُ إِلَى الْمَدْرَسَةِلڑکا سکول نہیں گیا

اور

﴿مَا سَمِعْنَا هٰذَا الْخَبَرَ مِنْ قَبْلُہم نے پہلے یہ خبر نہیں سنی تھی

میں بھی یہی طریقہ اپنایا گیا ہے۔ اس طرح لَا اور مَا دونوں سادہ حروفِ نفی ہیں جو بالترتیب فعل مضارع اور فعل ماضی کے ساتھ خاص ہیں اور دونوں فعل کی بنیادی ساخت کو متاثر کیے بغیر محض جملے کا معنی مثبت سے منفی میں بدل دیتے ہیں۔

لَا اور مَا دونوں نفی کے حروف ہیں، مگر ان کا اطلاق مختلف زمانوں پر ہوتا ہے۔ لَا فعل مضارع کے ساتھ آکر حال (اور بعض اوقات عمومی حقیقت) کی نفی کرتا ہے، جبکہ مَا فعل ماضی کے ساتھ آکر گزرے ہوئے کام کی نفی کرتا ہے۔ دونوں کی مشترکہ خصوصیت یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والے فعل کے اعراب یا بنا میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، برخلاف بعض دیگر حروفِ نفی کے جن کا مطالعہ آئندہ اسباق میں کیا جائے گا۔ اب جملے

﴿الطَّالِبُ لَا يَكْتُبُ الدَّرْسَطالب علم سبق نہیں لکھتا

کا تجزیہ کریں: الطَّالِبُ مبتدأ ہے اور مرفوع ہے (پیش کے ساتھ)۔ لَا حرفِ نفی ہے جس کا کوئی محلِ اعراب نہیں۔ يَكْتُبُ فعل مضارع مرفوع ہے، اس کے فاعل کی ضمیر مستتر (چھپی ہوئی) ہُوَ اسی فعل میں شامل ہے جو الطَّالِبُ کی طرف لوٹتی ہے۔ الدَّرْسَ مفعول بہ ہے اور منصوب ہے (زبر کے ساتھ)۔ پورا جملہ يَكْتُبُ الدَّرْسَ مل کر خبرِ مبتدأ کے طور پر آیا ہے۔ اس تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ نفی کا اضافہ جملے کی بنیادی نحوی ساخت کو متاثر نہیں کرتا، صرف معنی کو منفی بنا دیتا ہے۔

سبق 11۔ معلم الانشاء سبق 10: فعل مجہول (ماضی مجہول)

فعل معروف وہ فعل ہے جس میں فاعل، یعنی کام کرنے والا، جملے میں مذکور اور واضح ہوتا ہے، جیسے

﴿كَتَبَ الطَّالِبُ الدَّرْسَطالب علم نے سبق لکھا

، جہاں یہ بالکل واضح ہے کہ لکھنے والا طالب علم تھا۔ فعل مجہول اس کے برعکس وہ فعل ہے جس میں فاعل جان بوجھ کر حذف کردیا جاتا ہے یا وہ سرے سے نامعلوم ہوتا ہے، اور اس کی جگہ نائب الفاعل نامی رکن لے لیتا ہے، جیسے كُتِبَ الدَّرْسُ (سبق لکھا گیا) ، جہاں یہ نہیں بتایا جاتا کہ لکھنے والا کون تھا، صرف یہ خبر دی جاتی ہے کہ سبق لکھا جا چکا ہے۔ صرفی اعتبار سے بھی دونوں مختلف ہیں: معروف فعل کا وزن فَعَلَ ہوتا ہے (پہلا اور تیسرا حرف زبر کے ساتھ)، جبکہ مجہول فعل کا وزن فُعِلَ ہوتا ہے (پہلا حرف پیش اور ماقبلِ آخر حرف زیر کے ساتھ)۔ یہ فرق سننے یا پڑھنے ہی سے فوراً پہچانا جاسکتا ہے، اور دونوں طرزِ بیان میں معنوی فرق یہ ہے کہ معروف میں توجہ کرنے والے پر اور مجہول میں توجہ خود کام یا اس کے نتیجے پر مرکوز ہوتی ہے۔

ماضی مجہول بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ فعل کے پہلے حرف کو مضموم (پیش) اور ماقبلِ آخر حرف کو مکسور (زیر) کردیا جاتا ہے، جبکہ باقی حروف اور ان کی ترتیب جوں کی توں رہتی ہے، یعنی صرفی وزن فَعَلَ سے بدل کر فُعِلَ ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر كَتَبَ (اس نے لکھا) میں پہلا حرف ک زبر کے ساتھ تھا، اسے پیش کردیا، اور ماقبلِ آخر حرف ب زبر کے ساتھ تھا، اسے زیر کردیا، تو یہ كُتِبَ (لکھا گیا) بن گیا۔ اسی طرح فَتَحَ (اس نے کھولا) کا پہلا حرف ف تھا، اسے پیش دیا اور ماقبلِ آخر حرف ت کو زیر دیا، تو یہ فُتِحَ (کھولا گیا) بن گیا۔ یہ قاعدہ ہر صحیح تین حرفی فعل ماضی پر یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے، اس لیے اس کی مشق سے کسی بھی نئے فعل کو بھی آسانی سے مجہول بنایا جاسکتا ہے، جیسے نَصَرَ سے نُصِرَ اور ضَرَبَ سے ضُرِبَ۔ اس قاعدے کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ فعل کی پہلی دو حرکات کو الٹ کر پیش اور زیر میں تبدیل کردیا جائے، تیسرے حرف کی اصل حرکت (عموماً فتحہ) کو بدلنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

مجہول جملے میں جو اسم فاعل کی جگہ لیتا ہے اسے نائب الفاعل، یعنی فاعل کا قائم مقام، کہا جاتا ہے، اور یہ ہمیشہ مرفوع ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے معروف جملے میں فاعل مرفوع ہوتا تھا، کیونکہ نحوی اعتبار سے یہ فاعل کے خالی مقام پر آکر اسی کا اعراب اختیار کرلیتا ہے۔ جب معروف جملہ

﴿كَتَبَ الطَّالِبُ الدَّرْسَجہاں الدَّرْسَ مفعول بہ اور منصوب تھا

کو مجہول میں بدلا جاتا ہے تو یہ كُتِبَ الدَّرْسُ بن جاتا ہے — اصل فاعل الطَّالِبُ حذف ہوگیا، اور اصل مفعول بہ الدَّرْسَ نائب الفاعل بن گیا۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی اس کا اعراب بھی بدل جاتا ہے: منصوب (الدَّرْسَ، زبر کے ساتھ) سے مرفوع (الدَّرْسُ، پیش کے ساتھ) ہوجاتا ہے۔ یہی اعرابی تبدیلی — یعنی مفعول بہ کا نائب الفاعل بن کر منصوب سے مرفوع میں تبدیل ہونا — فعل مجہول کے پورے قاعدے کی سب سے نمایاں اور امتحان میں کثرت سے پوچھی جانے والی علامت ہے۔ یاد رہے کہ اگر جملے میں مفعول بہ موجود نہ ہو تو نائب الفاعل کسی اور متعلقہ اسم، جیسے ظرف یا جار مجرور، سے بھی بنایا جاسکتا ہے، مگر ابتدائی سطح پر عموماً مفعول بہ ہی نائب الفاعل بنتا ہے۔

قُرِئَفعل قَرَأَ (اس نے پڑھا) کی مجہول صورت ہے، جس کا مطلب ہے 'پڑھا گیا'۔ عام اصول کے مطابق تو پہلے حرف کو پیش اور ماقبلِ آخر کو زیر دیا جانا چاہیے تھا، اور بنیادی طور پر یہی ہوا بھی ہے، مگر چونکہ قَرَأَ کا آخری اصلی حرف ہمزہ ہے، اس لیے جب اس سے پہلے والے حرف (ر) پر کسرہ (زیر) آتی ہے تو ہمزہ کی نشست بھی اسی مناسبت سے تبدیل ہوجاتی ہے، اور وہ یاء کی کرسی پر لکھا جاتا ہے، یعنی ئَ کی صورت اختیار کرتا ہے۔ یہ املائی تبدیلی ہمزہ کے قواعد کا حصہ ہے، نہ کہ مجہول کے بنیادی صرفی اصول میں کوئی استثنا۔ اسی طرح کے مہموز الآخر افعال، جیسے قَرَأَ، سَأَلَ وغیرہ، میں مجہول بناتے وقت ہمزہ کی جگہ کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے، جبکہ سالم افعال جیسے كَتَبَ، فَتَحَ، ضَرَبَ اور نَصَرَ میں ایسی کوئی پیچیدگی نہیں آتی اور بنیادی قاعدہ براہِ راست لاگو ہوجاتا ہے۔ طالب علم کو چاہیے کہ ایسے مہموز افعال کی فہرست الگ سے یاد کرے تاکہ املا میں غلطی نہ ہو، کیونکہ معنی اور قاعدہ دونوں درست ہونے کے باوجود محض ہمزہ کی غلط جگہ لکھنا جملے کو غلط بنا سکتا ہے۔

فُتِحَ الْبَابُ کا ترجمہ ہے: دروازہ کھولا گیا۔ اس جملے میں الْبَابُ نائب الفاعل ہے، جو مرفوع ہے (پیش کے ساتھ)، اور فعل فُتِحَ مجہول ہے۔ اگر اس جملے کو معروف میں بدلنا ہو تو ایک فاعل شامل کرنا ضروری ہوگا، مثلاً

﴿فَتَحَ الْوَلَدُ الْبَابَلڑکے نے دروازہ کھولا

— اس معروف جملے میں الْوَلَدُ فاعل بن کر مرفوع ہوا اور الْبَابَ مفعول بہ بن کر منصوب ہوا، یعنی وہی لفظ جو مجہول جملے میں الْبَابُ (مرفوع، نائب الفاعل) تھا، معروف جملے میں الْبَابَ (منصوب، مفعول بہ) بن گیا۔ اس مثال سے یہ حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ مجہول اور معروف کے درمیان تبدیلی دراصل تین چیزوں کا مجموعہ ہے: فعل کے وزن کی تبدیلی (فَتَحَ سے فُتِحَ)، فاعل کا اضافہ یا حذف (الْوَلَدُ)، اور اسی کے نتیجے میں مفعول بہ کے اعراب کی تبدیلی (منصوب سے مرفوع یا مرفوع سے منصوب)۔ اس دو طرفہ تبدیلی کی مشق سے طالب علم دونوں سمتوں میں، یعنی معروف سے مجہول اور مجہول سے معروف، جملے بنانے کی مہارت حاصل کرتا ہے، اور یہی مہارت آگے چل کر پیچیدہ عبارتوں کے صحیح ترجمے اور تجزیے کے لیے بنیاد فراہم کرتی ہے۔

فعل مجہول بالخصوص ان عبارتوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے جہاں فاعل کا ذکر یا تو ممکن نہ ہو، یا ضروری نہ ہو، یا خود گفتگو کا مرکز نتیجہ ہو، فاعل نہیں۔ صحافتی زبان میں، مثلاً کسی واقعے کی خبر دیتے وقت اکثر یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اصل ذمہ دار کون تھا، تو ایسے مواقع پر مجہول کا اسلوب اپنایا جاتا ہے، جیسے سُرِقَتِ السَّيَّارَةُ (گاڑی چوری کر لی گئی) ۔ علمی اور تاریخی تحریروں میں بھی، جہاں کسی عمارت کی تعمیر، کسی کتاب کی تصنیف، یا کسی واقعے کے وقوع کا ذکر ہو اور کرنے والے کا نام غیر متعلق یا واضح ہو، مجہول کا استعمال زیادہ مناسب اور مختصر معلوم ہوتا ہے، جیسے

﴿بُنِيَ هٰذَا الْمَسْجِدُ قَبْلَ مِئَةِ عَامٍیہ مسجد سو سال پہلے تعمیر کی گئی

۔ اس کے علاوہ، جب فاعل کو چھپانا مقصود ہو، یا شائستگی کا تقاضا یہ ہو کہ کسی کی خطا کا نام لے کر ذکر نہ کیا جائے، تب بھی فعل مجہول بہترین اسلوب ثابت ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کریم اور حدیثِ نبوی ﷺ کی زبان میں بھی متعدد مقامات پر مجہول کا استعمال ملتا ہے، جہاں نتیجے کی اہمیت فاعل کے ذکر سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے۔

سبق 12۔ معلم الانشاء سبق 11: فعل مضارع منفی اور استمراری صیغے

لَمْ ایک حرفِ نفی ہے جو فعل مضارع سے پہلے آکر اسے ماضی کے معنی میں منفی کردیتا ہے، یعنی فعل کی ظاہری صورت مضارع کی ہی رہتی ہے مگر پیغام یہ ہوتا ہے کہ گزرے ہوئے وقت میں یہ کام نہیں ہوا۔ مثال کے طور پر لَمْ يَكْتُبْ کا مطلب ہے 'اس نے نہیں لکھا'، بالکل اسی طرح جیسے مَا كَتَبَ کہا جاتا۔ یہ عربی گرامر کا ایک نہایت دلچسپ اور منفرد پہلو ہے: صیغہ بظاہر مضارع کا ہے، حرفِ مضارعت (ي، ت وغیرہ) بھی موجود ہے، مگر لَمْ کی موجودگی پورے فعل کے زمانی مفہوم کو مضارع سے ماضی کی طرف منتقل کردیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لَمْ فعل کو نحوی طور پر بھی متاثر کرتا ہے، کیونکہ یہ اسے مجزوم بنا دیتا ہے، یعنی آخری حرف کی ضمہ کی حرکت سکون میں بدل جاتی ہے۔ یوں لَمْ ایک ہی وقت میں دو کام کرتا ہے: معنوی اعتبار سے زمانہ بدل دیتا ہے اور نحوی اعتبار سے فعل کے اعراب کو جزم میں بدل دیتا ہے، جو اسے مَا اور لَا سے ممتاز بناتا ہے۔

اس جملے کا ترجمہ ہے: طالب علم نے واجب (سبق) نہیں لکھا۔ اعرابی تجزیہ یہ ہے: لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے، جس کا کوئی محلِ اعراب نہیں مگر یہ اپنے بعد آنے والے فعل مضارع کو مجزوم کرتا ہے۔ يَكْتُبِ فعل مضارع مجزوم ہے، اور چونکہ اصل صورت يَكْتُبُ تھی جس کے آخر میں ضمہ تھا، لَمْ کے آنے سے یہ سکون میں بدل جاتا، مگر اگلے لفظ الطَّالِبُ کا ہمزہ وصلی ملانے کے لیے تلفظ میں کسرہ سے پڑھا جاتا ہے، جسے التقاء الساکنین سے بچنے کی ایک تجویدی ضرورت سمجھا جاتا ہے۔ الطَّالِبُ فاعل ہے اور مرفوع ہے۔ الْوَاجِبَ مفعول بہ ہے اور منصوب ہے۔ اس جملے سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ اگرچہ فعل بظاہر مضارع کی شکل میں ہے، مگر لَمْ کے استعمال کی وجہ سے پورے جملے کا زمانی مفہوم ماضی کی نفی کا بن جاتا ہے — یعنی گفتگو سے پہلے سبق نہیں لکھا گیا تھا۔ طالب علم کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ لَمْ کے بعد فعل کی ظاہری شکل مضارع کی ہونے کے باوجود، اسے ماضی کی نفی کے طور پر ہی ترجمہ کرنا چاہیے، ورنہ ترجمہ غلط ہوجائے گا۔

عربی زبان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ فعل مضارع بذاتِ خود عادی اور جاری، دونوں طرح کے کام کا مفہوم دے سکتا ہے۔ يَكْتُبُ کا مطلب سیاق کے مطابق 'وہ لکھتا ہے' (ہمیشہ کی عادت، عمومی حقیقت) بھی ہوسکتا ہے اور 'وہ لکھ رہا ہے' (اسی لمحے جاری کام) بھی۔ یہ اردو اور انگریزی کے طرزِ اظہار سے واضح طور پر مختلف ہے، جہاں دونوں مفہوم کے لیے الگ الگ گرامری ڈھانچے مقرر ہیں: اردو میں 'لکھتا ہے' بمقابلہ 'لکھ رہا ہے'، اور انگریزی میں 'writes' بمقابلہ 'is writing'۔ عربی میں یہ فرق فعل کی اپنی صورت بدلنے سے ظاہر نہیں ہوتا، بلکہ سیاق و سباق، کلام میں شامل قرائن (جیسے الْآنَ 'اس وقت'، یا الْيَوْمَ 'آج') یا پوری گفتگو کے پس منظر سے متعین کیا جاتا ہے۔ مثلاً اکیلے يَكْتُبُ کا ترجمہ 'وہ لکھتا ہے' کیا جاسکتا ہے، مگر

﴿هُوَ يَكْتُبُ الْآنَ

میں الْآنَ کی موجودگی واضح طور پر جاری کام کی طرف اشارہ کرتی ہے، اس لیے اس کا ترجمہ 'وہ اس وقت لکھ رہا ہے' زیادہ موزوں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ عربی سیکھنے والے کو ہمیشہ پورے جملے اور اس کے سیاق پر نظر رکھنی چاہیے، محض ایک الگ فعل کو دیکھ کر حتمی ترجمہ کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

ماضی استمراری فعلِ ناقص كَانَ کو فعل مضارع کے ساتھ ملا کر بنایا جاتا ہے: كَانَ يَكْتُبُ (وہ لکھ رہا تھا / لکھا کرتا تھا) ۔ كَانَ کو 'فعلِ ناقص' اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اکیلا مکمل جملہ نہیں بنا سکتا، بلکہ اسے ایک اسم (اسمِ كَانَ، جو مرفوع ہوتا ہے) اور ایک خبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ترکیب میں دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ خبر کسی مفرد اسم کے بجائے ایک مکمل جملہ فعلیہ (يَكْتُبُ) ہے، اور نحو کا اصول یہ ہے کہ جب خبر ایک جملہ ہو تو وہ بذاتِ خود کسی اعرابی علامت کی حامل نہیں ہوتی، مگر اس کا شمار محلاً منصوب میں کیا جاتا ہے، یعنی اگر بالفرض وہ مفرد اسم ہوتی تو منصوب ہوتی۔ نحوی طور پر پورے جملے

﴿كَانَ الطَّالِبُ يَكْتُبُ

میں الطَّالِبُ اسمِ كَانَ اور مرفوع ہے، اور يَكْتُبُ کا جملہ خبرِ كَانَ محلاً منصوب ہے۔ اس طرح كَانَ کا بنیادی کردار یہ ہے کہ وہ اکیلے مضارع کے حال یا مستقبل کے مفہوم کو ماضی کے دائرے میں منتقل کردیتا ہے، اور نتیجتاً پورا مرکب ماضی میں ایک جاری عمل کا بیان بن جاتا ہے۔

ماضی استمراری، یعنی كَانَ يَكْتُبُ کی نفی کرنے کے لیے لَمْ کو خود معاون فعل كَانَ کے مضارع يَكُونُ پر لگایا جاتا ہے، جو اس سے مجزوم ہوکر يَكُنْ بن جاتا ہے، اور اس کے بعد اصل مضارع فعل (يَكْتُبُ) بطور خبر آتا ہے:

﴿لَمْ يَكُنْ يَكْتُبُوہ لکھ نہیں رہا تھا

۔ اعرابی تجزیہ یوں ہے: لَمْ حرفِ نفی و جزم ہے، يَكُنْ فعلِ ناقص کا مضارع مجزوم ہے (اصل يَكُونُ تھا، جزم کے باعث واو گر گئی اور نون ساکن ہوگئی)، اسمِ يَكُنْ فعل میں مستتر ضمیر ہُوَ ہے، اور يَكْتُبُ کا جملہ خبرِ يَكُنْ محلاً منصوب ہے۔ اس ساخت کی خوبصورتی یہ ہے کہ نفی دراصل معاون فعل (كَانَ کے مضارع) پر واقع ہوتی ہے، جبکہ اصل کام بتانے والا فعل (يَكْتُبُ) بغیر کسی اعرابی تبدیلی کے، بطور خبر، اپنی جگہ برقرار رہتا ہے۔ یہی طریقہ حال میں جاری کام کی نفی (لَا يَكْتُبُ الْآنَ) سے مختلف ہے، کیونکہ حال کی نفی میں کوئی معاون فعل درکار نہیں ہوتا۔ اس فرق کو ذہن میں رکھنے سے طالب علم آسانی سے پہچان سکتا ہے کہ کسی جملے میں نفی حال کی جارہی ہے یا ماضی میں جاری کام کی، جو کہ عربی مکالمے میں درست وقت کی نشاندہی کے لیے نہایت اہم ہے۔

یہ چاروں حروف مل کر عربی کے نفی کے مکمل نظام کو تشکیل دیتے ہیں، اور ہر ایک کا اپنا خاص میدانِ کار ہے۔ لَا فعل مضارع کے ساتھ آکر سادہ حال یا استمراری کام کی نفی کرتا ہے، جیسے

﴿لَا يَكْتُبُ الْآنَ

، اور فعل کے اعراب پر کوئی اثر نہیں ڈالتا۔ مَا فعل ماضی کے ساتھ آکر گزرے ہوئے واقعے کی نفی کرتا ہے، جیسے مَا كَتَبَ، اور چونکہ ماضی مبنی ہوتا ہے، اس کی بنا بھی نہیں بدلتی۔ لَمْ فعل مضارع کے ساتھ آکر ماضی کے معنی میں نفی کرتا ہے، جیسے لَمْ يَكْتُبْ ، اور فعل کو مجزوم کردیتا ہے۔ اور لَمْ يَكُنْ ماضی استمراری کی نفی کے لیے آتا ہے، جیسے

﴿لَمْ يَكُنْ يَكْتُبُ

، جہاں لَمْ دراصل معاون فعل كَانَ کے مضارع کو مجزوم کرتا ہے، اصل فعل بطور خبر بغیر کسی تبدیلی کے باقی رہتا ہے۔ ان چاروں میں امتیاز یہ ہے کہ لَا اور مَا فعل کے اعراب کو نہیں چھیڑتے، جبکہ لَمْ اور لَمْ يَكُنْ اپنے متعلقہ مضارع فعل کو مجزوم کرتے ہیں — یہ فرق یاد رکھنے سے کسی بھی زمانے کا منفی جملہ درست اعراب کے ساتھ بنایا جاسکتا ہے۔

سبق 13۔ فعل امر و نہی؛ انشائی مضمون: القرآن الکریم اور اخلاقِ نبوی ﷺ

فعلِ امر بنانے کے تین بنیادی مراحل ہیں۔ پہلا مرحلہ یہ کہ فعلِ مضارع کے صیغۂ مخاطب سے شروع کا حرفِ مضارعت (ت) ہٹا دیا جاتا ہے، مثلاً تَكْتُبُ سے صرف كْتُبُ باقی رہتا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ کہ فعل کے آخری حرف کو ساکن کردیا جاتا ہے، جس سے كْتُبْ بنتا ہے۔ تیسرا مرحلہ یہ کہ چونکہ عربی کلمہ ساکن حرف سے شروع نہیں ہوسکتا، اس لیے ابتدا میں ہمزۃ الوصل بڑھائی جاتی ہے، جس سے مکمل فعلِ امر اُكْتُبْ (لکھو) بن جاتا ہے۔ تَنْصُرُ کی مثال میں چونکہ عین الفعل (ن کے بعد کا حرف ص) مضموم ہے، اس لیے ہمزۃ الوصل بھی مضموم آئے گی، اور فعلِ امر اُنْصُرْ (مدد کرو) بنے گا۔ اگر عین الفعل مفتوح یا مکسور ہو، جیسے تَذْهَبُ میں، تو ہمزۃ الوصل مکسور آئے گی، یعنی اِذْهَبْ (جاؤ)۔ اس طرح ہمزۃ الوصل کی حرکت ہمیشہ فعل کے تیسرے اصلی حرف کی حرکت کے تابع ہوتی ہے۔

فعلِ نہی بنانے کے لیے فعلِ مضارع کے شروع میں حرفِ نہی لَا (لَا النَّاہِیَۃ) لگایا جاتا ہے، اور فعلِ مضارع کو مجزوم کیا جاتا ہے، یعنی اس کا آخری حرف ساکن کردیا جاتا ہے، جیسے تَكْتُبُ سے لَا تَكْتُبْ (مت لکھو) اور تَذْهَبُ سے لَا تَذْهَبْ (مت جاؤ) بنتا ہے۔ فعلِ امر کی تشکیل کا بنیادی طریقہ اس سے مختلف ہے: امر میں شروع کا حرفِ مضارعت مکمل طور پر ہٹا دیا جاتا ہے اور اس کی جگہ ہمزۃ الوصل بڑھائی جاتی ہے، جبکہ نہی میں حرفِ مضارعت بالکل باقی رہتا ہے اور صرف لَا کا اضافہ اور آخری حرکت کی تبدیلی (جزم) ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فعلِ نہی میں کبھی بھی ہمزۃ الوصل کی ضرورت نہیں پڑتی، کیونکہ حرفِ مضارعت خود متحرک ہوتا ہے اور کلمہ ساکن سے شروع نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ کہ امر ہمزۃ الوصل اور حرفِ مضارعت کے حذف پر مبنی ہے، جبکہ نہی حرفِ مضارعت کی بقا اور لَا کے اضافے پر مبنی ہے۔

ہمزۃ الوصل کی حرکت کا تعین اس اصول کے تحت ہوتا ہے کہ وہ فعلِ مضارع کے تیسرے اصلی حرف، یعنی عین الفعل، کی اصل حرکت کے مطابق آتی ہے۔ تَنْصُرُ میں عین الفعل (ص) پر ضمہ (پیش) ہے، اس لیے جب اس سے فعلِ امر بنایا جاتا ہے تو ہمزۃ الوصل بھی مضموم لائی جاتی ہے، یعنی اُنْصُرْ (مدد کرو)۔ اس کے برعکس تَذْهَبُ میں عین الفعل (ہ) پر فتحہ ہے، اور قاعدے کے مطابق جہاں عین الفعل مفتوح یا مکسور ہو وہاں ہمزۃ الوصل ہمیشہ مکسور آتی ہے، اس لیے فعلِ امر اِذْهَبْ (جاؤ) بنتا ہے، نہ کہ اَذْهَبْ۔ اس اصول کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان تلفظ میں ہم آہنگی چاہتی ہے، اور مضموم عین الفعل والے افعال میں مضموم ہمزہ لانا زبان پر زیادہ آسان اور فصیح تلفظ فراہم کرتا ہے، جبکہ باقی تمام صورتوں میں مکسور ہمزہ ہی اصل اور غالب قاعدہ ہے۔

اس جملے کا مکمل ترجمہ یہ ہے: سبق لکھو اور اس میں سستی نہ کرو۔ اس جملے میں دو افعال استعمال ہوئے ہیں۔ پہلا اُكْتُبِ ہے، جو فعلِ امر ہے اور لکھنے کا حکم دیتا ہے؛ اس کا مفعولٌ بہ الدَّرْسَ ہے، اور اُكْتُبِ کے آخر میں کسرہ التقاء الساکنین سے بچنے کے لیے لایا گیا ہے کیونکہ اس کے بعد لام تعریف والا اسم آرہا ہے۔ دوسرا فعل لَا تَتَكَاسَلْ ہے، جو فعلِ نہی ہے اور سستی کرنے سے منع کرتا ہے؛ اس میں حرفِ مضارعت (ت) باقی ہے اور صرف آخری حرف مجزوم ہوکر ساکن ہوا ہے۔ یہ جملہ اس بات کی بہترین مثال ہے کہ عربی میں حرفِ عطف وَ کے ذریعے ایک ہی جملے میں حکم اور ممانعت دونوں کو ایک ساتھ بیان کیا جاسکتا ہے، جو کہ روزمرہ نصیحت آموز عبارتوں میں بہت عام اسلوب ہے۔

قرآن کریم پر لکھے گئے نمونہ مضمون میں چند بنیادی نکات ترتیب سے بیان کیے گئے ہیں: سب سے پہلے قرآن کی تعریف، یعنی یہ اللہ کا وہ کلام ہے جو نبی محمد ﷺ پر جبریل علیہ السلام کے ذریعے نازل ہوا؛ پھر اس کی حفاظت، یعنی اللہ نے اسے تحریف اور تبدیلی سے محفوظ رکھا ہے؛ اس کے بعد اس کا بیانی اعجاز، یعنی کوئی فصیح و بلیغ انسان اس کی سب سے چھوٹی سورت جیسا کلام بھی نہیں لاسکا؛ پھر اس کا مواد، یعنی بہترین قصے، حکمتیں اور واضح احکام؛ اور آخر میں طالب علم کا ذاتی جذبۂ محبت اور تلاوت کا عزم۔ اس مشق کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ طالب علم دینی موضوع پر اسمیہ جملوں کی مدد سے ایک مربوط، مختصر اور گرامری اعتبار سے درست عربی مضمون لکھنا سیکھے، جو آگے چل کر زیادہ پیچیدہ عربی تحریر کی بنیاد بنے۔

اخلاقِ نبوی ﷺ کے مضمون میں فعلِ ناقص كَانَ کا بار بار استعمال دانستہ اور بامعنی ہے، کیونکہ كَانَ ماضی کے زمانے میں کسی صفت کے مستقل اور دیرپا ہونے کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ کسی وقتی یا عارضی حالت کو۔ جب ہم كَانَ رَسُولُ اللهِأَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا لکھتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اخلاقِ حسنہ آپ ﷺ کی مستقل عادت اور خصلت تھی، جو زندگی بھر برقرار رہی، نہ کہ کبھی کبھار ظاہر ہونے والا رویہ۔ اسی طرح كَانَصَادِقًا أَمِينًا اور كَانَرَحِيمًا بِالضُّعَفَاءِ میں بھی یہی مفہوم ملتا ہے۔ نحوی اعتبار سے كَانَ اپنے اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتا ہے، اور اس طرح یہ جملہ خبر کی عملی مثال بھی بن جاتا ہے، جو آئندہ سبق میں خبر و انشاء کے فرق کو سمجھنے کے لیے مفید تمہید ثابت ہوتی ہے۔

دونوں نمونہ مضامین میں کئی مشترک اسلوبی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ اول، دونوں کا آغاز ایک جامع اسمیہ جملے سے ہوتا ہے جو موضوع کی بنیادی تعریف بیان کرتا ہے۔ دوم، اس کے بعد دو یا تین معاون جملوں میں موضوع کی نمایاں خصوصیات، جیسے قرآن کا اعجاز و حفاظت یا نبی کریم ﷺ کی صداقت و رحمت، مختصراً بیان کی جاتی ہیں۔ سوم، دونوں مضامین حرفِ عطف وَ اور حرفِ سببیت فَ کے ذریعے جملوں کو باہم مربوط رکھتے ہیں تاکہ عبارت میں تسلسل قائم رہے۔ چہارم، دونوں کا اختتام طالب علم کے ذاتی احساس یا عملی عزم پر مبنی جملے سے ہوتا ہے۔ اس مشترک اسلوب کا تدریسی مقصد یہ ہے کہ طالب علم دینی موضوعات پر سادہ مگر مکمل اور مربوط عربی مضمون لکھنے کا ایک قابلِ تقلید نمونہ (ٹیمپلیٹ) ذہن نشین کرلے، جسے وہ آئندہ کسی بھی مختصر انشائی موضوع پر لاگو کرسکے۔

سبق 14۔ خبر و انشاء کا فرق؛ عربی خط نگاری کی مشق

خبر وہ جملہ ہے جس میں سچائی یا جھوٹ کا احتمال ہو، یعنی سننے والا اس کی تصدیق یا تکذیب کرسکتا ہے، جیسے الْجَوُّ جَمِيلٌ الْيَوْمَ (آج موسم خوبصورت ہے)، جو حقیقتاً سچ یا جھوٹ ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس انشاء وہ جملہ ہے جس پر سچ یا جھوٹ کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، کیونکہ یہ کسی حقیقت کی خبر نہیں دیتا بلکہ حکم، ممانعت، سوال، پکار یا خواہش ظاہر کرتا ہے، جیسے هَلْ كَتَبْتَ الرِّسَالَةَ؟ (کیا تم نے خط لکھا؟)۔ اس جملے کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ، کیونکہ یہ ایک سوال ہے، معلومات کا بیان نہیں۔ یہی بنیادی امتیاز عربی گرامر میں جملوں کی دو بڑی قسموں کو الگ کرتا ہے، اور بلاغت و انشاء نویسی دونوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انشاء طلبی کی پانچ مشہور اقسام یہ ہیں۔ پہلی امر ہے، یعنی حکم دینا، جیسے اُكْتُبْ (لکھو)، جس کی پہچان فعلِ امر کی صورت ہے۔ دوسری نہی ہے، یعنی روکنا، جیسے لَا تَكْتُبْ (مت لکھو)، جس کی پہچان لَا الناہیہ اور مضارع مجزوم ہے۔ تیسری استفہام ہے، یعنی سوال کرنا، جیسے هَلْ كَتَبْتَ؟ (کیا تم نے لکھا؟)، جس کی پہچان حروفِ استفہام جیسے هَلْ اور أَ ہے۔ چوتھی نداء ہے، یعنی پکارنا، جیسے يَا مُحَمَّدُ (اے محمد)، جس کی پہچان حروفِ نداء جیسے يَا ہے۔ اور پانچویں تمنی ہے، یعنی کسی مشکل یا ناممکن خواہش کا اظہار، جیسے لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ (کاش جوانی لوٹ آئے)، جس کی پہچان حرفِ تمنی لَيْتَ ہے۔ ان سب پر سچ یا جھوٹ کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

الْجَوُّ جَمِيلٌ الْيَوْمَ خبر ہے کیونکہ یہ ایک بیانیہ جملہ ہے جس کی تصدیق یا تکذیب ممکن ہے — یعنی یہ حقیقتاً سچ یا جھوٹ ہوسکتا ہے کہ آج موسم واقعی خوبصورت ہے، اور اسے دیکھ کر یا موسم کی رپورٹ سے جانچا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس هَلْ كَتَبْتَ الرِّسَالَةَ؟ انشاء (استفہامیہ جملہ) ہے، کیونکہ یہ ایک سوال ہے، اور سوالیہ جملے پر سچ یا جھوٹ کا حکم لگانا ممکن نہیں — سوال کا جواب (مثلاً نَعَمْ یا لَا) سچ یا جھوٹ ہوسکتا ہے، مگر سوال بذاتِ خود نہ سچ ہے نہ جھوٹ۔ یہ مثال واضح کرتی ہے کہ خبر اور انشاء کی تمیز جملے کی ساخت (اسمیہ یا فعلیہ) سے نہیں بلکہ اس کے مقصد اور مضمون سے کی جاتی ہے۔

عربی خط عام طور پر چار اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے: بسم اللہ سے آغاز، پھر مخاطب کے لیے دعائیہ سلام اور ربطیہ کلمہ وَبَعْدُ، اس کے بعد خط کا اصل متن جس میں حال احوال، خیریت اور مقصد بیان کیا جاتا ہے، اور آخر میں اختتامی دعائیہ کلمات اور دستخط۔ نمونہ خط میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ آغاز ہے، أَبِي الْعَزِيزُ الْمُحْتَرَمُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَبَعْدُ دعائیہ سلام اور ربطیہ کلمہ ہے، أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا... سے وَإِنِّي أَشْتَاقُ إِلَيْكُمْ تک اصل متن ہے، اور وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ابْنُكُمُ الْمُخْلِصُ، مُحَمَّدٌ اختتامی حصہ اور دستخط ہے۔ یہ چاروں اجزاء نمونہ خط میں واضح طور پر موجود ہیں۔

نمونہ خط میں بیٹے نے اپنے والد سے دو بنیادی درخواستیں کیں: پہلی یہ کہ اگلے سمسٹر کی کتابوں کے لیے کچھ رقم بھیج دیں (فَأَرْجُو أَنْ تُرْسِلُوا إِلَيَّ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْمَالِ)، اور دوسری یہ کہ اس کی کامیابی کے لیے دعا کریں (فَأَرْجُو أَنْ تَدْعُوا لِي بِالتَّوْفِيقِ وَالنَّجَاحِ)۔ دونوں درخواستیں فعلِ رجاء أَرْجُو أَنْ (میں امید رکھتا ہوں کہ) کے ذریعے مؤدبانہ انداز میں کی گئی ہیں، جو دراصل انشائیہ طلب کی ایک نرم اور شائستہ صورت ہے، براہِ راست فعلِ امر کے استعمال کے بجائے۔ یہ اسلوب عربی خط و کتابت میں انتہائی اہم ہے، کیونکہ بڑوں یا محترم افراد سے کوئی چیز مانگتے وقت براہِ راست حکمیہ صیغہ استعمال کرنا نامناسب سمجھا جاتا ہے، جبکہ أَرْجُو أَنْ جیسے صیغے احترام اور نرمی کو برقرار رکھتے ہیں۔

نمونہ خط کے اختتامی حصے میں تین اجزاء پائے جاتے ہیں: پہلا، دوسروں کو سلام پہنچانے کی گزارش (وَبَلِّغْ سَلَامِي إِلَى وَالِدَتِي الْحَبِيبَةِ وَإِخْوَتِي الصِّغَارِ)، جو خاندانی رشتوں کے احترام اور محبت کا اظہار کرتی ہے۔ دوسرا، اختتامی دعائیہ سلام (وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ)، جو خط کے آغاز کے سلام سے ہم آہنگ ہوکر خط کو ایک مکمل دائرے کی صورت میں مکمل کرتا ہے۔ تیسرا، دستخط کی جگہ لکھنے والے کا تعارف (ابْنُكُمُ الْمُخْلِصُ، مُحَمَّدٌ)، جو رشتے کی نوعیت (بیٹا) اور نام دونوں واضح کرتا ہے۔ یہ تینوں اجزاء مل کر خط کو ایک باادب، مکمل اور جذباتی اختتام فراہم کرتے ہیں، جو عربی خط نگاری کی روایتی اور اسلامی روایت کے عین مطابق ہے۔

خبر اور انشاء کی تمیز کرنے کا سب سے بڑا عملی فائدہ یہ ہے کہ طالب علم اپنی تحریر میں مناسب جملے کا انتخاب کرسکتا ہے: جب مقصد معلومات دینا ہو، جیسے اپنی خیریت یا تعلیمی حال بیان کرنا، تو خبریہ جملہ استعمال ہوگا؛ اور جب مقصد کسی سے کچھ طلب کرنا، دعا مانگنا، یا احساس ظاہر کرنا ہو، تو انشائیہ جملہ (امر، تمنی یا استفہام) استعمال ہوگا۔ مثال کے طور پر نمونہ خط میں الدِّرَاسَةُ تَسِيرُ عَلَى مَا يُرَامُ خبر ہے جو حال بیان کرتا ہے، جبکہ فَأَرْجُو أَنْ تُرْسِلُوا انشاء ہے جو درخواست ظاہر کرتا ہے۔ اگر طالب علم ان دونوں میں فرق نہ کرسکے تو اس کی تحریر میں مقصد اور لہجہ غیر واضح رہ جاتا ہے۔ اسی لیے یہ فرق خط، درخواست اور مضمون، تینوں طرح کی تحریروں میں مؤثر اور بامقصد اسلوب اپنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

سبق 15۔ درخواستِ رخصت اور تعارفی مکالمہ کی مشق؛ جامع نظرثانی

ایک رسمی عربی درخواست میں چھ بنیادی اجزاء شامل ہوتے ہیں: بسم اللہ، مخاطب کا باقاعدہ عہدہ، دعائیہ سلام اور موضوع کا تعین، وجہ کا واضح بیان، مطلوبہ چیز کی مؤدبانہ درخواست، اور شکریہ کے کلمات۔ نمونہ درخواستِ رخصت میں إِلَى رَئِيسِ الْقِسْمِ الْمُحْتَرَمِ مخاطب کا عہدہ ہے، الْمَوْضُوعُ: طَلَبُ إِجَازَةٍ مَرَضِيَّةٍ موضوع کا تعین ہے، أُعَانِي مِنْ حُمَّى شَدِيدَةٍ وجہ کا بیان ہے، فَأَرْجُو مِنْ سِيَادَتِكُمُ التَّكَرُّمَ بِمَنْحِي إِجَازَةً درخواست ہے، اور وَلَكُمْ مِنِّي جَزِيلُ الشُّكْرِ وَالِامْتِنَانِ شکریہ ہے۔ ان چھ اجزاء میں سے کوئی بھی حذف نہ کیا جائے تو درخواست مکمل اور رسمی معیار پر پوری اترتی ہے۔

نمونہ درخواست میں طالب علم نے صرف تین دن کی رخصت طلب نہیں کی، بلکہ ایک اضافی گزارش بھی کی: وَأَرْجُو أَيْضًا التَّكَرُّمَ بِإِعْفَائِي مِنَ الْغِيَابِ خِلَالَ هَذِهِ الْمُدَّةِ (اور یہ بھی گزارش ہے کہ اس مدت کی غیر حاضری کو معاف فرمائیں)۔ یہ گزارش اس لیے اہم ہے کیونکہ بہت سے تعلیمی اداروں میں طویل غیر حاضری کا حاضری کے فیصد پر منفی اثر پڑتا ہے، اور محض رخصت کی منظوری کافی نہیں ہوتی جب تک باقاعدہ طور پر اسے غیر حاضری کے کھاتے سے خارج نہ کیا جائے۔ اسی وجہ سے طالب علم نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ پورے سمسٹر میں باقاعدگی سے حاضر رہا ہے (عِلْمًا بِأَنَّنِي مُنْتَظِمٌ فِي حُضُورِي)، تاکہ اس کی درخواست کو مضبوط اور قابلِ اعتبار بنایا جاسکے۔ یہ ایک اچھا سبق ہے کہ رسمی درخواست میں اپنے حق میں ثبوت یا پس منظر بھی مختصراً پیش کیا جاسکتا ہے۔

پہلا سوال: مَا اسْمُكَ؟ (تمہارا نام کیا ہے؟) — جواب: اِسْمِي... (میرا نام... ہے)۔ دوسرا سوال: كَيْفَ حَالُكَ؟ (تم کیسے ہو؟) — جواب: أَنَا بِخَيْرٍ، الْحَمْدُ لِلَّهِ (میں ٹھیک ہوں، الحمدللہ)۔ تیسرا سوال: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ (تم کہاں سے ہو؟) — جواب: أَنَا مِنْ... (میں... سے ہوں)۔ چوتھا سوال: مَاذَا تَدْرُسُ؟ (تم کیا پڑھتے ہو؟) — جواب: أَدْرُسُ... (میں... پڑھتا ہوں)۔ یہ چاروں بنیادی سوال و جواب کسی بھی نئی ملاقات میں ابتدائی تعارف کے لیے کافی ہوتے ہیں، اور نمونہ مکالمے میں حامد اور بلال کے درمیان گفتگو میں یہ چاروں سوالات بالترتیب استعمال ہوئے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فقرے قدرتی ترتیب میں کیسے جڑتے ہیں۔

درخواست اور خط دونوں میں کئی مشترک اجزاء پائے جاتے ہیں: دونوں بسم اللہ سے شروع ہوتے ہیں، دونوں میں دعائیہ سلام اور وَبَعْدُ جیسا ربطیہ کلمہ آتا ہے، دونوں میں مقصد یا حال کا بیان ہوتا ہے، اور دونوں کا اختتام دعائیہ کلمات و دستخط پر ہوتا ہے۔ تاہم بنیادی فرق یہ ہے کہ خط عام طور پر ذاتی اور غیر رسمی ہوتا ہے، جیسے خاندان کے کسی فرد کے نام لکھا جانا، اور اس میں خیریت، پڑھائی اور ذاتی احساسات کا تفصیلی ذکر ہوتا ہے۔ اس کے برعکس درخواست زیادہ رسمی اور مختصر ہوتی ہے، اس میں مخاطب کا باقاعدہ عہدہ (جیسے رَئِيسُ الْقِسْمِ الْمُحْتَرَمُ) ذکر کیا جاتا ہے، ایک واضح موضوع بیان کیا جاتا ہے، اور کسی مخصوص مطالبے (جیسے رخصت) کی مؤدبانہ اور بلاواسطہ گزارش کی جاتی ہے، بغیر کسی غیر متعلقہ ذاتی تفصیل کے۔

سمسٹر کے ابتدائی حصے میں چار بنیادی اسمی مباحث پڑھائے گئے۔ پہلا، نکرہ اور معرفہ کا فرق: نکرہ کوئی بھی غیر متعین اسم ہے جیسے كِتَابٌ (ایک کتاب)، جبکہ معرفہ کسی خاص اور متعین چیز کو ظاہر کرتا ہے، جیسے الْكِتَابُ (وہ مخصوص کتاب) یا کسی کا نام۔ دوسرا، مرکب ناقص، یعنی وہ ابتدائی ناقص ترکیبیں جو ابھی مکمل جملہ نہیں بنتیں۔ تیسرا، مرکب توصیفی (موصوف و صفت پر مبنی، جیسے كِتَابٌ جَدِيدٌ — نئی کتاب) اور مرکب اضافی (مضاف و مضاف الیہ پر مبنی، جیسے كِتَابُ الطَّالِبِ — طالب علم کی کتاب) کا فرق۔ چوتھا، تذکیر و تانیث کے قواعد، یعنی مذکر و مؤنث اسماء کی علامتیں (خصوصاً تاء مربوطہ) اور جملے میں فعل، صفت اور ضمیر کی اسم کے ساتھ مطابقت۔ یہ تمام مباحث رنگ، دن، مہینے اور موسم جیسے روزمرہ موضوعات پر عملی مشق کے ذریعے مضبوط کیے گئے۔

سمسٹر میں فعل کی چھ بڑی اقسام پڑھائی گئیں۔ فعلِ ماضی گزرے ہوئے کام کو ظاہر کرتا ہے (كَتَبَ — اس نے لکھا)۔ فعلِ مضارع مثبت حال یا مستقبل کے کام کو ظاہر کرتا ہے (يَكْتُبُ)، اور فعلِ مضارع منفی حروفِ نفی لَا، لَمْ یا لَنْ کے ذریعے اس کی نفی کرتا ہے (لَا يَكْتُبُ، لَمْ يَكْتُبْ، لَنْ يَكْتُبَ)۔ فعلِ مجہول وہ صورت ہے جس میں فاعل نامعلوم یا غیر مذکور ہو (كُتِبَ الدَّرْسُ — سبق لکھا گیا)۔ فعلِ مضارع استمراری كَانَ اور مضارع کے امتزاج سے جاری کام ظاہر کرتا ہے (كَانَ يَكْتُبُ — وہ لکھ رہا تھا)۔ اور آخر میں فعلِ امر (حکم دینا، اُكْتُبْ) اور فعلِ نہی (روکنا، لَا تَكْتُبْ) پڑھائے گئے۔ یہ تمام اقسام مل کر عربی میں زمانے، حالت اور مقصد کے لحاظ سے مکمل اظہار ممکن بناتی ہیں۔

خبر وہ جملہ ہے جس میں سچائی یا جھوٹ کا احتمال ہو، جیسے ذَهَبَ مُحَمَّدٌ إِلَى الْمَدْرَسَةِ، جبکہ انشاء وہ جملہ ہے جس پر سچ یا جھوٹ کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، اور اس کی پانچ طلبی اقسام امر، نہی، استفہام، نداء اور تمنی ہیں۔ عملی تحریر میں یہ فرق نہایت کارآمد ہے: انشائی مضمون میں زیادہ تر خبریہ جملے استعمال ہوتے ہیں تاکہ موضوع کی حقیقت اور خصوصیات بیان کی جاسکیں؛ خط میں خبر (حال کا بیان) اور انشاء (دعا، درخواست) دونوں کا امتزاج ہوتا ہے؛ درخواست میں انشائیہ درخواست کا اسلوب مرکزی حیثیت رکھتا ہے، خصوصاً فعلِ رجاء أَرْجُو کے ذریعے؛ اور مکالمے میں استفہام (سوال) اور خبر (جواب) کا لگاتار تبادلہ ہوتا ہے۔ اس فرق کو سمجھے بغیر طالب علم اپنی تحریر میں مناسب لہجہ اور جملے کی قسم منتخب نہیں کرسکتا۔

کورس کا آغاز کلام کی اقسام (اسم، فعل، حرف)، نکرہ و معرفہ، اور مرکبات کی بنیادی سمجھ سے ہوا، جس کے ساتھ رنگ، دن اور مہینوں جیسے روزمرہ الفاظ کی مشق کرائی گئی۔ اس کے بعد تذکیر و تانیث اور مطابقت کے قواعد سکھائے گئے، اور آٹھویں ہفتے میں پہلے سات اسباق کا جامع اعادہ کرکے وسط مدتی امتحان کی تیاری کرائی گئی۔ سمسٹر کے دوسرے نصف میں فعل کی تمام صورتیں — ماضی، مضارع مثبت و منفی، مجہول، استمراری، امر و نہی — ترتیب وار پڑھائی گئیں۔ آخری تین اسباق میں گرامر کو عملی انشاء میں ڈھالا گیا: انشائی مضمون نویسی، خط نگاری، اور آخر میں درخواست نویسی و تعارفی مکالمہ، جو اسی جامع نظرثانی کے ساتھ سمسٹر کے اختتام پر مکمل ہوا۔ یہ پورا سفر خالص نظریاتی قواعد سے عملی، تخلیقی عربی تحریر تک لے جانے کے لیے مرحلہ وار ترتیب دیا گیا تھا۔

فعلِ امر و نہی کا علم طالب علم کو یہ سکھاتا ہے کہ کسی کو حکم دینا (اُكْتُبْ) یا کسی کام سے روکنا (لَا تَكْتُبْ) کیسے صحیح طور پر بیان کیا جائے، جو درخواست میں مؤدبانہ گزارش (أَرْجُو أَنْ) کی بنیاد بھی بنتا ہے، کیونکہ درخواست دراصل ایک نرم کی گئی امر کی صورت ہے۔ خبر و انشاء کا فرق طالب علم کو یہ سکھاتا ہے کہ کب حقیقت بیان کی جائے (خبر، جیسے میں ٹھیک ہوں) اور کب کسی سے کچھ طلب کیا جائے یا خواہش ظاہر کی جائے (انشاء، جیسے دعا کریں، مجھے رخصت دیں)۔ ان دونوں مباحث کے بغیر خط، درخواست اور مضمون میں جملوں کی نوعیت اور لہجہ غیر واضح رہ جاتا، جبکہ ان کے ساتھ طالب علم باشعور طریقے سے ہر جملے کا مقصد اور صورت طے کرسکتا ہے، جو مؤثر، مہذب اور بامقصد عربی تحریر کی بنیاد ہے۔

حتمی امتحان کی تیاری کے لیے چار باتوں پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ اول، افعال کی مکمل گردان — ماضی، مضارع، امر اور نہی — کو دوبارہ زبانی مشق کریں تاکہ کسی بھی نئے فعل پر فوراً قاعدہ لاگو کیا جاسکے۔ دوم، چاروں نمونہ متون (انشائی مضمون، خط، درخواست، مکالمہ) کو زبانی یاد کریں، کیونکہ امتحان میں اکثر انہی سانچوں پر نئی تفصیلات کے ساتھ لکھنے کو کہا جاتا ہے۔ سوم، خبر و انشاء کی تمیز اور مرکبات کی تینوں اقسام (ناقص، توصیفی، اضافی) کی پہچان پر توجہ دیں، کیونکہ یہ اکثر معروضی سوالات میں پوچھی جاتی ہیں۔ چہارم، ہر قاعدے کی کم از کم دو مثالیں زبانی یاد رکھیں۔ اس منظم اور مرحلہ وار تیاری سے طالب علم پورے اعتماد کے ساتھ اپنے حتمی امتحان میں شریک ہوسکتا ہے۔