ہوماسباق ‹ سبق 6
سبق 6 از 15 · معلم الانشاء، حصہ اول — سبق 6

توصیف و تنکیر میں تفریق اور مطابقت کے مزید قواعد؛ اوقات و زمان

صفت و موصوف کی مطابقت میں جمعِ غیر عاقل کا خاص قاعدہ کیا ہے، اور دن کے مختلف اوقات کے نام عربی میں کیسے استعمال ہوتے ہیں؟

1تمہید

پچھلے اسباق میں مرکب توصیفی کی بنیادی تعریف اور صفت و موصوف کی چار امور میں مطابقت کا اصول بیان کیا جاچکا ہے۔ اس سبق میں انہی اصولوں کو مزید گہرائی سے سمجھا جائے گا، خصوصاً ان مشکل اور استثنائی مقامات پر جہاں طلبہ عام طور پر غلطی کرتے ہیں، جیسے یہ فرض کرلینا کہ جمع اسم کی صفت بھی ہمیشہ جمع کی صورت میں آئے گی، جو کہ ہر صورت میں درست نہیں۔ نیز ایک سے زائد صفات کے استعمال اور تثنیہ و جمع کی پیچیدہ صورتوں پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔ سبق کے دوسرے حصے میں دن کے مختلف اوقات کے نام اور وقت بتانے کے بنیادی جملے بھی سکھائے جائیں گے۔

2چار امورِ مطابقت کا اعادہ

یاد رہے کہ صفت اپنے موصوف کے ساتھ چار امور میں مطابقت کرتی ہے: تذکیر و تانیث، عدد (افراد، تثنیہ، جمع)، تعریف و تنکیر، اور اعراب۔ عام حالات میں یہ چاروں امور بغیر کسی استثنا کے لاگو ہوتے ہیں، جیسے الطَّالِبَاتُ الْمُجْتَهِدَاتُ (وہ محنتی طالبات) میں موصوف اور صفت دونوں جمع مؤنث سالم، معرفہ اور مرفوع ہیں۔ لیکن ایک خاص صورت ایسی ہے جس میں یہ عمومی اصول ایک دلچسپ استثنا سے دوچار ہوتا ہے، اور وہ ہے جمعِ غیر عاقل کی صفت کا معاملہ، جسے آگے تفصیل سے بیان کیا جائے گا۔

3قاعدہ: جمعِ غیر عاقل کی صفت

جب موصوف جمعِ غیر عاقل ہو، یعنی غیر ذی روح اشیاء کی جمع، جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں، تو اس کی صفت اکثر مفرد مؤنث کی صورت میں آتی ہے، خواہ اصل موصوف مذکر ہی کیوں نہ ہو۔ مثال: كُتُبٌ جَدِيدَةٌ (نئی کتابیں) میں كُتُبٌ جمع مذکر ہے مگر صفت جَدِيدَةٌ مفرد مؤنث کی صورت میں آئی ہے۔ اسی طرح أَقْلَامٌ طَوِيلَةٌ (لمبی قلمیں) اور بُيُوتٌ صَغِيرَةٌ (چھوٹے گھر) ۔ یہ عربی گرامر کا ایک منفرد اور اہم اصول ہے جسے 'جمعِ غیر عاقل، واحدِ مؤنث کے حکم میں' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

4جمعِ عاقل بمقابلہ جمعِ غیر عاقل

اس کے برخلاف جمعِ عاقل، یعنی انسانوں کی جمع، کی صفت اپنی حقیقی جمع کی صورت میں ہی آتی ہے، اور تذکیر و تانیث کی مطابقت بھی برقرار رہتی ہے، جیسے طُلَّابٌ مُجْتَهِدُونَ (محنتی طالب علم) اور طَالِبَاتٌ مُجْتَهِدَاتٌ (محنتی طالبات) ۔ یعنی یہ خاص استثنائی قاعدہ صرف غیر ذی روح اشیاء کی جمع کے ساتھ لاگو ہوتا ہے، انسانوں کی جمع کے ساتھ ہرگز نہیں۔ اس فرق کو یاد رکھنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ اگر موصوف انسان ہے تو صفت اسی کی اصل جمع میں رہے گی، اور اگر موصوف کوئی بے جان چیز ہے تو صفت مفرد مؤنث بن جائے گی۔

5ایک سے زائد صفات اور جملے کی مشق

بعض اوقات ایک موصوف کی ایک سے زائد صفات بھی بیان کی جاسکتی ہیں، اور ہر صفت الگ الگ چاروں امور میں موصوف کے مطابق ہونی چاہیے، جیسے

﴿الْبَيْتُ الْكَبِيرُ الْجَمِيلُوہ بڑا اور خوبصورت گھر

، جہاں دونوں صفات الْكَبِيرُ اور الْجَمِيلُ، موصوف الْبَيْتُ کی طرح مذکر، مفرد، معرفہ اور مرفوع ہیں۔ اسی طرح تثنیہ کی صورت میں الْقَلَمَانِ الْجَدِيدَانِ (وہ دونوں نئے قلم) میں بھی صفت موصوف کے تثنیہ ہونے کی مکمل پیروی کرتی ہے۔ یہ مشقیں طلبہ کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ مطابقت کا اصول محض ایک صفت تک محدود نہیں بلکہ ہر اضافی صفت پر بھی یکساں لاگو ہوتا ہے۔

6تعریف و تنکیر کی مطابقت — مزید وضاحت

تعریف و تنکیر کے اعتبار سے یہ اصول واضح ہے کہ معرفہ موصوف کے ساتھ صفت بھی معرفہ آئے گی اور نکرہ موصوف کے ساتھ صفت بھی نکرہ آئے گی۔ مثلاً الطَّالِبُ الْمُجْتَهِدُ (وہ محنتی طالب علم) معرفہ ہے، جبکہ طَالِبٌ مُجْتَهِدٌ (ایک محنتی طالب علم) نکرہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں مرکبات درست عربی جملے ہیں، فرق صرف معنی کا ہے: پہلا کسی خاص متعین طالب علم کی طرف اشارہ کرتا ہے، جبکہ دوسرا کسی بھی غیر متعین طالب علم کی بات کرتا ہے۔ اس اصول کو نظرانداز کرنا، یعنی معرفہ موصوف کے ساتھ نکرہ صفت لگا دینا، عربی انشاء میں سب سے عام غلطیوں میں سے ایک ہے۔

7اوقاتُ الیوم — دن کے اوقات

دن کے مختلف اوقات کے عربی نام یہ ہیں: الصَّبَاحُ (صبح)، الظُّهْرُ (دوپہر)، الْعَصْرُ (سہ پہر یا عصر)، الْمَسَاءُ (شام)، اور اللَّيْلُ (رات)۔ ان میں سے الظُّهْرُ اور الْعَصْرُ نمازوں کے اوقات کے ناموں سے بھی مشابہت رکھتے ہیں، اس لیے جو طالب علم پہلے سے نمازوں کے اوقات جانتا ہے، اس کے لیے یہ الفاظ یاد رکھنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔ ان اوقات کے ناموں پر مبنی صفت بھی اسی طرح مذکر یا مؤنث کے اصول کے مطابق آئے گی، مثلاً الصَّبَاحُ جَمِيلٌ (صبح خوبصورت ہے) میں الصَّبَاحُ مذکر ہونے کی وجہ سے صفت بھی مذکر آئی۔

8وقت بتانے کے بنیادی جملے

وقت سے متعلق روزمرہ جملے بنانے کے لیے حرفِ جر فِي (میں) کثرت سے استعمال ہوتا ہے، جیسے

﴿أَذْهَبُ إِلَى الْجَامِعَةِ فِي الصَّبَاحِمیں صبح کے وقت یونیورسٹی جاتا ہوں

۔ اس جملے میں إِلَى سمت ظاہر کرنے کے لیے اور فِي وقت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوا، اور دونوں کے بعد اسم مجرور کی صورت میں آیا۔ اسی طرح

﴿أَدْرُسُ فِي اللَّيْلِمیں رات کو پڑھتا ہوں

اور

﴿أَتَنَاوَلُ الْغَدَاءَ فِي الظُّهْرِمیں دوپہر کو دوپہر کا کھانا کھاتا ہوں

بھی اسی اصول کی عملی مثالیں ہیں۔ یہ جملے طلبہ کو حروفِ جر اور اوقات کے الفاظ کا بیک وقت استعمال سکھاتے ہیں۔

9خلاصہ

اس سبق سے معلوم ہوا کہ مطابقتِ صفت و موصوف کا عمومی اصول جمعِ غیر عاقل کی صورت میں ایک اہم استثنا رکھتا ہے، جہاں صفت جمع کے بجائے مفرد مؤنث بن جاتی ہے، جبکہ جمعِ عاقل میں یہ استثنا لاگو نہیں ہوتا۔ اسی طرح تعریف و تنکیر کی مطابقت اور متعدد صفات کے استعمال کے قواعد بھی گہرائی سے سمجھے گئے۔ دن کے اوقات کے نام اور ان پر مبنی جملے، اسی گرامری مہارت کو روزمرہ زندگی میں عملی جامہ پہنانے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوتے ہیں۔

مصادر و مراجع

  1. معلم الانشاء، حصہ اول — مولانا عبد الماجد ندوی، سبق 6
  2. النحو الواضح للمبتدئین — علی جارم و مصطفی امین، جلد اول
جَمْعُ غَيْرِ الْعَاقِلِغیر ذی روح اشیاء کی جمع
جَمْعُ الْعَاقِلِانسانوں کی جمع
كُتُبٌکتابیں
أَقْلَامٌقلمیں
طُلَّابٌطالب علم (جمع)
الصَّبَاحُصبح
الظُّهْرُدوپہر
الْعَصْرُسہ پہر/عصر
الْمَسَاءُشام
اللَّيْلُرات
فِيمیں (حرفِ جر، وقت و مکان کے لیے)
مُجْتَهِدٌمحنتی

جمعِ غیر عاقل، یعنی غیر ذی روح اشیاء کی جمع، کی صفت عموماً مفرد مؤنث کی صورت میں آتی ہے، خواہ اصل موصوف مذکر ہی کیوں نہ ہو۔ مثال کے طور پر كُتُبٌ جَدِيدَةٌ (نئی کتابیں) میں كُتُبٌ جمع مذکر ہے، مگر صفت جَدِيدَةٌ مفرد مؤنث کی صورت میں آئی، اور اسی طرح أَقْلَامٌ طَوِيلَةٌ (لمبی قلمیں) اور بُيُوتٌ صَغِيرَةٌ (چھوٹے گھر) میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ یہ اصول بظاہر موصوف کی اصل جنس سے متصادم لگتا ہے، کیونکہ عام قاعدے کے مطابق صفت کو موصوف کے عدد اور جنس دونوں کی پیروی کرنی چاہیے، مگر عربی زبان میں یہ ایک قائم شدہ استثنا ہے جسے 'جمعِ غیر عاقل، واحدِ مؤنث کے حکم میں' کہا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ غیر ذی روح اشیاء کی جمع کو معنوی اعتبار سے ایک اکائی یا جماعت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور اسی لیے اس کی صفت بھی واحد مؤنث کی صورت اختیار کرلیتی ہے، چاہے مفرد شے مذکر ہی کیوں نہ ہو۔ یہ قاعدہ نحوِ عربی کے مبتدی طلبہ کے لیے سب سے زیادہ مشکل اور غیرمانوس محسوس ہوتا ہے، اس لیے اسے مکرر مثالوں کے ذریعے ذہن نشین کرنا ضروری ہے، جیسے مَدَارِسُ جَمِيلَةٌ (خوبصورت سکول) میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔

جمعِ عاقل، یعنی انسانوں کی جمع، کی صفت اپنی حقیقی جمع کی صورت میں ہی آتی ہے اور تذکیر و تانیث کی مطابقت بھی مکمل طور پر برقرار رہتی ہے، جیسے طُلَّابٌ مُجْتَهِدُونَ (محنتی طالب علم) میں صفت مُجْتَهِدُونَ بھی جمع مذکر سالم کی صورت میں آئی، اور طَالِبَاتٌ مُجْتَهِدَاتٌ (محنتی طالبات) میں صفت جمع مؤنث سالم کی صورت میں آئی۔ اس کے برعکس جمعِ غیر عاقل، یعنی غیر ذی روح اشیاء کی جمع، کی صفت مفرد مؤنث کی صورت اختیار کرلیتی ہے، خواہ موصوف اصل میں مذکر ہو، جیسے كُتُبٌ جَدِيدَةٌ (نئی کتابیں) ۔ یہ فرق یاد رکھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اگر موصوف انسان ہے تو صفت اسی کی اصل جمع اور جنس میں رہے گی، اور اگر موصوف کوئی بے جان یا غیر ذی روح چیز ہے تو صفت خودبخود مفرد مؤنث بن جائے گی، چاہے وہ چیز مذکر جمع کی صورت میں ہو یا مؤنث جمع کی صورت میں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ استثنائی قاعدہ ہمیشہ 'کیا موصوف عاقل ہے یا غیر عاقل؟' کے سوال سے شروع کیا جاتا ہے، اور جواب کے مطابق ہی صفت کی صحیح صورت متعین کی جاتی ہے، اسی لیے اسے چار عمومی امورِ مطابقت کے علاوہ ایک پانچواں خصوصی امتحان بھی کہا جاسکتا ہے۔

دونوں مرکب توصیفی ہیں، مگر تعریف و تنکیر کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ الطَّالِبُ الْمُجْتَهِدُمعرفہ ہے، کیونکہ دونوں اجزاء پر حرفِ تعریف ال داخل ہے، اور اس کا معنی ہے 'وہ مخصوص محنتی طالب علم'، یعنی کوئی متعین اور معلوم شخص۔ اس کے برعکس طَالِبٌ مُجْتَهِدٌ نکرہ ہے، کیونکہ دونوں الفاظ منون ہیں، اور اس کا معنی ہے 'کوئی بھی محنتی طالب علم'، یعنی کوئی غیر متعین اور نامعلوم شخص۔ یہ فرق مطابقتِ تعریف و تنکیر کے اصول کی عملی مثال ہے، جس کے مطابق صفت ہمیشہ اپنے موصوف کی تعریف و تنکیر کی پیروی کرتی ہے: معرفہ موصوف کے ساتھ صفت بھی معرفہ آئے گی، اور نکرہ موصوف کے ساتھ صفت بھی نکرہ آئے گی۔ اگر یہ اصول نظرانداز کیا جائے، یعنی معرفہ موصوف کے ساتھ نکرہ صفت یا نکرہ موصوف کے ساتھ معرفہ صفت لگا دی جائے، تو جملہ گرامری طور پر غلط ہوجائے گا، اور یہ عربی انشاء میں طلبہ کی سب سے عام غلطیوں میں سے ایک شمار ہوتی ہے۔ اسی اصول کی روشنی میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اگر موصوف کے ساتھ ایک سے زائد صفات ہوں تو ہر صفت الگ الگ اسی تعریف و تنکیر کی مطابقت کی پابند ہوگی، یعنی ایک صفت معرفہ اور دوسری نکرہ نہیں آسکتی۔

اس جملے کا ترجمہ ہے: میں صبح کے وقت یونیورسٹی جاتا ہوں۔ اس جملے میں دو حروفِ جر استعمال ہوئے ہیں۔ پہلا حرفِ جر إِلَى (کی طرف) ہے، جو الْجَامِعَةِ سے پہلے آیا اور فعل ذَهَبَ کی سمت یا منزل ظاہر کر رہا ہے، یعنی جانے کی جگہ کیا ہے۔ دوسرا حرفِ جر فِي (میں) ہے، جو الصَّبَاحِ سے پہلے آیا اور وقت ظاہر کر رہا ہے، یعنی یہ عمل کس وقت انجام پاتا ہے۔ دونوں حروفِ جر کے بعد اسم مجرور کی صورت میں آیا ہے، یعنی الْجَامِعَةِ اور الصَّبَاحِ دونوں مجرور ہیں، جو حرفِ جر کے بعد اسم کے آنے کے قاعدے کی عملی تصدیق ہے۔ یہ جملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ عربی زبان میں جگہ اور وقت دونوں کو ظاہر کرنے کے لیے الگ الگ حروفِ جر استعمال ہوتے ہیں، اور دونوں کو ایک ہی جملے میں یکجا بھی کیا جاسکتا ہے۔ اسی طرز پر

﴿أَعُودُ مِنَ الْجَامِعَةِ فِي الْمَسَاءِمیں شام کو یونیورسٹی سے واپس آتا ہوں

جیسے جملے بنا کر طالب علم حروفِ جر اور اوقات کے الفاظ دونوں کی بیک وقت مشق کرسکتا ہے۔

دن کے پانچ بنیادی اوقات یہ ہیں: الصَّبَاحُ (صبح)، الظُّهْرُ (دوپہر)، الْعَصْرُ (سہ پہر یا عصر)، الْمَسَاءُ (شام)، اور اللَّيْلُ (رات)۔ ان میں سے الظُّهْرُ اور الْعَصْرُ نمازوں کے اوقات کے ناموں سے بھی ملتے جلتے ہیں، اس لیے جو طالب علم پہلے سے نمازوں کے اوقات جانتا ہے، اس کے لیے یہ الفاظ یاد رکھنا نسبتاً آسان ہوجاتا ہے۔ ہر ایک وقت پر مبنی جملہ اس طرح بنایا جاسکتا ہے: الصَّبَاحُ جَمِيلٌ (صبح خوبصورت ہے) ،

﴿أَتَغَدَّى فِي الظُّهْرِمیں دوپہر کو کھانا کھاتا ہوں

،

﴿أَشْرَبُ الشَّايَ فِي الْعَصْرِمیں سہ پہر کو چائے پیتا ہوں

،

﴿أَعُودُ إِلَى الْبَيْتِ فِي الْمَسَاءِمیں شام کو گھر واپس آتا ہوں

، اور

﴿أَنَامُ فِي اللَّيْلِمیں رات کو سوتا ہوں

۔ یہ تمام جملے حرفِ جر فِي کے بعد وقت کے اسم کے مجرور آنے کے قاعدے کی عملی مثالیں ہیں، اور ان کی مسلسل مشق سے طالب علم اپنی روزمرہ کی مصروفیات کو عربی میں بیان کرنے کی مہارت حاصل کرلیتا ہے، جو کہ عملی انشاء نویسی کا بنیادی مقصد ہے۔ نیز اگر ان اوقات کی کوئی صفت بیان کرنی ہو، جیسے صَبَاحٌ جَمِيلٌ (ایک خوبصورت صبح) ، تو وہاں بھی وہی چار امورِ مطابقت لاگو ہوں گے جو پہلے بیان کیے جاچکے ہیں۔

عربی زبان میں ایک ہی موصوف کی ایک سے زائد صفات بیان کی جاسکتی ہیں، اور ہر صفت الگ الگ چاروں امور، یعنی تذکیر و تانیث، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب، میں موصوف کے مطابق ہونی چاہیے۔ مثال کے طور پر

﴿الْبَيْتُ الْكَبِيرُ الْجَمِيلُوہ بڑا اور خوبصورت گھر

میں دونوں صفات الْكَبِيرُ اور الْجَمِيلُ، موصوف الْبَيْتُ کی طرح مذکر، مفرد، معرفہ اور مرفوع ہیں، یعنی کوئی بھی صفت اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ اسی طرح تثنیہ کی صورت میں الْقَلَمَانِ الْجَدِيدَانِ (وہ دونوں نئے قلم) میں بھی صفت موصوف کے تثنیہ ہونے کی مکمل پیروی کرتی ہے۔ اگر موصوف مؤنث اور جمع ہو تو ہر صفت بھی مؤنث اور جمع کی صورت میں آئے گی، جیسے

﴿الطَّالِبَاتُ الْمُجْتَهِدَاتُ النَّشِيطَاتُوہ محنتی اور چست طالبات

۔ یہ مشقیں طالب علم کو یہ سکھاتی ہیں کہ مطابقت کا اصول محض ایک صفت تک محدود نہیں بلکہ جملے میں شامل ہر اضافی صفت پر بھی برابر لاگو ہوتا ہے، اور اگر موصوف جمعِ غیر عاقل ہو تو یہی متعدد صفات بھی مفرد مؤنث کی صورت میں آئیں گی، جیسے

﴿كُتُبٌ جَدِيدَةٌ مُفِيدَةٌنئی اور مفید کتابیں

۔

نتیجہ: 0 درست بمقابلہ 0 جواب دیے گئے (کل 15 سوالات)
1جمعِ غیر عاقل کی صفت عموماً کس صورت میں آتی ہے؟
الفجمع مذکر
بمفرد مؤنث
جتثنیہ
دجمع مؤنث سالم
جمعِ غیر عاقل کی صفت عموماً مفرد مؤنث کی صورت میں آتی ہے۔
2﴿طُلَّابٌ مُجْتَهِدُونَ﴾ میں صفت جمع مذکر کی صورت میں کیوں آئی، جبکہ ﴿كُتُبٌ جَدِيدَةٌ﴾ میں مفرد مؤنث کی صورت میں آئی؟
الفطُلَّابٌ جمعِ عاقل ہے جبکہ كُتُبٌ جمعِ غیر عاقل ہے
بدونوں ایک جیسے اصول کی مثال ہیں
جطُلَّابٌ مؤنث ہے
دكُتُبٌ عاقل ہے
جمعِ عاقل کی صفت اپنی حقیقی جمع میں آتی ہے، جبکہ جمعِ غیر عاقل کی صفت مفرد مؤنث میں آتی ہے۔
3﴿الصَّبَاحُ﴾ کا اردو معنی کیا ہے؟
الفرات
بصبح
جشام
ددوپہر
الصَّبَاحُ کا معنی صبح ہے۔
4﴿الْمَسَاءُ﴾ کس وقت کے لیے استعمال ہوتا ہے؟
الففجر
بدوپہر
جشام
درات
الْمَسَاءُ کا معنی شام کا وقت ہے۔
5﴿اللَّيْلُ﴾ کس وقت کو کہتے ہیں؟
الفدوپہر
بسہ پہر
جصبح
درات
اللَّيْلُ رات کے وقت کو کہتے ہیں۔
6معرفہ موصوف کے ساتھ صفت کیسی آئے گی؟
الفنکرہ
بمعرفہ
جکوئی بھی
دفعل
تعریف و تنکیر میں مطابقت کے اصول کے مطابق معرفہ موصوف کی صفت بھی معرفہ ہوگی۔
7جمعِ غیر عاقل کے قاعدے کی رو سے ﴿أَقْلَامٌ﴾ (قلمیں) کی مناسب صفت کون سی ہوگی؟
الفجَدِيدٌ
بجَدِيدَةٌ
ججَدِيدُونَ
دجَدِيدَاتٌ
أَقْلَامٌ جمعِ غیر عاقل ہے، اس لیے اس کی صفت مفرد مؤنث جَدِيدَةٌ کی صورت میں آئے گی۔
8دن کے اوقات میں سے کون سا نام نماز کے اوقات سے مشابہت نہیں رکھتا؟
الفالظُّهْرُ
بالْعَصْرُ
جالصَّبَاحُ
ددونوں الظُّهْرُ اور الْعَصْرُ مشابہ ہیں
الصَّبَاحُ عام لفظ ہے، جبکہ الظُّهْرُ اور الْعَصْرُ نمازوں کے اوقات کے ناموں سے مطابقت رکھتے ہیں۔
9﴿الطَّالِبُ الْمُجْتَهِدُ﴾ اور ﴿طَالِبٌ مُجْتَهِدٌ﴾ میں بنیادی فرق کیا ہے؟
الفتذکیر و تانیث کا فرق
بتعریف و تنکیر کا فرق
جاعراب کا فرق
دعدد کا فرق
پہلا معرفہ ہے (دونوں پر ال) اور دوسرا نکرہ ہے (دونوں منون)۔
10﴿أَذْهَبُ إِلَى الْجَامِعَةِ فِي الصَّبَاحِ﴾ میں فِي کس چیز کو ظاہر کر رہا ہے؟
الفسمت
بملکیت
جوقت
دسبب
فِي یہاں وقت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوا ہے، جبکہ إِلَى سمت ظاہر کرتا ہے۔
11﴿بُيُوتٌ صَغِيرَةٌ﴾ میں صفت مفرد مؤنث کیوں آئی؟
الفکیونکہ بُيُوتٌ جمعِ عاقل ہے
بکیونکہ بُيُوتٌ جمعِ غیر عاقل ہے
جکیونکہ بُيُوتٌ مؤنث ہے
دکوئی وجہ نہیں
بُيُوتٌ (گھر) جمعِ غیر عاقل ہے، اس لیے اس کی صفت مفرد مؤنث آئی۔
12﴿الْبَيْتُ الْكَبِيرُ الْجَمِيلُ﴾ میں کتنی صفات استعمال ہوئی ہیں؟
الفایک
بدو
جتین
دکوئی نہیں
الْكَبِيرُ اور الْجَمِيلُ دو صفات ہیں، دونوں موصوف الْبَيْتُ کے مطابق مذکر، مفرد، معرفہ اور مرفوع ہیں۔
13﴿الطَّالِبَاتُ الْمُجْتَهِدَاتُ﴾ میں مطابقت کے کون سے امور واضح ہیں؟
الفصرف تذکیر و تانیث
بصرف عدد
جتذکیر و تانیث، عدد، تعریف و تنکیر اور اعراب سب
دکوئی امر واضح نہیں
اس مرکب میں موصوف اور صفت دونوں جمع مؤنث سالم، معرفہ اور مرفوع ہیں، یعنی چاروں امور میں مطابقت موجود ہے۔
14درج ذیل میں سے کون سا جملہ گرامری طور پر درست ہے؟
الفكُتُبٌ جَدِيدٌ
بكُتُبٌ جَدِيدَةٌ
جكُتُبٌ جَدِيدُونَ
دكُتُبٌ جَدِيدَاتٌ
كُتُبٌ جمعِ غیر عاقل ہے، اس لیے صفت مفرد مؤنث جَدِيدَةٌ ہی درست ہے۔
15﴿الْقَلَمَانِ الْجَدِيدَانِ﴾ میں صفت کس عدد کی صورت میں آئی ہے؟
الفمفرد
بتثنیہ
ججمع
دمفرد مؤنث
موصوف الْقَلَمَانِ تثنیہ ہے، اس لیے صفت الْجَدِيدَانِ بھی تثنیہ کی صورت میں آئی۔