ہوماسباق ‹ سبق 14
سبق 14 از 15 · معلم الانشاء، حصہ اول — سبق 13

خبر و انشاء کا فرق؛ عربی خط نگاری کی مشق

خبر اور انشاء میں کیا فرق ہے، اور ایک مکمل، مؤدبانہ اور درست عربی خط لکھنے کے لیے کن بنیادی اجزاء کا خیال رکھا جائے؟

1تمہید

اس سبق میں دو اہم موضوعات پڑھائے جاتے ہیں: پہلا، عربی جملے کی دو بنیادی اقسام — خبر اور انشاء — کے درمیان فرق، اور دوسرا، عربی خط نگاری کی عملی مشق، جس میں بیٹے کی طرف سے والد کے نام ایک مکمل نمونہ خط پیش کیا گیا ہے۔ یہ دونوں مباحث ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ ایک اچھا خط لکھنے کے لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کب معلوماتی (خبریہ) جملہ استعمال کیا جائے اور کب طلب یا خواہش پر مبنی (انشائیہ) جملہ۔

2خبر — تعریف اور مثالیں

خبر وہ جملہ ہے جس میں سچائی یا جھوٹ کا احتمال ہو، یعنی سننے والا اس کی تصدیق (سچ ماننا) یا تکذیب (جھوٹ قرار دینا) کرسکتا ہے۔ مثال کے طور پر

﴿الْجَوُّ جَمِيلٌ الْيَوْمَ.آج موسم خوبصورت ہے۔

ایک خبر ہے، کیونکہ یہ حقیقتاً سچ یا جھوٹ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح

﴿ذَهَبَ مُحَمَّدٌ إِلَى الْمَدْرَسَةِ.محمد سکول گیا۔

بھی خبر ہے۔ عام طور پر تمام بیانیہ (informative) جملے، چاہے وہ اسمیہ ہوں (مبتدا و خبر پر مشتمل) یا فعلیہ (فعل و فاعل پر مشتمل)، خبر کے زمرے میں آتے ہیں، اور یہی زبان کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا جملہ ہے، کیونکہ روزمرہ گفتگو، خبروں، بیانات اور تحریروں میں معلومات پہنچانے کے لیے خبر ہی استعمال ہوتی ہے۔

3انشاء — تعریف اور اقسام

انشاء (جسے طلبی جملہ بھی کہا جاتا ہے) وہ جملہ ہے جس پر سچ یا جھوٹ کا حکم لگانا ممکن نہیں، کیونکہ یہ کسی حقیقت کی خبر نہیں دیتا بلکہ کسی اور مقصد — حکم، ممانعت، سوال، پکار یا خواہش — کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ انشاء طلبی کی پانچ مشہور اقسام یہ ہیں: امر (حکم دینا، جیسے اُكْتُبْ.لکھو)، نہی (روکنا، جیسے لَا تَكْتُبْ. مت لکھو)، استفہام (سوال کرنا، جیسے

﴿هَلْ كَتَبْتَ الرِّسَالَةَ؟

کیا تم نے خط لکھا؟)، نداء (پکارنا، جیسے يَا مُحَمَّدُ! اے محمد!)، اور تمنی (کسی مشکل یا ناممکن خواہش کا اظہار، جیسے

﴿لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا.

کاش جوانی ایک دن لوٹ آئے۔)۔ ان تمام اقسام کی مشترک خاصیت یہ ہے کہ ان پر سچ یا جھوٹ کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

4انشاء طلبی کی پانچ اقسام کی پہچان

انشاء طلبی کی ہر قسم کا اپنا مخصوص حرف یا صیغہ ہوتا ہے جو اسے پہچاننے میں مدد دیتا ہے۔ امر کی پہچان فعلِ امر کی صورت (جیسے اُكْتُبْ) ہے۔ نہی کی پہچان لَا الناہیہ کے ساتھ مضارع مجزوم ہے۔ استفہام کی پہچان حروفِ استفہام، جیسے هَلْ اور أَ اور مَنْ اور مَاذَا، سے ہوتی ہے۔ نداء کی پہچان حروفِ نداء، جیسے يَا اور أَيُّهَا، سے ہوتی ہے۔ اور تمنی کی پہچان حرفِ تمنی لَيْتَ سے ہوتی ہے، جو عام طور پر کسی ایسی خواہش کے لیے آتا ہے جس کا پورا ہونا مشکل یا ناممکن ہو۔ یہ پانچوں اقسام مل کر عربی زبان میں جذبات، حکم اور سوال کے اظہار کا مکمل نظام فراہم کرتی ہیں، اور خط و کتابت، دعا اور روزمرہ گفتگو میں کثرت سے استعمال ہوتی ہیں۔

5عربی خط نگاری کی روایتی ترتیب

ایک روایتی عربی خط عام طور پر چار بنیادی اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے۔ سب سے پہلے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سے آغاز کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد مخاطب کے لیے دعائیہ سلام لکھا جاتا ہے، جیسے أَبِي الْعَزِيزُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، اور اکثر اس کے بعد ایک ربطیہ کلمہ وَبَعْدُ (اما بعد) لایا جاتا ہے جو سلام سے اصل مضمون کی طرف منتقلی کی علامت ہے۔ اس کے بعد خط کا اصل متن آتا ہے، جس میں لکھنے والا اپنی خیریت، حال احوال، اور خط لکھنے کا مقصد بیان کرتا ہے۔ آخر میں اختتامی دعائیہ کلمات، جیسے وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، اور دستخط و تاریخ لکھی جاتی ہے۔ یہ ترتیب اردو اور انگریزی خطوط کی روایتی ساخت سے کافی ملتی جلتی ہے، مگر عربی خط میں دعائیہ کلمات کا استعمال زیادہ نمایاں اور بار بار ہوتا ہے۔

6نمونہ خط: بیٹے کی طرف سے والد کے نام

نیچے ایک مکمل، پالش شدہ نمونہ خط دیا گیا ہے، جو ایک بیٹے کی طرف سے اپنے والد کے نام لکھا گیا ہے:

﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ. أَبِي الْعَزِيزُ الْمُحْتَرَمُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وَبَعْدُ:شروع اللہ کے نام سے جو نہایت مہربان، رحم کرنے والا ہے۔ میرے پیارے اور محترم ابا جی، السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، اما بعد:
﴿أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا جَمِيعًا بِخَيْرٍ وَعَافِيَةٍ وَفِي رِعَايَةِ اللَّهِ. أَمَّا أَنَا فَبِخَيْرٍ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَالدِّرَاسَةُ تَسِيرُ عَلَى مَا يُرَامُ، فَقَدِ اجْتَهَدْتُ هَذَا الشَّهْرَ وَحَصَلْتُ عَلَى نَتَائِجَ حَسَنَةٍ فِي الِامْتِحَانِ، وَأَثْنَى عَلَيَّ أَسَاتِذَتِي خَيْرًا.امید ہے آپ سب خیریت، تندرستی اور اللہ کی حفاظت میں ہوں گے۔ رہا میں تو الحمدللہ خیریت سے ہوں، اور پڑھائی بھی اچھی چل رہی ہے، اس مہینے میں نے خوب محنت کی اور امتحان میں اچھے نتائج حاصل کیے، اور میرے اساتذہ نے بھی میری تعریف کی۔
﴿وَلَكِنِّي أَحْتَاجُ إِلَى بَعْضِ الْكُتُبِ الْجَدِيدَةِ لِلْفَصْلِ الدِّرَاسِيِّ الْقَادِمِ، فَأَرْجُو أَنْ تُرْسِلُوا إِلَيَّ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْمَالِ فِي أَقْرَبِ فُرْصَةٍ، جَزَاكُمُ اللَّهُ خَيْرًا. وَإِنِّي أَشْتَاقُ إِلَيْكُمْ وَإِلَى الْبَيْتِ اشْتِيَاقًا شَدِيدًا، وَأَتَمَنَّى أَنْ أَزُورَكُمْ فِي الْعُطْلَةِ الْقَادِمَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.لیکن مجھے آئندہ سمسٹر کے لیے کچھ نئی کتابوں کی ضرورت ہے، لہٰذا گزارش ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو کچھ رقم مجھے بھیج دیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ اور مجھے آپ سب کا اور گھر کا بہت اشتیاق ہے، اور میری خواہش ہے کہ اگلی چھٹیوں میں، ان شاء اللہ، آپ سے ملنے آؤں۔
﴿فَأَرْجُو أَنْ تَدْعُوا لِي بِالتَّوْفِيقِ وَالنَّجَاحِ، وَبَلِّغْ سَلَامِي إِلَى وَالِدَتِي الْحَبِيبَةِ وَإِخْوَتِي الصِّغَارِ. وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. ابْنُكُمُ الْمُخْلِصُ، مُحَمَّدٌ.لہٰذا آپ سے گزارش ہے کہ میرے لیے کامیابی اور توفیق کی دعا کریں، اور میری پیاری امی جان اور چھوٹے بہن بھائیوں کو میرا سلام پہنچا دیں۔ والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ آپ کا مخلص بیٹا، محمد۔

7نمونہ خط کا تجزیہ

اس نمونہ خط کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے تمام روایتی اجزاء کے ساتھ مکمل ہے: بسم اللہ سے آغاز، دعائیہ سلام اور وَبَعْدُ کا ربطیہ کلمہ، اصل متن میں خیریت اور تعلیمی حال کا بیان (خبر کی مثال، جیسے الدِّرَاسَةُ تَسِيرُ عَلَى مَا يُرَامُ)، ایک باادب درخواست (جو دراصل انشائیہ جملہ ہے، فَأَرْجُو أَنْ تُرْسِلُوا کی صورت میں)، ذاتی جذبے کا اظہار، اور آخر میں دعائیہ اختتام و دستخط۔ یہ خط اس بات کی بھی عمدہ مثال ہے کہ ایک ہی تحریر میں خبر اور انشاء دونوں طرح کے جملے شامل کیے جاسکتے ہیں: خبر معلومات دینے کے لیے، اور انشاء (امر، دعا، تمنی) جذبات اور درخواست ظاہر کرنے کے لیے۔ طالب علم کو چاہیے کہ اپنے امتحان میں اسی نمونے کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ذاتی تفصیلات (نام، شہر، موضوع) کے مطابق تبدیلی کرکے خط لکھے، مگر بنیادی ڈھانچہ اور دعائیہ اسلوب برقرار رکھے۔

مصادر و مراجع

  1. معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 13
  2. النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
خَبَرٌخبر (بیانیہ جملہ)
إِنْشَاءٌ طَلَبِيٌّانشاء طلبی (غیر بیانیہ جملہ)
تَصْدِيقٌ وَتَكْذِيبٌتصدیق اور تکذیب
اِسْتِفْهَامٌاستفہام (سوال)
نِدَاءٌنداء (پکارنا)
تَمَنٍّتمنی (خواہش)
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِخط کا آغازیہ کلمہ
وَبَعْدُاما بعد (ربطیہ کلمہ)
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُدعائیہ سلام
اِشْتِيَاقٌاشتیاق (تڑپ)
تَوْفِيقٌ وَنَجَاحٌتوفیق اور کامیابی
ابْنٌ مُخْلِصٌمخلص بیٹا
عَافِيَةٌعافیت (تندرستی)
جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًااللہ آپ کو جزائے خیر دے

خبر وہ جملہ ہے جس میں سچائی یا جھوٹ کا احتمال ہو، یعنی سننے والا اس کی تصدیق یا تکذیب کرسکتا ہے، جیسے الْجَوُّ جَمِيلٌ الْيَوْمَ (آج موسم خوبصورت ہے)، جو حقیقتاً سچ یا جھوٹ ہوسکتا ہے۔ اس کے برعکس انشاء وہ جملہ ہے جس پر سچ یا جھوٹ کا حکم نہیں لگایا جاسکتا، کیونکہ یہ کسی حقیقت کی خبر نہیں دیتا بلکہ حکم، ممانعت، سوال، پکار یا خواہش ظاہر کرتا ہے، جیسے هَلْ كَتَبْتَ الرِّسَالَةَ؟ (کیا تم نے خط لکھا؟)۔ اس جملے کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ، کیونکہ یہ ایک سوال ہے، معلومات کا بیان نہیں۔ یہی بنیادی امتیاز عربی گرامر میں جملوں کی دو بڑی قسموں کو الگ کرتا ہے، اور بلاغت و انشاء نویسی دونوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔

انشاء طلبی کی پانچ مشہور اقسام یہ ہیں۔ پہلی امر ہے، یعنی حکم دینا، جیسے اُكْتُبْ (لکھو)، جس کی پہچان فعلِ امر کی صورت ہے۔ دوسری نہی ہے، یعنی روکنا، جیسے لَا تَكْتُبْ (مت لکھو)، جس کی پہچان لَا الناہیہ اور مضارع مجزوم ہے۔ تیسری استفہام ہے، یعنی سوال کرنا، جیسے هَلْ كَتَبْتَ؟ (کیا تم نے لکھا؟)، جس کی پہچان حروفِ استفہام جیسے هَلْ اور أَ ہے۔ چوتھی نداء ہے، یعنی پکارنا، جیسے يَا مُحَمَّدُ (اے محمد)، جس کی پہچان حروفِ نداء جیسے يَا ہے۔ اور پانچویں تمنی ہے، یعنی کسی مشکل یا ناممکن خواہش کا اظہار، جیسے لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ (کاش جوانی لوٹ آئے)، جس کی پہچان حرفِ تمنی لَيْتَ ہے۔ ان سب پر سچ یا جھوٹ کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

الْجَوُّ جَمِيلٌ الْيَوْمَ خبر ہے کیونکہ یہ ایک بیانیہ جملہ ہے جس کی تصدیق یا تکذیب ممکن ہے — یعنی یہ حقیقتاً سچ یا جھوٹ ہوسکتا ہے کہ آج موسم واقعی خوبصورت ہے، اور اسے دیکھ کر یا موسم کی رپورٹ سے جانچا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس هَلْ كَتَبْتَ الرِّسَالَةَ؟ انشاء (استفہامیہ جملہ) ہے، کیونکہ یہ ایک سوال ہے، اور سوالیہ جملے پر سچ یا جھوٹ کا حکم لگانا ممکن نہیں — سوال کا جواب (مثلاً نَعَمْ یا لَا) سچ یا جھوٹ ہوسکتا ہے، مگر سوال بذاتِ خود نہ سچ ہے نہ جھوٹ۔ یہ مثال واضح کرتی ہے کہ خبر اور انشاء کی تمیز جملے کی ساخت (اسمیہ یا فعلیہ) سے نہیں بلکہ اس کے مقصد اور مضمون سے کی جاتی ہے۔

عربی خط عام طور پر چار اجزاء پر مشتمل ہوتا ہے: بسم اللہ سے آغاز، پھر مخاطب کے لیے دعائیہ سلام اور ربطیہ کلمہ وَبَعْدُ، اس کے بعد خط کا اصل متن جس میں حال احوال، خیریت اور مقصد بیان کیا جاتا ہے، اور آخر میں اختتامی دعائیہ کلمات اور دستخط۔ نمونہ خط میں بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ آغاز ہے، أَبِي الْعَزِيزُ الْمُحْتَرَمُ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَبَعْدُ دعائیہ سلام اور ربطیہ کلمہ ہے، أَرْجُو أَنْ تَكُونُوا... سے وَإِنِّي أَشْتَاقُ إِلَيْكُمْ تک اصل متن ہے، اور وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ابْنُكُمُ الْمُخْلِصُ، مُحَمَّدٌ اختتامی حصہ اور دستخط ہے۔ یہ چاروں اجزاء نمونہ خط میں واضح طور پر موجود ہیں۔

نمونہ خط میں بیٹے نے اپنے والد سے دو بنیادی درخواستیں کیں: پہلی یہ کہ اگلے سمسٹر کی کتابوں کے لیے کچھ رقم بھیج دیں (فَأَرْجُو أَنْ تُرْسِلُوا إِلَيَّ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْمَالِ)، اور دوسری یہ کہ اس کی کامیابی کے لیے دعا کریں (فَأَرْجُو أَنْ تَدْعُوا لِي بِالتَّوْفِيقِ وَالنَّجَاحِ)۔ دونوں درخواستیں فعلِ رجاء أَرْجُو أَنْ (میں امید رکھتا ہوں کہ) کے ذریعے مؤدبانہ انداز میں کی گئی ہیں، جو دراصل انشائیہ طلب کی ایک نرم اور شائستہ صورت ہے، براہِ راست فعلِ امر کے استعمال کے بجائے۔ یہ اسلوب عربی خط و کتابت میں انتہائی اہم ہے، کیونکہ بڑوں یا محترم افراد سے کوئی چیز مانگتے وقت براہِ راست حکمیہ صیغہ استعمال کرنا نامناسب سمجھا جاتا ہے، جبکہ أَرْجُو أَنْ جیسے صیغے احترام اور نرمی کو برقرار رکھتے ہیں۔

نمونہ خط کے اختتامی حصے میں تین اجزاء پائے جاتے ہیں: پہلا، دوسروں کو سلام پہنچانے کی گزارش (وَبَلِّغْ سَلَامِي إِلَى وَالِدَتِي الْحَبِيبَةِ وَإِخْوَتِي الصِّغَارِ)، جو خاندانی رشتوں کے احترام اور محبت کا اظہار کرتی ہے۔ دوسرا، اختتامی دعائیہ سلام (وَالسَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ)، جو خط کے آغاز کے سلام سے ہم آہنگ ہوکر خط کو ایک مکمل دائرے کی صورت میں مکمل کرتا ہے۔ تیسرا، دستخط کی جگہ لکھنے والے کا تعارف (ابْنُكُمُ الْمُخْلِصُ، مُحَمَّدٌ)، جو رشتے کی نوعیت (بیٹا) اور نام دونوں واضح کرتا ہے۔ یہ تینوں اجزاء مل کر خط کو ایک باادب، مکمل اور جذباتی اختتام فراہم کرتے ہیں، جو عربی خط نگاری کی روایتی اور اسلامی روایت کے عین مطابق ہے۔

خبر اور انشاء کی تمیز کرنے کا سب سے بڑا عملی فائدہ یہ ہے کہ طالب علم اپنی تحریر میں مناسب جملے کا انتخاب کرسکتا ہے: جب مقصد معلومات دینا ہو، جیسے اپنی خیریت یا تعلیمی حال بیان کرنا، تو خبریہ جملہ استعمال ہوگا؛ اور جب مقصد کسی سے کچھ طلب کرنا، دعا مانگنا، یا احساس ظاہر کرنا ہو، تو انشائیہ جملہ (امر، تمنی یا استفہام) استعمال ہوگا۔ مثال کے طور پر نمونہ خط میں الدِّرَاسَةُ تَسِيرُ عَلَى مَا يُرَامُ خبر ہے جو حال بیان کرتا ہے، جبکہ فَأَرْجُو أَنْ تُرْسِلُوا انشاء ہے جو درخواست ظاہر کرتا ہے۔ اگر طالب علم ان دونوں میں فرق نہ کرسکے تو اس کی تحریر میں مقصد اور لہجہ غیر واضح رہ جاتا ہے۔ اسی لیے یہ فرق خط، درخواست اور مضمون، تینوں طرح کی تحریروں میں مؤثر اور بامقصد اسلوب اپنانے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 15 سوالات)
1خبر کی بنیادی پہچان کیا ہے؟
الفاس میں سچ/جھوٹ کا احتمال ہوتا ہے
بیہ ہمیشہ سوالیہ ہوتی ہے
جیہ ہمیشہ حکم دیتی ہے
داس پر سچ/جھوٹ کا حکم نہیں لگتا
خبر وہ جملہ ہے جس کی تصدیق یا تکذیب کی جاسکتی ہو۔
2انشاء کی بنیادی پہچان کیا ہے؟
الفاس پر سچ/جھوٹ کا حکم لگ سکتا ہے
باس پر سچ/جھوٹ کا حکم نہیں لگتا
جیہ ہمیشہ ماضی میں ہوتا ہے
دیہ ہمیشہ اسمیہ جملہ ہوتا ہے
انشاء (طلبی جملہ) پر سچ یا جھوٹ کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ خبر نہیں بلکہ حکم، سوال، پکار یا خواہش ظاہر کرتا ہے۔
3هَلْ كَتَبْتَ؟ انشاء کی کس قسم کی مثال ہے؟
الفامر
بنہی
جاستفہام
دنداء
یہ سوالیہ جملہ ہے، اس لیے استفہام کی مثال ہے۔
4يَا مُحَمَّدُ! انشاء کی کس قسم کی مثال ہے؟
الفنداء
بتمنی
جاستفہام
دنہی
يَا مُحَمَّدُ پکارنے کے لیے استعمال ہوا ہے، اس لیے یہ نداء کی مثال ہے۔
5لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ يَوْمًا انشاء کی کس قسم کی مثال ہے، اور اس کا مفہوم کیا ہے؟
الفنداء — کسی کو پکارنا
بتمنی — کاش جوانی لوٹ آئے
جاستفہام — جوانی کے بارے میں سوال
دامر — جوانی لوٹانے کا حکم
لَيْتَ کسی مشکل یا ناممکن خواہش کے اظہار کے لیے آتا ہے؛ اس جملے کا مفہوم ہے: کاش جوانی ایک دن لوٹ آئے۔
6خبر اور انشاء کے فرق کو بنیادی طور پر کیا چیز طے کرتی ہے؟
الفجملے کی لمبائی
بیہ کہ اس پر سچ/جھوٹ کا حکم لگ سکتا ہے یا نہیں
جیہ کہ جملہ اسمیہ ہے یا فعلیہ
دجملے میں فعل کی موجودگی
بنیادی امتیاز یہ ہے کہ خبر پر تصدیق/تکذیب کا حکم لگتا ہے، انشاء پر نہیں، چاہے دونوں اسمیہ ہوں یا فعلیہ۔
7استفہام کی پہچان عام طور پر کن حروف سے ہوتی ہے؟
الفيَا اور أَيُّهَا
بهَلْ اور أَ
جلَا اور لَمْ
دلَيْتَ اور لَعَلَّ
استفہام کی پہچان حروفِ استفہام جیسے هَلْ اور أَ سے ہوتی ہے۔
8نداء کی پہچان عام طور پر کن حروف سے ہوتی ہے؟
الفيَا اور أَيُّهَا
بهَلْ اور أَ
جلَا اور لَمْ
دلَيْتَ
نداء (پکارنے) کی پہچان حروفِ نداء جیسے يَا اور أَيُّهَا سے ہوتی ہے۔
9روایتی عربی خط عام طور پر کس جملے سے شروع ہوتا ہے؟
الفبِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
بهَلْ أَنْتَ بِخَيْرٍ؟
جلَا تَكْتُبْ
دكَانَ يَكْتُبُ
روایتی عربی خط بسم اللہ سے شروع کیا جاتا ہے، جس کے بعد دعائیہ سلام آتا ہے۔
10خط میں دعائیہ سلام کے بعد عام طور پر کون سا ربطیہ کلمہ آتا ہے؟
الفوَبَعْدُ
بلَيْتَ
جهَلْ
ديَا
دعائیہ سلام کے بعد وَبَعْدُ (اما بعد) ربطیہ کلمے کے طور پر آتا ہے، جو اصل مضمون کی طرف منتقلی کی علامت ہے۔
11نمونہ خط میں 'الدِّرَاسَةُ تَسِيرُ عَلَى مَا يُرَامُ' کس قسم کا جملہ ہے؟
الفخبر
بانشاء (امر)
جانشاء (استفہام)
دانشاء (نداء)
یہ ایک بیانیہ (informative) جملہ ہے جس کی تصدیق یا تکذیب ممکن ہے، اس لیے یہ خبر ہے۔
12نمونہ خط میں 'فَأَرْجُو أَنْ تُرْسِلُوا إِلَيَّ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْمَالِ' کس قسم کا جملہ ہے؟
الفخبر
بانشاء (درخواست)
جانشاء (نداء)
دانشاء (تمنی)
یہ فعلِ رجاء کے ذریعے کی گئی مؤدبانہ درخواست ہے، اس لیے یہ انشاء کی صورت ہے، خبر نہیں۔
13نمونہ خط کے اختتام پر بیٹا اپنا تعارف کس طرح کرواتا ہے؟
الفاِسْمِي مُحَمَّدٌ
بابْنُكُمُ الْمُخْلِصُ، مُحَمَّدٌ
جأَنَا طَالِبٌ
دمَعَ السَّلَامَةِ
نمونہ خط کے آخر میں دستخط کی جگہ ابْنُكُمُ الْمُخْلِصُ، مُحَمَّدٌ لکھا گیا ہے، جو رشتہ اور نام دونوں واضح کرتا ہے۔
14خط میں بڑوں سے مؤدبانہ درخواست کرنے کے لیے عام طور پر کون سا صیغہ استعمال ہوتا ہے؟
الفبراہِ راست فعلِ امر
بأَرْجُو أَنْ (میں امید رکھتا ہوں کہ)
جلَا الناہیہ
دحرفِ استفہام
بڑوں یا محترم افراد سے درخواست کرتے وقت براہِ راست حکمیہ صیغے کے بجائے أَرْجُو أَنْ جیسا نرم اور مؤدبانہ صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔
15اگر کوئی جملہ کسی حقیقت کی اطلاع دینے کے بجائے کسی کو پکارنے کے لیے استعمال ہو تو وہ کس قسم کا جملہ کہلائے گا؟
الفخبر
بانشاء (نداء)
جانشاء (امر)
دانشاء (استفہام)
پکارنے کے لیے استعمال ہونے والا جملہ انشاء کی قسم نداء کہلاتا ہے، جیسے يَا مُحَمَّدُ۔