الانشاء العربی الإنشاء العربي
اشرف الانشاء شرح اردو معلم الانشاء (جلد اول) کے مطابق معلم الانشاء کے تمام پچیس اسباق — کلمہ کی اقسام سے لے کر جملہ اسمیہ و فعلیہ، افعال کی گردانوں، تاکید، استفہام، شرط، اسم موصول، نواسخ جملہ اور حروف جارہ تک۔ ہر سبق میں مضمون، عربی الفاظ کے معانی، سو الفاظ پر مشتمل مختصر جوابات، وضاحت کے ساتھ کثیرالانتخابی سوالات، اور کتاب کی تمارین سیکھنے اور حل کرنے کی سہولت موجود ہے۔
اسباقِ کورس
مکمل فہرست ›کلمہ اور اس کی قسمیں: اسم، فعل اور حرف
جس لفظ سے کوئی معنی سمجھ میں آئے وہ کلمہ ہے؛ اس سبق میں کلمہ کی تین قسموں — اسم، فعل اور حرف — کی تعریف، مثالیں اور ان کی علامتیں بیان کی گئی ہیں۔
نکرہ اور معرفہ؛ معرفہ کی سات قسمیں
اسم کی دو قسمیں ہیں: نکرہ اور معرفہ۔ اس سبق میں دونوں کی تعریف، ترجمہ کا طریقہ، اسم معرفہ کی سات قسمیں اور "ال" کے احکام بیان ہوئے ہیں۔
مرکب: مرکب تام اور مرکب ناقص
دو یا دو سے زیادہ الفاظ کا مجموعہ مرکب ہے۔ اس سبق میں مرکب تام (جملہ مفیدہ / کلام) اور مرکب ناقص کا فرق اور قُمْ، اِجْلِسْ جیسے بظاہر مفرد مگر درحقیقت مرکب تام الفاظ کی وضاحت ہے۔
مرکب توصیفی: موصوف و صفت اور ان کی مطابقت
مرکب توصیفی وہ مرکب ہے جس میں کسی اسم ذات کی صفت، حالت یا کیفیت بیان ہو۔ اس سبق میں موصوف و صفت کی چار باتوں میں مطابقت، اعراب، تذکیر و تانیث، اور تثنیہ و جمع کے قواعد تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔
مرکب اضافی: مضاف و مضاف الیہ اور ضمائر
مرکب اضافی دو اسموں کا ایسا مرکب ہے جس میں پہلے اسم کی نسبت دوسرے کی طرف ہو۔ اس سبق میں اضافت کے چھ قواعد، ترجمہ کے اصول، اور ضمیر متصل و منفصل کا بیان ہے۔
جملہ اسمیہ: مبتدا و خبر اور اسمائے اشارہ
جملہ مفیدہ کا پہلا جز اسم ہو تو وہ جملہ اسمیہ ہے، جس کے دو جز مبتدا اور خبر ہیں۔ اس سبق میں مبتدا و خبر کے قواعد، موصوف و صفت سے فرق، اور اسمائے اشارہ کا استعمال بیان ہوا ہے۔
جملہ فعلیہ: فعل، فاعل اور مفعول
جو مرکب تام فعل سے شروع ہو وہ جملہ فعلیہ ہے۔ اس سبق میں فعل، فاعل اور مفعول، لازم و متعدی، ترتیب کے قواعد، اور فاعل کے ظاہر یا ضمیر ہونے کے لحاظ سے فعل کی وحدت و جمع اور تذکیر و تانیث کا بیان ہے۔
فعل کی قسمیں: ماضی، مضارع، امر و نہی؛ اثبات و نفی
فعل کی تین مشہور قسمیں ہیں: ماضی، مضارع اور امر و نہی۔ اس سبق میں ان کی تعریفیں، اثبات و نفی کا فرق، فعل ماضی کے چودہ صیغے اور فاعل ضمیر ہونے کی صورت میں فعل کی مشق شامل ہے۔
فعل مضارع، فعل منفی، مستقبل اور استمرار
فعل مضارع کے چودہ صیغے، علاماتِ مضارع، اس کی نفی، سَ اور سَوْفَ کے ذریعے مستقبل، اور اردو کے "رہا ہے" والے جملوں کا عربی ترجمہ — یہ سب الدرس التاسع کے تین حصوں میں بیان ہوا ہے۔
فعل مجہول اور نائب فاعل
جس فعل کا فاعل معلوم نہ ہو وہ فعل مجہول ہے۔ اس سبق میں نائب فاعل کے احکام، ماضی و مضارع مجہول بنانے کے قواعد، ان کی گردانیں، اور فعل لازم کے مجہول کا حکم بیان ہوا ہے۔
ماضی بعید اور ماضی استمراری (مثبت و منفی)
فعل ماضی کی دو مزید قسمیں ہیں: ماضی بعید (كَانَ + ماضی) اور ماضی استمراری (كَانَ + مضارع)۔ اس سبق میں ان کی گردانیں، مجہول صورت، اور منفی بنانے کے طریقے بیان ہوئے ہیں۔
فعل امر اور فعل نہی
فعل امر اور فعل نہی دونوں فعل مضارع سے بنتے ہیں۔ اس سبق میں امر حاضر، امر غائب و متکلم (لامِ امر)، ہمزۂ وصل و قطع، اور لائے نہی کے قواعد اور گردانیں بیان ہوئی ہیں۔
مبتدا کی خبر جب کہ جملہ یا شبہ جملہ ہو
جس طرح خبر مفرد یا مرکب ناقص آتی ہے، اسی طرح جملہ اسمیہ، جملہ فعلیہ اور شبہ جملہ بھی خبر بنتے ہیں۔ اس سبق میں خاص طور پر جملہ فعلیہ کو خبر بنانے، ضمیرِ رابط اور مبتدا و خبر کی مطابقت کی مشق ہے۔
قد اور لامِ تاکید کے ذریعے فعل کی تاکید
فعل ماضی اور ماضی استمراری پر قَدْ بڑھا کر تاکید پیدا کی جاتی ہے؛ فعل مضارع کی تاکید قَدْ اور لامِ تاکید سے ہوتی ہے، جبکہ قَدْ مضارع پر کبھی تقلیل کے لیے بھی آتا ہے۔
لم، لمّا اور لن کے ساتھ فعل کی نفی
لَمْ اور لَمَّا مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں بدل دیتے ہیں، اور لَنْ مستقبل میں نفی کی تاکید کرتا ہے۔ اس سبق میں ان کے معنوی فرق، اعرابی اثرات، اور بقیہ حروفِ ناصبہ أَنْ، كَيْ، إِذَنْ کا بیان ہے۔
فعل مستقبل مثبت کی تاکید؛ نون تاکید اور حروف ناصبہ
فعل مضارع پر لام تاکید اور نون تاکید داخل کر کے مستقبل مثبت میں تاکید پیدا کی جاتی ہے۔ اس سبق میں نون ثقیلہ و خفیفہ کے احکام، امر و نہی کی تاکید، اور حروف ناصبہ أَنْ، كَيْ، إِذَنْ نیز لام تعلیل و حَتّٰى کا استعمال بیان ہوا ہے۔
ادواتِ استفہام؛ استفہام اور نفی ایک ساتھ
عربی میں سوال کرنے کے لیے ہمزہ، هَلْ، مَنْ، مَا، مَتٰى، أَيْنَ، كَيْفَ، كَمْ اور أَيُّ جیسے ادوات آتے ہیں۔ اس سبق میں ان کے معانی، جواب کا طریقہ، حرف جار کے ساتھ ان کی ترکیبیں، اور منفی استفہام کے جواب میں بَلٰى اور نَعَمْ کا فرق بیان ہوا ہے۔
ادواتِ شرط: جازمہ اور غیر جازمہ
جملہ شرطیہ دو جملوں — شرط اور جزا — سے مل کر پورا ہوتا ہے۔ اس سبق میں ادواتِ شرط جازمہ (إِنْ، مَنْ، مَا، مَهْمَا، مَتٰى وغیرہ) کا عمل، جزا پر فاء کے مواقع، اور غیر جازمہ ادوات لَوْ، لَوْلَا، لَمَّا، كُلَّمَا، إِذَا اور أَمَّا کا استعمال بیان ہوا ہے۔
اسم موصول، صلہ اور عائد
اسم موصول وہ مبہم اسم ہے جس کا مقصود ایک دوسرے جملے (صلہ) سے واضح ہوتا ہے، اور صلہ میں ایک ضمیر (عائد) اسم موصول کی طرف لوٹتی ہے۔ اس سبق میں اسمائے موصولہ کے صیغے، مَنْ، مَا اور أَيٌّ کا استعمال، عائد کی مطابقت اور نکرہ کی صفت میں اسم موصول لانے کی عام غلطی بیان ہوئی ہے۔
نواسخِ جملہ: حروفِ مشبہ بالفعل
نواسخِ جملہ وہ کلمات ہیں جو جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر مبتدا و خبر کا اعراب بدل دیتے ہیں۔ اس سبق میں ان کی پہلی قسم، حروفِ مشبہ بالفعل إِنَّ، أَنَّ، كَأَنَّ، لَيْتَ، لَعَلَّ اور لٰكِنَّ کا عمل، معانی، إِنَّ و أَنَّ کا فرق اور ان کی خبر کی صورتیں بیان ہوئی ہیں۔
نواسخِ جملہ: افعالِ ناقصہ
افعالِ ناقصہ نواسخِ جملہ کی دوسری قسم ہیں۔ یہ جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اسم کو مرفوع رہنے دیتے اور خبر کو نصب دیتے ہیں۔ اس سبق میں كَانَ، صَارَ، لَيْسَ، أَصْبَحَ، أَمْسٰى، أَضْحٰى، ظَلَّ، بَاتَ اور استمرار کے افعال مَا زَالَ، مَا بَرِحَ، مَا انْفَكَّ، مَا فَتِئَ، مَا دَامَ کے معانی و احکام بیان ہوئے ہیں۔
نواسخِ جملہ: مَا اور لَا المشبہتان بلیس
مَا اور لَا نافیہ لفظ و معنی میں لَيْسَ کے مشابہ ہیں اور اسی کی طرح اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں۔ اس سبق میں ان کا عمل، خبر پر بِ زائدہ، عمل کی شرائط، اور شرط نہ پائے جانے پر عمل کے باطل ہونے کی مثالیں بیان ہوئی ہیں۔
نواسخِ جملہ: لائے نفی جنس
لائے نفی جنس پوری جنس کی مطلق نفی کرتا ہے اور إِنَّ کی طرح اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ اس سبق میں اس کے اسم کی صورتیں (مفرد مبنی بر فتحہ، مضاف اور شبہ مضاف منصوب)، عمل کی شرائط اور شرائط مفقود ہونے پر لَا کے تکرار کا حکم بیان ہوا ہے۔
افعالِ مقاربہ، رجاء اور شروع
افعالِ مقاربہ درحقیقت افعالِ ناقصہ ہی کی ایک قسم ہیں جو کسی دوسرے فعل کے ساتھ معاون بن کر آتے ہیں اور ان کی خبر ہمیشہ فعل مضارع ہوتی ہے۔ اس سبق میں مقاربہ (كَادَ، كَرَبَ، أَوْشَكَ)، رجاء (عَسٰى، حَرٰى، اِخْلَوْلَقَ) اور شروع (شَرَعَ، أَخَذَ، جَعَلَ وغیرہ) کے معانی، خبر پر أَنْ کے احکام اور منفی كَادَ کا استعمال بیان ہوا ہے۔